کورونا وبا… احتیاط لازمی —- ڈاکٹر امتیاز عبد القادر

0

’کورونا وائرس‘ جسے Covid-19 کا نام دیا گیا ہے، سے مُراد دسمبر۲۰۱۹ء میں اِس انفیکشن سے پیدا ہونے والا نمونیا ہے۔ ’کورونا ‘لاطینی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ’تاج‘ہے۔ چونکہ اس وائرس کی ظاہری شکل سورج کے ہالے کے مشابہ ہوتی ہے، اسی وجہ سے اس کا نام ’کورونا وائرس‘ رکھا گیا ہے۔ اس وائرس کی دریافت۱۹۶۰ء کی دہائی میں ہوئی تھی، جو سردی کے نزلہ سے متاثر کچھ مریضوں میں خنزیر سے متعدی ہو کر داخل ہوا تھا۔ اس وقت اس وائرس کو ’ہیومن کورونا وائرس‘( E229 اور OC43 ) کا نام دیا گیا تھا۔ بعد ازاں اس وائرس کی اور دوسری قسمیں بھی دریافت ہوئیں۔ (ویکیپیڈیا)

عالمی ادارہ صحت(WHO) کے ذریعے نامزد کردہ(Covid-19) نامی ’کورونا وائرس‘ کی ایک نئی وبا ۳۱دسمبر۲۰۱۹ء کو چین میں عام ہوئی۔ جو کہ آہستہ آہستہ اب عالمی وبائی شکل اختیار کر چکی ہے۔ اب تک کی رپورٹ کے مطابق چین میں 3285 افراد اس وباکی وجہ سے فوت ہو گئے ہیں۔ سب سے زیادہ متاثر ملک اٹلی میں 6820 اموات ہوئے ہیں اور پوری دنیا میں 460,000 اشخاص اس وبا سے متاثر ہیں جن میں بیس ہزار لوگ وفات پا چکے ہیں اور110,000 وقت پر علاج اور احتیاط کی وجہ سے ٹھیک بھی ہوئے ہیں۔ 

ایسی وبائیں دراصل اللہ کی تنبیہات میں سے ہے اور اس کا مقصد بندوں کو خالق کی پکڑ پراور اُس کی قدرت سے متنبہ کرنا ہوتا ہے۔ تنبیہ ایک opportunity ہوتی ہے ان انسانوں کے لیے جو غلط راہ پر اپنی توانائیاں ’بہا‘ رہے ہوتے ہیں۔ جن کے فکر و نظریے میں ایسا جھول ہو کہ اپنے خالق کو ہی بھول جائیں۔ مادیت کا ایسا غلبہ ہو کہ وہ روحانیت اپنے ہی وجود میں ’دفن‘ کرکے آئے ہوں۔ ’حق‘ کا جنازہ وہ بڑی شان، سے نکالیں اور باطل کی آبیاری و پرورش اُن کا اوڑھنا بچھونا ہو۔ جو اس کائنات میں صرف’ مادہ‘ کی کارفرمائی کے قائل ہوں اور اپنی صلاحیتیں، پیسہ، ٹیکنالوجی اسی کام میں صرف کر رہے ہوں کہ خالقِ کائنات کو اُس کی اِس شاہکار تخلیق سے ہی ’بے دخل‘ کر دیا جائے۔ جو درپردہ اور اعلانیہ اللہ کے خلاف فکر و عمل کی ’جنگ ‘میں مصروف ہوں۔ جن کایہ دعویٰ ہے کہ یہ کائنات رب کے بغیر بھی چل سکتی ہے۔ جن کو اپنی طاقت، پیسے، عہدے اور ترقی کا غرّہ ہے۔ اللہ کی ’لاٹھی‘ تب تب انسانوں کو متنبہ کرنے کے لئے حرکت میں آتی ہے کہ اے انسان تیری ان تمام ترترقیوں، توانائیوں کے بعد بھی تم میں سے ہر ایک میرے سامنے بے بس ہے، محتاج ہے۔ خدا اور بندوں کی جنگ میں فتح ہمیشہ حق ہی کی ہوئی ہے۔ 

ہم میں ہر ایک کے لیے عبرت کا مقام ہے کہ وقت رہتے ہم اُس رب کی طرف لوٹیں۔ اُس ہستی کے بغیر ہم کہیں اور امن نہیں پا سکتے۔ حضرت عیسیٰؑ سے سوال پوچھا گیا کہ ’’ ایک شخص چہار سو تیروں کی بارش کر رہا ہو، تو بچنے کی صورت کیا ہے؟‘‘ درجواب مسیحٰؑ نے فرمایا’’ اُسی شخص کے پائوں کے پاس۔ ‘‘ حالات نازک ہیں۔ یمین ویسارمیں خوف و ہراس کا عالم ہے۔ لیکن گھبراہٹ یا مایوسی اِس کا حل نہیں بلکہ اللہ سے اُمیدیں وابستہ کریں۔ ’ کورونا‘ہمارے لئے اللہ کی تنبیہ ہے۔ اس لیے اُسی کے آگے بِچھ جائیں اور احتیاطی تدابیر کے ساتھ ساتھ اپنے گناہوں سے توبہ کریں۔ اپنے کردار سے توبہ کریں۔ اللہ کے سامنے جبینِ نیاز خلوص کے ساتھ سجدے میں گرا دیں کیونکہ جب ’آہ‘ فرش پر کی جائے تو ’دستک‘ عرش پر ہوتی ہے۔ رسول اللہؐ نے وبا(طاعون) کو مسلمانوں کے لیے رحمت قرار دیا ہے۔ صبر کریں اور اگر خدانخواستہ اسی حالت میں موت واقع ہوتو یہ’ذلیل‘ موت نہیں بلکہ ’شہادت‘ کی موت ہے(بخاری)۔ حضرت عمرؓ کے دورِ خلافت میں بھی ’طاعون ‘ وبا نے فلسطین میں واقع ’عمواس‘ نامی شہر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ دوا اور احتیاطی تدابیر کے باوجود قریباً تیس ہزار صحابہؓ و تابعی اُس وائرس سے شہید ہوئے۔ اس لیے خوف و ہراس میں کوئی ایسی حرکت ہم سے سرزد نہ ہو جو ہمارے لیے دنیا و آخرت میں تباہی کا باعث بنے۔ اللہ پر توکل ضروری ہے۔ البتہ توکل اور بے وقوفی میں زمین و آسمان کا بُعد ہے۔ حافظ ابن حجرعسقلانی ؒ نے لکھاہے کہ ربیع الآخر۸۳۳ھ کوقاہرہ میںوبا(طاعون)پھوٹی۔ اعلان کیاگیاکہ لوگ تین دن کے روزے رکھیں بعدازاںاجتماعی دعاکے لئے جمع ہوں۔ لوگوںنے ایساہی کیالیکن اجتماعی دعاکے بعداجتماعی موت کی تعدادمیںغیرمعمولی اضافہ ہوا۔ اس سے قبل مرنے والوںکی تعداد چالیس سے کم تھی۔ لیکن اجتماعی نمازودعاکے بعدبیماری اس شدت سے پھیلی کہ ہرروزایک ہزارسے زائدلوگ مرنے لگے۔ ظاہرہے کہ لوگوںکے جمع ہونے کی وجہ سے صحت مندلوگ بھی اُس وباسے متاثرہوگئے تھے۔ (بذل الماعون، البدایہ النہایہ)

قاہرہ میںطبی اصولوںکی خلاف ورزی کرکے یا’توکل‘کے نام پر’کروا‘کے جوتوبہ واستغفارکی گئی، اس کے باوجوداموات فی یوم ایک ہزارتک جا پہنچیں۔ خالق نے اُس وقت طبی اصولوںکوہی غالب رکھاکیونکہ طبی اصول بھی اللہ کاہی جاری کردہ نظام ہے اورتدبیربھی تقدیرکاہی ایک حصہ ہے۔ 

  وبائیں اور حادثات بس موت اور قیامت کی یاد دہانی ہے۔ اللہ کی قدرت اور غیر محدود وسعت کی تذکیر ہے۔ ہم اپنے علم اور دریافتوں کے سحر میں مبتلا ہو کر اپنی حیثیت اور اپنی اوقات اکثر بھول جاتے ہیں۔ ہمیں اپنی عقل کی محدودیت اور علم و عمل کی کمزوری کا احساس ہی نہیں ہوتا۔ ماہنامہ’ اشراق ‘ لاہورکے مدیرکے بقول’’ ہماری دولت، ہمارا علم، ہمارا اقتدار اصل میں ہلدی کی گرہ ہوتا ہے اور ہم اس کی بنا پر یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ ہم نے دنیا کو مسخر کر لیا ہے اور سب کچھ ہمارے قبضۂ قدرت میں آگیا ہے۔ اس حماقت اور خام خیالی سے انسان کو نکالنے کے لیے اللہ اپنی تنبیہات نازل کرتا ہے۔ ‘‘

ان کشیدہ حالات میں اب کرنا کیا ہے؟ ترقی یافتہ ممالک نے ہتھیار ڈال دیے۔ اٹلی کے وزیر اعظم اپنی بے بسی کا اظہار آنسوئوں سے کر رہے ہیں اور ’آسمان‘ سے آس لگائے بیٹھے ہیں۔ حالانکہ یوروپ میں بہترین ICU’S ہیں۔ لاتعداد ventilators ہیں۔ لاکھوں کی تعداد میں ماہر ڈاکٹر زہیں۔ جدید سہولیات سے پُر ہزاروں اسپتال ہیں۔ دوامیںملاوٹ نہیںہے۔ مضبوط اقتصادی حالت ہے۔ مہذب و شائستہ معاشرہ ہے۔ سر یرِسلطنت پر چوروں اور قزاقوں کا ڈیرہ بھی نہیں ہے۔ اُن کی پارلیمنٹ اور اسمبلیاں مجرموں سے بھری ہوئی نہیں ہیں۔ اندھ وشواس اور اوہام پرستی کے دلدل میںپھنسے ہوئے نہیں ہے لیکن اس کے باوجود آج وہاں بے بسی، لاچاری اور حُزن کا اظہار ہے۔ اجتماعی موتیں ہو رہی ہیں۔ ملک الموت اپنے کارندوں کے ساتھ مل کر اُس مہذب و ترقی یافتہ’ دنیا ‘میںڈنکے کی چوٹ پر ’اَخرجو انفسکم‘کی صدا لگانے میں مشغول ہیں۔ موت نے زیست پر’فتح‘پالی ہے۔ کھلی آنکھ سے نہ دکھنے والے اس ’معمولی‘سے وائرس نے دنیا کی ’سُپر پاورز‘ کو خاک میں ملا دیا ہے۔ ہم خود احتسابی کریں تو اُس ترقی یافتہ دنیا سے ہم دو سو سال پیچھے ہیں، جیسے:

۱۔ ہمارے (ہندوستان اورکشمیر) کے پاس انفرا سٹریکچر کی کمی ہے۔ 

۲۔ Economy لفظ ہی یہاں’ شرمندہ ‘ہے۔ ہرسال یہاں وزیر اعظم کروڑوں روپیہ بیرونِ ملک جاکر اپنی عیش کوشی پر’بہاتا‘ ہے۔ ’گوروں‘ کی آئو بھگت پر بھی کروڑوں روپیے خرچ کئے جاتے ہیں۔ لیکن صحتِ عامہ کے لیے معقول رقم کا استعمال یہاں ’ممنوع‘ہے۔ 

۳۔ طبیبوں کی اور اسپتالوں کی قلت ہے۔ کشمیر میں آبادی کی شرح لگ بھگ 80 لاکھ ہے اور حفظانِ صحت کے شعبے بہت ہی محدود۔ Ventilatorsکی بہت قلت ہے۔ ICU’S نہ کے برابر ہیں۔ خدا نخواستہ اگر1% آبادی بھی یہاں اس متعدی بیماری میں مبتلا ہوئی تو ہلاکت یقینی ہے۔ 

اس لیے احتیاطی تدابیر سے کام لیں۔ یہی ایک صورت ہے ہم ’تیسری دنیا‘‘ کے پسماندہ شہریوں کو بچنے کی۔ تدبیر غیر فطری ہے نہ غیر اسلامی حرکت بلکہ انبیاء کی سنت اور قرآن کا مزاج ہے۔ مصر میں قحط کا دور آنے والا تھا تو وقت کے بادشاہ کو اللہ نے تمثیل کے پیرائے میںبذریعہ خواب اُس کی اطلاع دی اور قحط کے اثرات سے محفوظ کیسے رہا جائے، وہ تدبیر بھی اُسی خواب میں اُس ’مشرک‘بادشاہ کو اللہ نے سجھائی۔ جس پر وقت کے پیغمبر حضرت یوسفؑ نے عمل کر کے دکھایا۔ تدبیر ہمارے مذہبی شعور کا حصہ ہے۔ رسول اللہؐ نے اپنی زندگی میں اس کی تعلیم دی۔ توکل کے صحیح مفہوم کو واضح کیا۔ متعدی بیماریوں سے محفوظ رہنے کی راہ سجھائی۔ ایک کوڑھ مریض شخص بیعت کرنے کے لیے تشریف لائے تو رسول اللہ ؐ نے دور سے انہیں فرمایا کہ ’تیری بیعت ہم نے لے لی، آپ وہی سے واپس لوٹ جائیں۔ ‘ مریض کو تندرست شخص سے دور رکھنے کا حکم دیا۔ بارش کے زمانے میں جب کہ صرف مدینہ میں کیچڑ زیادہ تھا، کوئی وائرس لاحق ہونے کا خطرہ نہیں تھا۔ اس کے باوجود حضرت بلالؓ کو اذان میں ’صلو فی رحا لکم‘(نماز گھروں میں ادا کرو) کی صدا بلند کرنے کا حکم دیا۔ تحفظِ جان مقاصدِ شریعت میں سے ہے۔ جو دین راستے سے ایک پتھر، کانٹا یا دیگر تکلیف دہ چیز ہٹانے کو صدقہ قرار دے، حالانکہ ان چیزوں سے گمانِ غالب ہے کہ بس ٹھوکر لگ کر معمولی زخم آجائے، وہ دین یہ کیسے برداشت کرے گا کہ ہماری وجہ سے کسی بھی ذی نفس انسان کی جان پر بن آئے؟ سماجی روابط، مذہبی اجتماعات اور احتیاطی تدابیر کے بغیر آوا جاہی سے اگر ماہرین کا خیال ہے کہ یہ وائرس عام ہو کر ہلاکت کا سبب بن رہا ہے تو یہ کیسی جہالت اور پستی ہے کہ ہم پھر بھی اپنے اندر اس چیز کا احساس پیدا نہیں کر رہے۔ 

خود کو گھروں میں محدود کریں۔ ہمارا مذہبی اور اخلافی فرض بنتا ہے کہ اس وقت اپنے ماہرین کی تجاویز کو ’نواجز‘ سے پکڑیں اور دل سے اُن پر عمل کریں۔ Travel Historyہو تو خود آگے آکر انتظامیہ کو آگاہ کریں۔ اس سے ہم خود کو اور اپنے خاندان کو محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ ڈاکٹرز کا ماننا ہے کہ جو بھی ’کورونا وائرس‘ میں مبتلا ہوتا ہے اس کے ٹھیک ہونے کے 97 فی صد چانسز ہیں۔ اس لیے بروقت علاج کی طرف بڑھیں اور باقی لوگوں کوبھی محفوظ رکھیں۔ 

کشمیر نے اس سے بڑھ کر lockdown، کرفیو اور کریک ڈائونز دیکھیں ہیں۔ چار چار، سات سات مہینہ، گلیوں، چوراہوں، نکڑوں پر پہرا رہا ہے۔ موبائل، ٹرانسپورٹ اور انٹرنیٹ کے بغیر بھی مہینوں’زندگی‘ جی لی ہے۔ ہمیں تو حکمرانوں کی ’مہربانی‘ سے اس کی عادت ہے۔ اِس وقت بس اپنے لیے، اپنے بچوں اور والدین کے لیے خود اختیاری قرنطینہ(Quarantine) میں چلے جائیں۔ تنہا رہیں، گھروں میں رہیں۔ آپ اپنے گھروالوں کے لیے قیمتی سرمایہ ہو۔ تنہائی بھی ایک نعمت ہے۔ ہمارے اسلاف نے نظریہ وفکراورعلم و عمل کے میدان کبھی کبھی تنہا رہ کر ہی سر کیے ہیں۔ فی الوقت بقائے زندگی اسی سے وابستہ ہے۔ گھر میں محدود رہ کر بھی ہم مثبت نتائج اخذ کر سکتے ہیں۔ تقدیر کا یہی فیصلہ ہے، ہمیں چاہیے کہ اس کا احترام کریں۔ 

رسالتمآبؐ مکہ کی آبادی سے تین میل دور’حرا‘ نامی غار میں کئی سال کبھی کبھی تنہارہ کر ہی فکر و عمل کی گمراہی کا علاج دریافت کرنے جاتے تھے۔ امام ابوحنیفہؒ اور امام احمد بن حنبلؒ نے جیل کی تنہائی میں رہ کر بھی فقہ کے بیشتر عقدے حل کیے۔ امام جعفر صادقؒ نے بھی تنہائی میں ہی فقہ کی گتھیاں سلجھائیں۔ امام سرخسیؒ نے ’المبسوط‘ تیس جلدوں میں ’اوزجند‘‘ کے گمنام کنویں میں رہ کر ہی املا کرائی۔ یہ کتاب فقہ حنفی کے مستند مأخذ میں شمار ہوتی ہے۔ ازاں جملہ’سرح السیر الکبیر‘ اور ا’اصول السرخسی‘ بھی قید کی تنہائی میں ہی آپ نے مرتب کی۔ علامہ ابن تیمیہؒ نے بھی جیل کی دیواروں سے ’قرطاس‘ کا کام لیا اور کوئلے سے ’قلم‘ کا۔ شیکسپیرؔ نے بھی خود اختیاری ’قرنطینہ‘ میں رہ کر دنیا کو شاہکار ڈرامے دیے۔ ہمارے صوفی بزرگ شیخ نوردین نورانیؒ نے آبادی سے کنارہ کش ہوکردین وملت کی خدمت کی۔ شیخ الہند مولانا محمود الحسن دیوبندی نے چار سال مالٹا کی جیل میں گزار کر امت کی زبوں حالی کی وجہ دریافت کی۔ محمد علی جناح نے رات کی تاریکی میں تنہا رہ کر پاکستان کے نقش میں رنگ بھرا اور آزادی کے منصوبے بنائے۔ آنجہانی گاندھی جی نے بھی آزاد ہندوستان کے لیے کئی جیل ’یاترائیں‘ کیں اور وہاں اُس تنہائی سے مثبت اثرات اخذ کیے۔ سر سید احمد خان بھی شب بیدار رہ کر بردرانِ قوم کی تعلیمی پسماندگی کو دور کرنے کے منصوبے بناتے رہے۔ مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ نے’ تفہیم القرآن‘ کا بیشتر حصہ ملتان جیل میںرقم کیا۔ مولانا ابو الکلام آزادؔ نے تفسیر کا کچھ حصہ اور خطوط نگاری پر مبنی اپنی ادبی شاہکار ’غبارِخاطر‘ جیل کی کال کوٹھری میں ہی ثبت کیے۔ فیض احمد فیضؔ نے چند مشہور نظمیں لاہور میں قید و بند رہ کر ہی لکھیں اور ’ امر‘ ہو گئیں۔ فیض ؔکا ’زنداںنامہ‘اور’دستِ صبا‘جیل کی ہی یادگارہے۔ مولاناحسرت موہانیؔ، مولانامحمدعلی جوہرؔاورسردارجعفری ؔنے بھی زنداںکی تنہائیوںاوروہاںکی سختیوں کو برداشت کرکے لوح وقلم کی پرورش کی۔ حبیب جالبؔ نے ضیاء الحق کے خلاف جیل کی تنہائی میں رہ کر ہی’احتجاجی ادب‘ کو نکھارا۔ غرض ان سب نابغہ روزگار ہستیوں نے اپنی ’تنہائی‘ کو مثبت رُخ دے کر قوم و ملت کی خوب خدمت کی۔ کشمیر اور پوری دنیا کے لوگ بھی اس وقت اپنے ان محسنوں کے نقشِ قدم کی اتباع کرکے، وقتی تنہائی اختیار کرکے زیست کی ’جنگ‘ میں فتح کے جھنڈے گاڑ سکتی ہے۔ ہمیں بھی چاہئے کہ اپنی اس تنہائی سے تعمیری سوچ اوراعمال کوپروان چڑھائیں…اس کے ساتھ ساتھ:

۱۔ نمازوںکی پابندی کریںچاہے گھرمیںہی ہو۔ 

۲۔ د عامیںپوری دنیاکے انسانوںکویادرکھیں۔ مسنون دعائوںکابھی وردکریں۔ 

۳۔ استغفاروتوبہ ہر وقت کامعمول بنائیں۔ 

۴۔ قرآن کی تلاوت وتفسیرکامطالعہ روزکریں۔ بچوںکوبھی ترغیب دیں۔ 

۵۔ خودبھی اوربچوںکوبھی کتاب کامطالعہ کرنے پراکسائیں۔ 

۶۔ ان حالات میںاپنے گھروالوںکوزیادہ سے زیادہ وقت دیں۔ خوف، مایوسی اورناامیدی سے خودبھی باہرآئیںاورانہیںبھی ان سے نکالیں۔ 

۷۔ اندرونِ خانہ ہی جوکھیل آپ کھیل سکتے ہوں، اس کے لئے بھی وقت نکالیں۔ 

۸۔ دوسروںکاتمسخر، ہنسی مزاق اڑانا، چاہے دوست ہویادشمن ایک اخلاقی گراوٹ ہے، اس سے اجتناب کریں۔ 

۹۔ آس پڑوس کے غریب، مفلوک الحال گھروںکویادرکھیںجوان حالات میںکچھ کمانہیںسکتے، اپنے بچوںکوکھلانہیںسکتے۔ ان کی معاونت آپ کی، ہم سب کی مذہبی ذمہ داری ہے۔ 

۱۰۔ اورگھروںمیںہی رہیں، محفوظ رہیں۔ اپنااوراپنوںکاخیال رکھیں۔ یہ یادرکھیںکہ ’یہ دوربھی گزرجائے گا۔ ‘

٭٭٭

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20