وبا، بارش اور بندش —- محمد حمید شاہد

0

گزر چکے دو دنوں میں تو جیسے جاڑا مڑ کر پھر سے آگیا تھا اورآتے ہی یوں ہڈیوں میں رچ بس گیاتھا کہ لگا اب یہ جانے کا نہیں۔  اپریل کا مہینہ آلگا تھا، ہم حکومتی اعلان کے مطابق لاک ڈائون کی وجہ سے کمروں، لائونج اور حد سے حد باہر پورچ تک محدود ہو کر رہ گئے تھے مگر دو روز پہلے مطلع بالکل صاف تھا اور سورج اس شدت سے چمکتا تھا کہ باہر کی تپش اندر آتی تھی۔  ایسے میں یہ کیوں نہ سمجھا جاتا کہ لو جاڑا تو گیا۔  ہم بھی یہی سمجھے تھے لیکن ادھربیگم نے بچوں کی مدد سے گرم کپڑوں کو تہہ کرکے اسٹور میں پھینکوا یا اُدھر بادل کی ٹکڑیاں آسمان پر نمودار ہوگئیں اور وہاں سارے میں تہہ بہ تہہ جمع ہوتی گئیں۔  پہلے یخ ہوائیں چلیں، اتنی تند اور تیزکہ صدر دروازے کی ریخوں چولوں کے نہ نظر آنے والے چھیدوںاورجھِریوں سے گھر میں گھستی چلی آئیں۔  ہوا کا زور ٹوٹا تو بادل پورے جلال سے گرجنے لگا، بجلی کڑکی اور چھم چھم بارش برسنے لگی۔  اس بارش نے جاتے موسم کو واپس بلا لیا۔  سردی بڑھ گئی تو ہم ٹھٹھرنے لگے۔  ہیٹر دھکایاہاتھ تاپے مونگ پھلیاں، پکوڑے، سوجی کا حلوہ؛ ہر وہ حیلہ کیا جواس موسم میں کیا کرتے تھے مگررگوں میں تو جیسے جما ہوا لہو بہنا بھول گیا تھا۔

مجبوراً ایک ایک کرکے اسٹور میں رکھے گرم کپڑے پھر سے نکال لائے۔  رات بھر میہنہ برستا رہتا۔  دن کو کچھ لمحوں کے لیے دھوپ نکلتی تو بھی اندھی، اور لگتا جیسے بدلیاں اوڑھے سورج پورا باہر نکلا تو اسے بھی کپکپی آلے گی۔  ایسے میں کہ جب یونیورسٹیاں، دفاتر، مارکیٹیں سب بند تھے، بچوں نے گھر میں ہی اپنی مصروفیت کے بہانے ڈھونڈھ نکالے تھے۔  ان دو دنوں میں بھی بچوں کا معمول وہی تھا، ماں کے ساتھ مل کر لڈو یا تاش کھیلنا اور یکسانیت کو توڑنے کے لیے کوئی فلم یا بھلے وقتوں کا کوئی پرانا ڈرامہ دیکھ لینا۔  بس اس میں اگر کچھ بدلا تھا تو یہ کہ کچن میں کچھ اضافی پکنے لگاتھا۔

بچے رات کے پہلے پہر کی نیند کے ہمیشہ سے دشمن تھے۔  رات گئے تک بہانے بہانے سے نیند پرے دھکیلتے رہتے۔  رات بھی ایسا ہی ہوا۔  بیوی بچے لائونج میں ہنگامہ کرتے رہے اور میں چپکے سے خواب گاہ میں اپنے بستر پردراز ہو گیا۔  یہ لگ بھگ وہی وقت ہو گا کہ جو لوگوں نے کرونا وائرس کی وبا سے چھٹکارا پانے کے لیے چھتوں پر چڑھ کر اذانیں دینے کے لیے مختص کر رکھا تھا۔  دور نزدیک سے اذانوں کی آواز یں آتی رہیں پھر ان پر بچوں کے قہقہے حاوی ہو گئے اور میں نیند کی جھیل کے گہرے پانیوں میں اتر گیا۔

میری یہ عادت پختہ ہو چکی ہے کہ رات جلد سو جاتا ہوں اور تڑکے تڑکے اٹھ کھڑا ہوتاہوں۔  جی، جب گھر کے سارے جی گہری نیند میں ہوتے ہیں، تب۔  بستر چھوڑتے ہوئے مجھے بہت احتیاط برتنا ہوتی ہے کہ بیگم کی سانسوں سے فضا میں ایک خاص آہنگ سا بن جاتا ہے۔  اٹھتے ہی نہ جانے کیوں مجھے اس کے ٹوٹنے کا اندیشہ لگا رہتا ہے لہٰذا چپکے سے بستر سے اترتا ہوں۔  پنجوں کے بل چلتے ہوئے خواب گاہ سے نکلتا ہوں اور دھیرے سے دوازہ بند کردیتا ہوں۔  کتاب گاہ میں اترتے ہوئے سیڑھیوں والا قمقمہ بھی روشن نہیں کرتا۔  اس احتیاط کی عطا ہے کہ جب میں اپنے لکھنے کی میز پر بیٹھتا ہوں تو سانسوں کا یہ آہنگ میرے ساتھ ہوتا ہے جس میں بچوں کے سانس لینے کا آہنگ بھی شامل ہوجاتا ہے کچھ اس تناسب سے کہ مجھے لگتا ہے جیسے پورا گھر سانس لے رہا ہے۔  یہی وہ زندہ تخلیقی ماحول رہا ہے جس میں کاغذ قلم اٹھاتا رہا ہوں تو تخلیق کے لطیف لمحے مجھ پر مہربان ہوتے رہے ہیں۔

وبا کے دنوں کے آتے ہی یہ معمول ٹوٹ گیا تھا کہ اندر کی بے کلی نے سب کچھ تلپٹ کرکے رکھ چھوڑاتھا۔  چاہتے ہوئے بھی میں اس کیفیت کو گرفت میں نہیں لے پا رہا۔  تاہم کچھ لمحے پہلے، جب میں اپنی کتاب گاہ میں اترا، مجھے لگا سب کچھ معمول پر آگیا تھا۔  حکومت کی طرف سے عائد کی گئی لاک ڈائون کی پابندی کا دورانیہ آنے والی رات ختم ہوجانا تھا۔  اگرچہ یہ افواہ گردش میں تھی کہ یہ دورانیہ بڑھ سکتا تھا مگر ابھی تک اس باب میں سرکار خاموش تھی۔  مجھے لگنے لگاتھا کہ میرے اندر کی بندش بھی ٹوٹ گئی تھی۔  میں ماحول سے لطف اندوز ہو سکتا تھا اور ہو رہاتھا۔  اس قدر کہ میرے اندر یقین اُترآیا کہ تخلیقی عمل کو مہمیز لگنے والی تھی۔  عین اسی لمحے اچانک میرے سیل سے مدہم سی آواز آئی تھی۔  میں چونکا اور نظر سیل کی جانب اُٹھ گئی۔  ابھی ابھی اس کا مانیٹر تھوڑا سا جھلملا کر بجھ گیاتھا۔  واٹس ایپ اور ایس ایم ایس پیغامات کی الگ الگ پہچان کے لیے میں نے سیل پر الگ الگ آوازوں کا التزام کر رکھا تھا۔  یہ آوازیں بہت مدہم اور مختصرتھیں۔  اتنی مدہم اور اتنی مختصر کہ بس اشارہ سا ہوتا۔  اس بار جو اشارہ ہوا، وہ ایسی مدہم آواز میں تھا جیسے کسی نے منی سی کنکری پانی کے ذخیرے میں گرادی تھی۔  ایس ایم ایس؛ میں جان گیاتھا۔  اچھا، تو کوئی اور بھی تھا جو اس وقت میرے علاوہ جاگ رہاتھا۔  مجھے کرید لگ گئی، کون؟۔  میرا بے اختیاری میں سیل کی جانب ہاتھ بڑھا اور ایک انگلی سیل کے ڈسپلے کو چھو گئی تو سویا ہوا سیل ایک دم سے جاگ گیااُٹھا۔  ڈسپلے کے نوٹیفکیشن پر موجود ’’کووڈ۱۹‘‘کے ابتدائی حروف سے میں میسیج کی نوعیت سمجھ سکتا تھا۔  میرا دِل وسوسوں سے بھرگیا لہٰذا پورا میسج پڑھنے سے قصداً احتراز کرنے کے لیے ہاتھ کھینچ کر انگلیاں ہتھیلی کے اندر موڑلیں اور مٹھی سختی سے بھینچ لی۔

میں اُس فضا میں رہنا بسنا چاہتا تھا جس میں پورا گھر سانس لیتا تھا۔  میں نے لمبا سانس لیا اورپھیپھڑے پوری طرح بھرلیے۔  پھر ہونٹوں میں اندر کی ہوا دبا دبا کر اور روک روک کرباہر پھینکنے لگا۔  ابھی پوری طرح پھیپھڑے خالی نہیں ہوئے تھے کہ سانس روک لی اور سر کرسی کی پشت پر ٹکادیا۔  ایسا کرتے ہوئے بے دھیانی سے ہونٹ خود بہ خود کھل گئے اور چھاتی نے باقی ماندہ ہوا ایک ہی ہلے میں باہر پھینک دی تھی۔  اب سارے میں گہرا سکوت تھا۔  اتنا گہرا، اور اتنا بوجھل کہ وہاں کہیں کوئی بھی سانس نہیں لے رہاتھا۔  میں بھی نہیں۔  صوفے، میز، الماریاں، الماریوں سے جھانکتی کتابیں، دیواریں، دیواروں پر ٹنگی تصویریں، اوپر جاتی سیڑھیاں، قمقمے سے گرتی روشنی؛ کوئی بھی نہیں۔  محض ایک چھوٹی سی کنکری پڑنے سے سب کچھ بے جان ہوگیاتھا۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20