مغربی خداوں کی دنیا کے نفسیاتی لوگ —- خرم شہزاد

1

مسلم دنیا کو عمومی اور اہل پاکستان کو خصوصی طور پر دنیا کے ہر واقعے میں ایسے یہودی ضرور مل جاتے ہیں جن کی زندگی کا مشن بس دن رات ہمارے بارے میں سوچنا اور ہمارے لیے نت نئی سازشیں تیار کرتے رہنا ہو۔ کبھی کبھار توان یہودیوں پر افسوس کرنے کو دل کرتا ہے کہ جس سازش کے تانے بانے بننے میں انہیں بیس سے تیس سال لگتے ہیں، اس سازش کی ساری تفصیلات ہمارے فیکا موچی کے بکسے میں کھلے عام پڑی ہوتی ہیں جنہیں رد کرتے ہوئے ملک بکریاں والا سازش کے اصل محرکات سب کے سامنے لا رہا ہوتا ہے اور لوگوں کی ایک بڑی تعداد ان باتوں پر ایمان کی حد تک یقین بھی کرتی ہے۔ ایسی ایسی کہانیاں تشکیل دی جاتی ہیں کہ یہود و نصارا خود پریشان ہو کر سوچنے لگیں کہ ایسا ہم نے کب سوچا تھا؟ ویسے اگر مسلمانوں نے کہانیاں سنانے کے بجائے عملی طور پر آدھا بھی کام کر لیا ہوتا توآج یہ دنیا کچھ اور ہوتی۔ آج ہم مسلمانوں کے پاس ہزار سال پہلے گزر جانے والے سائنسدانوں کی کہانیوں اور جھوٹے احساس تفاخر کے سوا اگر کچھ ہے تو وہ دوسروں کی نقل کرنے کی عادت ہے۔ جس کی چند مثالیں حالیہ دنوں میں دیکھنے کو ملیں جب کہنی ملانے کا ایک چھوٹا سا وڈیو کلپ وائرل ہوا تو اگلے روز ہر کوئی ہاتھ کے بجائے کہنی ملاکر ثواب دارین حاصل کرنے کی جدوجہد میں تھا۔ کسی نے یہ نہ سوچا کہ جو وائرس ہاتھوں پر ہو سکتا ہے اسے چند انچ آگے بڑھ کر کہنی تک پہنچنے میں کون سی رکاوٹ ہے؟ اسی طرح پاکستان میں کئی عشروں سے آنے والے سیلاب اور زلزلوں کی تباہ کاریاں تو اب معمول کا حصہ بنتی جا رہی ہیں لیکن چھتوں اور بالکونیوں میں اذان دینے کی کوئی روایت موجود نہ تھی کیونکہ تب تک ہمارے پاس کسی کی نقل کرنے کا کوئی ذریعہ نہ تھا۔ اب جو ہمارے ہاتھ ایک وڈیو لگی تو سارا دن حرام کام کرنے کے بعد راتوں کو چھتوں اور بالکونیوں میں اذانیں دینا اسلام کا ایک اہم رکن شمار ہونے لگاہے۔

سوال یہ نہیں ہے کہ جس کام کی نقل کی جا رہی ہے وہ اچھا ہے یا برا لیکن سوال یہ ضرور ہے کہ آخر ہمیں کسی دوسرے کی نقل کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے؟ ہم خود اپنی سمجھ بوجھ، ریت رواج اور تعلیم پر مٹی ڈال چکے ہیں یا پھر اپنے اسلاف کی شاندار کہانیاں سناتے سناتے ہماری اپنی عقل اور سمجھ گھاس چرنے جا چکی ہے؟ حالیہ وبا کے دنوں میں جب ہر کوئی کرونا وائرس سے پریشان ہے (اہم بات تو یہ ہے کہ دنیا میں کرونا نام کا کوئی وائرس موجود ہی نہیں، یہ کیسے ممکن ہے اس بات کو پھر کبھی کے لیے اٹھا رکھتے ہیں) سوال یہ بھی ہے کہ کیا کسی نے کسی بھی طرح کا کوئی سوال سوچنے کی جرات کی ہے؟ ٹھیک ہے کہ وہان میں وبا پھوٹی اور شروع کے دنوں میں جب تک کسی کو سمجھ آتی، بہت سے لوگ وہاں سے دوسرے شہروں اور ممالک کی طرف بھی گئے لیکن وہ ممالک جہاں آج وبا کا زور ہے کیا وہاں کسی نے ایسا کوئی ڈیٹا جمع کرنے کی کوشش کی ہے کہ پتہ چلایا جائے کہ چین سے کون سے افراد یہ بیماری لے کر اٹلی اور دوسرے ممالک پہنچے؟ ہم روز مغربی ممالک میں چار پانچ سو ہلاکتوں کا ایک عدد سن کر یقین کر لیتے ہیں لیکن آج کے سوشل میڈیائی دور میں بھی چار پانچ سو جنازے کسی ایک ملک میں اٹھ رہے ہوں اور سوشل میڈیا پر کہیں کسی جنازے، کہیں کسی قبرستان کا کوئی پتہ نہیں، یہ کیسے ممکن ہے؟حیرت اس بات پر ہے کہ پڑھے لکھے لوگ بھی ایسی خبروں کی سچائی پر سوال اٹھانے کے بجائے سر ہلا کر یقین کر رہے ہیں۔ یہاں کچھ جذباتی مسلمان یہودی سازشوں اور چین کے خلاف خفیہ امریکی جنگ کی کہانیاں سنائیں گے لیکن سوال تو پھر یہی سوچنے والا ہے کہ پچھلے ستر سال کی تاریخ میں مسلمانوں نے یہود و نصارا کے خلاف کون سا ایسا کارنامہ سر انجام دیا ہے جس کی وجہ سے یہ مان لیا جائے کہ واقعی یہود کو ہمارے خلاف کسی سازش کی ضرورت ہے؟ لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ سب کچھ بہت ٹھیک چل رہا ہے۔ اسامہ بن لادن کے قتل کا جھوٹا ڈرامہ ہو یا ملالہ پر حملہ، جہاں اور جب مغربی میڈیا نے ضرورت سے زیادہ پھرتیاں دیکھائی ہیں، وہیں رائی کے پہاڑ بنانے والی باتیں سچ ہونے کا گمان ہوتا ہے۔

میں ایک بار پھر اپنے پڑھنے والوں سے کہتا ہوں کہ ہم نے مان لیا کرونا وائرس سے ایک دنیا متاثر اور پریشان ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ صرف ڈیڑھ فیصد شرح موت والی بیماری کے خلاف ایک ہوا بنایا ہوا ہے اور جو بیماریاں چالیس سے پچاس فیصد شرح اموات رکھتی ہیں ان کے بارے کوئی بات ہی نہیں ہو رہی۔ بات اگر سگریٹ نوشی کی ہو تو اس سے ہونے والی بیماریوں اور اموات کا عدد آج بھی کرونا وائرس سے زیادہ ہی ہے لیکن چونکہ مغرب اور ہمارے میڈیا کے مطابق ہمیں آج کل صرف کرونا سے پریشان ہونا ہے اس لیے ہم سبھی صرف کرونا سے ہی پریشان ہو رہے ہیں۔ لوگ ہر بیس منٹ بعد ہاتھ تو دھو رہے ہیں لیکن کتنے لوگ ہیں جو گھروں میں کسی طور ورزش اور چہل قدمی کا اہتمام کر رہے ہیں ؟ کتنے لوگ کھانا کھانے کے فورا بعد سگریٹ نہیں لگا رہے اور کتنے ہیں جو اپنی شوگر کے لیے پریشان ہیں؟ ہمارے میڈیا اور سوشل میڈیا کو ایسی کسی بات سے کوئی سروکار نہیں کیونکہ عالمی میڈیا کہہ رہا ہے کہ آج کل حضرت انسان کا مسئلہ کرونا ہے تو بس یہی رونا ہے۔

گھروں میں قید پریشان لوگوں سے پوچھنا تھا کہ اگر احادیث کی بات نہ بھی کروں تو ملک بھر میں قائم طبیہ کالج اور یونانی دوا خانے کیا کر رہے ہیں؟ کیا پاکستان کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے حکیم صاحبان صرف مردانہ طاقت اور پوشیدہ زنانہ امراض کا علاج کرنے میں ہی مہارت رکھتے ہیں یا پھر کسی اور بیماری کے بارے میں بھی یہ لوگ کوئی رائے دے سکتے ہیں؟ سوال یہ نہیں کہ صرف نبض دیکھ کر مریض کا کھایا پیا بتا دینے والے حکیم اب موجود ہیں یا نہیں؟ لیکن یہ سوال ضرور ہے کہ باقاعدہ طور پر کب اور کون ان حکما کے پاس گیا ہے؟ سوال تو یہ بھی ہے کہ دیسی کھانوں اور مشروبات کے جو اثرات ہم سارا سال بلکہ ساری زندگی ایک دوسرے کو سناتے رہے ہیں کیا وہ بھی صرف باتیں ہی تھیں؟ اگر وہ سب باتیں نہیں تھیں تو ہم اپنے دیسی کھانوں اور مشروبات سے علاج کیوں نہیں کر رہے؟

ہزار باتوں کا جواب صرف اتنا کہ کرونا اتنا موذی وائرس بھی نہیں ہے جتنا اس کا ہوا بنا ہوا ہے۔ ہم چونکہ ذہنی اور نفسیاتی طور پر مغرب کو خدا سمجھ کر اس کی چوکھٹ پر سر جھکا چکے ہیں اس لیے جب مغرب کہتا ہے کہ فلاں بات کے فلاں پہلو کو سوچنا ہے تو ہم اس سے زیادہ سوچنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے۔ آپ اور آپ کے خاندان میں کتنے افراد کرونا کے متاثرہ ہیں، شائد ایک بھی نہیں لیکن آپ کے ہر گھر میں خواتین سبزیوں کو بھی سینیٹائزر کا تڑکا لگا رہی ہیں کیونکہ وہ ڈری ہوئی ہیں اور یہ ڈر کسی گلی محلے سے نہیں آیا بلکہ اس میڈیا اور سوشل میڈیا سے ہمارے اندر آیا ہے جس کو خدا سمجھ کر ہم نے اپنی سوچ اور سمجھ اس کے آگے گروی رکھ دی ہے۔ مغرب اور میڈیا ہمیں ہر روز بتاتا ہے کہ آج کے تمہارے مسائل یہ ہیں اور ہم اچھے ماننے والوں کی طرح پورا دن صرف انہی مسائل پر بحث کرنے میں گزار دیتے ہیں۔

گبرئیل گارشیا مارکیز نے اپنی کتاب ’وبا کے دنوں میں محبت ‘ میں ایک بہت خوبصورت جملہ لکھا کہ ’اس نے ان آداب کو پس پشت ڈال دیا تھا جن کی وجہ سے دریائی کشتیوں کے کپتانوں کی افسانوی شہرت برقرار تھی‘۔ ہم مسلمانوں نے بھی اپنے اسلاف کی باتوں، تعلیم و ترتیب، سمجھ بوجھ اور تحقیق کو پس پشت ڈال دیا ہے اور بھول گئے کہ ہماری افسانوی شہرت تو انہی اسباب سے برقرار تھی۔ آج مغرب اور میڈیا ہمیں بتاتا ہے کہ کرونا سے بچاو کے لیے ہینڈ سینیٹائزر کا استعمال ضرور ی ہے اور دو گھنٹے میں پورے ملک کی دکانوں سے ہینڈ سینیٹائزر کا ملنا مشکل ہو جاتا ہے۔ مغربی خداوں کی دنیا میں ایسے نفسیاتی لوگوں سے کسی سوال کے سوچنے کی توقع رکھنا شائد اپنی سوچ کے ساتھ ظلم کرنے جیسا ہو گا، پھر جب کوئی نہیں سوچ رہا تو یہ بات ہم ہی کیوں بار بار سوچ رہے ہیں؟

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. دیوالیہ کرنا ہو تو پہلے فکری کنگالی سے گزارنا ضروری ہو جاتاہے۔پاوں والے اور اپاہج دونوں کی منزل گر ایک بھی ہو تب بھی رفتار ایک نہیں ہوتی ممکن ہے منزل سے کوسوں دور سسک سسک کے موت کی دعا کی جائے یا گزر بسر کے لیے ہاتھوں کو کشکول بنا بیٹھے۔حضرت کچھوا اور خرگوش کی دوڑ میں پاوں سے ریگنا تو مبارک ہو سکتا ہے مگر بساکھیوں کی دوڑ میں تو بازوں بھی شل ہو جاتے ہیں۔حضرت مٹی سے نمی جو اڑ جائے تو مٹی بھی اڑنے کو پر تول چکتی ہے۔اور جب زمین ہی نہ رہے تو آسمان کو لوٹنا مقدر۔۔۔۔۔حکیم کو روٹی کافکر کھا گیا۔اس روٹی کھا گئی وہ سمجھتا یہ رہا کہ وہ روٹی کھا رہا ہے۔دکھ سے کہو تو یوں کہ جن کے بازار سے مرضیں بانٹی جاتی ہیں صرف وہی دوائی فروخت کرنے کا حق رکھتے ہیں۔وہ ہمیں ہمارے زمین سے جڑا رہنے نہیں دینا چاہتے اور ہم بھی اب اس کے خوگر شاید ہو چکے

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20