وبا کے دنوں میں سرگوشیاں —- شازیہ ظفر کا خط زارا مظہر کے نام

0

پیاری زارا
پرخلوص سلام

اس وبائی خزاں کے بے کیف دنوں میں تمہارے محبت نامے مثل باد صبا موصول ہوتے ھیں تو یقین مانو دل ٹھہر سا جاتا ہے اور خیریت جان کر یک گونہ تسکین ملتی ہے۔ عافیت کی دعا ہر آن دل سے نکلتی ہے کہ سبھی پیارے امان میں رہیں۔

تمھاری شخصیت کی طرح عمدہ پیرائے میں لکھے ہوئے تمھارے یہ نامے بھی بڑے دلچسپ ہوتے ہیں۔۔ میں انکی منتظر رہتی ہوں۔۔ وبا کے پژمردہ دنوں میں بھی تمھاری شگفتہ بیانی لاجواب ہے۔ ۔ ۔ تمھاری روزمرہ مصروفیات کے یہ دلچسپ قصے میری توانائی بحال کرنے میں بہت معاون ہیں۔ ۔ تم نے پوچھا ہے کہ وبا کے یہ شب و روز کیسے گذر رہے ہیں۔۔؟ کیا لوگ ادھر بھی اداس ہیں۔۔؟ کیا یہاں بھی سب یہی سمجھتے ہیں کہ بچھڑنے کی گھڑی آن پہنچی ہے۔۔؟ کیا بہار اب پھر نہیں آئے گی؟؟ اور۔۔ کیا اوروں کی طرح میرے سر پہ بھی سب تماشہ ختم ہوئے جانے کا خوف منڈلاتا ہے؟

میں سچ کہوں تو یہ جو کچھ بھی ہو رہا ہے بہت عجیب ہے۔ ۔ شاید میرے لیے یہ وبائی صورتحال اتنی مایوس کن نہیں ہے جتنا اپنے لوگوں کے غیر سنجیدہ رویئے تکلیف دہ ہیں۔ ۔ احتیاطی تدابیر سے متعلق عدم تعاون، بچھڑ جانے کے خوف کے بجائے مال و متاع جمع کرنے کی ہوس اور حرص مجھے بہت دکھ دے رہی ہے۔ ۔ میں اس پر افسردہ بھی ہوں اور ملول بھی۔ ۔ ۔ کبھی کبھی یہ افسردگی اتنی بڑھ جاتی ھے کہ دم گھٹنے لگتا ہے۔ ۔ ۔ ایسے میں کچھ بھی نہیں سوجھتا اور تب میرے قدم چپ چاپ اپنے کنج عافیت کی جانب بڑھنے لگتے ہیں۔ ۔ ۔ ارے ہاں کنج عافیت سے یاد آیا۔ ۔ کتنی ہی بار تم سب ہمجولیوں نے میرا کنج عافیت دیکھنے کی خواھش کی ہے۔ ۔ وھاں موجود میرے پیارے ساتھیوں سے ملنے کا اشتیاق ظاھر کیا ہے۔ ۔ تو چلو آج اس آدھی ملاقات میں تمھیں اپنے کنج عافیت میں لیئے چلتی ہوں۔ ۔ ۔

آؤ ناں۔ ۔ ۔ میرے لیے تمھیں یہ سیر کروانا ذرا بھی دشوار نہیں ہے۔ ۔ ۔ میں نے تو بارھا تم سب کو یہاں اپنے ساتھ ہی پایا ہے۔ ۔ ۔ اپنے ان دوستوں کو تم سب کے کتنے ہی قصے سنائے ہیں۔ ۔ ۔ چلو آج تمھیں ان پیارے دوستوں کے قصے سناتی ہوں۔ ۔ ۔

ادھر دیکھو۔ ۔ ۔ جب بھی میں اداس ھو کر یہاں کا رخ کرتی ہوں میری پہلی نظر ان چیری ٹماٹر کے گچھوں پر پڑتی ہے یہ ھمیشہ ہی مہربان سی خیر مقدمی مسکراھٹ کے ساتھ میرا استقبال کرتے ہوئے پوچھتے ہیں۔ ۔ ۔ تھک گئیں؟؟ یہ بھی نہ سوچا وہ جو ٹماٹروں کے سبز گچھے منتظر ہیں کہ جب وہ رنگ بدلیں گے تو تمھارے چہرے پہ پھوٹتی شفق رنگ مسرت کو دیکھ کر اپنے سرخ رنگ کو اور نکھرتا پائیں گے انکا کیا بنے گا۔ ۔؟ ابھی میں جواب سوچ ہی رہی ہوتی ہوں کہ میری نظریں ایڈینیم کے اس گملے پر ٹھہر جاتی ہیں کہ جس میں میں نے دو برس پہلے اپنے ہاتھوں سے نرم روئی کے گالے جیسے بڑھیا کے بالوں والے بیج بوئے تھے۔ ۔ اب ان پر بڑے خوش رنگ گلابی شگوفے پھوٹ رہے ہیں۔ ۔ ۔ ایڈینینم کے پودے خفگی سے بڑبڑاتے ہیں۔ ۔ تمھیں تو بڑی شدت سے انتظار تھا ان کلیوں کے کھلنے کا۔ ۔ اپنے ھاتھوں پروان چڑھی اولاد کے ہاں زندگی کو وجود میں آتے دیکھ کیا محسوسات ہوتے ہیں۔ ۔ کیا اب تمھیں اس پرکیف تجربے کا انتظار بھی نہیں۔ ۔؟ میں خفیف سی مسکراہٹ کے ساتھ اثبات میں سر ھلاتی ہوں۔ ۔ مجھ میں زندگی کی رمق سر اٹھانے سی لگتی ہے۔ ۔ ۔ مجھے مسکراتے دیکھ پالک کی ننھی کونپلیں ہوا کی نرم گدگداتی سرسراھٹ سے جھومتے ہوئے مجھے شکایتی لہجے میں پکارتی ہیں۔ ۔ ۔ اور جو تم نے ہمیں اپنے اس کنج عافیت میں بڑے چاؤ سے بلایا ہے۔ ۔ ۔ رمضان المبارک کے اہتمام میں بڑے پیار سے لگایا ہے۔ ۔ وہ جو وقت افطار تمھارے بچے پالک کے کُرکُرے پکوڑوں کے لیے بیتاب رہا کرتے ہیں جسکی خاطر چڑیوں اور تمھارے بیچ ہمارے لیے ایک خاموش جنگ چلتی ہے۔ ۔ تھک ہار کر تم ان سے کہتی ہو۔ ۔ ۔ اچھا چُگ لو تھوڑی پالک لیکن کچھ میرے بچوں کے لیے بھی چھوڑ دو ناں۔ ۔ میں بھی تم جیسی چڑیا ہوں ایسی ھی فکر مجھے بھی ہے اپنے بچوں کی۔ ۔ ۔ دیکھو تمھاری اداسی کو دور کرنے کے لیے چڑیوں نے بھی کونپلیں نوچنا چھوڑ دی ہیں۔ ۔ ۔ میں پھدکتی چہچہاتی چڑیوں کی جانب شکرگذاری سے دیکھتی ہوں۔ ۔ وہیں بینگن کے کاسنی پھولوں پر نظر پڑتے ہی کانوں میں مانوس آواز گونجتی ہے۔ ۔ ۔ بینگن نہیں لگے آپ کے ھاں۔ ۔ بینگنوں کا بھرتہ کب کھلا رہی ہیں۔ ۔ ۔ ماں جائے کے ان جملوں بازگشت میرے وجود میں نئی توانائی بھر دیتی ہے۔ ۔ اور میں گول چمکدار جامنی بینگنوں کو تصور میں لاتے ھوئے سوچتی ہوں مجھے اس وبائی سیلاب میں خود کو ہرگز بہنے نہیں دینا۔ ۔ ۔ مجھے اپنے قدم مضبوطی سے جمانا ہی ہونگے۔ ۔ ۔ دفعتاً مجھے قریب ہی کچھ بھنبھاھٹیں سنائی دیتی ہیں۔ ۔ نظریں آوازوں کا تعاقب کرتی ہیں کھٹی مٹھی سی خوشبو میں بسی لیموں کی نازک ٹہنیوں پر موتیوں کی مانند پروئے سفید پھولوں پر شہد کی مکھیوں کا جاری رقص کتنا دلچسپ ہے۔ ۔ ۔ جیسے شہد کی مکھیاں جتا رہی ہوں۔ ۔ ہمت نہیں ہارتے آخری سانس تک وبا کے مقابلہ کرتے ہیں راضی بہ رضا ہو کے۔ ۔ ۔ میں انکی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوتی ہوں ہاں بالکل ہم اسکی رحمت سے مایوس نہیں ہونگے بہادری سے وبا کا مقابلہ کریں گے۔ ۔ ۔ اور میری ان ہمت بھری باتوں پر سونجھنا کے پتے یوں تالیاں بجاتے ھیں جیسے محبت بھرا سندیس دیتے ہوں۔ ۔ ۔ چلو آؤ چھم چھم کھیلیں۔ ۔ ۔ ۔ میں خوشی سے انکی جانب قدم بڑھاتی ہوں مگر رستے میں مرچ کے پودے میں توجہ کھینچ لیتے ہیں۔ ۔ ۔ گہرے سبز پتوں کے بیچ ڈھیر سارے مرچوں کے سفید پھول شرارتی انداز میں شگفتگی سے دیکھتے ھوئے مجھے وہ سارے جملے یاد کرواتے ہیں جو میں نے اور میرے باغبان ساتھیوں نے مرچیں لگانے کے حوالے سے ایک دوسرے پر چست کیئے تھے۔ ۔ ۔ ۔ میں مرچ کے پودوں سے ہنستے ھوئے کہتی ہوں۔ ۔ ۔ ہاں ہاں مجھے سب یاد ہے اور میں اپنے باغبان ساتھیوں کے ساتھ شرارتی بچوں کے ٹولے کی طرح بار بار یہ جملے دھرانا اور ان جملوں پر بار بار کھلکھلانا چاہتی ہوں۔ ۔ ۔ میری یہ کھلکھلاتی سرگوشی سن کر گلاب کے پودوں پر آئی عنابی رنگ کونپلیں خوشی سے جھومتی ہیں میں چونک کر توجہ ادھر کرتی ہوں اور دلفریب منظر دیکھ کر متحیر سی رہ جاتی ہوں کہ بیلے کی ہری بھری جھاڑی پر بہت سی نئی کلیاں کھلنے کو بیتاب ہیں۔ ۔ ۔ ۔ مجھے انکی روٹھی پکار سنائی دیتی ہے۔ ۔ ۔ وہ جو تم نئے برس کی آمد کے ساتھ ہی ہمارے پودوں کی تراش خراش شروع کر دیتی ہو۔ ۔ ۔ ہر روز بڑی ہی بے قراری سے نئی کونپلوں میں چھپی سفید کلیاں کھوجتی ہو ہمارے پھولوں کو بڑی محبت سے بالیوں میں پروتی، گجرے بنا کے ہاتھوں میں سجاتی ہو۔ ۔ ۔ تم جوکہتی ہو کہ بیلا جہاں کہیں بھی کھلے یہ استعارہ ہے میری محبت کا۔ ۔ ۔ ہمارے ہوتے تم اداس کیسے ہو سکتی ہو۔ ۔ ۔ کیسے جینا بھول سکتی ہو۔ ۔ ۔ پھر ہمارا کیا بنے گا۔ ۔ ۔ مالن کے بناء باغ سونا نہ ہو جائے گا۔ ۔ کیا تم یہی چاہتی ہو۔ ۔؟

نہیں نہیں۔ ۔ میں یہ رونق مانند پڑنے نہیں دونگی میں بہت پرجوش ہو کر سوچتی ہوں اداسی کی دھند چھٹنے لگتی ہے۔ ۔ ۔ ۔ میرے یہ پیارے ساتھی میری ہمت جٹانے میں اور میری اداسی کو شکست دینے میں ہر بار کی طرح کامیاب ہو جاتے ہیں۔ ۔ میری آنکھوں میں انکی محبت جگنو بن کر چمکنے لگتی ہے۔ ۔ ۔ احساس تشکر سے لبریز۔

پیاری سکھی کنج عافیت میں اپنے ساتھیوں سے اس ملاقات کے بعد ہر بار ہی میں منہ اوپر کر کے، ہمیشہ ہی کی طرح آسمانوں میں کچھ کھوجتی ہوں اور کہتی ہوں۔ ۔ ۔

اے خدائے بے نیاز مالی اگر توجہ ہٹا لے تو باغ ویرانے میں بدل جاتے ہیں، میرے پالن ہار ہماری خطاؤں پر درگذر فرما اور اپنے کرم کی برسات جاری کر دے۔ ۔ ۔ اے خدائے ذوالجلال ہمیں ہلاکت میں نہ ڈال دینا میں تیری رحمتوں کے سائے میں جینا چاھتی ہوں اپنے پیاروں کو امن اور عافیت سے جیتے دیکھنا چاہتی ہوں۔ ۔ ۔ ان عزیز اور پیارے چہروں پر زندگی کو مسکراتے دیکھنا چاہتی ہوں۔ ۔ انھیں وبا کے نہیں بہار کے سندیس بھیجنا چاہتی ہوں۔

تمھاری خیریت خواہاں اور
دعاؤں کی طالبگار تمہاری ساتھی
شازیہ ظفر

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20