نیازی بناتا نہیں آشیانہ —- مظفر حسن بلوچ کا اورنگزیب نیازی پر خاکہ

0

نیازی صاحب اردو ادب کے استاد ہیں۔ ایک دن لیکچر کے دوران کسی طالب علم نے ازرہ ِ عقیدت استفسار کیا: ’’سر!آپ کب پیدا ہوئے؟‘‘ نیازی صاحب بھی موسم کی مناسبت سے اس روز ترنگ میں تھے۔ کہنے لگے؛ ’’میاں! ہر طرف پھول ہی پھول کھلے ہوئے تھے، چمن میں رنگینی و رعنائی تھی، درختوں اور پودوں کی ڈالیاں مستی کے عالم میں جھوم رہی تھیں، بھنوروں کا گیت کانوں میں رس گھول رہا تھا، اور تاحد نگاہ سبزہ ہی سبزہ تھا، اس موسم بہار میں یار محمد خان کے آنگن میں یہ گُلِ نو خیز کھلا تھا۔‘‘

مظفر حسن بلوچ

جب یہ بہاریہ قصیدہ ختم ہوا تو اس معصوم نے اپنے چاہِ ذقن پر انگشت شہادت رکھتے ہوئے پوچھا ’’سر! تاریخ پیدائش کیا ہے؟‘‘

کہنے لگے: ’’یکم اپریل‘‘ ہمیں اس بحث سے کوئی سرو کار نہیں کہ یورپ میں اپریل فول کا آغاز سولھویں صدی کے اختتام پر ہوا یا سترھویں صدی کے آغاز میں لیکن میانوالی والے یکم اپریل کو ڈاکٹر اورنگ زیب نیازی کے جنم دن کے طور پر یاد رکھتے ہیں۔

نیازی صاحب کلاس میں ڈسپلن کا بہت خیال رکھتے ہیں، اس لیے مسکراتے بالکل نہیں۔ ایک بار سٹوڈنٹس نے ضد کی کہ ہمارے ساتھ سیلفی بنوائیں۔ تصویر کے بعد ایک طالب علم نے کہا: ’’سر!کبھی مسکرا بھی دیا کریں‘‘ تب پہلی بار مسکرائے۔ ۲۰۰۵ء میں پبلک سروس کمیشن کی پر زور سفارش اوراپنے زور بازو سے لیکچرر منتخب ہوئے۔ دس برس کی قلیل مدت میں ۲۰۱۵ء میں براہ راست سلیکشن کے ذریعے ایسوسی ایٹ پروفیسر ہو گئے۔ پینتیس برس کی عمر میں جب میانوالی کے لونڈے تیتر، بٹییر اور مرغوں کی لڑائی سے لطف اندوز ہو رہے ہوتے ہیں، نیازی صاحب لاہور میں انیسویں گریڈ کے جھولے جھول رہے تھے۔ زندگی میں کامیابیاں، کامرانیاں اور فتوحات ہاتھ پر ہاتھ دھرے حاصل نہیں ہو جاتیں، اس کے لیے خون جگر صرف کرنا پڑٹا ہے۔ خون جگر ہی سل کو دل بناتا ہے۔ اور اسی سے سوز و سرور و سرود کے چشمے پھوٹتے ہیں، سوز و سرور و سرود سے ہماری مرادسترہواں، اٹھارواں اور انیسواں گریڈ ہے: یہ ہائر کمیشن میں چھپنا، چھپانا لہو گرم رکھنے کا ہے اک بہانہ گریڈوں کی دنیا کا درویش ہوں میں نیازی بناتا نہیں آشیانہ نیازی صاحب نے اپنے رہنے کو لاہور میں جس جگہ آشیانہ بنایا ہے اس کے سامنے سوسائٹی کی مسجد ہے۔ میں پہلی مرتبہ مبارک باد دینے گیا تو میں نے اشارہ کیاگزارہ کیسے ہو گا؟  کہنے لگے دل کرتا ہے نیم پلیٹ پر غالب کا یہ مصرع لکھوا دوں:یہ بندہ ء کمینہ ہمسایہ ء خدا۔ ان کی گلی میں سب کے سب مولوی یا مولوی نما رہتے ہیں لیکن مزے کی بات یہ کہ وہ سب نیازی صاحب کو دور سے سلام کر کے گزر جاتے ہیں۔

نیازی صاحب نے قلیل مدت میں وہ ہفت خواں طے کر لیے ہیں جن کے بارے میں سوچتے ہوئے بھی تھکن طاری ہو جاتی ہے۔ ڈاکٹر نیازی صاحب مسلسل اپنی فتوحات کے جھنڈے گاڑتے چلے جا رہے ہیں اور جھنڈے گاڑنے کے لیے جس مجاہدانہ روش اور بازوئے حیدر کی ضرورت ہوتی ہے، وہ اس سے متصف بھی ہیں۔ نیازی صاحب میانوالی سے کشتیاں جلا کر فاتحِ لاہور ہوئے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ اس عشق میں ایک مرحلہ ترک نسب کا بھی آتا ہے۔ میانوالی میں نیازی قبائل صدیوں سے آباد ہیں۔ یہاں کی تحصیل عیسیٰ خیل کے گاؤں ترگ سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر اورنگ زیب نیازی اردو ادب کے افق پر ایک ست رنگی قوس کی صورت مین جلوہ گر ہوئے ہیں۔ ان کی شخصیت اور فن میں قوس قزح کے سارے رنگ رچ بس گئے ہیں۔ افق کے دوش پر تیرتے ہوئے ان رنگوں کی بہار قابل دید بھی ہے اور قابل داد بھی۔

میانوالی کے عدو خیز خطے سے تعلق رکھنے والا اورنگ زیب نیازی دوستی کے ساتھ ساتھ دشمنی نبھانا بھی خوب جانتا ہے۔ دوستوں کے حلقے میں وہ ریشم کی طرح نرم اور سبک ہوتا ہے لیکن کوئی نخوت سے پیش آئے تو کج کلاہی کی روش اختیار کر لیتا ہے۔ محمد علی جناح کی طرح، نیازی کا تیر بھی خطا نہیں ہوتا اور ٹھیک نشانے پر جا کر لگتا ہے۔ وہ بزرگوں کے اس قول پر کاربند ہے کہ ’’بندہ جاتا ہے تو جائے، جملہ نہ جائے‘‘۔ نیازی کا دعویٰ ہے کہ اردو میں اس سے زیادہ کاٹ دار جملہ کوئی نہیں لکھ سکتا، اور واقعی اس کا طنزیہ جملہ دو دھاری نہیں، چار دھاری تلوار ہوتا ہے۔ ان گناہ گار آنکھوں نے کئی بسمل اور نیم بسمل تڑپتے پھڑکتے اور لوٹ پوٹ ہوتے دیکھے ہیں۔ وہ اپنے شکار کو اس حالت میں دیکھ کر درازیء عمر کی دعا بھی دیتا ہے؛ ’’تڑپنے پھڑکنے کی توفیق دے‘‘۔ انھوں نے مختلف ویب گاہوں پر آن لائن کالم لکھنے شروع کیے تو مذہبی شدت پسندوں کے ساتھ ساتھ لبرل شدت پسندوں کو بھی سینگوں پر اُٹھا لیا۔ ایسے ایسے تند و تیز جملے تراشے کہ مخالفین زخم چاٹتے رہ گئے۔ ان کے جملوں سے دشمن تو کیا دوست بھی محفوظ نہیں رہے۔

تیمور حسن تیمور کے ساتھ ان کی گاڑھی چھنتی ہے۔ ایک دوسرے کو دیکھتے ہی ان کے منہ سے وہ پھول جھڑتے ہیں کہ خدا کی پناہ۔ دیکھنے والا سمجھتا ہے ابھی ایک دوسرے کوقتل کر دیں گے مگر چند لمحوں بعد یہ شیر و شکر ہو جاتے ہیں۔ تیمور نے میری کتاب ’’ تعلق‘‘ پر ایک کالم لکھا۔ ایک روز ہم تینوں کسی پارک میں بیٹھے گپ شپ کر رہے تھے۔ کالم کا ذکر ہوا تو نیازی صاحب کہنے لگے مجھے بھی سناؤ۔ میں نے اخبار نکال کر پڑھنا شروع کر دیا۔ تیمور نے اس کالم میں کتاب کے سن اشاعت، قیمت، پبلشر کے علاوہ کل صفحات اور غزلوں کی تعداد کا ذکر کیا ہے۔ کالم ختم ہوا تو نیازی صاحب نے تیمور کو مخاطب کر کے کہا: ’’یہ تم نے کالم لکھا ہے یا ایف آئی۔ آر کاٹی ہے؟‘‘ یہ سن کر تیمور صاحب آگ بگولا ہو گئے لیکن معاملہ جلد ٹھنڈا ہو گیا۔

نیازی صاحب حلقہء ارباب ذوق کی صدارت کر رہے تھے۔ پیش کیے گئے مضمون پر گفتگو جاری تھی کہ ان کی نظر ایک مشہور نقاد پر پڑی۔ وہ شاید دیر سے آئے تھے۔ نیازی صاحب نے ان سے کہا کہ آپ کچھ کہیں۔ نقاد صاحب نے کہا: میں نے مضمون سنا نہیں‘‘۔ نیازی صاحب بولے: ’’اسی طرح تو آپ اچھا تبصرہ کرتے ہیں۔‘‘ اب اس سے پہلے کہ جوابی حملہ ہوتا نیازی صاحب کسی اور کی طرف بڑھ گئے۔

گورنمنٹ کالج کے زمانہء طالب علمی میں بہت فعال رہے۔ راوی، کالج گزٹ، مجلس اقبال، مجلس صوفی تبسم، پنجابی مجلس، ٹیوٹوریل گروپس کے الیکشن غرض ہر جگہ ٹانگ اڑا رکھی تھی۔ مجلہ راوی ۱۹۹۸ء کے شریک مدیر تھے اور راوی کے دفتر میں دھڑلے سے سگریٹ پیتے۔ ڈاکٹر سعادت سعید راوی کے نگران تھے۔ سعادت صاحب لسانی تشکیلات کی تحریک میں افتخار جالب کے دست و بازو رہے۔ ان کی نظموں کا مجموعہ ’’کجلی بن‘‘لسانی تشکیل کی مثال ہے۔ ان نظموں کی زبان اتنی مشکل ہے کہ ایک عام قاری اور طالب علم تو کیا اردو ادب کے اساتذہ کا سانس پھول جائے۔ راوی کے دفتر میں نئی نظم پر بحث جاری تھی۔ سعادت صاحب گفتگو فرما رہے تھے اور ہم سب ہمہ تن گوش۔ سعادت صاحب نے نیازی کو مخاطب کر کے کہا: ’’تم میری کتاب کجلی بن پڑھو!‘‘ نیازی صاحب برجستہ بولے: ’’اردو میں ترجمہ کرا دیں تو۔‘‘ سعادت صاحب کا چہرہ مزید سرخ ہو گیا لیکن پی گئے۔

تحسین فراقی صاحب کا دوسرا شعری مجموعہ ’’شاخ ِزریاب‘‘ شائع ہوا تو انھوں نے اپنے دفتر بلا کر انھیں پیش کیا۔ انھیں یہ شاعری پسند نہیں آئی۔ ان کے خیال میں فراقی صاحب کا شعری جوہر پوری طرح ان کے پہلے مجموع ے’’نقش اول‘‘ میں سامنے آیا ہے۔ نئے مجموعے میں شامل کلام اس معیار کا نہیں۔ اگلی ملاقات میں فراقی صاحب نے رائے مانگی تو دو ٹوک بولے: ’’یہ مجموعہ چھپوانے کا آپ کو جس نے مشورہ دیا۔ اس نے آپ سے دشمنی کی ہے۔‘‘ اس تنقید پر فراقی صاحب بس مسکرا کر رہ گئے۔ مگر اس مین کچھ ایسی بات ہے کہ اس دریدہ دہنی کے باوجود اس کے دوست اور اساتذہ اس سے محبت کرتے ہیں۔ ڈاکٹر وحید قریشی اسے اپنا بیٹا کہتے تھے، ڈاکٹر تحسین فراقی جیسا سخت مزاج استاد اس کی ’’بد تمیزیوں‘‘ پر قہقہے لگاتا ہے، ناصر عباس نیر جیسا ما بعد جدید نقاد اسے قریب رکھتا ہے اور جمیل احمد عدیل جیسا جمیل النفس اور نفیس افسانہ نگار اس سے پیار کرتا ہے۔

مشتاق احمد یوسفی نے لکھا ہے کہ ’’میرے دادا نے سو قتل کیے اور سو حج کیے لیکن اب قتل کرنے سے توبہ کر لی۔ کہتے ہیں اب مجھ سے مزید حج نہیں ہوتے۔‘‘ نیازی صاحب پہلے حج کا بھی ارادہ نہیں رکھتے چناں چہ خوامخواہ کی کئی لڑائیاں اور دشمنیاں مول لینے کے بعد اب مزاج اور جملے کو کچھ کچھ اعتدال پر لے آئے ہیں۔

پٹھانوں والی ساری خوبیاں اور خامیاں اس کے مزاج اور شخصیت کا حصہ ہیں لیکن نسوار سے نفرت کرتا ہے اور نسوار سے جتنی نفرت کرتا ہے سگریٹ سے اتنی ہی محبت کرتا ہے۔ اوائل جوانی میں یہ عشق جاں سوز اختیار کیا اور ہنوز اس پر قائم ہے۔ روز کے پندرہ بیس سگریٹ پھونک جاتا ہے۔ زندگی میں کبھی سگریٹ چھوڑنے کی خواہش نہیں کی۔ ان کا کہنا ہے :سگریٹ چھوڑنے کے لیے جتنا جبر خود پر کرنا پڑتا ہے اس سے بہتر ہے بندہ سگریٹ سے ہونے والا نقصان برداشت کر لے۔ کہتے ہیں میری ریسرچ کے مطابق ایک سگریٹ پینے سے محض چند سیکنڈ زندگی کم ہوتی ہے، بندہ چالیس سال سگریٹ پیئے تو یہی کوئی آٹھ دس دن زندگی کم ہو گی، اب ساٹھ سال جی لینے کے بعد آٹھ دس نہ بھی جیا تو کیا فرق پڑے گا؟

مہمان نواز ہیں۔ ان کے گھر بیٹھ کر کھانا کھائیں، جتنی بار چاہیں چائے پیئیں، ان کے پیکٹ سے گولڈ لیف کے سگریٹ پیئں، خوش ہو ں گے لیکن باہر کہیں ہوٹل پر دوستوں میں بیٹھے ہوں تو سگریٹ پینے سے پہلے پوچھتے ہیں: ’’کسی کے پاس سگریٹ ہو گا؟‘‘ جواب نفی میں آئے تو جیب سے سگریٹ نکال کر سگریٹ سلگاتے ہیں اور دوسرے ٹکر ٹکر ان کا منہ دیکھتے ہیں۔ گھر میں اپنی پسندیدہ کتابوں کی اچھی کلیکشن ہے۔ کتاب پسند نہ آئے تو گھر سے نکال دیتے ہیں۔ کہتے ہیں جس کتاب کو دوسری بار پڑھنے کی ضرورت محسوس نہ ہو اس کو گھر میں رکھنے کا کیا فائدہ؟ لیکن اپنی پسندیدہ کتابوں کے بارے میں بہت کنجوس اور سنگ دل واقع ہوئے ہیں۔ مجال ہے جو کسی کو ہاتھ بھی لگانے دیں۔ ایک بار میں نے ایک کتاب مستعار لینی چاہی۔ انتہائی سنجیدگی سے کہنے لگے: ’’دیکھ بلوچ! تو میرا پرانا دوست ہے اور مجھے بہت عزیز بھی ہے لیکن ناراض ہونا ہے تو ہو جا، کتاب نہیں دوں گا۔‘‘

نیازی صاحب نے ’’پاکستان میں اردو تنقید ‘‘ کے موضوع پر ایک پر مغز اور وقیع مقالہ لکھ کر ۳۲ سال کی عمر میں پنجاب یونیورسٹی سے پی۔ ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ قدرت کی ستم ظریفی دیکھیے کہ ایم۔ اے اردو میں تنقید کا پرچہ مشکل سے پاس کرنے والے نیازی کی ادبی شخصیت کا غالب پہلو تنقید نگاری کا فن ہی ٹھہرا۔ اب جو ترجمہ کاری کے میدان میں قدم رکھا تو بڑے بڑوں کو حیران کر دیا۔ آج کل ادبی حلقوں میں اس کی ترجمہ کردہ کتاب ’’ماحولیاتی تنقید :نظریہ اور عمل ‘‘ کی دھوم ہے ا س کتاب میں انھوں نے انگریزی سے دس منتخب مضامین کو اردو کا روپ دیا ہے۔ یہ ترجمہ بہت شستہ اور رفتہ ہے۔ تنقید کو عام طور پر خشک، بور اور بوجھل قسم کا شعبہ سمجھا جاتا ہے لیکن اس رواں، سہل اور سبک ترجمے نے اس کتاب کو عام قاری کے لیے بھی دل چسپ بنا دیا ہے۔ یہ اپنے موضوع کے لحاظ سے بہت منفرد کتاب ہے۔ یہ دستار فضیلت بھی نیازی صاحب کے سر جاتی ہے کہ انھوں نے اردو میں تنقید کے اس نئے دبستان کی خشتِ اول رکھنے کا اعزاز حاصل کیا ہے۔ ایں کار از تو آید تو مرداں چنیں کنند۔

میرے پہلے، اکلوتے اور اب تک کے آخری شعری مجموع ے’’تعلق‘‘ کا پیش لفظ نیازی صاحب نے لکھا تھا۔ گویا میری ذات اور شاعری پر پہلا پتھر انھوں نے ہی پھینکا تھا۔ نیازی صاحب خود بھی فعلن فعلن فعلن فرماتے ہیں۔ ان کا پہلا شعری مجموعہ ’’آدھی شب اور پورا چاند‘‘اس وقت شائع ہوا، جب وہ اوری اینٹل کالج میں ایم۔ اے کے طالب علم تھے۔ ان کا دوسرا شعری مجموعہ ’’تمام شب‘‘۲۰۰۷ء میں زیور طبع سے آراستہ ہوا۔ ’’آدھی شب اور پورا چاند‘‘ میں شاعر نے رات کے جس ادھورے پن کا شکوہ کیا ہے، اس کاازالہ بہ حسن و خوبی دوسرے مجموعے میں کر دیا ہے لیکن اس بار چاند غائب ہے۔ اور اب چاند کے ساتھ ان کی شاعری سے وزن اور بحر بھی غائب ہو گئی کہ اب وہ غزل اور آزاد نظم کو چھوڑ کر نثری نظم کے گرویدہ ہو گئے ہیں۔ نظم ِ آزاد کی حد تک یہ آزادی تو ہر انسان کا بنیادی حق ہے کہ جو چاہے اس میں اپنی طبع رواں کو آزما اور بہلا سکتا ہے لیکن بگاڑ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب انسان دخل در معقولات پر اتر آئے یعنی نثری نظمیں لکھنا شروع کر دے۔ نیازی صاحب نثری نظمیں لکھتے ہی نہیں، ان کے حق میں دلائل بھی دیتے ہیں مگر ان کے دلائل میں اتنا ہی وزن ہوتا ہے جتنا نثری نظم میں ہوتا ہے۔

نیازی صاحب کی مبہم شخصیت اور گھڑی تولہ، گھڑی ماشا والا مزاج ان کے ابتدائی نا مساعد حالات کی دین ہے۔ چار سال کی عمر تک ماں اور باپ دونوں کے سایہء عاطفت سے محروم ہو گئے تھے۔ بڑے بھائی اور بھابی نے ماں باپ بن کر برے لاڈ سے پالا مگر شخصیت میں ایک خلا باقی رہ گیا۔ گاؤں کے سکول سے میٹرک کرنے کے بعد اعلا تعلیم کے لیے لاہور آگئے اور گورنمنٹ کالج لاہور میں داخلہ لیا۔ ان کی علمی پرورش اور پرداخت میں گورنمنٹ کالج کی فضا بہت معاون ثابت ہوئی۔ یہاں کے اساتذہ سے انھوں نے خوب کسب فیض کیا۔ پروفیسر صابر لودھی، میڈم فرخندہ لودھی، ڈاکٹر سعادت سعید اور ڈاکٹر طارق زیدی مرحوم کا تذکرہ بہت محبت اور احترام سے کرتے ہیں۔ پروفیسر صابر لودھی اور فرخندہ لودھی کا ذکر کرتے ہیں تو فرط محبت اور وفور جذبات سے آنکھوں میں نمی تیرنے لگتی ہے۔ نیازی صاحب کی اہلیہ بھی اردو کی پروفیسر ہیں۔ ان کی شادی میں مرحوم صابر لودھی صاحب کا نمایاں کردار ہے۔ پچاس فی صد کام تو ہو چکا تھا کہ نیازی صاحب شادی کے لیے بے قرار تھے۔ باقی کے پچاس فی صدکے لیے لودھی صاحب نے عروس ِ فردا کے اہل خانہ کو راضی کر لیا۔ لودھی صاحب فرشتہ صفت آدمی تھے، امید ہے کہ روز محشر اس باز پرس سے محفوظ رہیں گے۔

گورنمنٹ کالج سے گریجو ایشن کرنے کے بعد یہ چہار سالہ راوین، قصہء چہار درویش (صابر لودھی، فرخندہ لودھی، سعادت سعید، طارق زیدی) کو حرز جاں بنا کر ایم اے اردو کرنے اوری اینٹل کالج چلا آیا۔ یہ ذکر بھی بے جا نہ ہو گا کہ نیازی صاحب نے ایف۔ اے اور بی۔ اے معاشیات میں کیا تھا۔ بی۔ اے میں نمبر کم آئے تو ہمارے ایک مشترکہ دوست اور خیر خواہ الیاس محمود نظامی (حال:سیکنڈسیکرٹری فارن آفس) نے نیازی صاحب کو مشورہ دیا کہ اردو میں داخلہ لیں اور اپنے اصل مقام کی طرف لوٹ جائیں۔ کہ ادبی بحران کا تو کوئی حل نکل آئے گا لیکن ارض وطن معاشی بحران کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ نظامی صاحب دور اندیش انسان ہیں، ان کا اندیشہ درست تھا۔ تصور کریں اگر نیازی صاحب ماہر معاشیات بن جاتے تو آج ڈالر۲۶۵ کا ہوتا۔

اوری اینٹل کالج میں ڈاکٹر وحید قریشی، داکٹر تحسین فراقی (عبد الماجد دریا بادی والے) اور ڈاکٹر ناصر عباس نیر جیسے عظیم اساتذہ کی شفقت اور راہنمائی نیازی صاحب کے سر پر مسلسل سایہ فگن رہی اور نیازی صاحب بھی کسب کمال کن کہ عزیز جہاں شوی کی تصویر بنے اپنے اساتذہ کی جوتیاں سیدھی کرتے رہے۔ ڈاکٹر وحید قریشی تو نیازی صاحب کے لیے ’’بابا جی‘‘ تھے۔ انھوں نے مغربی پاکستان اکیڈمی سے نیازی کی چار کتابیں شائع کیں۔ جن میں سے’’کڑوے کسیلے مضامین‘‘ کو علمی ادبی حلقوں میں غیر معموملی پذیرائی ملی۔
ایک روز ہماے ساتھ مجذوب خیالی بھی تشریف فرما تھے، کہنے لگے: ’’بھئی! یہ کیا نام ہوا؟ ’’کڑوے کسیلے مضامین‘‘۔ پھر توقف سے بولے: ’’صاحب ِکتاب کی شخصیت جیسی بھی ہو، کتاب کا نام تو اچھا ہونا چاہیے۔‘‘ بات معقول تھی اور خلاف معمول نیازی صاحب کی سمجھ میں آ گئی۔ اب اس کتاب کا دوسرا اڈیشن ’’اردو ادب کی تاریخیں: تنقید و تجزیہ‘‘ کے نام سے جانا اور پہچانا جاتا ہے۔

نیازی صاحب نے ڈاکٹر وحید قریشی اور پروفیسرصابر لودھی صاحب کی وفات کے بعد اپنے ان بزرگ اساتذہ کے دلگداز خاکے لکھے ہیں۔ محبت، عقیدت اور نیاز مندی میں گندھے ہوئے یہ خاکے ایک طرف تو مرحومین کے اوصاف حمیدہ کو اجاگر کرتے ہیں تو دوسری طرف اس حقیقت کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں کہ کہ ’’نام نیک رفتگاں ضائع مکن۔ ‘‘ان خاکوں میں محبت و عقیدت کے ساتھ ساتھ شوخی اور شرارت کا رنگ بھی موجود ہے لیک ن مجموعی فضا اداس اور سوگوار ہے، انھیں پڑھنے کے بعد ضبط کے تمام بندھن آٓنسوؤں میں بہہ جاتے ہیں۔ نیازی کے استاد ڈاکٹر وحید قریشی شاید شاعری کو ذریعہ عزت نہیں جانتے تھے اس لیے عمر بھر تحقیق و تدوین کے شناور رہے لیکن مرحوم فن شعر گوئی کی باریکیوں اور لطافتوں کا گہرا شعور رکھتے تھے۔ آخری عمر میں وہ شاعری کی طرف متوجہ رہے یعنی چپکے چپکے گھر میں بیٹھے عاشقی کرتے رہے۔ ان کی وفات کے بعد ان کا غیر مطبوعہ کلام نیازی صاحب نے ’’ڈھلتی عمر کے نوحے‘‘کے عنوان سے شایع کیا ہے۔ ’’شبلی کی حیات معاشقہ‘‘ کے حوالے سے تو قریشی صاحب صاف صاف کہہ سکتے ہیں کہ شبلی کی حیات معاشقہ سے میرا کیا لینا دینا۔ ۔ یہ سوال شبلی سے پوچھا جانا چاہیے۔ مگر جب ’’ڈھلتی عمر کے نوحے‘‘ سامنے آئیں گے تو مسکرا کر کہیں گے: پکڑے جاتے ہیں ’’نیازی‘‘ کے لکھے پر نا حق

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20