ذوالفقار علی بھٹو: مجموعہ اضداد —– پروفیسر غلام شبیر

0

مصنف

ذوالفقار علی بھٹو پاکستانی سیاست کے افق پر شہاب ثاقب کی طرح ابھرے اور بھسم ہوئے۔ قائداعظم کے بعد مقبول ترین لیڈر ثابت ہوئے مگر جس خوفناک یا عبرتناک انداز سے نصیب دار ہوئے اس کی نظیر بھی نہیں ملتی۔ تاریخ کے بڑے واقعات افسانوی رنگ اختیار کرتے ہیں بھٹو ہیرو اور ولن دونوں حیثیتوں سے فیکٹ اور فکشن کا ناقابل جدا ملغوبہ ہے۔ مردہ پرست محکوم قوموں کو جب اپنی تاریخ کا سامنا کرنا پڑتاہے، تو حقائق انہیں شتر مرغ کی طرح ریت میں منہ چھپانے پر مجبور کرتے ہیں۔ بھٹو کا المیہ یہ ہے کہ اسے ایک طرف مافوق الفطرت خوبیوں کا حامل ہیرو سمجھا گیا ہے، تو دوسری جانب ولن کے طور پر شکوک وشبہات سے اس کی نعش کو بے ختنہ قرار دیکر افسانے تراشے گئے۔ تاریخ کی آنکھ میں دھول جھونکنے والی قومیں خودفریبی اور نرگسیت کا شکار ہوکر اپنے تضادات اور چیلنجز سے نبرد آزما نہیں ہوسکتیں۔ بھٹو ہیرو ہے یا ولن یہ پاکستانی سیاست کا مستقل عنوان رہے گا تاوقتیکہ پیپلز پارٹی ازخود بھٹو کو سندھ سے لاڑکانہ اور لاڑکانہ سے گڑھی خدا بخش نہیں پہنچا دیتی جس طرح اسے وفاقی افق سے گرفتار کرکے سندھ میں مقید کیا ہے۔

ابن خلدون آف ماڈرن ٹائمز ڈاکٹر اقبال احمد سے ڈیوڈ بارسیمین نے پوچھا کہ آرمینیا میں ۱۹۱۵ میں خلافت عثمانیہ کی جانب سے نسل کشی کا پہلا واقعہ پیش آیا۔ اور ستم بالائے ستم یہ کہ ترک حکومت نے امریکی پرنسٹن یونیورسٹی میں چیئر قائم کی ہے جس کی بنیادی ذمہ داری اس واقعے کا استرداد ہے۔ اقبال احمد کو پہلے نمبرپر پرنسٹن یونیورسٹی کا یہ کارنامہ ورطہ حیرت میں ڈال گیا، پھر یہ تاریخی جملہ کہا کہ ترک اس وقت تک آزاد قوم نہیں کہلا سکتے جب تک کہ وہ اپنی تاریخ کو تسلیم نہیں کر لیتے۔ جرمن عظیم قوم ہیں انہوں نے ہولوکاسٹ کو تسلیم کیا ہے۔ اسرائیلی اگر عظیم قوم ہیں تو انہیں بھی فلسطینیوں کیخلاف گھنائونے جرم کو ایک نہ ایک دن تسلیم کرنا ہوگا۔ پاکستان میں نظریاتی سیاست کی جگہ عملیت پسندی لے رہی ہے، تاہم جب تک پیپلز پارٹی کا وجود ہے سیاسی فضا میں بھٹو ازم کا ہالہ قائم رہے گا۔ اس لیے بھٹو صاحب کی شخصیت کا معروضی تجزیہ ضروری ہے۔

کیا واقعی بھٹو زندہ ہے؟اسٹینلے وولپرٹ کے مطابق پاکستان کو اگر میکروکازم یعنی کائنات اکبر متصور کیا جائے تو بھٹو اس کا منی ایچر، شیڈو امیج یا مائیکروکازم ثابت ہوں گے۔ جیسے مشرقی اور مغربی دو حصوں کا غیرمتجازب جغرافیہ لیکر پاکستان معرض وجود میں آیا کچھ ایسا ہی نفسیاتی جغرافیہ بھٹو کا تھا۔ منفرد کرشمہ اور گہری نا کامیاں جنہوں نے اسے جلد اور خوفناک انجام سے دوچار کیا اس کی شیزوفرینک شخصیت کا جزولا ینفک تھیں۔ اس کی نفسیات کے ایک حصے کی طاقتوں کو دوسرے حصے کی کمزوریاں زائل کرنے کیلئے کافی تھیں، ایک حصے کی شمعیں دوسری طرف کے بلیک ہولز اور بارودی سرنگوں سے لرزہ براندام رہی تھیں۔ اس نابغہ روزگار لیڈر کی نفسیات دو متضاد قطبین سے عبارت تھی۔ اس کا من اندر کے تضادات سے تارتار اور چھدا پڑا تھا۔ وہ عظمتوں بھرے رومانوی خوابوں کو حقائق عام سے ہم آہنگ نہ کر سکا۔ اقتدار کے سلپری پول پر رہتے ہوئے اپنے آپ ارض پاکستان اور عالم اسلام کو سکڑنے، ختم ہونے اور ٹکڑے ہونے سے بچانے کیلئے خود کو عالم اسلام کا نپولین سمجھتے ہوئے بروئے کار آنے میں مگن تھا، تاوقتیکہ نرگسیت کی زلف دراز میں پائوں پھنسا کر “آپ اپنے دام میں صیاد آگیا” کی تصویر بن گیا۔

ماں جس قدر غریب، باپ اتنا ہی بڑا جاگیردار کہ ہزاروں نہیں بلکہ کئی سو ہزار ایکڑ اراضی کا مالک تھا۔ ماں اور باپ کے سماجی پس منظر کا بعدالمشرقین بھٹو صاحب کی دوقطبی نفسیات کے ون یونٹ بننے کی راہ میں ہمیشہ حائل رہا۔ اس نفسیاتی پولرائزیشن اور دوقطبیت نے اس کے قلب و دماغ میں ایسے پنجے گاڑ رکھے تھے کہ محض سوچ اور کردار و عمل سے نکل کرمنزل و مقدر میں بھی سرایت کرگئی۔ قید تنہائی کی ایک انتہائی سرد رات میں موت کی تنگ و تاریک کو ٹھڑی سے رقمطراز ہیں

“ڈیڑھ سال سے زائد وقت سے قید تنہائی میں ہوں، میرا خٓاندان کئی نسلوں سے ہزاروں نہیں بلکہ کئی سو ہزار ایکڑ جاگیر کا مالک چلا آرہا ہے۔ سیاسی افق پر میری شہرت کا مقدر ستاروں پر لکھا ہوا ہے۔ اگر میں پاکستان کا حصہ نہیں تو سندھ بھی پاکستان کا حصہ نہیں۔”

زنداں میں بھی شورش نہ گئی اپنے جنوں کی
اب سنگ مداوا ہے اس آشفتہ سری کا۔

بھٹو کی یاد - Pakistan - Dawn Newsبھٹو صاحب کی تحلیل نفسی کیلئے بھٹو فیملی کا مختصر پس منظر جاننا ضروری ہے۔ بھٹوز کا تعلق راجستھان کی راجپوت فیملی سے ہے۔ سترہویں صدی میں جب پورا ہندوستان مغل اقتدارمیں آیا تو اورنگزیب عالمگیر کے دور میں دیگر راجپوت جنگجوئوں کی مانند ٹیکس سے استثنا اور دیگر مفادات کے حصول کیلئے بھٹو فیملی کا جد امجد شیٹوخان مشرف بہ اسلام ہوا، اور اپنے قبیلے کی سرداری کیلئے خان کا ٹائٹل حاصل کیا۔ اسٹینلے وولپرٹ کے مطابق بھٹو خاندان مفاد پرستی اور زندگی کے جاں گسل معرکوں میں اپنی بقا کیلئے عملیت پسند واقع ہوا ہے۔ ایسا کم ہی ہوا ہے کہ زندگی نے کچھ مواقع پیش کیے ہوں اور بھٹوز نے انہیں ہاتھ سے جانے دیا ہو۔ اگر ناگزیر ٹھہرا تو مسافرت تو کیا بھٹوز نے ایمان تبدیل کرنے کا موقع بھی کبھی ہاتھ سے نہیں جانے دیا، خشک سالی اور قحط کے چیلنجزہوں یا خونخوار مخالفین پر قابو پانے کا مسئلہ ہو یا اپنی اور خاندان کی ترقی کے مواقع بڑھانے ہوں بھٹوز ہمیشہ ہوشیار باش نظر آئے ہیں۔ راجستھان میں خشک سالی سے تنگ آکر شیٹوخان نے سندھ کا رخ کیا اور لاڑکانہ کے قریب رتوڈیرو میں جاگیر پائی جسے دریائے سندھ کے پانیوں نے چاول گنا اور کپاس اگانے کیلئےاتنا زرخیز بنا رکھا تھا کہ بھٹوز کی چاندی ہوگئی۔ مغل دورمیں سندھ کا پایہ تخت ٹھٹھہ تھا، ٹھٹھہ کے نواح میں صوفی بزرگ شاہ عنایت کا مزار ہے، جس کےاحاطے میں دیگر شہدا کا قبرستان ہے۔ شاہ عنایت نے مغلوں کی استحصالی پالیسی کیخلاف جو اگائے وہی کھائے کا نعرہ لگایا تھا۔ انہیں ٹھٹھہ مذاکرات کے نام پر طلب کرکے مغل گورنر نے ساتھیوں سمیت شہید کروادیا تھا۔ راقم کو شاہ عنایت کے مزار پر حاضری کا شرف حاصل ہوا ہے۔ اورنگ زیب عالمگیر کی وفات کے بعد سندھ مغل تاج سے آزاد ہوا جنگجو کلہوڑوں کی راجدھانی بن گیا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی نے ۱۷۵۸ میں ٹھٹھہ میں پہلا کارخانہ لگایا۔ شیٹو خان کے پوتے پیربخش خان بھٹو نے لاڑکانہ کو بھٹو پاور کا مرکز بنایا۔ کلہوڑوں کو بلوچ تالپور قبیلے نے شکست دے کر حیدرآباد کو سندھ کا پایہ تخت بنایا۔ وڈیرے سائیں پیر بخش بھٹو نے تالپوروں کی وفاداری کا حلف اٹھایا اور بدلے میں لاڑکانہ، سکھر اور خیر پورکی وسیع جاگیر پر بھٹوز کی ملکیت تسلیم کی گئی۔ بھٹوز ہوائوں کا رخ جانچنے اور تازہ منصوبہ بندیوں میں مشاق سمجھے جاتے تھے۔ ۱۸۸۲ میں میرعلی مراد تالپور نے سائیں پیر بخش بھٹو سے کہا کہ وہ اپنے بیٹے اللہ بخش خان بھٹو کو خیرپور بھیجیں جہاں اللہ بخش کو پانچ سال شاہی مہمان کے طور پر رکھا گیا تاکہ لاڑکانہ سے بھٹو بغاوت کا خطرہ نہ رہے۔

سر چارلس نیپئر نے ۱۸۴۲ میں سندھ پر قبضے کی مہم شروع کی۔ تین تالپور سرداروں نے سندھ کو تقسیم کر رکھا تھا۔ بڑے حصے کا پایہ تخت حیدر آباد تھا، دو حصوں کو خیر پور اور میانی سے کنٹرول کیا جارہاتھا۔ ۱۸۴۳ میں میانی تالپوروں کا واٹرلو ثابت ہوا، دس ہزار سندھی سپاہی ذبح ہوئے، نیپئر نے کراچی کو سندھ کا پایہ تخت بنایا۔ پیر بخش بھٹو کے فرزند ارجمند ڈوڈوخان بھٹو نے نیپئر کے دور میں اپنے قبیلے پر حکمرانی کی اور سر نیپئر کے ساتھیوں نے ڈوڈوخان بھٹو کو اہم ذمہ داریوں پر تعینات کیا۔ ۱۸۹۲میں زلفی بھٹو کے دادا میرغلام مرتضیٰ بھٹو کا انگریز کرنل میجسٹریٹ مے ہیو کیساتھ ایک خوبصورت لڑکی سے عشق کی بابت نزاع پیدا ہوا، جس سے وہ دونوں پیار کرتے تھے۔ میرغلام مرتضیٰ بھٹو کو انگریز کرنل نے علاقائی دشمنیوں اور مقدمات میں پھنسایا، تنگ آکر میرمرتضیٰ بھٹو کو افغانستان جلاوطنی کاٹنا پڑی، جائیداد ضبط ہوگئی۔ مگر کمال ہوشیاری سے میرغلام مرتضیٰ بھٹو ایک سکھ مزدور کے روپ میں کمشنر کراچی کے دفترمیں تعمیری کام پر مزدور لگے اور پھر موقع پاتے ہی کمشنر کراچی کو اپنی روداد غم سنائی، کمشنر نے اعانت کا وعدہ کیا اور فائل میں لکھ دیا کہ بھٹوز پر نظر رکھی جائے، یہ تحریر ممبئی میں قیام کے دوران سر شاہنواز کی نظر سے گزری تاہم اس تجربے نے سر شاہنواز بھٹو کو اتنا محتاط بنایا کہ انگریز حکومت سے سر کا خطاب حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔

مختصر خاندانی پس منظر اس لیے بیان کیا ہے کہ قارئین کو اندازہ ہوجائے کہ بھٹو صاحب کس طرح کی جینیاتی ساخت کیساتھ پاکستانی سیاست کے افق پر وارد ہوئے۔ بھٹو کے شیدائیوں کا عام تاثر یہ ہے کہ وہ پیدائشی مسیحا تھا، اور اسی امر کی پاداش میں نصیب دار ہوا۔ اسٹینلے وولپرٹ کا بیان تو یہ ہے کہ بھٹو آخری تجزیے میں وہ ستمگر اپنے سوا  کسی کا بھی دوست نہ ہوا تھا۔ یہ پیش نظر رہے کہ اشرافیہ کے ویلیوز سسٹم میں اگرکوئی مستقل قدر ہے تو صرف مفاد پرستی ہے۔ ہیروارث شاہ میں جب ہیر کی ماں اپنے شوہر سے کہتی ہے کہ گھر میں نوجوان خوبرو بیٹی ہے اور رانجھا نامی مسٹنڈے نے بھی ادھر ڈیرے جما رکھے ہیں یا بیٹی کی شادی کرو یا اس اوباش کو گھر سے نکالو، جواب ملتا ہے ساڈی دھی دا کی ایہنے لاہ لینڑا چلو چار دیں مجھاں تے چرالیئے! یہ ہماری بیٹی کا کیا اتار کرلے جائے گا؟ موقع ہے چاردن بھینسیں تو چروالی جائیں اس سے۔ اشراف کمینہ کار کا جہاں بھر میں منفعت شیوہ رہا ہے۔

لاڑکانہ میں بھٹو خاندان کی زمینیں شکار کے رسیا اعلیٰ مزاج اور بااثر سیاسی افراد کیلئے سامان کشش اور بھٹو کیلئے اقتدار کی سیڑھیاں چڑھنے کیلئے پی آر کا موثر ذریعہ تھیں۔ یہاں سور کے شکار کیلئے آنیوالوں میں ابوظہبی کے شیوخ، شاہ آف ایران، اسکندر مرزا، ایوب خان اور یحیٰ خان کے نام شامل ہیں۔ بھٹو صاحب رائفلز کا بہترین اسٹاک رکھتے تھے اور اپنی سالگرہ کے موقع پر شکار کا خاص اہتمام کرتے۔ بھٹو صاحب پاور کوریڈورز کی ہر شخصیت سے ڈسپوزایبل قسم کا تعلق پالنے پر یقین رکھتے تھے۔ ان کی سیاسی بائبل میں لکھا تھا کہ مفاد برآنے کے بعد تعلق ڈسٹ بن کا مستحق ہے۔ نصرت، ناہید اور فرحانہ پہلوی کی دوستی نے بھٹو صاحب کو اسکندر مرزا کے قریب کیا۔ شکارگاہ کی دوستی نے اقتدارمیں آنے کے امکانات پیدا کیے۔ مرزا کیلئے جو چکنی چپڑی کہی گئیں کسی عرب قصیدہ گو کی کیا مجال کہ ایسا منظر پیدا کر سکے۔ حد تو یہ کہ ایسے جملے بھی ملتے ہیں جو خوشامد کا تاثرہی پیدا نہ ہونے دیں۔ بس مہدی موعود نہیں کہا گیا۔ جب مرزا کا بخت ڈھلا تو پیلو مودی سے کہنے لگے بیچارہ سیاست کے متعلق کچھ نہیں جانتاہے؟ ایوب خان کا سورج طلوع ہوا تو کبھی صلاح الدین ایوبی اور کبھی جنرل ڈیگال کہا، پھر ایوب خان ڈیڈی بن گئے۔ ایوب خان نے بھٹو صاحب پر اندھا اعتماد کیا۔ کوئٹہ کراچی کے دوروں پر ایڈوائزری کیلئےساتھ لے گئے۔ جنرل گل حسن لکھتے ہیں کہ ایوب خان کے دورہ کوئٹہ کے موقع پر کوئٹہ کلب میں ہم ڈرنک کر رہے تھے کہ ذرا تاخیر سے بھٹو شامل ہوئے اور کہنے لگے معاف کیجئے گا تاخیر ہوگئی ابھی بڈھے (ایوب خان) کو بستر میں ڈال کر فارغ ہوا ہوں۔ خاندانی پس منظرکے لحاظ سے بھٹو قائداعظم محمد علی جناح سے بھی بھاری بیک گرائونڈ کے حامل تھے، مگر شارٹ کٹس، خوشامد، اور ایوان اقتدار میں آگے پیچھے کی پھرتیوں اور تیز طراریوں کو دیکھا جائے تو الگ ہی گماں ہوتا ہے۔

بھٹو صاحب کی پیدائش پر والدہ نے اپنے ہندو پس منظر کی وجہ سے ستارہ شناس سے ممبئی میں زائچہ نکلوایا تھا۔ اسٹرولوجر نے پچاس سال کی عمر تک ترقی ہی ترقی اور عروج ہی عروج بتایا، آگے خاموش ہو گیا تھا۔ بھٹو صاحب کی چھٹی حس اور ستارہ شناس کا بیان کم عمری کا پتہ دے رہے تھے اس لیے بھی وہ برق رفتاری سے بہت جلد بلندیوں کو چھونا چاہتا تھا۔ وہ ایوب خان کو یقین دلوا چکا تھا کہ خارجہ امور اور فلسفہ تاریخ میں اس سے بڑا دماغ پیدا نہیں ہوا۔ کشمیر کی تاریخی اور جغرافیائی اہمیت کے پیش نظر وہ ایوب خان کو بھارت سے دوہاتھ کرنے پر آمادہ کرچکا تھا۔ کہا کہ ردعمل میں بہت ہوا تو آسام، سلہٹ کے راستے بھارت مشرقی پاکستان پر یلغار کرے گا تو ہمارا دوست چین ملک کاہے کو ہے؟ بھارت نے پنجاب میں لاہور پر یلغار کردی تو ایوب خان نے بھٹو کے غلط تجزیے پر سوال کیا تو ہینکی پینکی سننے پر ایوب کا دماغ کھلا۔ خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا جو سنا افسانہ تھا۔ انٹیلیجنس چیف کو بلا کر پوچھا کہ لاہور کیطرف بڑھتی ہوئی بھارت کی مسلح ڈویژن کوئی بھوسے میں سوئی تھی جو تمہیں نظر نہ آسکی۔ کانپتے ہوئے انٹیلیجنس چیف نے کہا کہ سر ہم پچھلے کئی ماہ سے الیکشن نتائج اور دیگرامور کیلئے تفویض کیے گئے اسائنمنٹ پر مامور تھے۔

سیاست کا گرو بھٹو جیسا کوئی خال ہی پیدا ہوا تھا۔ جب معاہدہ تاشقند میں ایوب خان کمپرومائزنگ پوزیشن میں آیا تو بھٹو نے اسے خوب استعمال کیا۔ تاشقند میں کلدیپ نائر نے ایوب خان سے پینسٹھ کی جنگ کے بابت کچھ سوال پوچھے ایوب خان نے کہا بھٹو صاحب سے پوچھیئے یہ اس کی جنگ تھی۔ معاہدہ تاشقند میں ایوب خان نے بھٹو کیساتھ سرد مہری کا رویہ رکھا جب مذاکرات کے کلیدی فیز کیلئے اٹھے تو بھٹو صاحب نے بھی اٹھنا چاہا ایوب خان نے آنکھ کے اشارے سے روک دیا۔ یہ جاگیردار بھٹو کی انا پر ضرب بھی تھی اور اس کے تجزیے میں ایوب خان کا جانا بھی ٹھہر گیا تھا۔ حس مزاح سے بھرپور بھٹو جگتوں کا بادشاہ تھا، ایوب خان کیخلاف خوب بیان بازی کی۔ تنگ آکر ایوب خان نے بلا کرمعاہدے کے ذریعے بھٹو کو علاج کی غرض سے جبری رخصت پر ریاست پاکستان کے خرچ پر بیرون ملک روانہ کیا اس شرط پر کہ وہ ایوب خان کے خلاف کوئی بیان نہیں دیں گے۔ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا کل کا دوست دشمن اوردشمن دوست بنتا آیا ہے۔ وولپرٹ کے مطابق پہلے ایک بار راوالپنڈی کے ہوٹل میں قیام کے دوران کسی ایشو پر جھگڑنے کے باعث بھٹو نے نصرت کو تشدد کرکے کمرے سے باہر نکال دیا تھا، وہ فون پر رابطہ کرکے رات گئے ایوان صدر پہنچی تھی۔ اگلے دن ایوب خان نے بھٹو کو بلا کر کہا کہ یا تو میری کیبنٹ سے استعفیٰ دو یا پھر نصرت سے لڑائی ختم کرو۔ ایوب خان کے اقتدار کا جادو تب سرچڑھ کر بول رہا تھا عملیت پسند بھٹو نے تابع فرمانی میں عا فیت جانی۔ تاہم معاہدہ تاشقند کے بعد ایوب خان روبہ زوال تھا، اس لیے خاموش معاہدے پر بھی کم ہی عملدرآمد کیا، بھرپوربیان بازی کی۔ واقعات کو توڑ مروڑ کر معنی پہنانے میں بھٹو تاک تھا۔ بھٹو نے بھارت مخالف جذبات کو خوب ہوا دے کر جنرل کو بزدلی کا طعنہ دیتے ہوئے عوامی جذبات کو برانگیختہ کیا۔

یحیٰ خان نے ایوب خان کو چلتا کیاتو بھٹو صاحب کیلئے نئے مواقع پیدا ہوئے۔ شکارگاہ کی دوستی نے بھی کام دکھایا۔ یحیٰ خان نے شفاف انتخابات کا وعدہ پوراکیا۔ اگرچہ وہ بطور صدر اقتدار سے چپکے رہنا چاہتا تھا تاہم وہ مجیب الرحمان کی اکثریتی پارٹی کو دعوت دے چکا تو بھٹو نے مخالفت کی اور وقت مانگا۔ ٹانگیں توڑنے والا بیان دیا اور اقتدارکی منتقلی کی راہ میں رکاوٹ بنا رہا۔ اگر راضی بھی تھا تو اقتدارکے نیام میں دوتلواریں رکھنے پر۔ وولپرٹ لکھتے ہیں کہ بھٹو بہت زیرک آدمی تھا، وہ یحییٰ خان کو باور کرانے میں کامیاب ہوگیا کہ مجیب الرحمان کے چھ نکات پاکستان کی جغرافیائی وحدت کیلئے عظیم خطرہ ہیں۔ ایک پروفیشنل سولجر تربیتی اعتبار سے سب سے زیادہ جغرافیائی سرحدوں کیلئے حساس ہوتا ہے اور بھٹو صاحب یحیٰ خان کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھنے میں کامیاب ہوگئے۔ مشرقی پاکستان میں ملٹری آپریشن ناگزیر ٹھہرا۔ اور اس دوران اسلحہ اور دیگر اہم ضروریات کی رسد کو یقینی بنانے کیلئے یحییٰ خان نے بھٹو کو چین بھیجا۔ یوں وولپرٹ کیمطابق مشرقی پاکستان پر فوج کشی کے منصوبے کا معمار اول بھٹو ہے۔ یحییٰ خان نے بعد ازاں پاکستان ٹوٹنے کا ذمہ دارمجیب الرحمان سے زیادہ بھٹو کو ٹھہرایا۔

مشرقی پاکستان ٹوٹنے کے بعد پاکستان کا وزیراعظم بننے پر قدرت نے بھٹو صاحب کو گراں قدر موقع دیا۔ پروفیسر شریف المجاہد نے ایک دفعہ راقم سے گفتگو میں فرمایا کہ بھٹو اگر متوازن پالیسی لیکر چلتا تو اگلی کئی دہائیاں اسی کا اقتدار رہتا۔ ڈاکٹر اقبال احمد لکھتے ہیں کہ بھٹو صاحب کے پاس اصلاحات اور ریاست کی تشکیل نو کا قیمتی موقع تھا تاہم وہ شخصی مفاد سے آگے کی نہ سوچ سکا۔ ایوب خان کے دور میں سول بیوروکریسی ملٹری کو سویلیانائز کر رہی تھی بھٹو عہد سویلین بیوروکریسی کو ملٹرائز کرنے کا سبب بنا۔ ایف ایس ایف کا قیام ہی لے لیجئے۔ سول انتظامیہ کو سیاسی کیا گیا۔ عہدہ سنبھالتے ہی بھٹوصاحب نے ۲۰۰۰ سول افسران کو فارغ کیا، سول سروس افسران کی بھرتی اور تربیت کا منظم سسٹم بائی پاس کرکے براہ راست سیاسی بنیادوں پر بھرتیاں کی گئیں۔ فوج کی انسٹیٹیونل ری اسٹرکچرنگ کا نادر موقع ضائع کردیا گیا۔

او آئی سی کا لاہور میں اجلاس بلاکر بھٹو نے قوم کا مورال بحال کیا اور فوج کو قومی کے بجائے ذاتی اثاثہ سمجھتے ہوئے طاقتور بناتے چلے گئے کہ سیاسی مقاصد کیلئے کام آئے۔ بلوچستان میں فوجی آپریشن جاری رکھا بقول اقبال احمد فاشزم اور سیپرٹزم (علیحدگی پسندی) بظاہر مخالف مگر تہہ میں یک زیست واقع ہوئے ہیں۔ فاشزم بڑھتا ہے تو سیپراٹزم کو پھلنے پھولنے کا موقع ہاتھ آتا ہے۔ قیام پاکستان سے لیکر بھٹو کے اقتدار سے پہلے تک سول بیوروکریسی کا ملٹری بیوروکریسی کے مقابلے میں پلڑا بھاری تھا، ابتداً اقتدارپر اسی لیے سول بیوروکریسی کی اجارہ داری تھی۔ سول بیوروکریسی کو اسی لیے اسٹیل فریم آف برٹش انڈیا کہا جاتا تھا۔ کیونکہ یہ تربیت مورال ڈسپلن اور اخلاقی طور پر بہت عمدہ روایت کی حامل چلی آرہی تھی۔ بھٹو صاحب نے جب سول بیوروکریسی کا مورال اور اخلاقی پیرہن تار تارکیا تو پہلی دفعہ ملٹری بیوروکریسی کا پلڑا بھاری ہوگیا۔ بقول اقبال احمد پاکستان میں ملٹری بیوروکریسی کی سول پربرتری کے پیچھے بندوق سے زیادہ اخلاقی برتری کارفرما ہے۔

بھٹو صاحب اس قدر منتقم مزاج واقع ہوئے تھے کہ مخالف کیلئے فکس ہم Fix him کی اصطلاح عام تھی۔ ولی خان حیدرآباد ٹریبونل کے سامنے بغاوت کے کیس میں جج سے کیس کی سست رفتاری پر کہنے لگے حضور میرے اور اپنے لیے آب حیات کا بندوبست کیجئے۔ اقبال احمد کے مطابق ضیائی مارشل لا سے پہلے بھٹو نے پچیس ہزار سے زائد مخالفین کو پابند سلاسل کر رکھا تھا، ضیا الحق نے صرف پانچ ہزار گرفتاریوں سے مارشل لا کو مستحکم کر لیا تھا۔ اٹلی کی جرنلسٹ اوریانہ فیلسی کی کتاب انٹرویو ود ہسٹری میں اندرا گاندھی نے کسی سوال کے جواب میں بھٹو صاحب کو ایم بی شی اس کہہ دیا تھا۔ جب تک اسی مصنفہ کو انٹرویو کیلئے بلا کر بھٹو صاحب نے اندرا کو میڈیاکر یعنی اوسط درجے کی خاتون لیڈر نہیں کہا، کہاں ٹلنے والے تھے۔

بھٹو صاحب کی دوقطبی نفسیات نے اسے سوچ اور کردار و عمل میں مجموعہ اضداد بنا دیا تھا۔ نفسیاتی سیٹ اپ کا قطب شمالی اسے نپولین بونا پارٹ بننے پر مجبور کرتا تو قطب جنوبی کارل مارکس، لینن اور مائوزے تنگ کی طرف مائل کرتا۔ مختصرالفاظ میں اسی کشمکش کو بھٹو کا نام دیا جا سکتا ہے۔ نپولین کی بائیوگرافی اور مارکس کی کمیونسٹ مینی فسٹو بھٹو صاحب کی پسندیدہ کتابیں تھیں اور دونوں قلب و دماغ ہی نہیں روح میں اتر چکی تھیں۔ اس کا اظہار طرز سیاست ہی نہیں بھٹو کے عمومی کردار وعمل میں بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ وہ عوامی جلسوں میں مائو کیپ اور سادہ لباسی سے کارل مارکس بنتا مگر اقتدارکی طاقت سے مخالفین کیلئے نپولین بن جایا کرتا۔ ڈیوڈ فراسٹ نے بھٹو سے پسندیدہ عالمی لیڈرکے متعلق پوچھا تو بے ساختگی سے نپولین اور چو این لائی کا نام لیا، کہ دونوں تاریخ، ملٹری سائنسز، میوزک اور عصرحاضر کا لمس رکھنے کے باوصف مکمل لیڈر ہیں۔ بھارت نے جب ستر کی دہائی میں ایٹمی دھماکے کیے تو بھٹو نے کہا چین حقیقی نیوکلئر پاور ہے، بھارت شوشا والا وہ عظیم الجثہ بھوت ہے جس کے پائوں مٹی کے ہیں ایٹمی طاقت بننے کیلئے اس کا معاشی انفرا اسٹرکچر ناکافی ہے انہیں اس پروگرام کیلئے غریب کے معدے میں اتر کر انتڑیوں سے پیسہ نکالنا پڑے گا۔ جب خود اس راہ کے عازم ہوئے تو کہا گھاس کھالیں گے مگرایٹم بم ضرور بنائیں گے۔

بھٹو جمہوری اتنا تھا کہ دوتہائی اکثریت رکھنے کے باوجود جب تک ولی خان سمیت اپوزیشن کو آن بورڈ نہ لیا ۷۳ کا آئین منظور نہیں ہونے دیا۔ ڈکٹیٹر اتنا کہ وزیراعظم سے زیادہ صدارتی عہدے سے چپکے رہنا پسند تھا۔ بڑے احتجاج کے بعد صدارت چھوڑ کر وزیراعظم منتخب ہوا۔ تاہم جب جمعہ کی چھٹی، قادیانیت کیخلاف آئینی ترمیم اور شراب جوا پر پابندی سے داخلی اور خارجی سطح پر مسلم قدامت پسند حلقوں کی تائید مل گئی، پاک چین دوستی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ٹھہری، ایٹم بم بنانے کیطرف پیش رفت شروع ہوگئی تو بھٹو نے ۱۹۷۷میں جلد انتخابات کروانے کی ٹھانی۔ پس پردہ عزائم یہ تھے کہ دوتہائی اکثریت لیکر وہ پاکستان کو پارلیمانی سے واپس صدارتی سسٹم میں لانے کیلئے آئین سازی کر لیں گے تاکہ ہر ماہ قومی اسمبلی میں اپنے اٹھائے گئے اقدامات کی توثیق کیلئے حاضرنہ ہونا پڑے۔ اس کام کیلئے موصوف نے لندن اسکول آف اکنامکس اینڈ پولیٹیکل سائنس کے اکیڈمک جناب لیسلی وولف فلپس کی خدمات مستعار لے رکھی تھیں جو لندن میں پاکستانی سفارتخانے میں رہتے ہوئے انتہائی خفیہ طور پر نئے صدارتی نظام حکومت کے آئینی ڈھانچے پر مصروف کار تھا جو اس ٹاپ سیکرٹ مشن پر بھٹو صاحب کو بریف کرنے جولائی ۷۷ میں راوالپنڈی بھی آیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ دھاندلی نہ بھی کرتے تو بھٹو سادہ اکثریت سے پھر وزیراعظم بن جاتے، دھاندلی کی حماقت سمجھ نہیں آتی۔ مگر اب کے بار انہیں تین تہائی اکثریت لیکر صدارتی سسٹم لانا تھا۔

بھٹو صاحب لچک کے لحاظ سے بھی دریا دل واقع ہوئے تھے۔ پروفیسر غفور احمد سے راقم نے بارہا خود سنا کہ آخری مرحلے میں بھٹو یہاں تک راضی ہوگئے تھے کہ جن نشستوں پر اپوزیشن دھاندلی کے شک پر دوبارہ الیکشن چاہتی ہے ہم وہ اپوزیشن کو دے دیتے ہیں۔ مگر جنتا کچھ اور تیاری کیے بیٹھی تھی۔ جس کا بھٹو صاحب کو ادراک تھا کہ جب کامیاب مذاکرات کے بعد پیرزادہ نے بھٹو صاحب کو مبارک باد دی کہ سارے قضئے ختم ہوگئے ہیں ساڑھے بارہ بجے کا وقت تھا بھٹو صاحب نے ممتاز بھٹو سے کہا کہ اس کی امید پرستی کو دھو دو، ممتاز نے کہا انہیں سیلاب کے ہنگام سکھر بیراج پر لیجانے کی ضرورت ہے، بس آدھا گھنٹہ ہی گزرا تھا کہ بینظیر نے دستک دے کر مارشل لا لگنے کی خبر دے دی۔

بھٹو صاحب کا پورا سیاسی کیرئر پنڈولم کیطرح دو انتہائوں کے درمیان گھومتے رہنے سے عبارت ہے۔ ایک طرف تو ان کے سر میں اقتدار کی سیڑھیوں کو زینہ بہ زینہ عبور کرنےکا ایسا سودا سمایا تھا کہ وہ مجیب الرحمان کو اس کا قانونی اخلاقی اور جائز حق اقتدار دینے پر رضامند نہ تھے۔ لچک اور فراخ دلی کا یہ عالم کہ ارض پاک میں مجیب مخالف جزبات کے باوجود انتہائی چابکدستی اور سیاسی میچیورٹی سے انہوں نے لاہور میں عالمی اسلامی کانفرنس میں مجیب الرحمان کی شرکت کو یقینی بنایا۔ جمہوری فقیر اور درویش منش ایسا کہ ووٹ مانگنے کیلئے ایک جھگی والے سے بار بار ووٹ مانگنے گیا، چھٹی باراس مزدور نے رو کر کہا سائیں کیوں شک کرو ہو ووٹ آپکا ہے، بقول بھٹو صاحب سب آنکھیں نم تھیں۔ مگر جابرو قاہر ایسا کہ رات نو بجے میٹنگ بلائی، جے اے رحیم سمیت اہم افراد موجود تھے بھٹو صاحب ساڑھے گیارہ بجے تک نہیں آئے تو جے اے رحیم سمجھ گئے ایسے میں حضرت کے کیا مشاغل ہوتے ہیں اور کب فارغ ہوتے ہیں۔ کچھ اول فول بکتے ہوئے جے اے رحیم گھر چلے گئے۔ ایک ڈیڑھ بجے کے قریب بھٹو صاحب پہنچے تو جے اے رحیم کے جملے انہیں گوش گزارکیے گئے، پھر کیا تھا ایف ایس ایف کے گھنڈے مسلح ہو کر گھر سے جے اے رحیم کو لاتیں، ٹھڈے اور رائفلز کے بٹوں سے مارتے ہوئے گرفتار کرکے لے گئے۔ یہ وہ جے اے رحیم ہے جس کے دماغ میں پیپلز پارٹی کا جنم ہوا تھا اور مبشر حسن اور دیگر لوگوں سے مل کرپارٹی بنانے کا سوچا گیا تھا اور قیادت کیلئے ان کی نظر بھٹو صاحب پر پڑی تھی۔ پارٹی آئین اسٹرکچر اوردیگر امور انہوں نے خود طے کیے تھے۔ مگر میکیاولی کی دی پرنس میں گندھے بھٹو صاحب کیلئے عملیت پسند سیاست کا سبق یہی تھا کہ دوستوں اور محسنوں کی اہمیت اتنی ہے کہ سردی لگے تو پہن لو گرمی محسوس ہو تو اتار دو۔ بھٹو صاحب موت کی کوٹھڑی میں بیٹھے یہ رونا رو رہے تھے کہ کوئی بیرونی طاقت یا طاقتیں میرا قتل چاہتی ہے حقیقت یہ ہے کہ وہ بنگلہ دیش پر یو این جلاس چھوڑ کر اس خبر کے بعد وطن واپس پہنچے تھے کہ پاک فضائیہ کے طیارے صدریحییٰ خان کے محل کے اوپر زوں زوں کر رہے ہیں۔ جب بھٹو راوالپنڈی پہنچا تو جنرل جان چکے تھے کہ وہ واشنگٹن میں صدر نکسن اور اسٹیٹ سیکرٹری ولیم راجزر سے کلیئرنس چٹ لیکر پہنچا ہے۔ بھٹو بیس دسمبر کی دوپہر صدارتی محل میں یحییٰ خان سے دوبدو میٹنگ کیلئے ایک گاڑی پر داخل ہوا اور کچھ گھنٹوں بعدجب محل سے باہر آیا تو گاڑی پر صدارتی جھنڈا لہرارہا تھا۔

پران چوپڑا لکھتے ہیں کتنا المناک پہلو ہے کہ بھٹو صاحب کی صدارت کیخلاف ۱۹۷۳ میں فوجی بغاوت کی کوشش ہوئی تھی انکوائری کمیٹی کا چیئرمین بھٹو نے ضیا الحق کو بنایا بالکل اسی طرح جیسے ترکی میں جب جنتا نے جمہوری پارٹی کا دھڑن تختہ کیا تو ادریس مندیر اور دیگر کو سزائے موت سے بچانے کی سفارش کیلئے ایوب خان نے ترک ملٹری کے پاس ایوب خان کو نمائندہ بنا کر بھیجا تھا۔ اے کاش کہ جو کچھ بطور چیئرمین کمیٹی ضیا الحق کو سیکھنے کو ملا ایسا کچھ بھٹو صاحب بھی سیکھ لیتے تو کتنا اچھا ہوتا۔ تاہم بقول شاہ لطیف بھٹائی جب رب روٹھتا ہے تو شعور قبض کرلیتا ہے کوئی ہتھیار وغیرہ نہیں چلاتا۔ ضیا الحق کو بارہ جرنیلوں کو بائی پاس کر کے سائیں نے آرمی چیف لگایا تھا، اور اسے ذاتی ملازم سمجھ کر حضرت میٹنگز میں منکی یعنی بندر جنرل کہتے نہ چوکتے تھے۔ عالم یہ تھا کہ مارشل لا لگنے کے بعد جب بھٹو صاحب کو مری کے آرمی گیسٹ ہائوس میں رکھا گیا تو بھی میں سب کو دیکھ لوں گا بس الیکشن تو ہوں میرا اقتدار تاروں پر لکھا جا چکا ہے کہتے ہوئے یہ نہ جان پائے کہ یہاں آڈیو وڈیو رکارڈنگ کے آلات نصب ہیں۔

ہمیں بحیثیت قوم اپنے سیاسی ہیروز کو خوبیوں اور خامیوں سمیت قبول کرنا ہوگا۔ یقیناً بھٹو صاحب قائداعظم کے بعد پاکستانی سیاست کا لائق ترین دماغ تھے اور برصغیرکے چند نامور ترین قیادتوں میں سے ایک تھے۔ بھٹو صاحب کی کامیابیاں جہاں ہمالیہ سے بلند تھیں وہاں ناکامیاں بحر اوقیانوس سے بھی گہری تھیں۔ ۱۹۷۳ کے ایک آرٹیکل میں بھٹو طرز حکومت پر رائے دیتے ہوئے اقبال احمد نے لکھا تھا کہ جس طرح ریاست کو چلایا جارہا ہے شاید بتدریج ہمیں سیکیورٹی یا پولیس اسٹیٹ بننے سے کوئی نہیں روک پائے گا۔ لائق دماغوں کے جہاں مثبت کارنامے بلند ہوتے ہیں وہاں ان کی گمراہیوں کے اشجار خبیثہ کی جڑیں بھی گہری اور دور رس ہوا کرتی ہیں۔ بھٹو پسماندگان سے یہی کہتا ہے

میں رکھ سکا نہ توازن اڑان میں قائم
میرے پروں میں کوئی ایک پر زیاد ہ ہے

یہ بھی پڑھیں: بھٹو : بھارت کا خیرخواہ دشمن —– ڈاکٹر غلام شبیر

 

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20