مستقبل کے سکول: ایک خاکہ —- آمنہ غلام قادر

0

دنیا بدل رہی ہے ، اور اس کے ساتھ ساتھ تعلیم و تدریس کے اہداف بھی، طریقہ کار بھی تبدیل ہورہا ہے۔ مستقبل بینی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اکیسویں صدی کی ابتدا میں دنیا نے ٹیکنالوجی، سائنس اور معاشرت و معیشت کے میدانوں میں جن تبدیلیوں کا مشاہدہ کیا ہے وہ اگلے چند سالوں میں آنے والی تبدیلیوں کا عشر عشیر بھی نہیں ہیں۔ ایک عرصہ گزرا جب مومنانہ بصیرت رکھنے والے شاعر مشرق نے اس طرف اشارہ کیا تھا

آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے، لب پہ آسکتا نہیں

محو حیرت ہوں یہ دنیا کیا سے کیا ہوجائے گی

اس تیز رفتار تبدیلی کے پس منظر میں زندہ قومیں اور ان قوموں کے اجتماعی فورم اپنے لیے لائحہ عمل طے کررہے ہیں، ان تبدیلیوں کے استقبال اورمقابلہ کے لیے اپنی نئی نسلوں کو تیار کرر ہے ہیں، یہ تیاری کسی بھی دوسرے شعبہ کی بجائے شعبہ تعلیم کے ذریعے ہی ہورہی ہے۔ ورلڈ اکنامک فورم ایسی ہی زندہ قوموں کا ایک اجتماعی فورم ہے جس نے حال ہی میں اپنے ایک رپورٹ میں تعلیم کے مستقبل کی صورت گری کی ہے ۔ اس تصویر میں انہوں نے یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ روایتی اورفرسودہ تعلیم کی مستقبل میں کوئی گنجائش نہیں ہے، مستقبل میں بچوں میں پڑھائی اور لکھائی کے ساتھ ساتھ کچھ اور صلاحیتیں پیدا کرنا ہوں گی تب ہی وہ آنے والے دور کا مقابلہ کرپائیں گے۔ انہیں قیادت کرنے، لوگوں سے معاملات کرنے، ٹیم ورک کرنے ، ٹیکنالوجی کے انسان دوست انداز میں استعمال اور عالمی شہریت جیسی مہارتیں اپنےاندر پیدا کرنا ہوں گی ، تب وہ اس مشکل اور حیرت انگیز دور میں اپنی بقا کا اہتمام کر پائیں گے۔ یہ رپورٹ دراصل بہترین کی بقا، کے قانون کے اطلاق کی پیش گوئی کررہی ہے ، یہ بقا صرف ان لوگوں کے حصے میں آنے والی ہے جو اپنے اندر آنے والے دور کی مطلوبہ مہارتیں بدرجہ کمال پیدا کرنے کی سعی و جہد کریں گے اور حقیقی معنوں میں ایک عالمی ریاست کے شہری بننے کے لیے خود کو تیار کرپائیں گے۔

یہ رپورٹ ہمارے جیسے ترقی پذیر ملک کے شہریوں، اس کے ماہرین تعلیم اور تعلیمی اداروں سے وابستہ سوچنے سمجھنے والے ذہنوں کو اس نوشتہ دیوار کو پڑھنے اور اس کے مطابق اپنے نظام تعلیم کو ڈھالنے کی دعوت دے رہی ہے، آئیے دیکھتے ہیں، اس رپورٹ میں کن اہم باتوں کی طرف اشارات کیے گئے ہیں اور ہم ان نکات کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنے ہاں تعلیم کی جہات کو کس طور استوار کرپاتے ہیں:

عالمی شہریت/گلوبل سٹیزن شپ کی مہارتیں

تیزی سے بدلتے دور میں افراط زر،گلوبلائزیشن،ٹیکنالوجی کا بدلتا دور اور مواقع کی عدم مساوات کی وجہ سے ناانصافی اورباہمی سماجی فاصلوں میں دوریاں پیدا ہوئی ہیں تو دوسری طرف زمینی سرحدیں بے معنی ہوتی جارہی ہیں اور ترقی اور مساوات کے لیے کوششیں تیز ہورہی ہیں۔ بچوں کو اس نئے تناظر میں باہمی سماجی روابط کو مضبوط کرنے،استحکام کو بڑھاوا دینے اور مثبت تبدیلی کے علمبردار بننے کی مہارتیں سکھانے کی ضرورت ہے۔

گلوبلائزیشن اور ٹیکنالوجی ان رجحانات کے بنیادی محرکات ہیں،یہ خود انحصار دنیا اور عام آدمی کو بڑے پیمانے پر اپنا قابل قدر کردار ادا کرنے کے مواقع فراہم کرنے کا بھی سبب بن رہے ہیں۔ ایک خوشحال اور باہمی تعاون والی دنیا پیدا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ایک ایسا تعلیمی نظام قائم کیا جائے جو بچوں میں وسیع دنیا بارے آگہی،عالمی مسائل بارے مربوط فہم و ادراک اور عالمی برادری میں اپنا فعال کردار ادا کرنے کی صلاحیتوں میں بہتری لائی جاسکے۔

گرین سکول، بالی، انڈونیشیا

گرین سکول 2008 انڈونیشیا کے شہر بالی میں قائم کیا گیا۔ اس سکول کا بنیادی مقصد ایسی تعلیم کا فروغ جو ماحولیاتی استحکام پیدا کرے اور مستقبل میں ماحول دوست لیڈرز پیدا ہوں سکیں۔ یہ سکول “جنگل میں منگل” کی عملی تصویرہے۔اس وقت اس ادارے میں تین سے اٹھارہ برس کے 800 بچے زیر تعلیم ہیں۔ 2021 تک نیوزی لینڈ،جنوبی افریقہ اور میکسیکو میں بھی شاخیں کھولنے کا منصوبہ ہے۔

یہ سکول اپنے ظاہری بناوٹ کے اعتبار سے بھی انفرادیت کا حامل ہے۔ اس کی عمارت بغیر در وبام کے اور فرنیچر بانسوں سے بنائے گئے ہیں ۔ اس کے طلبہ کے لیے خاص قسم کی گاڑیاں تیار کی گئی ہیں جو کھانے کی تیل سے چلتی ہیں۔ یعنی ہر اعتبار سے فطرت کے رنگوں سے سجایا گیا سکول یقینی طور پر ماحول دوستی کا عملی نمونہ ہے۔ اس کو دو قسم کے کیمپس میں تقسیم کیا گیا ہے:

انوویشن ہب (تخیلقی مرکز): یہ ایک قسم کا میکر سپیس (جدید طرز کی سائنس لیب) ہے جس میں ترکھان کا سامان،تھری ڈی پرنٹر اور کندہ کاری کا سامان موجود ہے جبکہ

پراجیکٹ ہب: اس میں طلبہ کمرہ جماعت کے لیے پراجیکٹ کے آئیڈیاز فراہم کیے جاتے ہیں۔

بچے ابتدائی مراحل میں زیادہ تر وقت باغ اور باورچی خانے میں گزارتے ہیں۔ قدرت سے محبت اور خوراک کی قدر کرنا سکھایا جاتا ہے۔ 2018 میں بچوں نے ماہانہ 150 کلوگرام کھانے کی مصنوعات تیار کیں۔ مزید براں اس سکول کے طلبہ نے ایک دریا پر بانسوں سے پُل تیار کی اور سولر اور ہائیڈرو پاور پیداکرنے کے منصوبے بھی لگائے۔2012 کی ایک تحقیق کے مطابق اس سکول میں زیر تعلیم طلبہ میں سٹریس بہت کم،پرسکوں ذہنی حالت،ذاتی ذوق و شوق اور ایک پر جوش جذبہ دیکھنے کو ملا۔

طرز نو/تازہ خیالی اور تخلیقی مہارتیں

اختراع،لچک پذیری اور تبدیلی کے ساتھ مطابقت پیدا کرنا چوتھے صنعتی انقلاب کی بنیادی ضروریات ہیں۔ تیزی سے بدلتے معاشی تناظر میں صرف وہی ممالک ترقی کی راہ پر گامزن رہ سکیں گے جو نئے تصورات،رجحانات،مصنوعات اور نظام پیدا کرنے اور ان کو اختیار کرنے پر آمادہ ہوں گے۔تجسس، تنقیدی طرزِ فکر، نئے زاویوں کی تلاش،چیلجز کے سامنا کے لیے تیار رہنا،نئے راستے اپنانے کے لیےخود کو ہردم مستعد رکھنا جیسی مہارتیں سکھانے کی ضرورت ہے۔ان مہارتوں کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال، آن لائن تدریس کوڈنگ گیمز، موبائل اپلیکیشن کا استعمال اور این جی اوز اور اداروں سے پارٹنر شپ کے طریقے استعمال کیے جاسکتے ہیں۔

مسقتبل کے سکول

دی نالج سوسائٹی، کینیڈا

2006 میں ٹورنٹو میں قائم کیا گیا،یہ 13 تا 18 برس کی عمر کے بچوں کے لیے تین سالہ غیرنصابی پروگرام ہے۔ اس میں ٹیکنالوجی اورمہم کارانہ مہارتیں سکھائی جاتی ہیں۔ یہ کورس ستمبر تا جون کے دوران معمول کی نصابی تعلیم کے ساتھ ہفتے میں 10 گھنٹۓ کا پروگرام ہے۔ یہ پروگرام نیویارک،لاس ویگاس،اوٹاوا اور بوسٹن میں بھی شروع کیا جاچکا ہے۔اس ادارے کی تشکیل کا بنیادی مقصد بڑی کمپنیوں کے تعاون سے جدید مہارتیں جیسے بلاک چین،ربوٹکس اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کو دنیا میں مثبت تبدیلی کے لیے کیسے استعمال اور سمجھا جاسکتا ہے۔

یہ پروگرام تین سال کی مدت کا ہے۔ پہلے سال میں بنیادی تیکنیکی اور ابلاغی (کمیونی کیشن) مہارتوں کے لیے مختص ہے۔ اس عرصے میں 40 سے زائذ ٹیکنالوجیز سے واقف کرایا جاتا ہے اور ان میں سے اپنے ذوق کے مطابق ٹیکنالوجیز کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ دوسرے سال میں منتخب کی گئی ٹیکنالوجی بارے تفصیلی تعلیم کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ جبکہ تیسرے برس طلبہ اپنی نئی اور منفرد کمپنی بناتا ہے۔

بین الشخصی مہارتیں

ٹیکنالوجی اور مشینی دور میں بھی انسان کے کردار کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ بلکہ ملازم رپورٹ قیادت/لیڈرشپ،سماجی اثر و رسوخ،جذباتی ذہانت مستقبل میں ان بین الشخصی مہارتوں کی مانگ میں بہت زیادہ بڑھ جائے گی۔ بچوں میں ان سکلز کو پیدا کرنے سے ان کا دوسرے سے نہ صرف صحت مند تعلق پیدا ہوگا بلکہ مستقبل میں ترقی کے امکانات میں اضافہ ہوگا۔ ایک تحقیق کے مطابق اگر ان غیر ادراکی مہارتوں کو ابتدائی عمر میں سکھا دیا جائے تو اس کے شخصیت پر طویل مدتی اثرات مرتبت ہوتے ہیں جیسے زیادہ تنخواہ،بہتر صحت اور جرائم میں خاطر خواہ کمی کے امکانات روشن ہوجائیں گے۔ ایسی مہارتیں پیدا کرنے کے لیے تدریسی طریقوں میں جدت: سماجی شعور اور معاشرے کی رنگارنگی سے واقفیت کرانا،نصاب میں جدت: سماجی اور جذباتی نشوونما جیسے پہلوؤں پر زیادہ توجہ دینا،ابلاغی اور پبلک ڈیلنگ کو نصاب کا حصہ بنانا،ڈسپلن پالیسی،کمیونٹی پارٹنرشپ اور دیگر مواد کی تیاری اور دستیابی جیسے اقدامات کی ضرورت ہے۔

ساؤتھ ٹیپیولا ہائی سکول،فن لینڈ

فن لینڈ کا تعلیمی نظام دنیا کا سب سے بہترین نظام تصور کیا جاتا ہے جبکہ ساؤتھ ٹیپیولا ہائی سکول فن لینڈ کا سب سے بہترین سکول ہے اسے ایٹس(ای ٹی آئی ایس) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ سکول 1958 میں قائم ہوا اس وقت 500 طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ یہ سکول قومی نصاب کے ساتھ انٹرپرینورشپ،فعال شہریت کے حقوق و فرائض اور سماجی شعور پر خاص توجہ دی جاتی ہے۔ مثلاً “ینگ انٹرپرینورشپ پروگرام” میں طلبہ دوران کورس اپنا کاروباری منصوبہ تیار کرتے ہیں۔ کمرہ جماعت میں روایتی لیکچر کے بجائے کسی بھی عنوان پر بھرپور اور صحت مند بحث و مباحثہ کے ذریعے پڑھایا جاتا ہے۔

اس ادارے کے طلبہ قومی اور بین الاقوامی میدان میں ذاتی سطح پر کاروبار سے متعلق آئیڈیاز اورعملی اقدامات کے لیے مقابلے جیت چکے ہیں۔ مزید ازاں مختلف ممالک کے طلبہ کو سکالرشپ فراہم کی گئی اور یورپی یونین میں اپنے تجربات کی روشنی میں اپنی خدمات فراہم کرجاچکی ہیں۔

ایٹس پرائیویٹ کمپنیوں جیسے ڈیل،ایچ پی اور مائیکروسوفٹ کے تعاون سے اپنا نصاب تشکیل دیتا ہے۔ نصاب میں ٹیکنالوجی طلبہ کی ضرورت کے مطابق شامل کیا جاتا ہے۔

یہ ادارہ فن لینڈ میں سالانہ امتحان میں اعلیٰ کاکردگی کا مظاہرہ کرچکا ہے۔اس کے طلبہ قومی سطح پر ریاضی اور کمیسٹری میں نصف سے زائد پوزیشنیں لے چکے ہیں۔ ملک کے میڈیکل،قانون اور ٹیکنالوجی کے سکولوں میں اس ادارے کے طلبہ کی تعداد زیادہ ہے۔

ٹیکنالوجی کی مہارتیں

تیزی سے بدلتے دور میں افراط زر،گلوبلائزیشن،ٹیکنالوجی کا بدلتا دور اور مواقع کی عدم مساوات کی وجہ سے ناانصافی اورباہمی سماجی فاصلے پیدا ہورہے ہیں تو دوسری طرف زمینی سرحدیں بے معنی ہوتی جارہی ہیں اور ترقی اور مساوات کے لیے کوششیں تیز ہورہی ہیں۔ بچوں کو اس نئے تناظر میں باہمی سماجی روابط کو مضبوط کرنے،استحکام کو بڑھاوا دینے اور مثبت تبدیلی کے علمبردار بننے کی مہارتیں سکھانے کی ضرورت ہے۔

گلوبلائزیشن اور ٹیکنالوجی ان رجحانات کے بنیادی محرکات ہیں،یہ خود انحصار دنیا اور عام آدمی کو بڑے پیمانے پر اپنا قابل قدر کردار ادا کرنے کے مواقع فراہم کرنے کا بھی سبب بن رہے ہیں۔ ایک خوشحال اور باہمی تعاون والی دنیا پیدا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ایک ایسا تعلیمی نظام قائم کیا جائے جو بچوں میں وسیع دنیا بارے آگہی،عالمی مسائل بارے مربوط فہم و ادراک اور عالمی برادری میں اپنا فعال کردار ادا کرنے کی صلاحیتوں میں بہتری لائی جاسکے۔تعلیمی پالیسی سازوں کو چاہیے کہ وہ اپنے ملک میں

ٹیکنالوجی ڈیزائن اور ڈویلپمنٹ کے لیےپبلک پالیسی فریم ورک،ڈیجیٹل ذمہ داریوں کے اصول و ضوابط،تدریسی طریقوں میں کمپیوٹیشنل طرزِفکر کے مطابق نصاب سازی کی جائے۔مزید براںڈیجیٹل مہارتیں:پروگرامنگ،ڈیجیٹل فرائض اور ٹیکنالوجی کا موئثر استعمال اور قومی سطح پر پروگرامنگ،ربوٹکس اور ٹیکنالوجی کے مقابلہ جات،سائنس میلے اور نمائشوں کا اہتمام کیا جائے۔

ٹیکی اکیڈمی، ویتنام

یہ اکیڈمی 6 تا 18 برس کی عمر کے بچوں کے لیے کورسز ڈیزائن کرتی ہے۔ اس اکیڈمی نے پانچ شہروں میں 16 لیب قائم کی ہیں اور تیس سکولوں کے ساتھ پاٹنرشپ کی ہے۔ تعطیلات کے دوران خصوصی کوڈنگ کیمپ کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے جس میں بچوں کو ٹیکنالوجی کی مہارتیں سکھائی جاتی ہیں۔

اس کے تمام پروگرام اور کورسز ٹیکنالوجی کی تعلیم کے لیے مختص ہیں۔ ان میں پروگرامنگ،ربوٹکس،ویب سائٹ ڈیزائن،ملٹی میڈیا کمیونی کیشنز اور اینی میشن شامل ہیں۔ایک کلاس طلبہ کی بہت محدود تعداد یعنی تین سے آٹھ بچوں پر مشتمل ہوتی ہے۔

سالانہ ٹیکنالوجی مقابلہ ” مائن کرافٹ ہیک تھون” کا اہتمام کیا جاتا ہے جس میں ملک بھر ایک ہزار سے زائد طلبہ حصہ لیتے ہیں۔

اس اکیڈمی کے طلبہ قومی اور بین الاقوامی سطح کے مقابلہ جات میں حصہ لیتے ہیں اور کامیابی کے جھنڈے گاڑتے ہیں:

میں پانچ تمغے جیتے اور  2017 میں ٹیکی اکیڈمی کے طلبہ نے وی کوڈ انٹرنیشنل چلڈرن پروگرام

2019 میں ورلڈ ربوٹ اولمپیڈ میں چاندی کا تمغے جیتے۔۔

 

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20