کرونا یا عذاب الٰہی —- کومل شہزادی

0

کرونا یا عذاب الہی اگر دیکھا جائے تو دنیا کہ پاس ہر چیز اور وبا سے نبٹنے کے لیے ذرائع موجود ہیں- لیکن کرونا سے آج ہر کوئی بے بس نظر آرہا ہے اور سب کچھ نیست ونبود ہوتا اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے باوجود کچھ نہیں کرسکتا-

کرونا وائرس کے نام سے جو وبا پھیلی ہے اس نے امیر اور غریب کے امتیاز کا جہاں خاتمہ کر دیا وہی ایک بات ظاہر ہوتی ہے کہ یہ وبا کسی امیر و غریب کو نہیں دیکھ کے لگنے والی بلکہ کسی کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے-موجودہ صورت حال کو دیکھا جائے تو کوئی ایسا فرد نہیں جو اس بات کو جھٹلاتا ہو کہ یہ مرض اللہ کی طرف سے عذاب الہی نہیں ہے -یہ ایسی مرض ہے جو ایک فرد سے دوسرے فرد میں باآسانی منتقل ہوتی ہے اگر احتیاطی تدابیر کو نہ اپنایا جائے -کرونا عذاب الہی کی ہی طرف اشارہ کرتا ہے-اس وبا نے دنیا میں ایسا کوئی ملک نہیں جس کو چھوڑا ہو-اللہ کا عذاب پہلی قوموں پر بھی نازل کیا گیا -جب اللہ کو کسی کی عبادات پسند نہ ہوں یا کسی انسان کو اپنی عبادت کے لیے ناپسند کرتا ہوں اُس سے سجدوں کی توفیق چھین لیتا ہے -موجودہ صورت حال بالخصوص حرم شریف کے دروازے ہر ایک پر بند کردیے اگر اللہ نہ چاہتا تو ایسا کبھی نہ ہوتا-ہمارے اوپر یہ سب سے بڑا عذاب ہے-اگر میں پہلی قوموں پر عذاب آیا اس پر مختصر سی روشنی ڈالتی ہوں کہ کس طرح پہلی قوموں پر کن وجوہات کی بنا پر عذاب نازل کیا گیا-

حضرت مو سیٰ علیہ السلام کی قوم(فر عو نیوں ) کے بارے میں دو قسم کے عذاب کا ذکر ملتا ہے۔ ایک تووہی عذاب ہے جو موسیٰ علیہ السلام کے مبعوث ہونے کے بعد ان پر تنبیہہ کے طور پر نازل ہو ا تھاکہ شاید وہ خواب غفلت سے بیدار ہوکر خدا کو یاد کرنے لگیں۔ یہ عذاب مختلف صورتوں میں جیسے قحط،خشک سالی اورطوفا ن وغیرہ کی شکل میں نازل ہوا اور بعض آیات میںاس کی طرف اشارہ کیاگیاہے :
اور دوسری جگہ ارشاد ہو تا ہے :
(فَاَرْسَلْنَا عَلَیْہِمُ الطُّوفَانَ والْجٰرادوَالقُمَّلَ وَالضَّفَادِعَ وَالدَّمَ ئَ ایَٰتٍ مُّفَصَّلَٰتٍ فَاسْتَکْبَرُوْا وَکَانُواقَوْماًمُّجْرِمِیْنَ)(٢)
”پس ہم نے ان پر طوفان اور ٹڈیوں،جوئوں، مینڈکوں اور خون (کاعذاب)بھیجا جو سب جداجدا آشکار نشانیاں تھیں پھر بھی وہ لوگ سر کشی ہی کرتے رہے اوران کا ایک گروہ بدکار تھا ”۔

موسیٰ علیہ السلام کی قوم پر دوسرا عذاب، عذا بِ استیصال تھا جس کے تحت فرعون کو دریامیں غرق کر دیا گیا-
قوم لوط علیہ السلام پر عذاب کے متعلق مندرجہ ذیل آیات میں بھی اشارہ کیا گیا ہے :سورئہ ہو د ٨٢، حجر ٧٣۔ ٧٤، نحل ٥٨، شعراء ١٧٣۔ ١٧٤،عنکبوت ٣٤۔ ٣٥،صافات ١٣٦،ذاریات ٣٢۔ ٢٧ اور سورئہ قمر ٣٤۔ ٣٩۔

قوم شعیبؑ تین طرح کےعیوب میں مبتلا تھی اور اللہ تعالیٰ نے اُسے تین طرح کے عذاب سے نیست و نابود کیا۔ قرآنِ کریم میں تین طرح کے عذاب کا تذکرہ ہے، جو قومِ شعیبؑ پر آیا۔ (1) زمینی بھونچال یا زلزلہ( 2) چنگھاڑ ( 3) آگ کے بادل۔ سورۂ الاعراف میں ہے کہ’’ اُن کو بھونچال نے آپکڑا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔ ‘‘ سورۂ عنکبوت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا’’ اُنہوں نے ان (شعیبؑ) کو جھوٹا سمجھا، سو اُن کو زلزلے نے آپکڑا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔ ‘‘ سورۂ ھود میں چنگھاڑ کے ذریعے عذاب کا ذکر آیا، کیوں کہ یہ لوگ اپنے نبی کا مذاق اور تمسخر اڑایا کرتے، پھبتیاں کستے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتے کے ذریعے اس قوم پر ایک چیخ لگوائی، جس سے اُن کے کلیجے پھٹ گئے۔

قرآنِ پاک میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے’’ اور جو ظالم تھے، اُن کو چنگھاڑ نے آ دبوچا، تو وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔ (سورۂ ھود 94)سورۂ الشعراء میں بادل کے عذاب کا تذکرہ ہے، جو اُن کی اپنی خواہش کا نتیجہ تھا۔ اُنہوں نےکہا تھا کہ’’ تم اُن میں سے ہو، جن پر جادو کردیا جاتا ہے اور تم تو صرف ہماری طرح کے آدمی ہو اور ہمارا خیال ہے کہ تم جھوٹے ہو۔ اگر تم سچّے ہو، تو ہم پر آسمان سے ایک ٹکڑا لا گرائو۔ ‘‘(سورۃ الشعراء 187-185) چوں کہ’’ اُنہوں نے جھٹلایا تھا، تو اُنہیں بادل والے دن کےعذاب نے پکڑ لیا۔ وہ بڑے بھاری دن کا عذاب تھا۔ ‘‘ ( سورۃ الشعراء 189)علّامہ ابنِ کثیرؒ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اُن پر پہلے تو سخت گرمی مسلّط فرمائی اور سات دن مسلسل اُن پر ہَوا بند رکھی، جس کی وجہ سے پانی اور سایہ بھی اُن کی گرمی نہ کم کر سکا اور نہ ہی درختوں کے جُھنڈ کام آئے، چناں چہ اس مصیبت سے گھبرا کر بستی سے جنگل کی طرف بھاگے، وہاں اُن پر بادلوں نے سایہ کرلیا۔ سب گرمی اور دھوپ کی شدّت سے بچنے کے لیے اُس سائے تلے جمع ہوگئے اور سُکون کا سانس لیا۔ لیکن پھر چند لمحوں بعد ہی آسمان سے آگ کے شعلے برسنے شروع ہوگئے، زمین زلزلے سے لرزنے لگی اور پھر آسمان سے ایک سخت چنگھاڑ آئی، تو اُس نے اُن کی روحوں کو نکال دیا (کلیجے پھٹ گئے) اور جسموں کو تباہ و برباد کردیا اور سب اوندھے گرے پڑے رہ گئے۔ ‘‘
موجودہ صورت حال کے تناظر میں دیکھا جائے تو کیا یہ کرونا ہے یا عذاب الہی –

کچھ کا خیال ہے کہ آفات یا کرونا محض ایک بیماری ہے اور وہ اس کو عذاب الہی تصور نہیں کرتے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ عذاب الٰہی کی ایک صورت ہیں -اس وبا سے پہلے بھی ہمیں اللہ نے کن کن عذاب میں مبتلا نہیں کیا تاکہ ہم راہ راست پر آجائیں-

2005ء کا زلزلہ انسان طاقت کے باوجود بے بس کیوں تھا-
2010ء کے سیلاب سے پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی تباہی ہوئی۔ ایسے مقامات اور بلندیوں پر بھی سیلاب نے نقصان کیا جہاں کبھی زندگی بھر لوگوں نے سیلاب دیکھا نہیں تھا۔
ڈینگی بخار اور ملیریا کی وباء ایک چھوٹے سے مچھر نے تباہی مچا دی-

وجہ ہے کہ گنداپانی ہو تو ملیریا کا مچھر پروان چڑھتا ہے اور لوگوں کو بیمار کرتا ہے، اگر صاف پانی ہو تو ڈینگی مچھر پلتا ہے اور انسانوں کی جان لے لیتا ہے۔ کیا یہ محض اتفاق ہے- کیا یہ عذاب الہی کی جانب اشارہ نہیں-
جن قوموں پر عذاب آئے ہیں ہر وسائل ہونے کے باوجود بھی اس کا علاج نا ممکن ہوجاتا ہے کہ جب اﷲ تعالیٰ کی طرف سے گرفت ہوتی ہے تو انسانی سوچ ختم کر دی جاتی –

حقیقت یہ ہے کہ تمام قدرتی آفات ہمارے اَعمال کا نتیجہ اور اﷲ تعالیٰ کی گرفت ہیں-
اگر ہم معاشرے پر ایک نظر ڈال لیں تو شائد اندازہ ہوسکے کہ کیا ہمارے اعمال درست ہیں – جس کام کا اُس ذات نے حکم دیا اُس کی نافرمانی کرتے ہیں -سماجی برائیاں ,جرائم پیشہ عناصر,مذہب سے دوری,اغواکاری ,زیادتی,قتل وغارت,دھوکہ و فریب وغیرہ اور پتہ نہیں کون کونسے ایسے گناہ ہیں- کہ جن وجوہات کی بنا پر ہمیں کرونا جیسی وبا کی صورت میں عذاب الہی نازل ہوا- شام,کشمیر وغیرہ پر ظلم وجبر کسی سے پوشیدہ نہیں سب پر عیاں ہے کہ اُن پر کس کس طرح سے ظلم نہیں ڈھایا گیا-کیا وہ لوگ انسان نہیں –

اس وبا سے نجات کا محض ایک حل ہے کہ اللہ کو راضی کرلیا جائےتاکہ وہ ہم کو اس عذاب سے نجات دے-
’’اے رب کی بندگی کرو جو بھوک میں کھانا اور بڑے خوف سے امان بخشتا ہے‘ ‘ (سورۃ قریش)
عذاب میں رب کریم سے رجوع، توبہ و استغفار اور اپنے افکار و اعمال کی درستی سے ہی نجات ممکن ہے-
البتہ یہ یقین رکھے کہ اس وائرس کو ایکٹو (active) کرنا یا نہ کرنا اللہ کے اختیار میں ہے، اسی لیے دعاؤں، توبہ و استغفار اور رجوع الی اللہ کا درس اہل علم دیتے ہیں.

اگر استغفار اور درستی اعمال کی طرف نہیں آئیں گے تو بیماری تو کسی دن ختم ہو جائے گی، لیکن اس کے اثرات سے جلد نکل نہیں سکیں گے۔

اگر استغفار اور درستی اعمال کی طرف نہیں آئیں گے تو بیماری تو کسی دن ختم ہو جائے گی، لیکن اس کے اثرات سے جلد نکل نہیں سکیں گے۔
سورہ المائدہ میں اللہ ارشاد فرماتا ہے:
“تو یہ کیوں اللہ کے آگے توبہ نہیں کرتے اور اس سے گناہوں کی معافی نہیں مانگتے اور اللہ تو بخشنے والا مہربان ہے-”

 

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20