مساواتِ مرد و زن: قرآنی تصور – اصل میں دونوں ایک ہیں — ڈاکٹر غلام شبیر

0

زندگی عورت ومرد کی دوئی میں ایک (نامیاتی وحدت) کو دیکھنے کا تماشا ہے (اقبال)

ابن رشد کا بیان ہے کہ عورت اور مرد میں فرق ہیئت اور نوعیت کا نہیں کمیت کاہے۔ صلاحیتوں میں سماجی حالات کے پیش نظر کمی بیشی ہے کیمسٹری دونوں کی ایک ہے۔ افلاطون کی کتاب الجمہوریہ کی شرح میں بھی ابن رشد نے لکھا ہے کہ مرد اور عورت تمام معاملات میں مساوی ہیں لیکن عورتیں فطری طور پر کمزور اور نازک اندام ہوتی ہیں۔ میرا احساس ہے کہ یہ نازک اندامی کسبی ہے سماجی اور معاشی حالات نے عورتوں کو ایسا بنایا ہے۔ تاہم کمیت کا فرق جسے ابن رشد نے تسلیما ہے شاید وہ بھی کسبی ہے۔ مثلاً ابن رشد کا یہ کہنا کہ عورت مرد کے مقابلے میں بہترین مغنیہ ہوتی ہے شاید بچوں کی مسلسل دیکھ بھال اور حساسیت نے اس کی آواز کو پرسوز بنا دیا ہے یہ بھی تو کسب ہی ہے۔ عورت میں ہارمونز کے لیول کا مدوجزربھی شاید ارتقا کا حاصل ہے، جدید تحقیق بتاتی ہے عورت اگر انتظامی عہدوں پر فائز رہے تو بچے پیدا کرنے کی صلاحیت بتدریج عنقا ہوتی جاتی ہے، بعینہ جب وہ بچوں کی خدمت اور محافظت پر مامور رہی ہوگی تو فطرت نے اسے مخصوص ہارمون سسٹم دیا ہوگا۔ آج بھی چلتی یا دور کھڑی عورت کو کوئی پیچھے سے دیکھ رہا ہو تو اسے پتہ چل جاتا ہے، یہ شاید صدیوں کی اس ریاضت کا ثمر ہے جب وہ تنکا ہلنے پر بھی بچوں کی حفاظت کیلئے الرٹ ہوجاتی ہوگی۔ فطرت حیوانات و نباتات سمیت تمام جانداروں کو زندگی کی نئی مقتضیات کے تحت نئے اعضا و خواص ودیعت بھی کرتی ہے اور ضرورت ختم ہونے پرمسلسل بے مصرفی پر یہ چیزیں واپس بھی لے لیتی ہے۔ چمگادڑ اور الو سے متعلق کہا جاتا ہے کہ جب عرصہ دراز تک انہوں نے دن کی روشنی میں آنکھوں سے دیکھنے کاکام نہیں لیا تو قدرت نے دن کو دیکھنے کی صلاحیت واپس لے لی۔ عورت اور مردکی مساوی صلاحیتوں اور کمال سے متعلق یقیناً ابن رشد کا استدلال قرآن اور اسوہ رسول سے ہے۔ اس قول کو مغرب نے گلے سے لگایا مشرق نے پہلو تہی کی۔ آزادیوں کی نوعیت اور ناموس اپنی جگہ مغرب میں عورت اور مرد کا درجہ برابر ہے۔ وہاں عورت مرد کو ویسی ہی گالی دیتی ہے جو مرد دیتا ہے ایشیا کی روایت میں عورت کو گالی دینے کیلئے بھی مرد کا سہارا لینا پڑتاہے۔

بے دلی ہائے تماشا کہ نہ عبرت ہے نہ ذوق
بے کسی ہائے تمنا کہ نہ دنیا ہے نہ دیں

ماہرین عمرانیات کے مطابق زرعی معاشرت تاریخ انسانی کی مستحکم ترین معاشرت رہی ہے۔ یہ ابن آدم کا خوشحالی کی پہلی منزل پر پڑاو تھا۔ اس عہد کا بوجھ مرد اور بیل نے اٹھایا۔ جہاں عورت بچوں کی پرورش اور نگہبانی پر مامور رہی وہاں گائے کبھی بیل کا نعم البدل ثابت نہ ہوسکی۔ نتیجتاً ابن آدم اور بیل اپنے نصف بہتر سے مضبوط ہوتے چلے گئے۔ موئنجودڑو کے کھنڈرات ہوں یا مصر اور بابل و نینوا کے خرابے، بیل کے سر کا مجسمہ اور محو رقص عریاں لڑکی کی تصویر ان تہذیبوں کا مستقل فیچر دکھائی دیتا ہے۔ سماجیات کے ٹھوس حقائق مذہب کی نرم وگداز زمین میں راہ پاتے آئے ہیں۔ جہاں ہندی اور یونانی اساطیر میں کہا گیا کہ بیل نے سینگوں پر زمین کو اٹھایا ہوا ہے جب تھکتاہے تو ایک سینگ سے دوسرے سینگ پر زمین کو ڈالتا ہے تو زلزلہ آتاہے، وہاں بنت حوا کے مقابلے میں ابن آدم کی عظمتوں کے پل تعمیر ہوئے۔ یہودی عیسائی الٰہیات میں بحث کا مرکز ثقل یہ تھا آیا کہ عورت میں روح بھی ہے یا نہیں ہے۔ ہر شر عورت سے جنم لیتا ہے۔ آدم کو شجر ممنوعہ تک حوا لے گئی تھی۔ وومن عبارت ہے ووز آف مین سے۔ بلا شبہ اسلام نے عورت کی عظمت کو بحال کیا تاہم جاگیردارانہ سماج اور دور ملوکیت میں جہاں الارض لللہ لا قیصرولاکسریٰ، حرف قل لعفو، کرمنا بنی آدم جیسے تصورات کی بساط لپیٹ دی گئی وہاں عورت کے مقام کو زرعی معاشرت کی مرد پرست اقدار سے بچانا مشکل تھا۔

یورپی نشاۃ ثانیہ اور صنعتی معاشرت کو عورت کا ظہور ثانی کہا جاسکتا ہے۔ صنعتی انقلاب جدید فلسفے سماجی تصورات اور سائنس کا حاصل تھا۔ عور ت کے مقام پر نظرثانی ناگزیر ٹھہری اور مردوزن کی مساوات بدیہی حقیقت بن گئی۔ تاہم اس تحریک کی راہبری یورپ کے ہاتھ آنے سے یہ ایک انتہا سے دوسری انتہا کا سفر ثابت ہوا ہے۔ رہزن کو لباس خضر مل گیا۔ وومن جو ووز آف مین تھی سامان تعیش ٹھہری۔ کیپٹلزم نے اس کے عزوناز کی قیمت پر اس سے اشتہا انگیزی اور انسانی جبلتوں کو بھڑکانے کا کام لیا۔ فرائیڈ بھی خوب بروئے کار آیا۔ انسانی جبلتیں سماج اور مذہب دونوں پر حاوی ہیں کا دلفریب بیانیہ مارکیٹ ہوا۔ پھر شیونگ بلیڈ سے لیکر موبل آئل سمیت ہر اس اشتہار کی زینت عورت ٹھہری جس سے اس کا دور پار تک کوئی تعلق نہ تھا۔ جب عیسائی الٰہیات کا بنیادی تھیسس یہی ٹھہرا کہ خدا نے پدرانہ جبلت کیوجہ سے انسان کو تخلیق کیا ہے تو یورپی معاشرت بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست کا عملی نمونہ بن گئی۔ زرپرست معاشرت میں حسن سامان جذب و کیف و مستی اور ذوق وشوق کے برعکس کیپٹل کی حیثیت سے تلتا اور بکتا ہے۔ ولے استثنا قانون قدرت ہے۔

مذاہب عالم اور تاریخ کا فتویٰ یہی ہے کہ عورت انسانی شرف و کمال کے گواہر کی عظیم کان ہے۔ موسیٰ وعیسیٰ اور محمدﷺ نے تو بربنائےوحی ماں کو مقدس ہستی قرار دیا مگر جدید عہد کا سپہ سالار نپولین کیوں کہہ رہا تھا مجھے اچھی مائیں دو میں تمہیں اچھی قوم دوں گا۔ تاریخ نے مذہب کا مقدمہ تسلیم کیا۔ جینڈر گیپس پر سیمینار میں ناروے اور سویڈن کی ایمبیسڈرز اسپیکر تھیں راقم نے پوچھا کیا تاریخی طور پر معاشی اقلیم پر مرد اور اخلاقی اقلیم پر ہمیشہ عورت ذمہ داری نہیں سنبھالتی آئی، پہلے تو اپنے سماجی پس منظر میں انہیں سوال عجیب لگا، باردگر پوچھا تو کہنے لگیں ہماری معاشی سرگرمیوں سے ہمارے بچوں کو تو کوئی فرق نہیں پڑا، آتی ہے یاں شرم کہ تکرار کیا کریں۔ سردار جی نے اسلام قبول کیا اور نمازوں میں جت گئے، کسی نے بتایا سردارجی وضو کے بغیر نماز نہیں ہوتی بولے میری تو وضو کےبغیر ہو جاتی ہے، کبھی مسئلہ نہیں ہوا

ماہرین حیاتیات کیمطابق کیچوا ہرمیفروڈائیٹ ہے۔ یعنی نر اور مادہ دونوں خواص ایک ہی جاندار میں ہیں۔ یوں کیچوا ارتقائی عمل میں سست ترین واقع ہوا ہے۔ یاران تیز گام نے منزل کو جا لیا، ہم محو جرس نالہ کارواں رہے، کے مصداق ہرجاندار کی نوع یا اسپشی ارتقائی عمل میں ایک سے دو یعنی نر اور مادہ میں تقسیم ہوئی ہے، مگر کیچوا ہنوز کسی حدی خواں کے نالے کا منتظر ہے۔ بعید از قیاس نہیں ہے کہ کل کیچوا بھی اس مقام کو پالے۔ آج بھی پینسٹھ ہزار اسپیشیز ہنوز اسی پیٹرن پر وجود رکھتی ہیں یعنی جسم واحد میں نر اور مادہ خواص پائے جاتے ہیں یہ تمام اسپشیز کا پانچ فیصد ہیں۔ ہرمیفروڈائٹزم کی اصطلاح کو گوگل کر دیکھیں تمام اعدادوشمار سامنے ہوں گے۔ متعین ہندسوں کا اعشاری نظام ہندی اور یونانی فکر کو اس نتیجے پرلے گیا کہ سب کچھ متعین ہے، جہاں میں کچھ نیا نہیں۔ تاہم قرآن کائنات کے متعلق لموسعون کا نقارہ بجا رہا تھا یعنی ہم اسے صدائے کن فیکون سےوسعت دیے جارہے ہیں۔ قرآن کے نظریہ ارتقا نے جب علم الریاضیات میں قدم رکھا تو الخوارزمی کا الجبرا وجود میں آیا۔ یعنی کچھ بھی متعین نہیں ہے بلکہ اس کا انحصار دوسری چیز سے تقابل میں ہے۔ یعنی اے نسبت بی کا مطلب ہے اے کی قیمت بی کی قیمت بدلنے سے بدل جائے گی یہی حال بی کا ہے۔ بقول اقبال کائنات کے مستقل پھیلنے کے عمل پر غوروفکر نے البیرونی کو میتھمیٹکل فنکشن تک پہنچایا۔ المختصر مسلمانوں نے قرآن کے نظریہ ارتقا پر بہت کام کیا ہے۔ ابن مسکوایہ نے بطور خاص اسے موضوع بنایا۔ ان کے مطابق پودوں میں کھجور ارتقا کی بلند ترین سطح پر ہے۔ یہ ہرمیفروڈائیٹ نہیں ہے۔ نر اور مادہ کھجور کا الگ الگ وجود ہے۔ ایک نر کھجور کے پولن سینکڑوں مادہ کھجوروں کی فرٹیلائزیشن کیلئے کافی رہتے ہیں۔ ارتقائی طور پر ترقی یافتہ مادہ کھجور اپنے شکم میں نئے پودے کی پرورش کرتا ہے، باقاعدہ سرجیکل آپریشن سے بچہ حاصل کرکے دوسری جگہ کاشت کیا جاتا ہے۔ سکھر میں یہ طریقہ عام ہے۔ کھجور کا ایک اور غیرمعمولی استثنا یہ ہے کہ باقاعدہ برین سسٹم رکھتا ہے۔ ابن مسکوایہ لکھتے ہیں عین ممکن ہے ارتقا کی کسی منزل پر کھجور کا پودا چلنا شروع کر دے۔

زندگی کا آغاز پروٹوزووا سے ہوا۔ حیات ابتداً یک خلوی تھی، ارتقا میں کثیر خلوی ہوئی۔ بارمکرر عرض ہے ہر اسپشی ابتدا میں ہرمیفروڈائیٹ تھی پھر نر اور مادہ میں منقسم ہوئی۱۔ کیچوا غالباً بطور شہادت آج بھی ہرمیفروڈائیٹ ہے۔ جب یہ نر اور مادہ کی دوئی سے دوچار ہوگا تو کیا پھریہ بحث ضروری ہوگی کہ نر کیچوا مادہ کیچوا سے افضل ہے جب نر بغیرمادہ اور مادہ بغیر نرکے زندگی کا تسلسل قائم رکھنے میں ناکام ہوں گے۔ دونوں ایک دوسرے کا تتمہ اور اکملیت ہوں گے۔ ہاں پھر ان کی افضلیت کا معیار نر اور مادہ کے بجائے کسب محاسن پر ہوگا کہ کس نے ارتقا کا کٹھن سفر طے کرنے میں کیا اوصاف پیدا کیے ہیں۔ جانوروں میں گھوڑا ارتقا کی ترقی یافتہ شکل ہے۲۔ قرآن جب ہانپتی ہوئی سموں سے چنگاریاں اڑاتی گھوڑیوں کی قسم کھاتا ہے، یاکہتا ہے روزقیامت لوگ اپنی گابھن اونٹنیاں بھول جائیں گے تو کیا یہ گھوڑی اور اونٹنی کو گھوڑے اور اونٹ پر برتری کا بیان ہے۔ مقصود یہ ہے گھوڑی اور اونٹنی اپنے ارتقا میں مالک کیلئے زیادہ سود مند واقع ہوئی ہیں اسی حساب سے اس کی توجہ کا مرکز بھی ہیں۔

خلقکم من نفس واحدہ وخلق منھا زوجھا۔ تمہیں نفس واحدہ سے پیدا کیا اور تمہارے زوج بنائے۔ ڈاکٹر محمد اسد لکھتے ہیں اس آیت کریم میں الناس کا ترجمہ مفسرین نےبائبل کی دیکھا دیکھی ابن آدم کیا ہے اور آدم کی پسلی سے حوا کی پیدائش کے افسانے تراشے ہیں۳۔ مفتی عبدہ نے المنار میں الناس کا ترجمہ نوع انسان کیا ہے، امام رازی نے ابومسلم کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ یہاں زوجھا کا مطلب عورت نہیں ہے بلکہ مرد اور عورت دونوں مراد ہیں۔ جس قدر عورت مرد کی زوج ہے اسی قدر مرد عورت کا زوج ہے۔ یہاں منھا اس حیاتیاتی حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ عورت اور مرد دونوں کو نفس واحدہ سے بنایا گیا۔ یہ غالباً مرد اور عورت کے ہرمیفروڈائیٹ فیز کا بیان ہے۔ در اصل قرآن پر تلمود اور بائبل کی تخلیق آدم و حوا سے متعلق اسرائیلی روایات کی ملمع کاری ہے جس نےاہل اسلام کا عورت سے متعلق تصور باطل کیا۔ کہاں قرآن کا تصورکہ کتب سماویہ میں کی گئی تحریفات سے پردہ اٹھا رہا تھا اور کہاں غیرتنقیدی شعور کا مالک ہمارا مذہبی طبقہ جس نے قرآن کو واپس اسرائیلیات کے غلاف میں بند کردیا۔ یوں جب قرآن کے مطابق مرد اورعورت نفس واحدہ سے بنائے گئے ہیں۔ تو مطلب یہی ہے کہ دونوں ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ ڈیورانٹ نے کہا ہے کہ مرد اور عورت سیب کی دو قاشیں ہیں جومکمل سیب بننے کی تگ ودو میں ہیں۴۔ ابن العربی کا موقف ہے کہ آدم اپنے ارتقا کے پہلے مرحلے میں عورت ہے کیونکہ حوا نے اس سے جنم لیا ہے۔ ابن العربی نے ابن سینا اور فارابی کے نہ صرف سائنسی تصورات میں کمال حاصل کیا بلکہ ان کے فلسفیانہ تصورات میں بھی درک حاصل کیا تھا۔ یوں اگرچہ ابن لعربی کے وحدت الوجودی تصورات کو راقم درست نہیں مانتا اور کشف و الہام سے متعلق دعووں کو بھی غلو سمجھتا ہے، تاہم ابن العربی کو ابن سینا اور فارابی کے سائنسی تصورات کا بجا طور پرامین کہا جاسکتا ہے۔ ابن العربی جب آدم کو پہلے مرحلے میں عورت قرار دیتا ہے تو یہ ڈاکٹر محمد اسد کے مذکورہ بالا نکتہ نظر کی تصدیق ہے۔ لفظ زوج کو اسی سیاق و سباق میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ۱۸۶۰ کی ایک تصویر ہرمیفروڈائٹزم کے عنوان سے انٹرنیٹ پر دیکھی جا سکتی ہے جس میں ایک شخص نر اور مادہ دونوں اعضا کا حامل دکھایا گیا ہے۔

اقبال لکھتے ہیں بلاشبہ اسلام سے قبل عیسائیت انسانی مساوات کی علمبردار تھی، مگر عیسائی روم تصورانسانیت کو بطور جسد واحد سمجھنے کی استعداد سے محروم رہا۔ نفس واحدہ سے تخلیق حیات کا تصور دے کرزندگی کو نامیاتی وحدت قراردینا اسلام ہی کا اعجاز ہے۵۔ یورپی مفکر فلنٹ کا کہنا ہے کہ کوئی بھی عیسائی مصنف انسانی وحدت کے ایک عمومی اور دھند آلود تصور سے آگے نہ بڑھ سکا۔ عیسائی یورپ کا ارضی نیشنلزم اور اس کا لازمہ یعنی قومی عادات و خصائل پر زور اوراصرار نے انسانی وحدت کو پاش پاش کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ یہ عنصر یورپی آرٹ اور لٹریچر کا مستقل فیچر ہے۔ یوں یورپ کی روحانی تنگ دستی کا یہ عالم ہے کہ وطن پرستی کے سوااس کے دامن میں کوئی روحانی قدر نہیں ہے اور ارضی نیشنلزم سوراخ شدہ کشتی میں بحر اوقیانوس کا سفر ہے۔ فلنٹ کا ماننا ہے کہ اسلام نے عیسائیت کے برعکس زندگی کی نامیاتی وحدت اور انسانی اتحاد کو کسی فلسفی یا شاعر کے خواب کے برعکس روزمرہ کی زندگی کی ایک زندہ و توانا قوت محرکہ بنایا اور یہ تصور غیرمحسوس انداز میں خاموشی سے مسلم طرز حیات کا زندہ عامل بن کر بار آور ہوتا چلا گیا۔ المختصر عیسائی الٰہیات میں جو تفریق مرد اور عورت کی دوئی سے شروع ہوئی تھی نیشنلزم پر پہنچی اورنوع انسانی کے تفریق در تفریق غیرمختتم امکانات پر منتج ہوئی۔

سبھی مجھ سے یہ کہتے ہیں کہ تیری ابتدا کیا ہے مگر میں اس میں رہتا ہوں کہ میری انتہا کیا ہے

اقبال کے نزدیک زندگی مرد وزن کی دوئی میں ایک (نامیاتی وحدت) کو دیکھنے کا تماشا ہے۶۔ دونوں شوق کی کائنات کے صورت گرہیں۔ عورت زندگی کی آگ کی حفاظت کرتی ہے، اس کی فطرت اسرار حیات کی تختی ہے، اس کا ضمیر ممکنات زندگی کے گواہر کی کان ہے، اس کے تب وتاب سے زندگی کو ثبات ہے، اس کا شعلہ لامحدود چنگاریوں کا مخزن ہے۔ اس کے سوز کے بغیرجسم وجاں کا نازک ارتباط ممکن الوجود نہیں۔ ہمارا وقار عورت کی سربلندی میں پنہاں ہے۔ ہم سب کی نقشبندی ماں کے سبب ہے۔ ماں کی قدسیت اور فرشتگی کو دیکھنے کیلئے جسمانی آنکھ قلزم و اوقیانوس کے پانیوں سے کیوں نہ دھلی ہو ناکافی ہے۔ اس کیلئے چشم دل درکارہے جو پانی کو آگ لگا سکتی ہو۔ راقم ایک بڑےنیوز چینل میں کنٹینٹ پروڈیوسر تھا۔ ڈائریکٹر نیوز نے عورتوں کے عالمی دن پر سپرز مانگے۔ جب ان کی نظر وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ والے سپر پر پڑی تو چلااٹھے یہ کیا بے ہودگی ہے؟۔ کیا عورت تفریح کی چیز ہے؟ عرض کیا حضور اگراس مصرعے سے آگے پیچھے کا علم ہو تو آپ کا مجوزہ تاثر زائل ہوجائے۔ حضرت کی علمی وجاہت پر زد پڑی تو چنگھاڑتے ہوئے بولے مکمل کیجئے!عرض کیا کہ

وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں

شرف میں بڑھ کے ثریا سے مشت خاک اس کی
کہ ہر شرف ہے اسی درج کا در مکنوں

مکالمات فلاطوں نہ لکھ سکی لیکن۔ ۔ ۔
اسی کے شعلے سے ٹوٹا شرار افلاطوں

انسانی جبلتوں کو مذہب اور سماج پر حاوی قرار دینے والے فرائیڈ کا کہنا ہے جس بچے کو ماں کا پیار بلا شرکت غیرے میسر آیا ہو وہ عمر بھر خود کو ہیرو سمجھتا ہے۔ عورت کی فطرت اسرار حیات کی تختی ہے۔ ماں کا مکتب اور اعتماد اسماعیل کو ایسا پیکر تسلیم بناتا ہے کہ وہ چھری کے نیچے والد گرامی سے کہتا ہے کہ میرے ہاتھ اور ٹانگیں باندھ دیجئے کہ تڑپنے سے بے ادبی کا خدشہ نہ رہے۔ ماں کا اعتماد عبداللہ بن زبیر کو اس وقت بھی استقلال اور ثابت قدمی پر مجبور کرتا ہے جب خود ان کے لخت جگر حجاج بن یوسف کے لشکر کا حصہ بن جاتے ہیں۔ ضعیف ماں اسما بنت ابی بکر سے مشورہ کرتے ہیں کیا کروں؟ کہتی ہیں اگر اقتدار کیلئے لڑرہے ہو تو برا ہو آپ کا۔ اگرحق پر ہو تو پھر آخری سانس تک لڑو۔ شہید ہوگئے، حجاج بن یوسف نے نعش ایک پول پر لٹکوا دی۔ ہفتے بعد ماں کا گزر ہوا تو گویا ہوئیں کیا اس شہسوار کے اترنے کا وقت ابھی تک نہیں آیا۔ اقبال کے نزدیک تو سانحہ کربلا میں حضرت زینب دادو شجاعت کی اتنی ہی مستحق ہیں جتنے حضرت حسین ہیں۔ حدیث عشق دو باب است کربلا ودمشق یکے حسین رقم کرد دیگرے زینب۔ عشق کے دو ہی باب ہیں ایک کربلا میں جو حسین نے رقم کیا اور دوسرا باب دمشق میں دربار یزید میں حضرت زینب نے رقم کیا، جہاں تاریخ نے نگاہ فقر کے سامنے شان سکندری کو رسوا و ذلیل ہوتے دیکھا، خراج کی گدا قیصریت کو خاک آلود پایا۔ حسین و زینب کے عمل میں فا طمہ کا شکوہ تسلیم ورضا کار فرما تھا۔

مزرع تسلیم را حاصل بتول۔ ۔ ۔ مادراں را اسوہ کامل بتول

تسلیم کی کھیتی کا حاصل فاطمہ ہیں جو مائوں کیلئے اسوہ کامل ہیں۔ اقبال نے عورت کو ہر شرف انسانی کا درج کہا ہے۔ حضرت عبدالقادر جیلانی کی اخلاقی نقشبندی میں ماں کے کردار پر غورکیجے جدید عہد کی ماں ملٹی نیشنل کمپنیوں کی سی ای او تو بن رہی ہے، مگر کیا ہاجرہ و خدیجہ اور فاطمہ کی کوئی جھلک بھی رکھتی ہے۔ بقول شریعتی عہد جدید کی مادی ترقی کا یہ عالم ہے کہ انسان مریخ پر میزائل داغ رہا ہے، اوراخلاقی زوال کا یہ حال کہ دس بارہ ڈالرز میں قومی راز فروخت کردیتا ہے۔

وادی بطحا میں ہاجرہ و کمسن اسماعیل کو بسایا گیا۔ ہاجرہ کے بطن سے قوم ہاشمی کا جنم ہوا۔ یوں تہذیب اسلامی کے سوتے اس مقام سے پھوٹے جس کی خاک نے ایک عورت کی آبلہ پائی سے کسب فیض کیا جو زبان حال سے کہہ گئیں۔

تیز رکھنا سر ہر خار کو اے دشت جنوں، ، ، شاید آجائے کوئی آبلہ پا میرے بعد۔

ابن رشد کا قول بار مکرر عرض ہے کہ عورت اور مرد میں فرق ہیئت اور نوعیت کا نہیں کمیت کا ہے۔ نفس واحدہ کو اگر مرد وزن کا ہر میفروڈائیٹ فیز تسلیم کر لیا جائے تو ماننا پڑے گا کہ قسام ازل نے یکساں، پوٹینشلز دونوں کو ودیعت کی ہیں۔ زمان و مکاں اور سماجی پس منظر نے کمیت کا فرق پیدا کیا۔ اور ایسا تخصص میرا احساس ہے، فطری نہیں کسبی ہے ورنہ قسام کے عدل پر زد پڑتی ہے۔ مرد نے معاشی اقلیم سنبھالی تو جہد مسلسل اور خطرات اسے مضبوط تر اور عملیت پسند بناتے چلے گئے۔ عورت نے اخلاقی اقلیم سنبھالی تو بچوں کیساتھ وقت گزاری اور تحفظ کے احساس نےاسے دل گداختہ کردیا۔ اس کے ہارمونز میں محبت کی آگ کا الائو روشن ہوتا چلاگیا۔ ارتقائی عمل میں عورت محبت کا آتش فشاں بن گئی۔ فرہاد زمانے کی رسم کے مطابق تیشے کے سہارے مرا، شیریں کیلئے فرہاد کے مرنے کی خبر ہی کافی تھی۔ پنوں واپس مکران پہنچ گیا مگر سسی کا کرب شاہ لطیف سے پوچھئے۔ مرد کی چتا میں عورت صدیوں تک جل کر راکھ ہوتی رہی ہے، یہ محض سماجی جبر ہی نہیں تھا، عورت کا مرد سے اٹوٹ رشتہ نبھانے کی دلیل بھی ہے۔ ہیر وارث شاہ میں عورت کی وفاداری کا یہی مقدمہ ہیر رانجھے سے بیان کرتی ہے۔ تاہم ضروری نہیں کہ محبت پر عورت کی اجارہ داری ہو، جو بیخودی جذب و مستی اور سرور وکیف قیس کے ہاں ملتاہے وہ مجنوں کا کوئی دوست فسانہ نگار تھا کی تصویر پیش کرتا ہے۔

اقبال کا موقف ہے کہ وحی زندگی کی آفاقی خاصیت ہے، ارتقا کے مختلف مدارج پر اس کی نوعیت مختلف ہو سکتی ہے۔ آزاد فضا میں ایک پودے کی نمو کا معاملہ ہو یا اپنے ماحول سے مطابقت پیدا کرنے کیلئے کسی جانور کا کسی نئے عضو کا پیدا کرلینا ہو یا پھر کسی انسان کا زندگی کی گہرائیوں سے ہدایت کا اخذ کرناہو سب وحی کی مثالیں ہیں، جس کا انحصار وحی کے وصول کنندہ یا اس کی اسپشی یا گروہ کے جانداروں کی ضروریات پرہوتا ہے۷۔ صحرا کا اونٹ ایک کوہان پر قانع رہا سردخطے کے اونٹ نے باامر ضرورت دو کوہان پیدا کرلیے تاکہ بقدر ضرورت چربی میسر رہے۔ میرا احساس ہے کہ مرد اور عورت جوہری طورپریکساں صلاحیتوں کے امین ہیں، وہ خوبیاں جو ان کا تخصص ہیں کسبی ہیں۔ الرجال قوامون علی النسا میں مردکی برتری کا بیان ڈی جیورکے بجائے ڈی فیکٹو اسٹیٹس سمجھا جائے تو زیادہ درست ہے۔ آج جب کارپوریٹ کلچر میں عورت معاشی سطح پر مرد کی ہم پلہ ہے تو مردکی برتری کا نشہ کافور ہوجانا چاہئے۔ قرآن کے مطابق تمام رسل برابر ہیں، لانفرق بین احدکم! مگر دوسری جگہ بیان ہوا بعض کو بعض پر فضیلت ہے۔ اسے تضاد سمجھا جائے؟ جہاں تک دفتر نبوت کا بیان ہے سب برابر ہیں جہاں تک محنت اور کسب کا تعلق ہے تو کچھ کی دوسروں پر فضیلت کسبی معاملہ ہے۔ نزول قرآن کے وقت عورت کو مارکیٹ کا ایکسپوژر مرد کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر تھا، تو معاشی حساب کتاب میں عورت کی آدھی گواہی جوہری نہیں سماجی مسئلہ تھا، کیا ہارورڈ یونیورسٹی کی فارغ التحصیل ریاضی دان عورت کی کسی گنوار مرد کے مقابلے میں آج بھی آدھی گواہی متصور ہونی چاہئے۔ ہمیں حرف پرستی نے مارا ہے، ورنہ قرآن کا پیغام کچھ اور ہے۔

یورپ کی نشاۃ ثانیہ صنعتی انقلاب سائنسی ترقی مذہب کا طاق نسیاں ہونا اور دیگر عوامل سے تحریک نسواں یعنی فیمنزم کا منظر پر آنا تاریخ انسانی کا فقیدالمثال واقعہ ہے۔ مارکسی تصور تاریخ کے مطابق پیداواری ذرائع بدلنے سے اقدار بدل جاتی ہیں۔ معاشرہ زرعی سے صنعتی ہوا تو اقدارکی کلی نہیں تو جزوی تبدیلی ناگزیر تھی۔ نفسیاتی تصور تاریخ کے مطابق جب جبلی میلانات کو تادیر دبایا جاتا ہے تو وہ معاشرے کا لبادہ پھاڑ کر اودھم مچاتے ہیں، ھن، تاتار، وائکنگ، وینڈل یا ہکسو تاریخ کا یہی نفسیاتی مظہر ہیں۔ یا پھر قلب ماہیئت سے ایک برتر تہذیب کا قیام وجود میں آتاہے۔ مذہبی تصور تاریخ اگرچہ جوہری طور پر نفسیات کا گہرا ترین مظہر ہوا کرتا ہے تاہم اس کے نزدیک تاریخ خیر وشر کی قوتوں کی معرکہ آرائی کا مظہر ہوا کرتی ہے۔ تاریخ کو عظیم شخصیتوں کے دست کار آفریں کا مظہر بھی قراردیا جاتا ہے۔ اگرچہ اسکندر اعظم اور نپولین بوناپارٹ وغیرہ نے تاریخ پیدا کی، انبیاکا پلڑا بھاری ہے۔ میراخیال ہے جب ڈیکارٹ نے کہا عقل اپنے پائوں پر کھڑی ہوسکتی ہے وحی رخصت ہوئی مذہب سائنس کے مقابلے میں اپنا مقدمہ ہار گیا، تہذیب مغرب نے یکسر مادی لبادہ اوڑھ لیا۔ دوسرا عامل یہ تھا کہ تاریخ یورپ میں عورت کا صدیوں استحصال ہوا تھا، ردعمل فطری تھا۔ یوں فیمزم کی تحریک نتیجاً کسی بھی طرح کے روحانی تصور سے محروم مادی تحریک ہے۔ مذہب کی بھد اڑانا بھی بنتاہے یہ کلیسا کے مذہبی استبداد کا رد عمل ہے۔

اقبال نے یورپ میں قیام کے دوران نہ صرف فیمنزم کا سحاب افق پر بنتے دیکھا بلکہ اس کے دامن میں پنہاں بجلیوں کو بھی بھانپ لیا۔ یہ نہ صرف مذہب بلکہ مرد سےبھی بیزاری کی تحریک تھی۔ رد عمل کی نفسیات اپنی زنبیل میں خیرکے پہلو کم رکھتی ہے۔ اس تحریک سے آزادی و حقوق نسواں کے بڑے سنگ میل طے ہوئے، مگر سوشل فیبرک میں اوزون سے بھی بڑے سوراخ در آئے۔ جاوید نامہ اقبال کا رومی کیساتھ عالم بالا کا سفرہے۔ چاند کے فلک پر اقبال نے ایک مقام پر حکیم طالستائی کو دیکھا اور پارے کی ایک ندی میں تا بہ کمر غرق ایک دوشیزہ کو دیکھا، یہاں دوشیزہ سے مراد تہذیب مغرب ہے۔ طالستائی سخت پیاسا ہے مگر پارہ پینے سے زندگی خطرے میں ہے۔ پارے کی ندی اقدار مغرب کی تجسیم ہے۔ طالسطائی دوشیزہ سے پوچھتاہے کہ تونے مسیح کی تعلیمات کا کیا حال کیا ہے، جواب ملتا ہے۔ آپ لوگوں نے مسیح ؑ کے جسم کو مصلوب کیا میں نے مسیح کی روح (تعلیمات) کو۔

اقبال کی مریخ پر حکیم مریخ سے ملاقات ہوتی ہے، مرغدین کا مقام دیکھتے ہیں ہزاروں کا خ و کو سے گزر کر شہر کے کنارے ایک وسیع میدان میں عورتوں اور مردوں کا ہجوم دیکھتے ہیں ان کے درمیان نارون قد کی ایک دوشیزہ دیکھتے ہیں۔ اس کا چہرہ روشن مگر روح کے نور سے محروم تھا۔ اس کا سینہ جوانی کے جوش سے فارغ تھا، اس کا دل نور سے اور باتیں ذوق وشوق سے خالی تھیں۔ بے خبر از عشق و از آئین عشق۔ ۔ صعوہ رد کردہ آئین عشق۔ وہ عشق اور آئین عشق سے محروم اس ممولے کی مانند تھی جسے عشق کا شاہین رد کرچکا ہو۔ حکیم مریخ نے بتایا کہ یہ مریخ کے باشندوں میں سے نہیں ہے۔ یہ سادہ و آزاد اور مکرو فریب کے بغیر تھی اسے شیطان نے یورپ سے اغوا کرکے یہاں پہنچایا اور کاروبار نبوت میں پختہ کردیا۔ کہتی ہے میری دعوت آخر زماں کی دعوت ہے یعنی قیامت سے پہلے جس نبی نے آنا ہے وہ میں ہوں۔ از مقام مردو زن دارد سخن۔ ۔ فاش ترمی گوید اسرار بدن۔ وہ مردوعورت کے مقام کی بابت بات کررہی تھی اور بدن کے بھید کھلم کھلا بیان کر رہی تھی۔

مریخ کی یہ نبیہ کہہ رہی تھی اے عورتو مائوں بہنو معشوق بن کر کب تک زندگی بسر کرتی رہو گی۔ دلبری جہان میں مظلومی ہے۔ دلبری مردوں کی محکومی اوراپنے حقوق سے محرومی ہے۔ مرد صیاد ہے ہم نخچیر ہیں۔ اس کی دل گدازیاں مکر و فریب ہے۔ وہ کافر یعنی حقوق زناں کا منکرتمہیں دام نکاح میں لا کر ہمیشہ کیلئے قیدی بنالیتا ہے (سابق امریکی سیکرٹری خارجہ کنڈولیز رائس کے دورہ روس کے دوران اہل صحافت نے ان سے شادی نہ کرنے کی وجہ پوچھی بولیں شادی کا مطلب عورت کا مفتوح ہوجانا ہوتا ہے اور میں ہمیشہ فاتح رہنا چاہتی ہوں اس لیے شادی کے حق میں نہیں ہوں)۔ مرد بل کھاتا ہوا سانپ ہے، اس کے خم و پیچ سے بچ اس کا زہر اپنے خون میں نہ ملا۔ اس کا وصل زہر اور جدائی مصری کی ڈلی ہے۔ ماں بننے سے بچ کہ بچہ جننے سے عورت کا چہرہ زرد ہو جاتا ہے (بھارت میں سروگیٹ مدرز کا احوال ملاحظہ ہو)۔

مجھ پر دم بہ دم اللہ کی وحی آتی ہے اور میری لذت ایمانی کو دوااتشہ کردیتی ہے۔ وہ وقت آنے والا ہے جب جنین کو ماں کے بدن میں دیکھا جا سکے گا کہ یہ کتنے ماہ کا ہے۔ تم مزرع حیات سے اپنی مرضی کا پھل (بچہ یا بچی) لے سکو گی۔ اگر جنین ہماری مرضی کا نہ ہوا تو اسقاط حمل کا آپشن ہمارے پاس ہوگا۔ پرورش گیرد جنیں نوع دگر۔ ۔ بے شب ارحام درما بد سحر۔ بچے کی پرورش کا نیا ڈھنگ ایجاد ہوگا، وہ ماں کے شکم کی رات گزارے بغیر سحر پائے گا۔ مرد سے جان چھڑائو کہ ڈائنوسارز کی طرح اس شیطان یعنی مرد سے زمین پاک ہوجائے۔

لالہ ہا بے داغ وبا دامان پاک۔ ۔ ۔ بے نیاز از شبنمے خیزد زخاک
خود بخود بیروں فتد اسرار زیست۔ ۔ ۔ نغمہ بے مضراب بخشد تار زیست
آنچہ از نیساں فرد ریزد مگیر۔ ۔ ۔ اے صدف در زیر دریا تشنہ میر

بے داغ گل لالہ اپنے پاک دامن کیساتھ شبنم سے بے نیاز مٹی سے اگتا ہے (تو محتاج مرد کیوں ہے؟)۔ زندگی کے بھید خود بخود باہر آیا کریں گے۔ بغیر مضراب کے زندگی کے ساز سے نغمے پھوٹیں گے (میڈیکل سائنس بغیر جنسی فعل کے اولاد پیدا کرنے پر قادر ہوگی)۔ اے عورت تو ایسی صدف بن جا جو زیر دریا رہتے ہوئے تشنہ مر جاتی ہے مگر اپنی آغوش کو اس قطرے سے آباد نہیں کرتی جس نے گوہر بننا ہوتا ہے۔ دوجسموں کے ربط سے آزاد ہونا ہی عورت کی توحید ہے۔

اقبال نے فیمنزم کا جوہر بیان کر دیا ہے۔ اس مضمون سے بخوبی اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اقبال کے ہاں عورت کا مقام کیا ہے اور فیمنزم کا منطقی انجام کیا ہے۔ اقبال آرتھو ڈوکس اپروچ کے حامل نہیں ہیں کہ وہ زرعی معاشرت کی اقدار کو اسلام سمجھیں۔ ان کے نزدیک ماڈرنٹی یا جدیدیت ایک تاریخی مظہر ہے۔ جدیدیت زندگی کے چیلنجز سے مثبت طور پر عہدہ برآ ہونے کا نام ہے۔ زندگی کیلئے جمود موت ہے، پتھر کا زمانہ دھات کا زمانہ، زرعی معاشرت کا زمانہ صنعتی انقلاب کا زمانہ، کارپوریٹ کلچر کا زمانہ اور سائبر اسپیس کا زمانہ جدیدت کا مظہر ہیں۔ زندگی ماضی کا بوجھ کندھوں پراٹھائے ہمیشہ مستقبل رو ہوکر آگے بڑھتی ہے اور تجربے اور وجدان سے اپنا راستہ بناتی ہے۔ سیکولر نظام تعلیم کے پروردگان ویسٹرنائزیشن یعنی غرب زدگی یا علی شریعتی کے الفاظ میں ویسٹاکسی کیشن کو جدیدیت سمجھتے ہیں۔ معاشرے میں عورت کے مقام کے تعین کیلئے اپنی روایت اور اخلاقی جہت محل نظر رہے تو سیکولر لبرلز اور قدامت پسند مذہبی طبقے کے درمیان بعد کو پاٹ کر مناظرے سے بحث اور بحث سے ڈائیلاگ کی طرف رجوع کرکے مڈل آف دا روڈ پوزیشن لی جا سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: فیمنزم اور مردانگی کا بحران - وحید مراد


حوالہ جات:
۱۔ جانوروں کی ۶۵۰۰۰ انواع اب بھی ہرمیفروڈائیٹ ہیں، پودوں کی اکثریت ہرمیفروڈائیٹ ہے ول ڈیورانٹ سمیت دیگر حکما کا استدلال ہے ابتداً زندگی ہر میفروڈائہٹ فیز میں رہی ہوگی۔ الہامی مذاہب کا اشارہ بھی اسی طرف ہے۔

۲۔ اقبال کے مطالعہ اور ادراک کے مطابق گھوڑا ارتقا کی بلند ترین منزل پر ہے۔ ڈاکٹر فضل الرحمان کے نزدیک کتا ارتقا کی ترقی یافتہ شکل ہے۔

۳۔ ڈاکٹر محمد اسد نے آیت مذکورہ کا حاشیے میں ایسا مقدمہ پیش کیا ہے۔ زمانہ وسطیٰ کے علمائے صرف ونحو اور ماہرین لغت نے ترجمہ و تفسیر میں اسرائییلیات کو برتا ہے۔ قرآن چونکہ واقعات کی تفصیل کے بجائے اجمال اور اخلاقی اصولوں کو بیان کرتا ہے تو مدعا و مقصود سے اعراض برتتے ہوئے قصص قرآنی کا پیٹ بھرنے کیلئے عہد زوال کی مسلم دانش نے اسرائیلی روایات کو خوب برتا ہے۔ المیہ یہ ہےکہ اس میں معروف مفسرین کو ھی استثنا حاصل نہیں ہے۔ ہم عرض کریں گے تو شکایت ہوگی۔

۴۔ ول ڈیورانٹ محض فلسفی ہی نہیں ہے جدیدعیسائی علم الٰہیات کا ماہر عیسائی متکلم ہے۔ یاد رہے جدیدفلسفہ تاریخ اور علم الٰہیات میں یورپ نے کارعظیم سرانجام دیا ہے بقول ڈاکٹر اقبال احمد مسلمانوں کو ان دو میدانوں میں یورپ سے استفادے کی اشد ضرورت تھی مگرملائیت کی سخت گیری کیوجہ سےادھر توجہ نہیں دی گئی۔

۵۔ خطبات یعنی ریکنسٹرکشن آف ریلجیس تھاٹس ان اسلام کے پانچویں باب روح ثقافت اسلامیہ میں اقبال نے فلنٹ کا حوالہ دیتے ہوئے یہ کہا ہے۔

۶۔ یہ جاوید نامہ میں مردو زن سے متعلق یورپی تصورات کے برعکس روح قرآنی کے مطابق مرد و زن کی یکجائی اور محبت کے تصور پر اقبال کے اشعار کا ترجمہ ہے

۷۔ خطبات کے پانچویں باب روح ثقافت اسلامیہ کے ابتدائی حصے میں اقبال نے وحی کا یہ آفاقی تصور پیش کیا ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20