کورونا کے قہر میں سسکتی انسانیت ! —- غازی سہیل خان

0

ایسا لگ رہا ہے کہ شام کے اُس بچے کی شکایت اللہ تعالیٰ نے سُن لی ہے۔ گذشتہ برس ایک ویڈیو میں ایک بچہ اغیار کے مظالم سے تنگ آکر خالق حقیقی سے ملنے سے پہلے کہہ رہا تھا کہ’ میں اللہ کے پاس جا کر سب کچھ بتائوں گا۔ آج دنیا کرونا وائرس نامی وبائی بیماری کی وجہ سے غم ناک مناظر پیش کر رہی ہے اٹلی سے ایک ویڈیو سماجی رابطہ کی ویب گاہوں پر گشت کر رہا ہے جس میں اس مہلک وبائی بیماری کی وجہ سے ہزاروں افراد کی موت واقعہ ہونے کے بعد ان کے لئے بڑی بڑی قبریں کھود کر اُن لاشوں کو ایسے اُن میں ڈالا جا رہا ہے جیسے کچرے کا ٹرک کچر ا کسی گھڑے میں ڈال رہا ہو۔ ان روح فرسا حالات میںمشینوں کے ذریعے لاشوں کودفن کرنا بھی ہماری آنکھوں نے دیکھ لیا ، والدین کو اپنے بچوں کو گلے لگانے کے لئے تڑپنا اورترسنا پڑ رہاہے ، بیٹا اپنے باپ کی لاش کو ہاتھ نہیں لگا سکتا ، دنیا کی بڑی بڑی طاقتیں جن کے پاس ایٹم اور نیوکلیر بموں کے خزانے ہیں ، بے یار ومدد گار ہو گئی ہیں۔ بڑی بڑی عالمی طاقتوں کے بادشاہ یتیم بچوں کی طرح بلک رہے ہیں ، دنیا کا بہترین طبعی نظام ناکارہ ہو تا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ پُر رونق بازار ، ہنستے اور کھلتے گھر ، دفتر اور اسکول ویرانی کا کربناک منظر پیش کر رہے ہیں۔ غریب اور محتاج عوام اب زندگی کے بجائے موت کو ہی ترجیح دے رہے ہیں ، مسجد ، مندر اور دیگر عبادت گاہوں میں ویرانیاں چھائی ہوئی ہیں۔ یہ دنیا میں کیا ہونے لگا ہے کسی کو کچھ سمجھ نہیں آرہا ہے۔ ایسا لگ رہا ہے کہ اُس شامی بچے کی فریاد اللہ نے سُن لی ہے ، کشمیر کی آصفہ کے درد انگیز نالے اللہ تعالیٰ کے واحدا لقہار ہونے کی وجہ بنتی جا رہی ہے ، یمن کے بچوں کی آہیں اور سسکیاں بھی عرش معلی پر جا پہنچی ہیں ، شام و عراق کے شاداب شہروں کی تباہی اور جلتی لاشوں کے قاتلوں کو اللہ اپنی قہاری کی جھلک دکھانے لگا ہے ، کشمیر میں کنن پوشپورہ اور شوپیاں میں بہنوں کی عصمتیں لٹنے کی چینخیں دنیائے انسانیت کی روح کو بے قرار کرنے لگی ہیں۔ معصوم ہبا نثار اور انشاء مشتاق کی محتاجی کا حساب رب ذولجلال لینے لگا ہے۔ فلسطین میں بن کھلے ہی کلیوں کا مرجھا دینے کی قیمت بھی اب دنیا چُکانے لگی ہے ، برما اور چیچنیاکے مسلمانوں کی لاشوں کے چیتھڑے اُڑانے کا حساب اللہ دنیا سے مانگنے لگا ہے۔ دہلی ، گجرات اور پوپی کے معصوم انسانوں کے قتل عام کے دوران وہ دل دوز صدائیں اب عرش ہلا رہی ہیں۔ ان سارے مظالم پر دنیائے انسانیت خاموش تماشائی بنی رہی وہ ان درد انگیز مظالم کو سہتی رہی ، شراب و کباب میں مست ساز و سرور میں مگن رہی ، لیکن اللہ خالق و مالک جس کو نہ اونگھ آتی ہے نہ نیند ، جس کے قبضے میں ساری دنیا ہے جوبے بسوں ، بے کسوں ، مظلوموں ، بچوں ، بزرگوں اور خواتین پر ہو رہے مظالم کا حساب رکھتا رہا۔ دنیا کے جھوٹے خدائوں کو یہ گمان بھی نہیں ہوا ہوگا کہ ہم اس خالقبرحق سے بچ نہیں سکتے۔ شایددنیا کے بنے بیٹھے فرعونوں اورنمرودوں کو اسکا قطعی اندازہ نہیں ہوا ہوگا کہ کوئی واحدالقہار ہمیں فنا بھی کر سکتا ہے۔ ایسا لگ رہا ہے کہ اس نہ دکھنے والے وائرس نے دنیا کی بڑی بڑی طاقتوں کو کلین بولڈ کر دیا ہے۔

دنیا میں ہر کسی نے بس انسانیت کو تباہ کرنے کاسامان فراہم کیا انسانیت فناہ ہو گئی ہر طرف سے ظالم اور جابر حکمران انسانیت پر ظلم کا ہر ایک حربہ آزما رہیے ہیں۔ ہر ایک کو بس انسانیت کی بربادی کے لئے ہتھیاروں کی جیسے لت لگی ہودنیا کے بڑے بڑے ممالک ہتھیاروں کے ذخیرے جمع کر رہے ہیں۔ جب دنیا میں اسسوچ کے حکمران مسلط ہوتے ہیں اور انسانیت گمراہ ہوتی ہے تو اللہ مختلف قسم کے عذابوں میں جھکڑ لیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ سورہ احزاب میں فرماتے ہیں ’’جو لوگ اللہ اور اس کے رُسول کو ایذء دیتے ہیں اُن پر دنیااور آخرت میںاللہ کی پھٹکار ہے اور اُن کے لئے نہایت رُسوا کۃن عذاب ہے ‘‘ ایسا نہیں ہے کہ دنیامیں اس وبائی بیماری کے متعلق کسی نے انتباہ نہ کیا ہومیں پہلے بھی بتا چُکا ہوں کہ جب ظلم و جبر کا دور انسانیت پر چلنا شروع ہو جاتا ہے تو اللہ کا عذاب نازل ہو نا شروع ہو جاتا ہے۔ پاکستان کے ایک معروف صحافی حامد میر نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ ـــ’’ایک امریکی جریدے ’’کلینیکل مائیکروبا ئیولوجی ریویو‘‘کے اا؍کتوبر 2002ء کے شمارے میں شایع ہونے والے ایک تحقیقی مضمون میں 13سال قبل پانچ سائنسدانوں نے دنیا کو کورونا وائرس کے بارے میں خبردار کیا ہے۔ یہ جریدہ امریکن سوسائٹی فار مائیکرو بائیولوجی کے زیر اہتمام شایع ہوتا ہے۔ آگے لکھتے ہیں کہ کچھ سال کے بعد امریکن تھنک ٹینک رینڈ کارپوریشن نے 2012ء میں ایک رپورٹ شایع کی اور بتایا کہــ مستقبل میں امریکہ کے لئے بڑا خطرہ دہشت گردی نہیں بلکہ ایک عالمی وبا بنے گی جو امریکی معاشرے کے پورے طرز زندگی کو بدل کر رکھ دے گا لہذا اس طرف توجہ کریں۔ ‘‘لیکن اس کے باوجود بھی امریکہ اور دنیا کے دیگر ممالک نے انسانیت کے بچائو کے لئے کوئی قدم نہیں اُٹھایا۔ بلکہ اب یوں کہا جا رہا ہے کہ دنیا میں حکمرانوں کی نا اہلی اب تاریخ کا ایک بد ترین حصہ بنتی جا رہی ہے۔ جہاں مورخ اس دور کا ذکر کرتے ہوئے شام اور یمن کی جنگ کا ذکر کریں گے وہیں افغانسان کی جنگ میں امریکہ اور طالبان کا امن معاہدہ بھی تاریخ کے اوراق سیاہ کرے گااور کورونا وائرس بھی تاریخ کے اہم ابواب میں شامل ہو جائے گاجس میں یہ ضرورلکھا جائے گا کہ کورونا کی وبا سے لڑنے کے لئے دنیا کی بڑی بڑی عالمی طاقتوں کو شعبہ طب میں ویلنٹیلیٹرس (ventilators) کی کمی پڑ گئی جس کے سبب انسانیت سسک سسک کر کورونا وائر س کی بھینٹ چڑھ کر موت کے گھاٹ اُتر گئی۔ واحسرتا

مضمون کی طوالت کے خوف کے سبب میں بس اتنا عرض کرنا چاہووں گا کہ ہمیں رجوع اللہ کرنے میں دیر نہیں کرنی چاہے ، ہمیں اپنے اجتماعی گناہوں کی توبہ کی سبیل کرنی چاہیے۔ اور ساتھ ساتھ اپنے آپ کے ساتھ سماج میں مجبوروں ، لاچاروں ، مسکینوں اور دردمندوں کے جینے کا سہارا بننا چاہیے۔ ابھی اللہ مہلت دے رہا ہے بلکہ قرآن حکیم کی سورہ فاطر میں اللہ فرماتے ہیں کہ ’’اور اگر اللہ تعالی لوگوں پر اُن کے اعمال کے سبب سخت گیری فرمانے لگتا تو روئے زمیں پر ایک جاندار کو نہ چھوڑتا لیکن اللہ تعالیٰ اُن کو میعادد معین تک مہلت دے رہا ہے سو جب اُن کی میعادآپہنچے گی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو آپ دکھ لے گا‘‘۔ اس مشکل کی گھڑی میں ہمیں مجموعی طور انسانیت کو بچانے کے لئے اپنی کوششیں تیز کرنی ہونگیں ، نہیں تو تاریخ دان لکھے گا کہ ایک صدی ایسی بھی دنیا میں گُزری ہے جس میں دنیا میں بیمار لوگوں کے لئے ویلنٹیلیٹرس کی کمی کے سبب فلانی قوم فنا ہو گئی۔ اللہ تعالیٰ ہمارے حال پر رحم کھائے۔ آمین۔

ختم شُد

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20