ایک اکیلا آدمی ہے اژدہامی آدمی —- عزیز ابن الحسن

1

یہ تاریخ کا کیسا زہرخند مذاق ہے کہ آج کروڑوں انسانوں کو ایک ایسے حقیر اور غیرمرئی سے چربیے کے خوف نے بے بس کر رکھا ہے جسے الیکٹران کی طرح کسی خورد بین سے دیکھنا بھی شاید آسانی سے ممکن نہیں؟

دشمن اگر کمزور ہو تو سورما اسے اپنے بائیں ہاتھ ہاتھ کی مار سمجھا کرتا ہے لیکن اگر دشمن اتنا حقیر اور ذرۂ بے نشان ہو کہ اس کی سمتِ حملہ کا بھی تعین جو نہ کیا جا سکے ایسے رذیل کے ہاتھوں شکست کھانے سے زیادہ ذلت اور اور کیا ہوگی؟ مستقبل کی تو خبر نہیں کم سے کم ان دنوں تو انسان پر ایک ایسی ہی ذلت مسلط کروں ہوچکی ہے۔

ہزاروں سالہ جبلت کے پروردہ سماجی انسان کی مل جل کر رہنے کی بنیادی ترین جبلت کو، جسے گھپاؤں اور کٹیاؤں سے لیکر گروہوں، قبیلوں شہروں، ملکوں اور ریاستوں تک قرن ہا قرن سے کوئی تعطل درپیش نہیں رہا “کرونا” نامی ایک احقر المخلوقات نے بیک آن جس عالمگیر دہشت میں لپیٹ کر الگ تھلگ رہنے پر مجبور کردیا ہے وہ تاریخ عالم کا ایک ایسا ہولناک تجربہ ہے جو شاید آئندہ کئی برسوں تک اس کے لاشعور سے نہ نکل سکے گا۔

انسانوں کی اتنی عظیم اکثریت کو ایکا ایکی یوں مبتلائے وبال کرنے والی یہ دہشت انسان کے اپنے ہاتھوں کی کمائی ہے یا اوپر سے نازل ہونے والی کوئی بلا اس کا تعین نہ تو سہل ہے اور نہ کچھ ایسا ضروری ہے۔ اپنے اپنے موضوعی رجحان کیمطابق، جنہیں ہر بات کو انسانی نقطہ سے دیکھنے کی عادت ہے، وہ اسے محض اتفاق قرار دیں گے اور جو اس کائنات میں کسی بالائے فطری و وارائے انسانی طاقت کی ہمہ وقت کارفرمائی پر یقین رکھتے ہیں وہ اس بپتا کو تنبیہ، امتحان، آزمائش اور قہر و عذاب وغیرہ کہتے رہیں گے تاآنکہ وہ آخری گھڑی آجائے گی جب پہاڑ زیرہ ریزہ ہوکر اڑنے ستارے بجھ کر گرنے لگیں گے اور سورج بھی جارج گیمو کی بتائ ٹھنڈی سائنٹیفک موت مر جائے گا۔

مگر وہ وقت آتے آتے بھی یہ کہنے والے تو کچھ نہ کچھ ضرور ہی باقی ہوں گے

آئے کچھ ابر کچھ شراب آئے
اس کے بعد آئے جو عذاب آئے

کیوں کہ بقول سعدی

آدمی زادہ طرفہ معجون است
از فرشتہ سرشتہ وز حیوان

بہرحال یہ دو سرشتیں تو دنیا میں موجود ہی ہیں۔ اِدھر والے ہوں یا اُدھر والے ان دونوں کے اندر بیرونی بحران اور اندرونی انتشار کے لمحات میں اپنے آپ سے ہم کلام ہونے کی ایک ہی حس ضرور جاگ اٹھتی ہے۔ یہی انسان کی تخلیقی فعالیت کا لمحہ ہوتا ہے۔ ادب و فن کے بڑے جان کاروں نے لکھا ہے اس بحرانی اور انتشاری کیفیت میں جس تخلیقی سرگرمی کا ظہور ہوتا ہے وہ کچی پکی تو ہوسکتی ہے مگر جھوٹی نہیں ہوتی کیونکہ انسان دوسرے سے تو جھوٹ بول سکتا ہے مگر اپنے آپ سے نہیں۔

موجودہ وبائی بحران میں سماجی میل جول سے جبراً بے دخل کردہ کرونابند انسانوں پر اس وقت کیا گزر رہی ہے اس کے تخلیقی اظہار کی فرضِ کفائی اور قرض ادائی ذمہ داری معاشرے کے ان لوگوں کہ کندھوں پر آپڑتی ہے جو قبیلے کی “زبان” ہوتے ہیں۔ دنیا کی ہر زبان کی طرح اردو میں اپنا تخلیقی اظہار کرنے والوں نے بھی یہ کام شروع کر دیا ہے۔

اگلے وقتوں کا فنکار اپنے سماج اپنے ماحول اور اپنے گرد و پیش سے جڑا ہوا ہوتا تھا وہ خود کو ایک ایسے جمگھٹے میں پاتا تھا جو اس دکھ کا ساجھی تھا اسکی کی زبان سمجھتا تھا۔ اپنے طور پر وہ جیسے بھی انوکھے اور شخصی تجربے سے گزرتا ہو اس کی کوشش ہوتی تھی کہ وہ اسے ایسی زبان میں پیش کرے جو سب لوگ سمجھتے ہوں۔ میر جب یہ کہتا ہے کہ

کار دل اس مہ تمام سے ہے
کاہش اک روز مجھ کو شام سے ہے
شعر میرے ہیں سب خواص پسند
پر مجھے گفتگو عوام سے ہے

تو وہ خود کو ایک ایسے ہی مربوط معاشرے کا فرد پاتا ہے جس سے وہ خود کو کوئی الگ تھلگ مخلوق نہیں سمجھتا۔

مگر ماڈرنسٹ عہد کے فنکار کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ اپنے معاشرے اور ماحول میں خود کو اجنبی اور تنہا سمجھنے لگا تھا۔ ایف آر لیوس نے ایسے “تنہا آدمی” کا سب سے پہلا سراغ اٹھارویں صدی کے انگریز شاعر ولیم بلیک میں پایا ہے۔ اس کے بعد سے عنصری تنہائی انیسویں اور بیسویں صدی کے بڑے ادب کا مستقل موضوع رہا ہے۔ 20 ویں صدی کے بے مثال شاعر شعر ڈبلیو بی ییٹس کا ایک جملہ نہایت کمال کا ہے:

“شاعری وہ تنہا آدمی کرتا ہے جس کے لئے خاموشی ناقابل برداشت ہو جاتی ہے”

وبا کے ان دنوں نے انسان کی بنیادی ترین سماجی جبلت “میل جول” چھین کر اسے دوسروں سے فاصلہ رکھنے پر بھی مجبور کر دیا ہے۔ “دوسرے کو جہنم” قرار دینے والے مغربی انسان کے لئے تو تنہائ کا یہ تجربہ شاید اتنا بھیانک نہ ہو مگر ہم جیسے معاشروں کے لئے یہ تنہائی تو کسی عذاب سے کم نہیں۔ بقول افتخار عارف

خواب کی طرح بکھر جانے کو جی چاہتا ہے
ایسی تنہائی کہ مر جانے کو جی چاہتا ہے

تنہائی کے جزیروں میں اپنے اپنے گھروں میں گھرے اردو زبان کے ادیب و شاعر آج کل جس تجربے سے گزر رہے ہیں اور اس واردات کو جس طرح کا تخلیقی اظہار دے رہے ہیں اس کا ایک بہت اچھا جائزہ میرے یار دیرینہ از ویانہ آفتاب حسین نے لیا ہے۔ انہوں نے مجھے اپنا مضمون بھیجا تو اسے پڑھنے کے بعد مجھے آفتاب کے کچھ شعر یاد آنے لگے جو یقیناً موسمِ وبا کی تنہائی کے دنوں میں نہیں کہے گئے تھے مگر چونکہ تخلیقی زبان کی لازمی خصوصیت، کثیرالمعنویت، کا جوہری کمال ہی یہ ہوتا ہے کہ وہ نہ صرف گفتہ آید در حدیث دیگراں کے وصف کی حامل ہوتی ہے بلکہ اپنے اندر ‘بر حالات دیگراں’ پر منطبق ہونے کی گنجائش بھی بدرجۂ اتم رکھتی ہے اسی لئے ہم ہفتے عشرے سے دیکھ رہے ہیں کہ لوگ نہ جانے کہاں کہاں سے اشعار اٹھا کر آج کے حالات پر اطلاق کئے جا رہے ہیں۔ آج جبکہ کہ ایک آدمی سے بھی خطرہ محسوس کیا جا رہا ہے ایسے میں آفتاب کا یہ شعر ایک ہولناک سچائی کے طور پر سامنے آتا ہے

بھیڑ چھٹ جائے گی تب اس کی سمجھ میں آئے گا
ایک اکیلا آدمی ہے اژدہامی آدمی

ایک آدمی اب محض ایک آدمی نہیں ہے بلکہ وہ کرونا نامی احقرالمخلوقات کی ایک فوج ظفر موج کا اژدہام اپنے اندر رکھتا ہے جو اس کے چھینکنے کھاسنے سے لے کر سانس لینے تک آسیب کی طرح دوسرے کوچمٹ جاتا ہے! یورپ میں گھروں کے گھر جس طرح مرگھٹوں میں تبدیل ہو رہے ہیں اس پس منظر میں آفتاب ہی کا یہ شعر تو لرزانے والا لگتا ہے

کوئی آسیب بلا ہے شہر پر چھایا ہوا
بوئے آدم زاد تک خالی مکانوں میں نہیں

اس فضا میں اردو شعرا نے جس طرح طرح کا ردعمل دیا ہے آفتاب حسین نے اپنے مضمون میں ان کے بہت سے نمونے جمع کیے ہیں مگر مجھے تو اس سارے انبار میں افتخار بخاری کی وہ نظم ہاوی نظر آتی ہے جو پچھلے دنوں انہوں نے مجھے بھیجی۔ یہ نظم موجودہ کیفیت میں محض بھرتی کا قرض چکاتی نظم نہیں بلکہ اپنے اندر ایک ایسا تخلیقی جوہر رکھتی ہے جو بظاہر آدیشی ہوتے ہوئے بھی آدیشی نہیں بلکہ آج کی کرب ناک صورتحال میں اپنے محبوب عزیزوں دوستوں اور عام انسانوں کی حقیقی محبت میں سماجی جبلت اور عاشقانہ خواہش قرب سے رضاکارانہ دستبرداری کے بہجت افزا احساس کا بے مثل اظہار ہے۔ نظم ملاحظہ کیجئے

ہم ایک ہی باپ کی اولاد ہیں

ہم ہاتھ نہیں مِلائیں گے
یہ وقت دِلوں کو ملانے کا ہے

ہم نے تنہائی اوڑھ لی
اور انسانیت کی اکائی کو سرھانا بنا لیا

ہم سفر نہیں کریں گے
جب تک ہمارے صندوق
خوبصورت تحائف سے تہی ہیں

حاجت سے زیادہ خریدیں گے نہ بیچیں گے
کہ دکانیں اور بازار
فراوانی سے بھرے رہیں

بغیر ضرورت گھروں سے نہیں نکلیں گے
کہ شاہراہیں، میدان اور باغ جلد آباد ہوں

اگر ضروری ہوا تو
کسی خاموش کونے میں مریں گے
کہ زمین ہمارے بعد بھی گیتوں سے گونجتی رہے

یاد رہے کہ قرب سے دستبرداری وہ فراقیہ کرب ہے جسکا تصور بھی حزنیہ لے سے خالی نہیں ہوتا مگر شاعر کا فنی کمال دیکھیے اس نے اس کا اظہار بھی کن نشاطیہ کیفیات کے ساتھ کیا ہے۔ وقتی حالات سے متاثر ہو کر لکھے جانے والے ادب سب کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہوتی ہے کہ وہ دیرپا نہیں ہوتا مگر افتخار بخاری کی اس نظم کے بارے میں یہ بات بلا خوف تردید کہی جا سکتی ہے کہ شاعر نے زندہ رہ جانے والی نظموں میں ایک اور زندہ نظم کا اضافہ کردیا ہے۔ اس نظم کی یہی خوبی ہے جس کی وجہ سے چند دنوں میں اسکا عربی اور انگریزی میں ترجمہ بھی ہو چکا ہے جو درج ذیل ہے۔

نحن أبناء أب واحد

لن نتصافح
هذا وقت تضافر القلوب

لقد وضعنا الانزواء جانبًا
وصنعنا وسادةً لوحدة الجنس البشري

لن ننطلق في رحلًات
طالما ظلّت خزائننا الحديدية خالية من الهدايا الثمينة

لن نعقد صفقات بلا جدوى
كي لا يحدث أي نقص في المتاجر والأسواق

لن نخرج من بيوتنا بلا داعٍ
كي تزدهر الطرق والملاعب والحدائق قريبًا

وإن كانت ثمّة ضرورةٌ حتمية
فسوف نموت في زاويةٍ صامتة
كي لا تتوقف الأرض عن ترديد الأغاني
بعد رحيلنا

(مترجم نظار سرطاوی)

—————————————————

We are children of the same father.

We won’t shake hands
as it is time to join the hearts

We’ve wrapped the loneliness around
and made the pillow of oneness of mankind

We won’t embark upon journeys
as long as our iron-chests remain devoid of the costly presents

We won’t transact just for nothing
So that there won’t be shortage of anything in shops and bazaars

We won’t get out of our dwellings needlessly
So that the roads, playgrounds and gardens may thrive soon

And if absolutely necessary
we’ll die in some silent corner
So that the Earth may keep on resonating with the songs
when we are gone

(مترجم کامران اعوان)

نظم کی انہی خوبیوں کی بنا پر آفتاب حسین نے اسے سے ایک بہترین نظم شمار کیا ہے۔ علاوہ ازیں انہوں نے دو اشعار بھی بہت غضب کے انتخاب کیے ہیں

عجیب درد ہے جس کی دوا ہے تنہائی
بقائے شہر ہے اب شہر کے اجڑنے میں میں

ہر طرف ایسی خاموشی ہے کہ سر گھومتا ہے
لوگ پہرے میں ہیں اور گلیوں میں ڈر گھومتا ہے

انسان پر نازل ہونے والی وباؤں کا ذکر اگر آسمانی بلاؤں کے محاورے میں کیا جائے آئے تو اسپر نہ صرف مذہبی طرز احساس سے نفور آج کے خودپرست انسان کو ناگواری محسوس ہوتی ہے بلکہ جدیدیت کے بیوٹی پالر سے بن سنور کر نکلے مذہبیوں کی جبینوں اور رخساوں کا غازہ بھی غضب ناکی کے پسینے سے خراب ہونے لگتا ہے۔ گویا آج کا انسان کائناتی قوتوں کے غیظ و غضب کو جوش میں لانے والا کچھ ایسا ویسا کر ہی نہیں رہا لہذا ڈر کاہے کا! چلئے ہم پس جدیدگان اور بیوگانِ مولوی صاحبان کو ان کی خوش امیدیوں کے ریت گھروندے میں خوش باش چھوڑ کر آگے چلتے ہیں اور اور آفتاب حسین کا دلچسپ مضمون پڑھتے ہیں جس کا حوالہ درج ذیل ہے۔

https://borderlessjournal.com/2020/04/03/

ویب گاہ پر آفتاب حسن کا یہ تعارف دیا گیا ہے

Aftab Hussain (Pakistan/Austria) is an eminent name in modern Ghazal poetry from South Asia. In addition to Urdu, he writes in English both poems and literary essays and translates from German to Urdu and vice versa. He earned his doctorate in comparative literature from Vienna University where he teaches South Asian Literature and Culture. He has four collections of poetry and three of books of translations – from German into Urdu – to his credit. He was a fellow of Heinrich-Böll-Haus, Germany as well as the ‘Writer of Exile’ of Vienna City. His poems have been translated into many languages. He is a member of the Austrian PEN and co-edits a bilingual magazine – Words & Worlds – for migrant literature

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. خوف اور مصائب Extrasensory perceptionکا پیچ خیمہ ثابت ہوتا ہے۔اندر کی گہرائی کوماپنے کا اگر کوئی وقت ہے تو وہ تنہائی کا وقت ہے۔بڑے بڑے کلمہ “الست ” کو بھولے سانسوں کی مالا پہ “قالوابلی، قالوابلی” جپنا شروع ہو جاتے ہیں۔کثرت مذہب کے سپولے ایک ہی بِل میں پناہ ڈھونڈنے کو دوڑ پڑتے ہیں۔جمالیات کا وہ سفر جو الحاد کی وادیوں میں گم گشتہ تھا حسنِ حقیقی کی طرف لوٹنا شروع ہو جاتاہے۔اللہ کریں جب کچھ دیکھائی نہ دے تو وہ دیکھائی دے جو انسان کو انسانی حسرت کے اسلوب میں فرماتا ہے” ما غرک بربک الکریم”

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20