سعادت حسن منٹو: منفرد افسانہ و خاکہ نگار —- افضل رضوی

0

نظامِ کائنا ت چل رہا ہے اور چلتا رہے گا۔ اس دارِ فانی سے ایک حکمِ اجل پاکر رختِ سفر باندھتا ہے تو دوسرا اس خلا کو پُر کرنے کے لیے جہانِ عدم سے جہانِ آب وگل میں وارد ہوتا ہے۔ انسانوں کے آنے یا جانے سے نظامِ کائنات میں کوئی فرق نہیں پڑتا؛ تاہم کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اس جہانِ فانی سے کوچ کرجانے کے بعد بھی حیاتِ جاوید کے مالک بن جاتے ہیں اور تاریخ ایسے لوگوں کو کبھی فراموش نہیں کرتی۔ مورخ اور نقاد ہم آہنگی کا مرقع ہوتے ہیں۔ مورخ تاریخ کا صحیح آئینہ ہمارے سامنے پیش کرتا ہے اور نقاد ادیب اور شاعر کی شخصی خوبیاں اور خامیاں نیز فنی محاسن ترازو میں اس طرح تول کر ہمارے سامنے رکھتا ہے کہ جس کو جو چیزپسند آئے، اُس کا انتخاب کر لے۔ اگرچہ کسی کی خامیاں تلاش کرنا نہایت سہل کام ہے اور خوبیوں پر خامہ فرسائی کرنا جرأت و بے باکی کی بات ہے مگر سچ تو یہ ہے کہ ایسا ادیب جو سچ لکھے اور معاشرے کے ناسور سے افرادِ معاشرہ کو آگاہی دلائے خال خال ہی ملتا ہے۔

تاریخِ ادبِ اردو پر نظر دوڑائی جائے تو مختلف اصناف ِ شاعری اورنثر پر لکھنے والے شعراء اور ادباء کی ایک طویل فہرست ہمارے سامنے آجاتی ہے؛لیکن تمام ادیب اور شاعر ایسے نہیں ہوتے کہ جن کے مقام و مرتبے سے ہر نقاد متفق ہو۔ نثر میں ناول اور افسانہ دو ایسی اصناف ہیں کہ جن کے موضوعات ہماری معاشرت کی عکاسی کرتے ہیں۔ ناول کا آغاز انیسویں صدی میں ہوا اور مولوی نذیر احمد کے بعد کئی لوگوں نے اس میدان میں طبع آزمائی کی اور موجودہ دور تک پہنچتے پہنچتے بہت سے لوگ بقائے دوام حاصل کر گئے۔ اسی طرح افسانے کے میدان میں پریم چند سے لے کر احمد ندیم قاسمی تک بہت سے ایسے نام ہمارے سامنے آتے ہیں جنہوں نے افسانے کی ہمہ گیری کو سمجھ کر ایسے مثالی نمونے ہمارے سامنے پیش کیے جو ان کی وجہ ئ شہرت بن گئے۔ اگرچہ اردو افسانے کی تاریخ کم و بیش ایک صدی پر ہی محیط ہے لیکن پریم چند سے احمد ندیم قاسمی تک سارا عہد ایک ہی عہد دکھائی دیتا ہے۔ اردو کے ابتدائی افسانے کی تخلیق کا فریضہ پریم چند اور سجاد حیدر یلدرم نے ادا کیا۔ ان کے بعد1919ء سے 1938ء تک افسانوں کے مجموعوں کا ایک سیلاب منظرِ عام پر آیا۔ ان ابتدائی افسانہ نگاروں میں سلطان حیدر جوش، نیاز فتح پوری، مجنون گورکھپوری، حجاب امتیاز علی، علی عباس حسینی، علامہ راشد الخیری اور سجاد ظہیر قابلِ ذکر ہیں۔

1935ء میں جب ترقی پسند تحریک کا آغاز ہوا تو اس تحریک کے زیرِ اثر بہت سے نئے لکھنے والے سامنے آئے جن میں کرشن چندر، رجندر سنگھ بیدی، عصمت چغتائی، حسن عسکری، ممتاز مفتی، بلونت سنگھ اور احمد ندیم قاسمی کے علاوہ ایک بڑا نام سعادت حسن منٹو کا ہے۔ سعادت حسن منٹو 11/مئی 1912ء سمبرالا ضلع لدھیانہ میں پید ا ہوا۔ اس کا تعلق کشمیریوں کے مشہور خاندان منٹو سے ہے۔ منٹو کے والد غلام حسن جج تھے۔ منٹو کی ابتدائی تعلیم گھر پر ہی ہوئی۔ 1931ء میں میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ 1935ء میں علی گڑھ یونیورسٹی میں داخل لیا لیکن بیماری نے سلسلہئ تعلیم کو منقطع کرنے پر مجبور کر دیا۔ بعد ازاں باری علیگ کی سفارش پر اسے لاہور کے ایک اخبار(پارس) میں ملازمت مل گئی لیکن یہ سلسلہ زیادہ دیر نہ چل سکا اور محض چھے ماہ کا قلیل عرصہ اس اخبار سے منسلک رہنے کے بعد اسے الوداع کہہ کر بمبئی کی راہ لی اور وہاں 1940ء تک ہفت روزہ ”مصور“، ”سماج“ اور”کارواں“ کے علاوہ مختلف فلم کمپنیوں کے ساتھ بحیثیت کہانی اور مکالمہ نویس کام کیا۔ اسی دوران آل انڈیا ریڈیو میں سٹاف آرٹسٹ کی ملازمت کا ذائقہ بھی چکھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب اس دور کے نظمِ آزاد کے معتبر شاعر ن۔ م۔ راشد پروگرام پروڈیوسر تھے۔ انہوں نے منٹو کی کہانی ”آوارہ“ کو تنقید کا نشانہ بنایا اور اسے اصلاح کے بعدشائع کرنے کا ارادہ کیا لیکن منٹو کی طبع نازک پر یہ اتنا گراں گزرا کہ نہ صرف ن۔ م۔ راشد سے اپنی کہانی واپس لے لی بلکہ ساتھ ہی ملازمت بھی ترک کردی۔ اس سے منٹو کو بہت تکلیف ہوئی کیونکہ وہ تنقید بالکل برداشت نہیں کرتا تھا۔ چنانچہ دل کو بہلانے اور زندگی کی گاڑی کو چلانے کے لیے فلمستان سے اپنا ناطہ جوڑ لیا۔ اس کمپنی سے وابستہ ہونا گویا ان کے لیے سونے پر سہاگہ ہوا اور یہاں اس کا طوطی بولنے لگا مگر افسوس کہ یہ طوطی بھی کچھ زیادہ عرصہ نہ بول سکا اور وہ اشوک کمار کے ساتھ فلمستان سے الگ ہوگئے اور پھر جب اشوک کمار نے اپنی فلم کمپنی بنائی اور اس کی پہلی دو کہانیاں نذیر اجمیری اور کمال امروہی کی لیں تو منٹو یہ برداشت نہ کر سکا اور دل برداشتہ ہو کر جنوری 1948ء میں پاکستان چلا آیااور اپنی وفات کے دن منگل 18جنوری 1955ء تک قلم کی مزدوری کرتا رہا۔

پاکستان میں منٹو کی کہانیوں پر مقدمات چلے، اسے جیل بھیجا گیا یہاں تک کہ وہ حالات کی بدولت پاگل ہوا پھر تندرست ہوگیا لیکن زندگی سے مایوس اور بے زار رہتا تھا۔ شراب کثرت سے پینے کی وجہ سے صرف تنتالیس سال کی عمر میں برِ صغیر پاک وہند کے اس بڑے جنسی تجزیہ نگار افسانہ نویس کو جام موت پینا پڑا۔ ڈاکٹر آغا سہیل نے منٹو کی زندگی، شخصیت اور فن پرکچھ ان الفاظ میں تبصرہ کیا ہے، ”منٹو باہر سے جتنا ٹیڑھا، کڑوا کسیلا اور مشکل شخص نظر آتاہے، اندر سے اتنا ہی نرم، ملائم، معصوم، شریف النفس اور کسی قدر خود پسند تھا۔ اس لحاظ سے اس شریف آدمی کا خاکہ کھنچنے والوں نے بنظرِ غیر اس کے بطن کا مطالعہ کیا ہے“۔ ڈاکٹر حسن اختر مرحوم (راقم الحروف کے اساتذہ میں سے ایک استادِ مکرم) منٹو کے بارے اپنی رائے کا اظہار کچھ یوں کرتے تھے، ”منٹو کی طبیعت میں ضد بہت زیادہ تھی۔ وہ اپنی بات منوا کر چھوڑتا، اپنی رائے کے اظہار میں بے باک تھا اور دوسروں کے جذبات کی پروا نہیں کرتا تھامگر اپنے متعلق نکتہ چینی برداشت نہ کر سکتا تھا۔ اس میں میرؔکی طرح انانیت انتہا درجے کی تھی، جس نے اسے بہت نقصان پہنچایا۔ وہ میر ؔہی کی طرح اپنے فرمانے کو مستند جانتا تھا اور اپنے مقابلے میں دوسروں کو کوئی اہمیت نہ دیتا تھا۔ اس کی شخصیت بھی میرؔ کی طرح مجروح ہو گئی تھی اور غموں اور دکھوں نے اسے نڈھال کرکے رکھ دیا تھا“۔

اردو افسانہ نگاری میں یوں سعادت حسن منٹو کا وہی مقام بنتا ہے جو غزل میں میرؔ کو حاصل ہوا، ، چنانچہ میرؔ ہی کی طرح منٹو کو بھی خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے۔ مجنون گورکھپوری نے میر ؔ کو خدائے سخن کہا تو محمد حسن عسکری نے منٹو کو اردو ادب کا سب سے بڑا افسانہ نگار قرار دیا؛ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ سبھی نقاد منٹو کو سب سے بڑا افسانہ نگار تسلیم نہیں کرتے۔ عبادت بریلوی کے مطابق، منٹو اردو ادب کا سب سے بڑا نہیں تو بڑاافسانہ نگار ضرور ہے۔

منٹو نے اپنے افسانوں کا موضوع جنسیات کو بنایا، اگرچہ یہ موضوع اردو ادب کے لیے نیا نہیں تھاکیونکہ منٹو سے پہلے مرزا ہادی رسواؔ، قاضی عبدالغفار اور سجاد حیدر یلدرم بھی اس موضوع پر قلم اٹھا چکے تھے؛ لیکن جنسی حوالے سے لفظوں کا عریاں استعمال جس طرح منٹو نے کیا، اس سے پہلے کسی سے نہیں کیا تھا۔

منٹو سیدھی سادھی زبان میں عریاں حقیقتوں کو بیان کرتا ہے۔ منٹو نے جنسی موضوعات میں طوائفوں اور بدکردار عورتوں کو موضوع بنایا ہے۔ شاید اس لیے کہ جنسی مسائل زیادہ تر انہی کو پیش آتے ہیں۔ اس کے افسانوں میں بمبئی معاشرت کی جھلکیا ں واضح طور پر دیکھی جاسکتی ہیں اور بھارت کی کئی فلمی کہانیا ں منٹو کے افسانوں کی عکاسی کرتی ہیں۔ منٹو نے اپنی کہانیوں کے مرکز ومحور کے طور پر بمبئی شہر کو اس لیے منتخب کیا کہ یہ اس کا دیکھا بھالا شہر تھا۔ طوائفوں کا جو روپ منٹو نے ہمارے سامنے پیش کیا، اس سے پہلے کوئی اردو ادب میں پیش نہ کر سکا۔ منٹو نے جہاں عریانیت کی راہ اکتیار کی وہاں اس نے طوائفوں کی مجبوریوں، بے چارگی اور بے بسی کو بیان کرنے میں بھی کوئی بخیلی نہیں کی۔ اس سلسلے میں یہاں ان کے مشہور افسانے ”کالی شلوار“ سے ایک اقتباس درج کیا جارہا ہے۔

دہلی آنے سے پہلے وہ انبالہ چھاؤنی میں تھی،۔ ۔ ۔ ان گوروں سے ملنے جلنے کے باعث وہ انگریزی کے دس پندرہ جملے سیکھ گئی تھی۔ ۔ ۔ مگر یہاں دہلی میں وہ جب سے آئی تھی ایک گورا بھی اس کے پاس نہیں آیا تھا۔ ۔ ۔ مجھے کالے کپڑے چاہییں، گھر میں پھوٹی کوڑی تک نہیں۔ کنگنیاں تھیں سو وہ ایک ایک کرکے بِک گئیں، اب تم ہی بتاؤ کیا ہو گا؟ یوں فقیروں کے پیچھے کب تک مارے مارے پھرا کرو گے۔ ۔ ۔ ”تم خدا کے لیے کچھ کرو۔ چوری کرو یا ڈاکہ مارو پر مجھے ایک شلوار کا کپڑا ضرور لادو۔ میرے پاس سفید بوسکی کی قمیض پڑی ہے، اس کو میں کالا رنگوالوں گی۔ ۔ ۔ سفید نینوں کا ایک نیا دوپٹہ بھی میرے پاس موجود ہے، وہی جو تم نے مجھے دیوالی پر لا کر دیا تھا، یہ بھی قیض کے ساتھ ہی کالا رنگوا لیا جائے گا۔ ایک صرف شلوار کی کسر ہے، سووہ تم کسی نہ کسی طرح پیدا کردو۔ دیکھو تمہیں میری جان کی قسم کسی نہ کسی طرح ضرور لادو۔ ۔ ۔ سلطانہ کو قطعاّ یقین نہیں تھا کہ شنکر اپنا وعدہ پورا کرئے گا۔ مگر آٹھ روز کے بعد محرم کی پہلی تاریخ کو صبح نو بجے دروازے پر دستک ہوئی۔ سلطانہ نے دروازہ کھولا تو شنکر کھڑا تھا۔ اخبار میں لپٹی ہوئی چیز اس نے سلطانہ کو دی اور کہا، ”ساٹن کی کالی شلوار ہے۔ دیکھ لینا، شاید لمبی ہو —— اب میں چلتا ہوں۔ “

شنکر شلوار دے کر چلا گیا اور کوئی بات اس نے سلطانہ سے نہ کی۔ اس کی پتلون میں شکنیں پڑی ہوئی تھیں۔ بال بکھرے ہوئے تھے۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ابھی ابھی سو کر اٹھا ہے اور سیدھا ادھر ہی چلا آیا ہے۔

سلطانہ نے کاغذ کھولا۔ ساٹن کی کالی شلوار تھی۔ ایسی ہی جیسی کہ وہ مختار کے پاس دیکھ کر آئی تھی۔ سلطانہ بہت خوش ہوئی۔ بُندوں اور اس سودے کا جو افسوس اسے ہوا تھا، اس شلوار نے اور شنکر کی وعدہ ایفائی نے دور کر دیا۔

دوپہر کو وہ نیچے لانڈری سے اپنی رنگی ہوئی قمیص اور دوپٹہ لے آئی۔ تینوں کالے کپڑے جب اس نے پہن لیے تو دروازے پر دستک ہوئی۔ سلطانہ نے دروازہ کھولا تو مختار اندر داخل ہوئی۔

اس نے سلطانہ کے تینوں کپڑوں کی طرف دیکھا اور کہا، ”قمیص اور دوپٹہ تو رنگا ہوا معلوم ہوتا ہے۔ پر یہ شلوار نئی ہے —— کب بنوائی؟“

سلطانہ نے جواب دیا، ”آج ہی درزی لایا ہے۔ “ یہ کہتے ہوئے اس کی نظریں مختار کے کانوں پر پڑیں، ”یہ بُندے تم نے کہاں سے منگوائے ہیں؟“مختار نے جواب دیا، ”آج ہی منگوائے ہیں۔ “

اس کے بعد دونوں کو تھوڑی دیر خاموش رہنا پڑا۔

مندرجہ بالا اقتباس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ منٹو نے اپنے افسانوں میں طوائفوں کی مجبوریوں اور ان کے معاشی مسائل کا تذکرہ بڑی خوب صورتی سے کیا ہے۔ اسی افسانے پر نقد وتنقید کرتے ہوئے سید وقارعظیم ”منٹو کا فن“میں لکھتے ہیں:

یہی صورت ”کالی شلوار“ کے ساتھ ہے۔ کالی شلوار میں طوائف کی زندگی اور ا س کے گھناؤنے ماحول سے تعلق رکھنے والی بہت سی چیزیں پڑھنے والے کے سامنے آتی ہیں۔ اسی ماحول میں واقعات میں اتار چڑھاؤ پیدا ہوتا ہے اور وہ ایسے پیچ در پیچ مراحل سے گزرتے ہیں کہ پڑھنے والا ماحول کے گھناؤنے پن کی طرف متوجہ ہوئے بغیر صرف ان نفسیاتی محرکات میں دلچسپی لیتا ہے جو کرداروں کو ایک خاص طرح کے عمل کی طرف مائل کرتے ہیں۔

”کالی شلوار“ طوائفوں کی گندی کہانی ہونے کے باوجود پڑھنے والے کو اس لیے متاثر کرتی ہے کہ اس میں اس ماحول کے دو کرداروں کی ذہنی کیفیتوں کا ایسا تجزیہ ہے جس میں کہانی کی ساری دلکشی ہے۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ افسانہ نگار نے شروع سے آخر تک افسانے میں جتنی چھوٹی بڑی باتوں کو ایک زنجیر میں مربوط کیا ہے ان میں ایک ایسا رشتہ پیدا ہو گیا ہے جو کسی سخت سے سخت حادثہ سے بھی نہیں ٹوٹ سکتا۔

کہانی کے مختلف ٹکڑوں میں یہ کبھی نہ ٹوٹنے والا رشتہ قائم کرنا، اس کے آغاز اور انجام کو اس طرح چھوٹی بڑی بہت سی اہم اور غیر اہم باتوں کے ذریعہ آپس میں جوڑنا کہ دونوں آپس میں لازم و ملزوم ہونے لگیں اور دونوں منطقی طور پر یوں شیر و شکر ہو جائیں کہ ایک دوسرے کا سبب اور نتیجہ بن جائیں، منٹو کے فن کی ایک ایسی خصوصیت ہے جو ان کے افسانے میں (یا کم از کم اکثر افسانوں میں) موجود نظر آئے گی۔ منٹو نے اپنی اس خصوصیت کے ذریعے بہت سے پڑھنے والوں کو اپنا گرویدہ بنایا ہے۔

”کالی شلوار“ اور اسی قبیل کے دیگر افسانوں میں اس نے ان عورتوں میں چھپی ہوئی انسانیت کو بھی نمایاں کیا ہے اگرچہ یہ عورتیں ظاہراً بد کردار اوربدکار ی کے دھندے میں پڑی ہوتی ہیں لیکن اس کے باوجود ان میں بھی اچھی صفات موجود ہوتی ہیں یہی حال دلالوں اوران افراد کا ہے جو ان کے ساتھ وابستہ ہیں “۔ خوشیا”، “ممی” اور” بابو گوپی ناتھ “میں یہی چیز نمایاں کی گئی ہے۔

منٹو نے ایسے افسانے بھی لکھے ہیں جن کا تعلق محض جنسی لذت سے ہے ایسے افسانے نوجوانوں کے اخلاق پر بہت برا اثر ڈالتے ہیں۔ اگرچہ ایسے افسانوں میں جنسی نفسیات کا سہارا لیا گیا ہے اور یوں کچھ اس کی مدافعت بھی کرتے ہیں؛مگر یہ یاد رکھنا چاہیے کہ بعض باتیں ایسی ہوتی ہیں کہ جنہیں پردے ہی میں رہنا چاہیے کیونکہ ان کے عیاں ہونے سے معاشرتی بگاڑ کا اندیشہ سو فی صد رہتا ہے۔ اس کے باوجود منٹو نے ان باتوں کو پردہ چاک کرکے باہر پھینک دیا ہے۔ ”ٹھنڈا گوشت“اور ”دھواں“گو تکنیکی اعتبار سے مکمل افسانے کہے جا سکتے

ہیں؛ لیکن جنسیات کو ان میں جس طرح بیان کیا گیا ہے، ہماری معاشرت، سیاست، ثقافت اور تہذیب وتمدن اس کی متحمل نہیں ہوسکتی؛لیکن منٹو نے اس کا بھی دفاع کیا ہے۔

زمانے کے جس دور سے ہم اس وقت گزر رہے ہیں، اگر آپ اس سے واقف ہیں تو میرے افسانے پڑھیے، اگر آپ ان افسانوں کو برداشت نہیں کرسکتے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ زمانہ ناقابلِ برداشت ہے۔ میری تحریر میں کوئی نقص نہیں، جس نقص کو میرے نام سے منسوب کیا جاتا ہے، وہ دراصل موجودہ نظام کا ایک نقص ہے۔

جنسی موضوعات کے سلسلے میں منٹو ڈی۔ ایچ۔ لارنس سے بہت متاثر ہیں۔ اگرچہ منٹو کے ہاں اتنی کھلی عریانی نہیں جتنی لارنس کے کی تحریروں میں ملتی ہے۔ پروفیسر وقار عظیم منٹو کے افسانوں پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔

منٹو میں اگر اسکینڈل کو افسانوں کا موضوع بنانے کی کمزوری نہ ہوتی؛ پڑ ھنے والوں میں کبھی کبھی ایک ہنگامہ اور گرمی پیدا کر دینے کے لیے وہ اگر چونکا دینے والی باتیں کہنے اور لکھنے پر اصرار نہ کرتا اور جنسی تجزیہ کو نفسیات کی نازک حدود میں رکھتا تو یقینا اس سے بڑا فن کار ہوتا، جیسا کہ وہ اب تھا“۔

تاریخی اعتبار سے اگر دیکھا جائے تو منٹو کو جو زمانہ(1912-1955) ملا وہ بڑا پُرآشوب اور بحرانی تھا۔ پہلی اور دوسری جنگِ عظیم (1939, 1914)کے مابین ساری دنیا ہل کر رہ گئی۔ صنعت اور معشیت تباہ ہوگئی اور برِ صغیر میں آزادی کی تحریکیں تنظیمی شکل میں ڈھل کر اور تیز رفتار ہو گیئں۔ ایک طرف آل انڈیا کانگرس تو دوسری طرف آل انڈیا مسلم لیگ نے اہلِ برِ صغیر کو لرزہ براندام کر دیا اور جب دسمبر1930ء میں علامہ اقبال ؒ نے خطبہ آلہ آباددیا تو متحدہ ہندوستان کے سیاسی حالات میں تیزی تغیر وتبدل آنے لگا۔ اسی دوران دوسری عالمی جنگ شروع ہوگئی اور 1940ء میں برِ صغیر کے مسلمانوں نے ایک الگ وطن کی قرار داد منظور کرلی جس کے نتیجے کے طور پر مملکتِ خداداد معرضِ وجود میں آئی۔

مندرجہ بالا حقائق کو پیش کرنے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ اس بات کی آگاہی رہے کہ منٹو کی ذہنی پرورش کن حالات میں ہوئی۔ یہ بات بھی ازبر رہنی چاہیے کہ منٹو نے صرف جنسی موضوعات پر اپنا قلم نہیں چلایا بلکہ سیاست اور معاشرت بھی اس کی تحریروں کا مرکزی نقطہہے۔ مثلاً، جلیانوالہ باغ کے حادثہ سے متاثر ہو کر ”تماشا“ کے عنوان سے اپنی زندگی کا پہلا افسانہ لکھا اور پھر افسانوں پر افسانے لکھتے چلے گئے۔ وہ اپنے افسانوں میں تبلیغ نہٰن کرتا بلکہ مصائب اور ان سے پیدا شدہ ذہنی کیفیتوں کی عکاسی کرتا ہے۔ ”نیا قانون“ میں اس نے انگریزوں سے نفرت کو موضوع بنایا ہے اور ”ٹوبہ ٹیک سنگھ“ میں تقسیم سے پیدا پونے والی کرب ناک کیفیت کو پاگلوں کے ذریعے بیان کیا ہے۔ منٹو اپنے افسانوں کے سلسلے میں رقم طراز ہے، ”اب میں آپ کو کیا بتاؤں کہ میں افسانہ کیوں لکھتا ہوں، یہ بڑی الجھن کی بات ہے۔ اگر میں ”کس طرح“ کو پیشِ نظر رکھوں تو یہ جوا ب دے سکتا ہوں کہ اپنے کمرے میں صوفے پر بیٹھ جاتا ہوں۔ کاغذ قلم پکڑتا ہوں اور بسم اللہ کرکے افسانہ لکھنا شروع کر دیتا ہوں۔ میری تین بچیاں شور مچارہی ہوتی ہیں، میں ان سے باتیں بھی کرتا ہوں، ان کی تمام لڑائیوں کا فیصلہ بھی کرتا ہوں۔ اپنے لیے سلاد بھی تیار کرتا ہوں، کوئی ملنے والا آجائے تو اس کی خاطر داری بھی کرتا ہوں؛ مگر افسانہ لکھے جاتا ہوں۔ میں افسانہ نہ لکھوں تو مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میں نے غسل نہیں کیا____ میں افسانہ نہیں لکھتا، حقیقت یہ ہے کہ افسانہ مجھے لکھتا ہے۔ میں بہت کم پڑھا لکھا آدمی ہوں۔ یوں تو میں نے بیس سے اوپر کتابیں لکھی ہیں، لیکن مجھے بعض اوقات حیرت ہوتی ہے کہ یہ کون ہے جس نے اس قدر اچھے افسانے لکھے ہیں“۔

منٹو کے فن پاروں کی حدود صرف افسانوں تک محدود نہیں بلکہ وہ اعلیٰ پائے کے خاکہ نگار بھی تھے۔ منٹو سے نہ صرف یہ کہ خاکہ نگاری کے پاکستانی دور کا آغاز ہوتا ہے بلکہ میرے خیال میں یہ اسلوب کے اعتبار سے خاکہ بگاری کا نقطہ عروج ہے۔ خاکہ نگاری میں منٹو کا کمال یہ ہے کہ وہ ہر ایک کو اس کی اصل چہرہ دکھاتا ہے۔ وہ ایسی کوشش ہر گز نہیں کرتا کہ پہلے لاندری سے ہر ایک کے داغ دھبے صاف کرے اور پھر اجھلے اورمثالی کرداروں کے خدو خال کی تعریف میں رطب اللسان ہو۔ وہ انسان کے اندر کی حیوانیت کو قلم کے تند وتیز چاقو سے کاٹ کر اس ناسور کے خطر ناک پھیلاؤ اور نتائج سے آگاہ کرنے کی کوشش میں کچھ چھینٹیں اپنے دامن پر بھی ڈال لیتا ہے کیونکہ نقادوں کی نظر سے بچنا محال ہے اور یوں وہ اس حقیقت کے ضمرے میں آجاتا ہے کہ”بد سے بد نام برا“۔ بدنامی کا جو بد نما داغ منٹو کے دامن پر لگا، اس میں منٹو قصور وار اور سزا وار بس اتنا ہے کہ وہ مرض کی تشخیص میں ان تمام جرثوموں کی نشاندہی کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے جو افرادِ معاشرہ کو اس حد تک چاٹ چکے ہیں کہ شاید جن کے خاتمے کے لیے ہائی پوٹینسی دوا کی ضرورت ہو مگر وہ تیار نہ ہو، دوسرے لفظوں میں کہا جاسکتا ہے کہ منٹو مرض کی تشخیص تو کرتا ہے لیکن علاج نہیں بتاتا۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20