پنجاب میں حجاب: عائشہ نور

0
وزیر ہائیرایجوکیشن پنجاب سید علی رضا گیلانی نے چند دن پہلے ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے پنجاب کے تعلیمی اداروں میں حجاب کرنے والی لڑکیوں کو داخلے کے وقت پانچ اضافی نمبر دئیے جانے کا شوشہ چھوڑا۔۔۔ اب انہوں نے تو جو کرنا تھا وہ کر دیا۔۔۔ لیکن میڈیا میں ایک طرح کی ہڑبونگ مچ گئی کہ پنجاب کے تعلیمی اداروں میں یہ کیا ہونے جا رہا۔۔۔ کسی نے بھی یہ جاننے کی کوشش نہیں کی کہ آخر جو تجویز دی گئی وہ تھی کیا۔۔۔ کچھ افراد اس کے حق میں اور کچھ اس کی مخالفت میں نکل کھڑے ہوئے۔۔۔ جو حق کا علم بلند کر رہے ہیں۔۔۔ انہیں نہیں پتہ کہ وہ ایسا کیوں کر رہے ہیں۔۔ اور جو مخالفت کررہے ہیں ۔۔۔ افسوس کی بات ہے انہیں بھی کچھ نہیں پتہ۔۔۔ سارا چکر صرف ریٹنگ کے لئے۔۔۔
پنجاب کی تو روایت میں شامل ہے کہ ایک دس سال کی لڑکی بھی گھر سے باہر نکلتی تو بڑی سی چادر اوڑھ لیتی ہے۔۔ اور اس عمل کو بڑھاوا دینے کے لئے صرف ایک تجویز زیرغور لائی جا رہی تھی۔۔۔ لیکن بڑے بڑے اینکرز اور قلم کار لفظوں کے تیر چلا چلا کر بتانے لگے کہ کس قدر قبیح جرم سرزد ہو گیا ہے۔۔۔ چن چن کر ایسے لوگوں کو پروگراموں کی زینت بنایا گیا جو اپنی روایت اور عقیدہ پہ معذرت خواہ ہٰیں۔۔۔ اور انہوں نے بھی اپنی زبان کے جوہر ایسے دکھائے کہ اللہ کی پناہ۔۔۔ یہاں تک کہہ دیا گیا کہ پنجاب کی بیٹیاں اس فیصلے کے خلاف اٹھ کھڑی ہوں گی۔۔۔ میرا تعلق بھی پنجاب سے ہے اور میں دعوے سے کہہ سکتی ہوں کہ اگر اس تجویز کا فیصلہ ہو جاتا تو پنجاب کی کوئی ایک بیٹی بھی اس فیصلے کے خلاف کھڑی نہ ہوتی ۔۔ چاہے وہ مسلمان گھرانے سے تعلق رکھنے والی ہوتی یا غیر مسلم۔۔۔۔
صاحبو!! یہ پاکستان ہے اور پاکستان کو اسلام کے نام پر حاصل کرنے کے لئے کتنی اور کیسی کیسی قربانیاں دی گئیں یہ کسی کو بھی بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ جو لوگ بھول گئے ہیں ان کو پروفیسر اصغرسودائی کا لکھا ہوا نعرہ یاد دلا دوں ۔۔ پاکستان کا مطلب کیا؟ ۔۔۔۔۔لا الہ الا اللہ۔۔۔ اوراگر یہ یاد نہیں رکھنا تو پاکستان کا آئین؟۔۔۔ آئین کہتا ہے کہ ملک میں اسلامی نظام رائج ہو گا۔۔۔ لیکن ہم اس پر کہیں عمل کرتے نظر نہیں آتے۔۔۔۔ کچھ افراد کو تو میں نے یہ تک کہتے سنا کہ پنجاب حکومت کے حجاب پر اضافی نمبروں والے فیصلے سے جگ ہنسائی ہو گی۔۔تو جناب آپ بتائیں گے کہ یہ ایسا کون سا جرم ہے جس پر جگ ہنسائی ہو گی۔۔۔ تب جگ ہنسائی نہ ہوئی جب پارلیمان میں بیٹھے مہذب لوگ ایک دوسرے کی مائوں بہنوں کے خلاف مغلظات بکتے نظر آتے ہیں۔۔ اور پارلیمان کا تقدس پامال کرتے ہیں۔۔ تب جگ ہنسائی کیوں نہ ہوئی جب منی لانڈرنگ کے چکر میں رنگے ہاتھوں گرفتار ہونے والی ماڈل وکٹری کا نشان بناتے ہوئے ملک سے باہر چلی گئی۔۔ ہمارے دوہرے معیار کا حال ملاحظہ فرمائیں۔۔ اگر مغرب حجاب پر پابندی لگائے تو ہم موم بتیاں لے کر نکل آتے ہیں۔۔ ان کے خلاف نعرے بازی کرتے ہیں۔۔ اسلام کو شدید خطرے میں بتاتے ہیں۔۔۔ اور اگر اپنےملک میں صرف تجویز ہی زیر غور آتی ہے کہ حجاب کرنے والی لڑکیوں کو داخلے میں پانچ نمبر اضافی دئیے جائیں گے تو ہمارا میڈیائی معاشرہ ڈنڈے لے کر میدان میں آجاتا ہے۔۔۔
یہ تو بات تھی میڈیا اور ہمارے معاشرے کی غیر ذمہ دارانہ روئیوں کی۔۔۔ اب بات کرتی ہوں ذرا پنجاب حکومت کی۔۔۔ صرف ایک سال پہلے 15 اگست دو ہزار سولہ کو میڈیا پر ایک خبر آئی کہ مہرین شفق نامی طالبہ کو لاہور کی جی سی یو۔۔ یونیورسٹی میں نقاب پہننے کی وجہ سے داخلہ نہیں مل سکا۔۔ میں نے بھی مہرین شفق سے رابطہ کر کے اس کے گھر کا پتہ معلوم کیا۔۔۔ اور اپنی ٹیم کے ہمرہ ان کے گھر پہنچی۔۔۔ بہت ہی شائستہ اور ادب و آداب والی مہرین سے بات چیت کرنےکے دوران مجھے اندازہ ہوا کہ وہ کس قدر تکلیف دہ مرحلے سے گزر رہی ہے۔۔۔ مہرین نے مجھے بتایا کہ وہ انٹرویو کے لئے اپنی باری آنے پر پینل کے سامنے موجود تھی ۔۔ انٹرویو پینل میں تین افراد تھے اورتینوں مرد حضرات۔۔۔۔۔ دوران انٹرویو اصرار کیا جانے لگا کہ نقاب ہٹائیں۔۔۔ مہرین نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ آپ کی خاتون کوارڈینیٹر موجود ہیں ان سے کہیں کہ میری شناخت کر لیں۔۔۔ لیکن دوران انٹرویو ڈائریکٹر جی سی یو نے مہرین شفق کو برا بھلا کہنا شروع کر دیا۔۔۔ اسی دوران اسسٹنٹ ڈائریکٹرنے داخلہ فارم اٹھا کر مہرین کے سامنے پھینکا اور کہا کہ یہ رہی آپ کی تصوی۔۔۔ آپ کی تصویر تو دیکھ رہے ہیں ہم۔۔۔ تواب نقاب کرنے کا فائدہ۔۔۔ پینلسٹ نے یہاں تک بھی کہا کہ اگر مہرین شفق یہ سمجھتی ہیں کہ وہ ان سے بہتر مسلمان ہیں تو یہ ان کی غلط فہمی ہے۔۔۔۔ اور مہرین شفق کو داخلہ نہ مل سکا۔۔۔ وجہ طالبہ کا نقاب نہ ہٹانے کا صاف ستھرا جواب۔۔۔ جو پینلسٹس کو پسند نہیں آیا تھا۔۔۔ میڈیا نے مثبت کردار ادا کرتے ہوئے اس بات پر بھی بہت شور مچایا۔۔۔ مگر نتیجہ کیا نکلا۔۔۔ کچھ بھی نہیں۔۔۔ ڈائریکٹر جی سی یو نجف یاور اپنے عہدے پر ابھی تک براجمان ہیں۔۔ اور اسسٹنٹ پروفیسر عماد اپل بھی اپنا عہدہ انجوائے کر رہے ہیں۔۔۔ اور حکومت پنجاب اور صوبائی ہائیرایجوکیشن کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔۔۔ اور اب صرف ایک سال بعد ہی ایسا کیا ہو گیا کہ یکا یک حجاب یاد آگیا۔۔۔ اچھا عمل کرنے میں اتنی دیر کیوں لگا دی۔۔۔ ستر سال کا ہونے والا ہے پاکستان۔۔۔ اتنے سالوں سے یہ بات یاد کیوں نہ آئی۔۔۔ اور اب اگر یاد آ ہی گیا ہے تو تردید کیوں کی؟۔۔۔ کچھ لوگ کہتے نظر آرہے ہیں کہ لڑکوں کو کیا کرنا چاہئیے کہ انہیں بھی اضافی نمبر دئیے جائیں۔۔۔ کچھ کہتے پھر رہے ہیں کہ دوسرے مذاہب کی لڑکیوں کا کیا ہوگا۔۔۔ تو جہاں تک میری ناقص معلومات ہیں۔۔ عیسائی خواتین بھی پردے کا بہت مناسب انتظام کرتی ہیں۔۔۔ سکھ اور ہندو برادری کی خواتین بھی چادریں اوڑھتی ہیں۔۔ میڈیا کے پریشرکی وجہ سے صوبائی ہائیرایجوکیشن نے تجویز کو سرے سے ماننے سے ہی انکار کر دیا۔۔ افسوس صد افسوس۔۔۔ ارض پاک کو اس لئے حاصل کیا گیا کیونکہ ہندو اور مسلمان دو الگ الگ نظرئیے اور سوچ رکھنے والی اقوام تھیں۔۔۔ پاکستان کو حاصل کیا گیا تاکہ یہاں پر مسلمان اسلامی شعائر کے مطابق زندگیاں بسر کر سکیں۔۔ لیکن صرف ستر سال گزرنے کے بعد ہی ہم نے اس ملک کی باگ ڈور میڈیا اور سیکولر۔۔لبرلز کے ہاتھ میں دے رکھی ہے۔۔
 خدارا!! سمجھنے کی کوشش کریں کہ مغرب ہمیں دانستہ طور پر ہمارے اقدار۔۔ روایات اور خاص طور پر مذہب سے دور کرنے کی طرف لے جا رہا ہے۔۔۔ اور ہم جدیدیت کے خوشنما جال میں پھنس کر بھیڑ بکریوں کی طرح اندھی تقلید کرتے ہوئے بس چلے جا رہے ہیں۔۔ شائد ایسے ہی کسی موقع کے لئے اصغر سودائی نے کہا تھا: مذہب ہو تہذیب کہ فن تیرا جداگانہ ہے چلن اپنا وطن ہے اپنا وطن غیر کی باتوں میں مت آ پاکستان کا مطلب کیا؟ ۔۔۔۔۔لا الہ الا اللہ

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: