گڑیا —- ناعمہ قاضی

0

شمائل اس کی زندگی کی پہلی دوست تھی۔ پتہ نہیں دوست تھی یا اس سے کچھ زیادہ یا کم۔۔۔ تین سال کی عمر ہی کیا ہوتی ہے ایسی باتوں کو سمجھنے کے لئے۔ چھوٹے سے فاران کے لئے سنہرے بالوں اور نیلی آنکھوں والی یہ گڑیا ہی کل کائنات تھی. خوشی ہو یا غم، کھیل ہو کام، اداسی ہو یا شرارت، انگنائی سے کوٹھا رسوئی سے زنان خانہ. پورے گھر میں فاران اپنی شمائل کے ساتھ مٹر گشت کرتا رہتا. بچپن کی دوستی، جوانی کی محبت اور بڑھاپے کا غم بھلائے نہیں بھولتا. وقت گزرتا گیا اور شمائل زندگی کے عناصر میں سے ایک بن گئی. کچھ سال بیتے کہ فاران کو شمائل سے الجھن ہونے لگی۔ وہ اس کے ساتھ بات کرتا تو اسکول کا ہوم ورک رہ جاتا۔ رات جاگتا تو صبح لیٹ ہو جاتا۔ ایک دن استاد نے کام مکمل نہ کرنے پر مار لگائی تو فاران نے گھر آ کر سارا غصہ شمائل پر نکال دیا. وہ بے زبان کیا بولتی، بال نوچ ڈالے۔ ہاتھ پاؤں توڑ دیے۔ کپڑے پھاڑ دیے اور اٹھا کر کوڑے دان میں پھینک دیا. گھر میں کسی نے سکھ کا سانس لیا تو کسی نے ہنسی میں اڑا دیا، مگر پتہ نہیں کیوں فاران کی ماں کی آنکھ نم ہو گئی۔

اس کے بعد فاران کا یہ معمول ہی ہو گیا، نئی گڑیا لاتا، بناتا، سنوارنا، کھیلنا، پیار کرتا اور جس دن غصہ آتا توڑ تاڑ کے پھینک دیتا. اس مشغلے میں اب تو اس نے گڑیوں کو نام دینا تک چھوڑ دیے تھے۔
غریب کا حال اور امیر کے احوال کب کسی کو نظر آتے ہیں۔ کسی نے دھیان ہی نہ دیا اور فاران بچپن سے لڑکپن اور لڑکپن سے جوانی میں داخل ہو گیا۔

اس کے والدین ایک دن سچی مچی گڑیا اس کے لئے لے آئے، سنبل سے شادی نے فاران کو جیسے اس کا دیوانہ بنا دیا۔تھی بھی وہ گڑیا جیسی، گورا رنگ، سرمئی آنکھیں، سرخ ہونٹ، بھرے بھرے رخسار، ہنسی ایسی کہ آبشار بہنے کا گمان ہو اور سگھڑ ایسی کہ خاندان گن گائے. دس انگلیاں دس چراغ تھی وہ۔ فاران اس کی آنکھوں کا محور اور مجازی خدا، جسے خوش رکھنا شاید اس کی زندگی کا واحد مقصد اور فاران اس کی انکھوں کا حسن اپنے چہرے پہ سجائے یونہی اتراتا پھرتا۔

وقت کا دھارا چلتا رہا اور کچھ ہی عرصے میں فاران بے زار ہونے لگا۔ بات بات پہ جھگڑا اور تو تو میں میں۔۔۔ لشتم پشتم زندگی گزر رہی تھی کہ ایک دن فاران کو کاروبار میں نقصان ہو گیا جس کی وجہ سے ہمیشہ کی طرح سنبل ہی قرار پائی۔کہ وہ فاران کو کہیں اور قرار لینے دیتی تو وہ دل لگا کے کچھ کر سکتا نا۔

فاران بپھرا ہوا گھر آیا، سنبل پر نظر پڑتے ہی اس کا دل چاہا کہ بال نوچ ڈالے، ہاتھ پاؤں توڑ کے کہیں پھینک دے .اس نے اپنے جارحانہ قدم ابھی بڑھائے ہی تھے کہ سنبل ڈر کے دیوار سے جا لگی، یہ کہنا مشکل ہے کہ زبان ڈر سے چپ تھی یا صدمے سے۔ اس سے پہلے کہ فاران کچھ کرتا، فاران کی ماں دونوں کے بیچ میں آہنی دیوار بن کر کھڑی ہو گئی، کہ فاران کو جاتے ہی بنی۔

سنبل اس دن کے بعد گھر میں نہ رکی، حق تو یہ ہے کہ جس نے مارنے کا قصد کر لیا تو اس نے مار ہی دیا. جسمانی چوٹ کا کیا ہے، لگی لگی نہ لگی، روح کے زخم کہاں رفو ہوتے ہیں۔
اس بات کو چالیس سال گزر گئے، شوکت ہسپتال میں بستر مرگ پر لیٹا ہے. پچھلی زندگی کسی فلم کی طرح اس کے سامنے چل رہی ہے، اس نے سوچا کہ اے کاش..! شمائل کو نہ توڑا ہوتا، زندگی نکال کے زندہ رکھ چھوڑنے کا یہ کھیل نہ کھیلا ہوتا تو شاید آج زندگی مختلف ہوتی اور شاید کوئی گڑیا آج سرہانے ہوتی۔
فاران کی آنکھ بند ہو گئی، کبھی نہ کھلنے کے لئے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20