دین ہمہ از معجزات —- دبیر حجازی

0

معجزہ دراصل عربی زبان کا لفظ ہے لغت میں جس کے معنی ”عجیب و غریب یا تھکا دینے یا عاجز کر دینے والی شے“ کے ہیں جیسا کہ سورۃ الانعام کی آیت نمبر 134 میں ہے ”بے شک جس کا تمہیں وعدہ دیا جاتا ہے ضرور آنے والی ہے اور تم تھکا نہیں سکتے۔“جبکہ شریعت کی اصطلاح میں”حضرات انبیائے کرام علیہمُ السَّلام سے اُن کی نبوت کی صداقت ظاہر کرنے کے لیے کسی ایسی تعجب خیز چیز کا ظاہر ہونا جو عادۃً نہیں ہوا کرتی معجزہ کہلاتی ہے۔“ قاضی ابوبکر باقلانی رحمۃ اللہ علیہ (المتوفیٰ403ھ) لکھتے ہیں: ”معجزہ وہ افعالِ باری تعالیٰ ہیں جو مخالفِ عادت اور انبیائے کرام علیہمُ السَّلام کے دعویٰ کے مطابق ہوتے ہیں۔“

شرعی معجزہ کی تعریف میں جو یہ کہا گیا ہے کہ ”ویسی چیز کا ظہور عموماً یا عادۃً نہیں ہوا کرتا“ اس سے پتہ چلتا ہے کہ معجزہ کوئی ناممکن یا محال شے نہیں ہوتی کہ قدرتِ الہیہ سے خارج ہو اور عقل کے مخالف ہوبس اتنا ہوتا ہے کہ وقوعِ افعال کی جو ایک عمومی اور عادی ترتیب عالَم میں جاری ہے معجزہ اس ترتیب سے ہٹ کر ظاہر ہوتا ہے اسی لئے معجزہ کی تشریح ”خارق للعادۃ“ سبے بھی کی جاتی ہے یعنی عادت کو توڑنے والی شے اس کو یوں سمجھئے کہ عادت یوں جاری ہے کہ بھوک پیاس کھانے یا پینے سے دور ہوتی ہے یا نباتات، جمادات، حیوانات وغیرہ انسان سے کلام نہیں کرتے یا ایک آدمی کا کھانا صدہا آدمیوں کا پیٹ نہیں بھرتا نہ ہی تھوڑا سا پانی کسی کے ہاتھ لگا دینے سے پورے لشکر کے لئے کافی ہوسکتا ہےلیکن نبی ﷺ کے ایسے واقعات مروی ہیں جو اس عادت کے برخلاف ظاہر ہوئے انہیں ہی معجزہ کہتے ہیں۔ خیال رہے کہ اعلانِ نبوت سے پہلے نبی علیہ السَّلام کے حق میں کوئی ایسی چیز ظاہر ہو تو اسے ارہاص کہتے ہیں جیسا کہ بچپن میں شقِ صدر یوں ہی امی جان حلیمہ سعدیہ رضی اللہ تعالٰی عنھا کے گھر میں ظاہر ہونے والی برکات وغیرہ کبھی تغلیباً انہیں بھی معجزہ کہہ دیا جاتا ہے۔

معجزہ کی تعریف میں جو عادت کے خلاف ہونے کی بات کی گئی ہے اس سے معجزات کی چار اقسام سامنے آتی ہیں علامہ عبدالمصطفےٰ اعظمی لکھتے ہیں:

”اول: بذات خود وہ چیز ہی ایسی ہو جو ظاہری اسباب و عادات کے بالکل ہی خلاف ہو جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے عصا کا سانپ بن کر جادوگروں کے سانپوں کو نگل جانا۔

دوم: بذات خود وہ چیز تو خلاف عادت نہیں ہوتی مگر کسی خاص وقت پر بالکل ہی ناگہاں نبی سے اس کا ظہور ہو جانااس اعتبار سے یہ چیز خارق عادت ہو جایا کرتی ہے۔ مثلاً جنگ ِ خندق میں اچانک ایک خوفناک آندھی کا آ جانا جس سے کفار کے خیمے اکھڑ اکھڑکر اڑ گئے اور بھاری بھاری دیگیں چولھوں پر سے الٹ پلٹ کر دور جا کر گر پڑیں۔ ظاہر ہے کہ آندھی کاآنا بذات خود کوئی خلافِ عادت بات نہیں ہے بلکہ یہ تو ہمیشہ ہواہی کرتا ہے لیکن اس ایک خاص موقع پر جب کہ رسول کو تائید ربانی کی خاص ضرورت محسوس ہوئی بغیر کسی ظاہری سبب کے بالکل ہی اچانک آندھی کا آ جانا اس کو تائید خداوندی اور غیبی امداد و نصرت کے سوا کچھ بھی نہیں کہا جاسکتا۔ اس لحاظ سے یقیناً یہ عادات جاریہ کے خلاف اور ظاہری اسباب و علل سے بالاتر ہے۔ لہٰذا یہ بھی یقیناً معجزہ ہے۔

سوم: ایک صورت یہ بھی ہے کہ نہ تو بذات خود وہ واقعہ خلاف عادت ہوتا ہے نہ اس کے ظاہر ہونے کے وقتِ خاص میں خلافِ عادت کوئی بات ہوتی ہے۔ مگر اس واقعہ کے ظاہر ہونے کا طریقہ بالکل ہی نادر الوجود اور خلافِ عادت ہوا کرتا ہے۔ مثلاً انبیاء علیہمُ السَّلام کی دعاؤں سے بالکل ہی ناگہاں پانی کا برسنا، بیماروں کا شفایاب ہوجانا۔ ظاہر ہے کہ یہ باتیں نہ تو خلاف عادت ہیں نہ ان کے ظاہر ہونے کا کوئی خاص وقت ہے بلکہ یہ باتیں تو ہمیشہ ہوا ہی کرتی ہیں لیکن جن طریقوں اور جن اسباب سے یہ چیزیں وقوع پذیر ہوئیں کہ ایک دم ناگہاں نبی نے دعا مانگی اور بالکل ہی اچانک یہ چیزیں ظہور میں آگئیں۔ اس اعتبار سے یقینا بلاشبہ یہ ساری چیزیں خارق عادات اور ظاہری اسباب سے الگ اور بالاتر ہیں۔ لہٰذا یہ چیزیں بھی معجزات ہی کہلائیں گے۔

چہارم: کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ نہ تو خود واقعہ عادات جاریہ کے خلاف ہوتا ہے نہ اس کا طریقۂ ظہور خارقِ عادت ہوتا ہے لیکن بلا کسی ظاہری سبب کے نبی کو اس واقعہ کا قبل از وقت علم غیب حاصل ہو جانا اور واقعہ کے وقوع سے پہلے ہی نبی کا اس واقعہ کی خبر دے دینا یہ خلاف عادت ہوتا ہے۔ مثلاً حضرات انبیاء علیہمُ السَّلام نے واقعات کے ظہور سے بہت پہلے جو غیب کی خبریں دی ہیں یہ سب واقعات اِس اعتبار سے خارق عادات اور معجزات ہیں۔ چنانچہ مسلم شریف کی روایت ہے کہ ایک روز بہت ہی زوردار آندھی چلی اس وقت حضور ﷺ مدینہ سے باہر تشریف فرما تھے آپ نے اسی جگہ فرمایا کہ یہ آندھی مدینہ کے ایک منافق کی موت کے لیے چلی ہے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ جب لوگ مدینہ پہنچے تو معلوم ہوا کہ مدینہ کا ایک منافق اس آندھی سے ہلاک ہوگیا۔ غور کیجئے کہ اس واقعہ میں نہ تو آندھی کا چلنا خلافِ عادت ہے نہ کسی آدمی کا آندھی سے ہلاک ہونا اسباب و عادات کے خلاف ہے کیونکہ آندھی ہمیشہ آتی ہی رہتی ہے اور آندھی میں ہمیشہ آدمی مرتے ہی رہتے ہیں لیکن اس واقعہ کا قبل از وقت حضورﷺکو علم ہو جانا اور آپ کا لوگوں کو اس غیب کی خبر پر قبل از وقت مطلع کردینا یقینا بلاشبہ یہ خرق عادات اور معجزات میں سے ہے۔“

نبی کریمﷺ کو عطا کردہ معجزات کو اصحابِ سِیر نے دو خانوں میں تقسیم کیا ہے، زمینی معجزات جیسے کہ انگلیوں سے پانی جاری ہونا اور آسمانی معجزات جیسے کہ چاند کے دو ٹکڑے ہوجانا۔ معراج بھی نبی کریم ﷺ کے آسمانی معجزات میں سے ایک ہے، معراج کادوسرا نام”اسراء“ بھی ہے۔”اسراء“ کے معنی رات کو چلانا یا رات کو لے جانا چونکہ حضورِ اقدس ﷺ کے واقعہ معراج کو خداوند ِعالم نے قرآن مجید میں سُبْحٰنَ الَّذِیۡۤ اَسْرٰی بِعَبْدِہٖ لَیۡلًا (پاکی ہے اسے جو اپنے بندے کو راتوں رات لے گیا)کے الفاظ سے بیان فرمایا ہے اس لیے اس کا نام ”اسراء“ پڑ گیا اور چونکہ حدیثوں میں معراج کا واقعہ بیان فرماتے ہوئے حضور ﷺ نے”عُرِجَ بِیْ“ (مجھ کو اوپر چڑھایا گیا) کا لفظ ارشاد فرمایا اس لیے اس واقعہ کانام ”معراج“ بھی پڑا۔ معراج نزول وحی کے بعداور ہجرت سے پہلے کا واقعہ ہے جو مکہ معظمہ میں پیش آیا، محدث عبدالغنی مقدسی کے علاوہ دیگر مؤرخین کے نزدیک بھی رجب کی ستائیسویں تاریخ کی روایت قوی ترین ہے۔ صحیح ترین قول یہ ہے کہ معراج بحالت بیداری جسم و روح کے ساتھ ہوئی، امام طحاوی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ (المتوفی321ھ) لکھتے ہیں:

”رسول اللہ ﷺ کو سیر کروائی گئی، اور آپ جسم مبارک کے ساتھ حالت بیداری میں آسمان کی طرف تشریف لے گئے، اور معلوم نہیں کہ کہاں سے کہاں تک پہنچے، خدا نے ان پر وہاں جو چاہا اعزازو اکرام کیا اور جو کچھ وہاں بتلانا چاہا بتلا دیا۔ جو کچھ انہوں نے دیکھا اسے نہ جھٹلایا۔“

مشہور اور ضعیف احادیث کے علاوہ کئی متواتر احادیث معجزات کی حقانیت اور امکانِ وقوع پر دلالت کرتی ہیں احادیث کے علاوہ قرآن مجید کی سورۃ الاسراء آیت 01 میں معراج، سورہ القمر آیت 01، 02 میں شق القمر اور سورۃ الانفال میں غزوۂ بدر کے موقع پر فرشتوں کی مدد جیسے نبی کریم ﷺ کے چند معجزات کا بیان کیا گیا ہے۔

عرب و عجم کے جدت پسند مفکرین نے معجزات کا انکار کیا ہے یا ان کی بے سروپا تاویلیں کی ہیں حالانکہ ان میں سے بعض ایسی صحیح روایات کے ذریعے منقول ہیں جو محدثین کے نزدیک ہر عیب و نقص سے پاک ہیں اور بعض تو خود قرآن کریم میں بیان کئے گئے ہیں اور لفظوں کی اپنے معنی پر دلالت کے اعتبار سے اس مرتبہ پہ ہیں کہ کسی تاویل کے محتاج نہیں۔ ڈاکٹر سعید رمضان بوطی ان مفکرین کی رائے کا خلاصہ لکھتے ہیں:

”حضرت محمد ﷺ کے لئے سوائے ایک معجزہ کے کچھ نہیں اور وہ واحد معجزہ جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے آپ کو نوازا ہے وہ قرآن کریم ہے۔ ا س کے علاوہ آپ یا دیگر انبیائے کرام کے ہاتھوں پر ظاہر ہونے والے خوارق عادات افعال کی عقل منکر ہے اور عقل کا یہ فیصلہ ہے کہ معجزات و خوارق نبی کریم ﷺ کی شان سے تعلق نہیں رکھتے اور نہ ہی ان کے بارے میں آپ ﷺ کو کوئی اختیار تھا۔“

ان جدید مفکرین کا یہ کہنا کہ عقل معجزہ کے مخالف ہے دعویٰ بلا دلیل ہے یا پھر ان کے مزعومہ اصول ”سبب و مسبب کے درمیان تعلق لازمی اور فطری ہے جو بدل نہیں سکتا“پہ مبنی ہے۔

جہاں تک مخالف عقل ہونے کے بات ہے تو اولاً ولیم جونز کا ایک اقتباس اور پھر ڈاکٹر بوطی کی جانب سے اس کی تفہیم ملاحظہ کیجئے: ولیم لکھتے ہیں:

”جس قدرت نے جہاں کو پیدا کیا ہے وہ اس سے کسی شیء کو حذف کرنے یا اس میں کسی شیء کا اضافہ کرنے سے عاجز نہیں اس کے بارے میں یہ کہنا آسان ہے کہ یہ عقل کے ہاں غیر متصور ہے لیکن یہ کہنا کہ یہ ( فی نفسہ) غیر متصور ہے درست نہیں کیونکہ یہ وجودِ عالم کے درجہ کا غیر متصور نہیں۔“

ڈاکٹر بوطی مزید لکھتے ہیں: ”اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر اس جہاں کی کوئی جز بھی موجود نہ ہوتی تو کسی ایسے شخص جو معجزات کا انکار کرتا ہے اور ان کے وجود کا قائل نہیں سے کہا جاتا کہ عنقریب فلاں شکل کا ایک جہاں وجود میں آنے والا ہے تو وہ فوراً کہتا کہ یہ تو غیر متصور ہے۔ اس معجزے کی نفی سے جس کا وہ منکر ہے وجودِ عالم کی زیادہ سختی سے نفی کرتا۔ جبکہ اس عالم کے موجود ہونے کے بعد اس کی عقل میں دہشت یا تعجب میں سے کوئی چیز نہیں پائی جاتی۔“ یعنی مطلب یہ نکلا کہ عقل درحقیقت معجزات کی مخالفت نہیں کرتی یا انہیں محال نہیں سمجھتی بلکہ ان کے وقوع و ظہورِ کے وقت سے پہلے ان سے غیر مانوس ہونے کی کی بنا پر بظاہر ناممکن سمجھتی ہے۔

جہاں تک بات ہے عالم میں رائج اسباب و مسبب کے تعلق کی تو یہ ایسی کوئی لازم چیز نہیں ہے جن کی جدائی ممکن نہ ہو کیونکہ جب علم کی رو سے ہم یہ مان چکے کہ اللہ ہی حقیقی مسبب الاسباب ہےاور وہی اسباب اور ان کے مسببا ت کے درمیان ربط پیدا فرمانے والا ہے تو وہ مسبب اول و حقیقی‘ سبب و مسبب میں بظاہر دکھائی دینے والےرابطے اور تلازم کو باطل کرنے سے عاجز نہیں ہے اگرچہ طولِ انس اور استمرارِ اتصال ہمارے اندر حیرانگی اور تعجب پیدا کردے گا۔ علم تو یہ کہتا ہے کہ اگر ہم غور و فکر کریں تو عالَمِ وجود کے مظاہر میں سے مانوس اور غیر مانوس بہت سے افعال معجزات دکھائی دیں گے جب تک کہ ہماری نظر عظیم خالق کی طرف نہ ہو۔ پس یہ سیارے معجزہ ہیں، افلاک کی حرکت معجزہ ہے، نباتات معجزہ ہیں، انسانی عقل معجزہ ہے، انسان میں پٹھوں کا مجموعہ معجزہ ہے انسان میں خون کا دوران معجزہ ہے اور انسان اپنی ذات میں معجزہ ہے البتہ ہم طول انس اور دائمی رویت کی وجہ سے ان سب میں وجہِ معجزہ بھول جاتے ہیں اور ان پہ تعجب نہیں کرتے جبکہ لکڑی کے سانپ بن جانے یا انگلیوں سے پانی کے چشمے جاری ہونے پر تعجب و حیرت کرتے ہوئے منکر بن جاتے ہیں۔

انکارِ معجزہ دراصل اسی فکر کا ایک حصہ تھا جو عالمِ اسلام میں اصلاح دینی کے نام سے رائج ہوئی تھی جس کا اصل ماخذ استشراق تھا وہ استشراق جس کے متعلق ایڈورڈ سعید صاحب لکھتے ہیں کہ ” استشراق مشرق پر تسلط پانے اور اس پر اقتدار حاصل کرنے کے مغربی اسلوب کا نام ہے۔“، ڈاکٹر بوطی اس جدید رائےسازی بنام اصلاح دینی کے حقیقی موجد کے حوالے سے لکھتے ہیں:

”جس دن برطانیہ نے مصر پر قبضہ کیا تھا اسی دن سے برطانیہ کو یقین تھا کہ اس کا صرف عسکری قوت پر اعتماد و انحصار مصر میں اس کے استقرار کے لئے مفید ہو سکتا ہے اور نہ ہی مقبوضہ ملک میں اسے قدم جمانے پر قدرت دے سکتا ہے۔ خصوصا اس حال میں کہ اسلامی دنیا اسلامی خلافت کی شکست و ریخت کے زمانے کے قریب تھی اس لئے اس نے سوچا کہ ایسے نظریاتی و فکری طریقہ سے مدد لینا ضروری ہے جو مسلمانوں کے فکر و نظریات میں اس درجہ تبدیلی پیدا کر دے کہ انہیں دین کے ساتھ شدید وابستگی اور دین کے لئے قربانی پیش کرنے اور صرف دین پر اعتماد سے بہت دور کر دے اور انہیں اپنی زندگی کے مختلف گوشوں میں مغربی فکر کو وسیع پیمانے میں قبول کرنے کے لئے تیار کر دے۔“

پھر ڈاکٹر بوطی بعض مسلم حلقوں کی جانب سے اس مغربی فکر کو قبولیت ملنے اور اسے اصلاح دینی کے پردے میں چھپانے کا سبب بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ”اس تبدیلی و اصلاح نے اپنے پھیلنے میں مسلمانوں کے اس احساس کمتری کا سہارا لیا جو وہ یورپ کی علمی ترقی و انکشاف اور ایجادات کے مقابلے میں محسوس کرتے تھے۔ “ یعنی ان نادان مفکرین کے نزدیک مسلمانوں کو اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے لئے اپنے معتقدات کے حوالے سے وہی اندازِ فکر اپنانا ہوگا جو یورپ نے اپنے مذہب کے متعلق اپنایا ہےاور وہ انداز فکر کیا تھا، ڈاکٹر بوطی اس کے متعلق لکھتے ہیں:

”اس سے مراد دینی فکر کو ہر ایسی غیبی حقیقت سے جدا کرنے کی ضرورت تھی جو حقیقت نہ سمجھی جاتی ہو یا علم جدید کے پیمانے پر پوری نہ اترتی ہواور اس دعوت کو جلدی سے جن لوگوں نے قبول کیا یہ وہ لوگ تھے جو یورپ کی جدید علمی ترقی اور مغربی تہذیب و تمدن کے دیوانے اور دلدادہ تھے جن میں اکثریت ان لوگوں کی تھی جن کے دلوں میں نہ ایمان راسخ تھا اور نہ ان کی عقلوں میں اس کے حقائق پختہ تھے۔ اس جدید دیوانگی اور اس پر سابق ایمانی کمزوری کی وجہ سے یہ یقین کرنے لگے کہ یورپ کی طرح ترقی کے لئے صرف ایک ہی وسیلہ ہے کہ اسلامی عقیدہ سے متعلق (مغیبات پر مبنی) بہت سارے بنیادی امور سے چھٹکارا حاصل کیا جائے۔“

اس فکر کا ایک پہلو مغربی عقلیت کو اسلامی عقلیت (جوکہ منہج اسلامی سے تقویت یافتہ تھی) کی جگہ رائج کرنا بھی تھا تاکہ زندگی کے عملی طور طریقوں سے دین کی گرفت ختم ہو جائے یا اس حد تک کمزور ہو جائے کہ اسلام مسلمانوں کے معاشرے میں صرف ایک خالی ڈھانچہ بن کر رہ جائے اور امر واقعی بھی یہی ہے کہ اسلام نے عقیدہ ہونے کے طور پر اگرچہ اپنی اہمیت میں قلیل حصہ کھویا ہے لیکن معاشرتی زندگی، حیات اجتماعی، تعلیمی، ثقافتی اور حکومتی نظام پر اپنے تسلط و اقتدار کی ساری اہمیت کھو دی ہے۔

استعمار کے پروردہ استشراق سے مستعار لی ہوئی اسی فکر سے برصغیر میں دبستان سرسید کا آغاز ہوا جو مقلدِ استشراق تو تھا ہی اس کے ساتھ ساتھ عقل کو نص پر ترجیح دینے میں مشہور اسلامی فرقے معتزلہ سے بھی دو ہاتھ آگے بڑھ گیا کہ معتزلہ نے صرف کراماتِ اولیاء کا انکار کیا تھا معجزاتِ نبوی کے وہ بھی قائل تھے لیکن دبستان سرسید معجزہ کا ہی منکر ہو گیا۔

دراصل معجزہ کو عقیدہ اسلامیہ میں خاص اہمیت حاصل ہے جس کا انکار بہت دور تک لے جاتا ہے، ڈاکٹر بوطی لکھتے ہیں:

”جب عقیدۂ اسلامی کو معجزہ کے نظریہ سے خالی کر دیا جائے تو وہ اہلِ عقیدہ کی غیر شعوری حالت میں اپنے مجموعہ میں انکار پر منتج ہوجاتا ہے۔ کیونکہ اسلامی عقیدہ اپنے مجموعہ میں ایک عظیم معجزہ کی بنیاد پر قائم ہے اور وہ معجزہ وحی ہے۔ لہذا جو شخص خوارق عقلیہ کو محال سمجھنے لگےاور ان کا انکار کرنے لگے یا ان کی (بے سروپا) تاویل کرنے لگے تو وہ یقینا وحی کی حقیقت کو بھی محال سمجھے گا۔“

اس فکر کو قابلِ قبول بنانے کے لئے ایسے بھی الفاظ رائج کئے گئے جو بظاہر بہت خوشنما لیکن باطن میں تاریک تر اور فاسد تھے مثلا نبی کریم ﷺ کے لئے نبوت، وحی اور رسالت کی صفات کی جگہ عبقریت، عظمت اور قیادت جیسی صفات کا استعمال کیا گیا جن کے معنوی منفی اثرات جاننے کے لئے ڈاکٹر بوطی کی فقہ السیرۃ کا مطالعہ مفید ثابت ہوگا۔اور جہاں تک بات ہے معجزہ سے انکارِ وحی تک کے سفر کی تو یہ خالی رائے یا گمان نہیں بلکہ جدید مفکرین کی طرف سے اس کا عملی اظہار بھی ہو چکا ہےکہ ان کی جانب سے صدیوں سے اہلِ اسلام میں رائج نبی کی اس تعریف سے اغماض برتا گیا جس میں نبی کو وحی کے ساتھ خاص کیا گیا اوربندوں اور انبیاء و رسل کے درمیان یہی وصفِ مابہ الامتیاز قرار دیا گیا تھا چنانچہ شیخ محمد عبدہ لکھتے ہیں: ”نبی وہ انسان ہوتا ہے جس کی تخلیق علم و عمل کے لحاظ سے حق پر کی گئی ہو یعنی وہ مقتضائے حکمت کے مطابق سوائے حق کے نہیں جانتا اور سوائے حق کے عمل نہیں کرتا اور یہ چیز فطرت کی وجہ سے ہوتی ہے یعنی وہ حق میں فکر و نظر کا محتاج نہیں ہوتا۔“ اور سرسید احمد خان کے نزدیک ”نبوت صرف ایک فطری ملکہ تہذیبِ اخلاق کا ہوتا ہے۔۔۔ جو شخص روحانی امراض کا طبیب ہوتا ہے اور جس میں اخلاق انسانی کی تربیت و تعلیم کا ملکہ بمقتضا اس کی فطرت کے خدا سے عنایت ہوتا ہے وہ پیغمبر کہلاتا ہے۔ خدا اور پیغمبر میں بجز اس ملکۂ نبوت کے جس کو ناموس اکبر کہتے ہیں اور زبان شرع میں جبریل کہتے ہیں اور کوئی مجسم ایلچی پہنچانے والا نہیں ہوتا۔ خود اسی کے دل سے فوارہ کی مانند وحی اٹھتی ہے اور خود اسی پر نازل ہوتی ہے۔ وہ خود اپنا کلامِ نفسی ان ظاہری کانوں سے اسی طرح پر سنتا ہے جیسے کوئی دوسرا شخص اس سے کہہ رہا ہے وہ خود اپنے آپ کو ظاہری آنکھوں سے اسی طرح پر دیکھتا ہے جیسے دوسرا شخص اس کے سامنے کھڑا ہوا ہے۔“ اس کے بعد سرسید احمد خان اپنے اس دعویٰ کی تفہیم کے لئے مجنون کی مثال پیش کرتے ہیں کہ جیسے وہ تخیل میں کسی سے باتیں کرتا کسی کی باتیں سنتا ہے یوں ہی پیغمبر کا حال ہوتا ہے۔ غور کیا جائے تو سرسید صاحب کی تفہیمِ وحی اور مستشرقین کی تفہیمِ وحی میں کیا فرق رہ جاتا ہے کہ مستشرقین کیفیتِ نزولِ وحی کو مرگی کے دورہ سے تعبیر کرتے تھے اور خان صاحب اسے جنون سے تشبیہ دے رہے ہیں۔

حکیم نجم الغنی رامپوری سرسید احمد خان کی باتوں کے جواب میں لکھتے ہیں:

”سید صاحب کی تقریر تو بالکل انکار نبوت پر مصرّح ہے؛ کیونکہ نبوت کے معنی انہوں نے ایسے فرض کئے ہیں جو درحقیقت مستلزم ہیں انکار ِ نبوت کو؛ اس لئے کہ فطری ملکہ تہذیب اخلاق کا تو اکثر صالحین اور نیک طینت لوگوں میں اس زمانہ میں بھی ہوتا ہے اور ہر زمانہ میں اس قسم کے لوگ ہزارہا موجود ہوتے رہتے ہیں اور یہ ملکہ ایک امر اضافی ہے کسی میں کم ہوتا ہے اور کسی میں زیادہ اور اس زیادتی کی کوئی حد مقرر نہیں ہو سکتی۔ پس اس تقریر پر جتنے صالحین ہیں اور جن میں یہ فطری ملکہ تہذیب اخلاق انسانی کا ہے وہ سب نبی سمجھے جائیں گے اور ختم نبوت کے بھی کوئی معنی نہ رہیں گے اور کوئی امتیاز نبی اور غیر نبی میں باقی نہ رہے گا اور نہ انبیاء پر خدا کی طرف سے کوئی پیغام آتا تھا بلکہ وہ اپنی طرف سے کچھ خیالات باندھ لیتے تھے جس طرح مجنونوں کو بے اصل خیالات بندھ جایا کرتے ہیں۔“

یہ تو تھا اس انکارِ معجزہ کا دینی نقص رہا دنیوی نقص تو جدید مفکرین نے انکارِ معجزہ سمیت نصوص کی غیر روایتی تفہیم و تشریح کرتے ہوئے جن مقاصد کو پیشِ نظر رکھا تھا وہ بھی انہیں حاصل نہ ہو سکے کیونکہ اس کے پیچھے کوئی خالص علمی مقاصد سے زیادہ مرعوبیت کارفرما تھی، ڈاکٹر بوطی لکھتے ہیں: ”ان میں سے کوئی بھی قابل عمل علمی و عقلی تفکر کے ذریعے معجزہ کے انکار تک نہیں پہنچا بلکہ وہ اس انتہا تک اس خواہش نفسانی کی وجہ سے پہنچے جو انہیں بہا کر یہاں تک لائی تھی اور ان پر مغربی تہذیب و تمدن کا منظر غالب آ چکا تھا اور انہیں اپنی جانب دیکھنے سے اندھا کر چکا تھا اور وہ اس وقت کلمہ علم کی دیوانگی میں مبتلا تھے جب کہ وہ اس کے معانی کی کسی مفید مقدار کے مالک ہی نہ تھے اور انگریز نے ان میں یہ حالت داخل کردی تھی اور انہیں سمجھا دیا تھا کہ علمی ترقی صرف معجزات اور مغیبات کے انکار ہی سے ممکن ہے تو انہوں نے علم کے کلمہ سے ایسا صابن تیار کر لیا جس کے ساتھ اپنے ذہنوں اور اپنی تحقیقات سے ہر اس چیز کو دھو ڈالا جس کا معجزہ یا خارقہ نام تھا۔“

اصلاح دینی کے علمبرداروں نے جس مقصد سے دین کی تفہیم جدید کا بیڑا اٹھایا تھا وہ تو حاصل نہ کر سکے الٹا دین سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے یعنی دین کی روایتی فکر و حقیقت سے بھی دور جا پڑے اور سائنسی و تمدنی ترقی کی منزل مقصودہ تک بھی نہ پہنچ سکے، کاش یہ عقلیں مسلمانوں کی عقلیں نہ ہوتیں!!!

حوالہ جات:
1: قاضی ابو بکر محمد باقلانی؛ الانصاف فیما یجب الاعتقاد۔
2: امام ابوجعفر احمد طحاوی حنفی؛ عقیدۂ طحاویہ۔
3: حکیم نجم الغنی رامپوری؛تہذیب العقائد۔
4: ڈاکٹر سعید رمضان البوطی؛ اسلامی عقائد۔
5: مولانا عبدالمصطفےٰ اعظمی ؛ سیرت مصطفےٰ ﷺ۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20