دکھ کے مقابل بے بسی اور سماجی فاصلہ کی تہذیب: —- محمد حمید شاہد

0

لمحہ لمحہ اذیت دے کر گزرتے ان دنوں کو ہمارے نظم نگار دوست مقصود وفا نے ’’قید میں رکھے ہوئے دِن‘‘ کہا ہے۔ قید میں رکھے ان دنوں میں ہم بھی قید ہیں اور ہمارا تخیل بھی۔ اپنی حالت یہ ہے کہ جب بھی کچھ سوچنا چاہا ہے تو ’’کووِڈ۔ 19‘‘ کی کودتی اچھلتی نوکدار گولے جیسی لجلجی شبیہ دھیان میں آگئی ہے۔ لکھنے کی تاہنگ میں کسی ترتکی کی طرح تھرکتی انگلیاں بے کار پڑے پڑے سُن ہونے لگتی ہیں توحلقوم خشک ہونے لگتا ہے اور آنکھوں کے آگے ترمرے سے ناچنے لگتے ہیں۔ جی، ویسے ہی ترمرے، جیسے دہکتی آگ سے اُتارے گئے توے کی پشت سے تب جھڑا کرتے تھے جب میں بچپن میں اپنی امی جان کا دِھیان کسی دوسری طرف پاکر چمٹے سے توا چھو لیاکرتاتھا۔

ان ترمروں کا سوچ کر میں اپنے پرائمری اسکول والے زمانے میں پہنچ جاتا ہوں۔ ہم اسکول آتے جاتے کھیتوں کے درمیان سے سانپ کی طرح بل کھاتے راستوں پر سے گزرا کرتے تھے۔ گندم کی فصل سے گزر ہوتا ہم میں سے کوئی گندم کے خوشے کو چپکے سے توڑتا اورشرارتاً جھک کر کسی دوسرے کے پائنچے میں گھسیڑدیتا اور ہم سب مل کر اس کا ناچ دیکھتے۔ اگر آپ نے گندم کی پک کر تیار ہو چکی فصل دیکھ رکھی ہے تو یہ بھی دیکھا ہوگا کہ گندم کے پکے ہوئے پودے کا تنا کھوکھلا سہی مگر نیچے سے اوپر تک اپنی پانچ یا چھ گانٹھوں کے سبب سیدھا کھڑا رہتا ہے۔ نچلی گانٹھوں کا فاصلہ سب سے کم ہوتا ہے جو اوپرجاتے ہوئے بڑھتا رہتا ہے۔ آخری والی گانٹھ کے اوپر والے حصے کا سرا اناج والے خوشے سے لد جاتا ہے۔ ہر خوشے میں غلاف بند بیضوی دانے ہوتے ہیں جن کے ایک طرف گہری سی چنٹ پڑی ہوتی ہے۔ یہ دانے تین چار انچ تک نیچے سے اوپر اور دائیں بائیں سے باہم جڑے ہوئے ہوتے ہیں۔ ہر غلاف کے اوپروالی نوک پر ایک لمبی تار کی طرح تنی ہوئی بُر ہوتی ہے جو فصل پکنے پر کھردری ہو جاتی ہے۔ ہم جونہی گندم کایہ خوشہ توڑ کر اور اس کا نیچے والا رُخ اوپر کرکے شلوار  کی موری میں رکھ دیتے تو وہ اسی کھردری بُرکی مدد سے ہر قدم پر اوپر ہی اوپراٹھتا چلا جاتا تھا۔ خوشے کو پائنچے کے اندر سے ہاتھ ڈال کر باہر نہیں نکالا جاسکتا تھا کہ خوشہ نرم ریشوں میں الجھ کر اسے تکلیف دہ بنا دیتا تھا۔ شلوار کے اندر ننگی ٹانگوں پر اس کا چلنا ہمیں نچاتا اور کچھ اوپر پہنچ کر اتنا تکلف دہ ہوتا کہ ہماری چیخیں نکلوا دیتا تھا۔

The Creativity & Togetherness of Social Distancing on the Web

بچپن کے اسی زمانے کی ایک اور جھلک اُن دنوں کی ہے کہ جب گندم کی فصل نے پوری طرح سنہرا رنگ نہ لیا تھا۔ اُس کے خوشے قدرے سبزتھے تاہم اپنے اپنے غلاف میں بند دانے پوری طرح بن گئے تھے۔ یہ الگ بات کہ وہ تھوڑاکچے تھے اور انہیں دانتوں تلے دبایا جاتاتو اُن میں سے دودھ سا نکلتا تھا۔ انہی دنوں میں سے ایک دِن تھا، ہم ابھی آدھی چھٹی کے لیے اسکول کے گرائونڈ میں تھے کہ شمال کی جانب سے سیاہ بادلوں کا لشکر نمودار ہوا۔ ہمیں بہت جلد اندازہ ہو گیا کہ وہ بادل نہ تھے، ٹڈی دَل کی یلغار تھی۔ ہم نے آگ برساتے سورج کو اس لشکر کے پیچھے چھپتے دیکھاتھااور گھروں کو بھاگ کھڑے ہوئے تھے۔ ہم سب آسمان کی طرف دیکھے جاتے تھے اور حیرت سے ہماری چیخیں نکل رہی تھیں۔ وہ حیرت تھی یا خوف اب شاید میں ڈھنگ سے شناخت نہ کرپائوں مگر جب اسی ٹڈی دَل نے زمین پر کئی کئی فٹ بچھ کر اپنے نیچے چھپ جانے والی فصل کو اپنے آرے نما جبڑوں سے کتر کر تباہ کر ڈالا تھا تو لوگ حیرت یا خوف سے نہیں دُکھ سے چیخے تھے۔

ہم نے ان ٹڈوں کو پہلے بھی دیکھ رکھا تھا۔ انہیں ہم اللہ میاں کے گھوڑے کہہ کر شناخت کرتے تھے۔ ہم ایسا کیوں کہتے تھے آج تک نہیں جان پایا ہوں۔ ممکن ہے اس لیے کہ ان کی چھ چھ ٹانگیں ہوتی تھیں۔ اللہ میاں کے ہر گھوڑے کی ٹانگوں کا عقبی جوڑا بڑا تھا جو جست لگانے میں مدد دیتا۔ ہم ان کی چھلانگوں کا مقابلہ کرتے اور جب وہ جست بھرکر دور اترتے تو خوش ہو کر چیخا کرتے تھے۔ ہم نے اللہ میاں کے جو گھوڑے دیکھ رکھے تھے وہ پہلے اکادکا ہی ہمارے ہاتھ آتے تھے اور تھے بھی بے ضرر؛ یوں بادل بن کر نہ آسمان پر چھاتے، نہ زمین پر اتر کر کئی کئی فٹ کی تہہ کی صورت فصلوں پر بچھتے تھے۔ اگرچہ جنہیں ہم نے غول در غول فصل پر اُترتے اور اسے تباہ کرتے دیکھا تھا عین مین اللہ میاں کے گھوڑے جیسے تھے، وہی آرے کی شکل کا جبڑا، وہی اگلے پروں کا سخت جوڑا اور پچھلے پرنرم جالی جیسے، مگریہ جو کھڑی فصل کا ناس مار رہے تھے اللہ میاں کے گھوڑے کیسے ہو سکتے تھے؟

بچپن کی یادداشت کا حصہ ہو جانے والا یہ واقعہ مجھے سلیم کوثر نے یاد دلایا ہے۔ خوب صورت شاعر سلیم کوثر؛ جن کے بارے میں سلیم احمد نے کہا تھا کہ ان کی شاعری میں حسن ہے، قوت ہے اور سچائی۔ جی یہی سچے شاعر سلیم کوثر، ادھر کراچی میں شدیدعلیل پڑے ہیں اور میں ادھر اسلام آباد میں گھر میں نظر بند۔ وہ اپنی علالت کے سبب گھر اور بستر کے ہو کر رہ گئے ہیں۔ میں کہ جسے چند روز کے لاک ڈائون نے نڈھال کرکے رکھ چھوڑا ہے، اپنے اس پیارے شاعر دوست کی بابت سوچتا ہوں جو کئی مہینوں سے لاک ڈائون کے سے ماحول میں ہے اوربیمار بھی تو میرا وجود اس تپتے توے کا سا ہو جاتا ہے جسے چھونے پر ترمرے جھڑتے ہیں۔ جب ہم دونوں اپنی اپنی یادداشت میں موجود ان آفات کا ذکر کر رہے تھے جو ہمارے تجربے کا حصہ رہیں تو میری یاد میں نہاں ترمرے ان آفات اور مصائب کی طرف لے گئے جو کسی خاص علاقے یا آبادی کے ایک حصے تک محدود رہتے تھے۔ ایسے میں دادا جان کی یادداشت سے میری یادداشت کا حصہ بننے والا تقسیم سے بہت پہلے کاوہ واقعہ بھی یاد آگیا جب کئی برسوں کی شدید خشک سالی سے ہمارے سارے بارانی علاقے میں قحط پڑ گیا تھا۔ گھروں میں پڑے اناج سے بھرے ہوئے بھڑولے خالی ہو گئے تھے؛ اتنے کہ لوگ اپنی عورتوں اور بچوں کو بھوک سے بچانے کے لیے نقل مکانی پر مجبور تھے۔ میں نے دادا جان کی بتائی ہوئی اس خشک سالی کو بلوچستان کی سات آٹھ سال کی اس طویل خشک سالی کے ساتھ جوڑ کر دیکھا ہے جس کانوالہ بننے والوں کو وہاں جاکر میں نے بہ چشم خود دیکھا تھا۔ خشک سالی اور قحط کے یہ مناظر میرے لہو میں یوں اترے تھے کہ تخلیقی وجود جاگا اور ’’برشور‘‘ جیسا افسانہ لکھ لیا تھا۔ دادا جان اور ابا جان کے پاس آزادی اور تقسیم کے زمانے کی بھی درد ناک کہانیاں تھیں مگرمیں ان کہانیوں کی سفاک حقیقت کو اپنے لہو کا حصہ تب بنا پایا جب کہیں انیس سو اکہتر کی جنگ میں ہم، اپنا آدھا ملک گنوا بیٹھے تھے۔ جنگ تو انیس سو پینسٹھ والی بھی، میری یادداشت میں تھی ؛ بلیک آوٹ، گھر کے صحن میں خندق کا کھودنا اور جنگی طیاروں کا شور سنتے ہی بھاگ کر چھت پر چڑھ جانا مگر یہ سب آہستہ آہستہ مدہم ہوتے چلے گئے ہیں۔ اکہتر میں ملک ٹوٹنے کا سانحہ اباجان پر گویا قیامت بن کر ٹوٹا تھا۔ ہم اباجان کو دیکھ رہے تھے اور وہ صحن میں کٹی پتنگ کی طرح چکر کاٹتے آسمان کو دیکھ رہے تھے۔ اپنے لخت لخت ہونے کا یہ وہی درد ہے جو اکتوبر 2005 کے خونی بھونچال کے بعد پیدا ہونے والے انسانی المیے میں تحلیل ہو کر میرے تخلیقی وجود کا حصہ بنا اور میرے قلم سے ’’مٹی آدم کھاتی ہے‘‘ جیسا ناول ٹپک پڑا تھا۔

The Side Effects of Social Distancing (Ep. 409) - Freakonomics ...

اپنی یادداشت میں پڑے سارے سانحات میری نظر میں ہیں۔ تاہم صرف وہ سانحات میرے تخلیقی وجود کا حصہ ہو پائے ہیں جو ایک تیز خنجر کی نوک بن کر میرا ماس پھاڑتے، پسلیاں توڑتے میرے دِل میں چبھ گئے ہیں۔ کرونا وائرس کی اس عالمی وبا نے مجھے دُکھ کے مقابل کیا ہے مگراب تک اس دُکھ سے کہیں زیادہ بے بسی کے احساس نے مجھے جکڑ رکھا ہے۔ یہ بے بس ترقی یافتہ ممالک کے انسان کی ہے اور اس عالمی نظام کی بھی جس میں سرمائے کی بڑھوتری کی ہوس کے سوا کچھ اہم نہیں رہا ہے۔ کارخانے اور فیکٹریاں بند۔ بڑے بڑے مال اور شاپنگ پلازے بند۔ عبادت گاہیں اور مے خانے بند۔ سماجی تعلق کے سارے ضابطے اور مذہبی لوگوں کی ساری رسومات معطل ہو کر رہ گئی ہیں۔ ایک نئی تہذیب جنم لے رہی ہے۔ سماجی فاصلے کی تہذیب۔ اور ایسی تہذیب جس میں انسان ناکافی طبی سہولتوں کے سبب ہسپتالوں کے اندر اور باہر کھلے عام مر رہا ہے جبکہ اس کی سہولت اور عیاشی کی اشیا سے بڑے بڑے اسٹورز اور گودام بھرے ہونے کے باوجود فی الحال کسی کام کے نہیں رہے کہ لاک ڈائون میں بند پڑے ہیں۔ جدید تر زندگی کی بہت ساری ضرورتیں اضافی ہو گئی ہیں۔ یہ اضافی ہیں، کچراہیں یا بوجھ؟۔ ۔ ۔ ۔ میں ابھی تک ایک بچے کی حیرت لیے سوچ رہا ہوں کہ تخلیقی سطح پر اس سوال سے کیا معاملہ کیا جائے۔

ایک بچے کی طرح سوچتا ہوں تو ایک بار پھر دھیان میں گندم کے کھیت آ جاتے ہیں۔ وہی گندم جس کے بارے میں ہماری بڑی بوڑھیاں کہتی تھیں کہ یہ جنت کا میوہ ہے تو گائوں کی مٹیاروں کے گال دمکنے لگتے تھے۔ انور مسعود کا کہا یاد آتا ہے : جنت سے نکا لا ہمیں گندم کی مہک نے گوندھی ہوئی گیہوں میں کہانی ہے ہماری

اور کہانی بس اتنی ہے کہ ہم جو بارانی علاقوں کے رہنے والے ہیں، ہمارے لیے زمین سے رزق کم اور بھوک زیادہ اُگتی ہے۔ ایک گندم ایسی فصل ہے کہ جس کے ساتھ ہماری معیشت اور زندگی کا سارا ہنگامہ جڑا ہوا ہے۔ بیٹے بیٹوں کی شادی ہو یاعرس، میلے اور جلسے جلوس سب اس فصل کی گہائی کے بعد ہوتے ہیں۔ گندم کی کٹائی ہو یا گہائی خود کسی میلے سے کم نہیں ہوتی کہ سب ہاتھ میں ہاتھ ڈالے ایک دوسرے کا ساتھ دیتے ہیں۔ میں لاک ڈائون اور سماجی فاصلوں کو قائم رکھنے والے اِن دِنوں میں اُس کسان کا سوچتا ہوں جس کے کھیت میں گندم کی فصل جوان کھڑی ہے اورگھر کے آنگن میں جوان بیٹی اور دھیان کی گلیوں، بازاروں، کھیتوں اور کھلیانوں میں بولائے ہوئے کتے کی طرح دوڑتی کرونا وائرس کی وباآ جاتی ہے تو قلم کا غذ پر لکھنے کی بجائے خون تھوکنے لگتا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20