کورونا سے تو لڑ لوں گا مگر ۔۔۔ ایک ماسک زدہ شوہر کی بپتا —- اظہر عزمی

0

ہمارے ایک دوست ہیں بّبو میاں۔ ہیں تو بڑے احمق لیکن کبھی کبھی سادگی میں بڑے پتہ کی بات کر جاتے ہیں۔ کورونا کا نیا ہنگامہ شروع ہوا تو بولے: تم کچھ بھی کہو کوئی بھی بلا ہو یا وباء نام عورتوں والا ہی ہوتا ہے۔ چلیں میں آپ کو اس کی وجہ بھی بتا دوں۔ اصل لڑائی ان کی ایک عورت سے ہے لیکن وہ لپیٹ سب کو لیتے ہیں۔ وہ عورت کوئی اور نہیں ان کی شریک حیات ہیں جنہیں وہ وجہ مشکلات کہتے ہیں۔ شادی آنکھ لڑا کر کی تھی، اب ایک آنکھ نہیں بھاتی۔

ابھی لاک ڈائون شروع نہ ہوا تھا۔ ایک دن ماسک لگائے گلی کے نکڑ پر آکھڑے ہوئے۔ میں نے کہا: آپ بھی؟ بولے کیا کروں۔ ویسے اس عمر میں منہ چھپانا بڑا عجیب سا لگتا ہے۔ زندگی بھر کھلے منہ سے جیئے ہیں۔ میں نے کہا: بس بّبو میاں بس۔ رہنے دیجئے کھلے منہ سے پھرے ضرور ہیں مگر گھر جا کر تو منہ سے ایک لفظ نہیں نکلتا۔ صاف صاف کہیں گونگے کھلے منہ سے جیئے ہیں۔ بّبو میاں سے میری یہ زبان درازی برداشت نہ ہوئی مگر اخلاق کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا۔ بولے: شادی شدہ کی مجبوریاں تم کیا جانو۔ اس جملے میں جو کرب اور بے چارگی تھی وہ میں ان کے ماسک کی وجہ سے محسوس تو نہ کر پایا لیکن آنکھوں کی اداسی نے سب کہہ دیا۔ میں نے دل رکھنے کو کہا: دل کیوں چھوٹا کرتے ہیں پوری دنیا منہ چھپائے پھر رہی ہے۔ آپ اکیلے تو نہیں۔ میرا خیال تھا کہ وہ اس تسلی کو تشفی کے خانے میں رکھیں گے مگر وہ تو ناراض ہوگئے: رونا تو اسی بات کا ہے، کھاپیا کچھ نہیں، گلاس توڑا بارہ آنے۔ اور تم یہ منہ چھپانا بھی تو دیکھو۔ اس کم بخت مارے ماسک نے بڑے بڑوں کے کان پکڑا دیئے ہیں۔ ہم تو سمجھے تھے کہ کان بیوی کی سنی اس سنی کرنے اور چشمے کی کمانیں ٹکانے کے لئے ہوتے ہیں مگر یہاں تو یہ ماسک آگیا۔ یقین جانو بارات والے روز منہ پر رومال رکھا تھا اور اب یہ ماسک۔

میں نے سوچا کہ بات کا موضوع بدل دوں، پوچھا نکلنا کیسے ہوا؟ بولے: ہوا خوری کے لئے لیکن نکلتے نکلتے بیوی نے کہہ دیا کہ جا تو رہے ہو مگر میرا ماسکانہ مشورہ یہی ہے کہ ماسک پہن لو ورنہ گھر میں نہیں گھسنے دوں گی۔ مجھ سے بھی برداشت نہ ہوا بول ہی پڑا: کیوں کیا یہ گھر آپ کے والد صاحب نے جہیز میں دیا تھا۔ تنک کر بولیں جب بچے جوان ہوجائیں تو گھر بیوی کا ہی ہوتا ہے۔ بجلی اور گیس کے بل پر لاکھ تمہارا نام لکھا ہو۔ میں نے سوچا مزید بحث فضول ہے۔ ماسک چڑھا کر باہر نکل آیا۔ یار تم کچھ بھی کہو یہ ٹکے ٹکے کے ماسک بڑے منہ چڑھے ہو گئے ہیں۔ میں نے کہا: بّبو میاں اگر زندہ رہنا ہے تو کسی اور کو منہ نہ لگائیں اور ویسے بھی اب یہ ٹکے ٹکے کے کہاں رہے ہیں۔ اگر یہ نہ پہنیں تو زندگی ٹکے جیسی ہو رہی ہے۔ خریدنے جائیں تو قیمت سن کر کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ بّبو میاں نے سر کو ہاں میں ہلایا اور ایک دم ہلکے سے میرے کان میں بولے: ویسے ان ماسک کا ایک فائدہ ہوا اب کچھ بھی بڑبڑاتے رہو بیوی کو کچھ دکھتا ہی نہیں۔ پہلے تو بھائی ہلکا سا منہ ہلایا اور اس نے پکڑ لیا۔ وہ ہمارا سالا ہے ناں مستقیم، کل موبائل پر بات ہوئی تو کہہ رہا تھا دولہا بھائی میں تو سوچ رہا ہوں۔ وائرس چلا بھی جائے میں نے گھر میں ماسک ہی لگا کر رکھنا ہے۔ میں نے کہا سالے ماسک میں سانس رک کر آ تی ہے۔ کہنے لگا آتی تو ہے ورنہ دن میں کئی مرتبہ بیوی کی ڈانٹ سے تو بالکل ہی رک جاتی ہے۔

اب بّبو میاں کا دل ذرا مائل بہ مزاح ہو چلا تھا۔ کہنے لگے: اب تو راہ چلتے کسی کو دیکھنے کو دل بھی نہیں چاھتا۔ ناک نقشہ سمجھا میں ہی نہیں آتا۔ بس اندازے پر گذارا کرنا پڑتا ہے۔۔۔ بقول شاعر تیری آنکھوں کے سوا چہرے پہ دکھتا کیا ہے۔ پہلے بڑی آ سانی تھی راہ چلتے اچٹتی نظر ڈالی اور آگے بڑھ گئے۔ کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوئی۔ میں نے بّبو میاں کو چہکتے دیکھا تو معنی خیز نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا: پہلے زندگی معاشقانہ تھی اب ماسکانہ ہوگئی ہے۔ بولے: میاں ماسک منہ پر لگایا ہے نظر پر تو نہیں۔ بس اس ماسک کے بعداب نظر کے ساتھ دماغ کو بھی کام میں لگانا پڑتا ہے۔ بّبو میاں نے ماسک کو منہ سے ہٹایا۔ ایک ہلکی سی چھینک میرے منہ کی طرف روانہ کی اور گہری سانس لینے کے بعد بھر ماسک زدہ ہو گئے۔ میں نے کہا: یہ کیا کیا۔ بولے فلٹرڈ سانس لینا بھی بہت خطرناک ہے ورنہ پھیپھڑے سمجھیں گے کہ میں اٹلی یا فرافس میں رہ رہا ہوں۔ تم سن نہیں رہے ہو سب سے زیادہ اموات صاف ستھرے ملکوں میں ہو رہی ہیں۔ ملک الموت کا سارا دھیان ان ہی ملکوں کی طرف ہے۔۔۔ اور سنو !اب تو سننے والوں کو آواز یںبھی فلٹرڈ ہو کر جانے لگی ہے وہ بھی عمر کے لحاظ سے۔ کل کریانہ کی دکان پر گیا۔ اس سے کہا کہ چھالیہ ہے تو بولا دلیہ شام تک آئے گا شام کو آنا۔ میں نے کہا دلیہ سن لیا جو دکان پرتھا حالانکہ چھالیہ سے قریب ترین لفظ تو عالیہ ہے۔ دکاندار نے برا سا منہ بنا کر کہا چاچا یہ مسخری بعد میں کرنا ابھی دھندے کا ٹائم ہے۔

میں نے بّبو میان کو پٹری سے اترتے دیکھا تو کہا: آپ کے منہ سے ایسا عالیانہ کلام زیب نہیں دیتا۔ بّبو میاں نے برہم ہو کر کہا: میں نے ایسا کیا کہہ دیا۔ آپ کی سوچ میں فتور ہے۔ میں نے پھر مودبانہ عرض کی: یہ مت بھولیں کہ خدا نے آپ کا پردہ رکھا ہوا ہے۔ تنبیہہ ہے آپ کے لئے۔ 60 سال آپ کی عمر ہوچکی ہے، بہتر ہے اللہ کو یاد کریں ایسا نہ کہ اس وباء ہی میں اللہ آپ کو یاد کر لے۔ بّبو میاں کی آنکھوں میں خوف کے گہرے بادل نظر آئے۔ موت کا سن کر ذرا ہلکے ہوئے اور رخ وائرس کی علامات کی طرف موڑ دیا: 3 سے 4 والی علامات کی وجہ سے سب کچھ لاک ڈائون ہونے کی خبریں آرہی ہیں مگر بھائی ایک بات بتاو ہم جو سالوں سے ایک وائرس کی وجہ سے گھر میں ناک ڈائون رہتے ہیں۔ اس کانہ کوئی ہی علاج ہے اور نہ کوئی احتیاطی تدبیر۔ بس ایک بار لگ جائے تو جانے کا نام نہیں لیتا۔ جب کبھی چھٹکارے کی خواہش ہوتی ہے تو بس آسمان کی طرف غیبی امداد کا سوچ کر رہ جاتے ہیں۔

میں بّبو میا ں کی حسِ مزاح سے وقف تھا مگر سیریس ہی رہا۔ البتہ چھیڑنے کے لئے پوچھا بیٹھا: کیا اس وائرس میں بھی گھر پر بیٹھا جاتا ہے؟ بّبو میاں نے کانوں کو ہاتھ لگا کر کہا: سیانے کہتے ہیں بس اسٹاپ پر کھڑے ہو جائو ، کوئی ایمبولینس چلا لو۔ موت کے کنوئیں میں موٹر سائیکل چلا لو مگر گھر میں نہ بیٹھو۔ مرض کی شدت اور زندگی کم ہونے کا خطرہ ہے۔

بہرحال بّبو میاں نے بتایا کہ موجودہ وائرس جو دنیابھر میں پھیلا ہے اس میں خشک کھانسی، نزلہ زکام، بخار اور سانس لینے میں تکلیف شامل ہے لیکن جس وائرس کی میں بات کر رہا ہوں اس کے آگے دنیا کے کسی وائرس کی کوئی علامات کچھ نہیں بیچتی۔ دنیا کی ساری فارما کمپنیز سر کیا پیر بھی جوڑ کر بیٹھ جائیں تو اس کا علاج دریافت نہیں کر سکتی ہیں۔ میں نے کہا ایسا کیا ہے۔ بولے بابا آدم کے زمانے کا مرض ہے۔ میں نے پوچھا علامات تو بتا دیں۔ بولے: دیوار کی طرف منہ کر کے سونا، ساس کے آ نے پر سانس رک رک کر آنا، بات بات پر سالے کو چھوڑوں گا نہیں کی تکرار، حالات کے تبدیل نہ ہونے کا یقین، گھر آتے ہی زبان میں لڑکھڑاہٹ، مزاج میں جھنجھلاہٹ، ارے سنتے ہیں پر بہرہ بن جانا، نظر میں کمزوری، غائب دماغی، صدمے کی کیفیت ، طبیعت میں سستی ، خود سے باتیں وغیرہ وغیرہ۔ میں ہنسا اور بولا: یہ وائرس تو شادی کے بعد لگتا ہے۔ بہت خوش ہوئے بولے: شاباش، آدمی ذہین معلوم دیتے ہو۔ اب اس وائرس کا نام بھی سن لو۔ دنیا بھر میں الگ الگ نام ہیں پر پاکستان میں اسے “صبرونا” کہا جاتا ہے۔ میں نے کہا بس آ پ ایک ورد کرتے رہا کریں۔ بولے: وہ کیا؟ میں نے کہا: اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔

کچھ دیر نہ جانے کیا سوچتے رہے۔ ایک گہری آہ بھری اور میرے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا: تم خوش نصیب ہو۔ صبرونا کے مریضوں کے تجربے سے فائدہ اٹھائو۔ میں نے کہا: مشکل ہے۔ اگلے چند ماہ میں میری شادی ہے۔ بّبو میاں نے میرے کاندھے پر اس طرح ہاتھ رکھا کہ جیسے اب کبھی نہیں ملیں گے اور مجھے خالد محمود شانی کا شعر یاد آنے لگا:
جس طرح آپ نے بیمار سے لی ہے رخصت
صاف لگتا ہے جنازے میں نہیں آئیں گے
———–
(پروردگار ہم سب کو کورونا وائرس سے محفوظ رکھے۔ آ مین)


مصنف کا تعلق ایڈورٹائزنگ کے شعبہ تخلیق سے ہے ۔ 30 سال پر محیط کیریئر میں متعدد ٹی وی کمرشلز اور جنگلز آپ کے کریڈٹ پر ہیں۔ 90 کی دھائی میں اخبارات میں مختلف موضوعات پر آرٹیکلز لکھے ۔ ٹی وی کے لئے ڈرامہ بھی لکھتے رہے ہیں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20