معیشت کے انڈیکیٹرز معیشت اور عوام کا نصیب: (3) لالہ صحرائی

0

معیشت کے انڈیکیٹرز میں کئی چیزیں شامل ہیں جن سے معیشت کی اصل قوت یا کمزوری فلٹر کی جا سکتی ہے، ان میں سے کچھ چیزیں آبادی کیساتھ براہ راست کنٹراسٹ کرتی ہیں جن کا راست تناسب آسودگی اور انکی فراوانی خوشحالی کی علامت ہوتی ہے، ان چیزوں میں جی۔ڈی۔پی نومینل،پرچیزپاورپیریٹی یا پی۔پی۔پی، جی۔ڈی۔پی گروتھ ریٹ، پرکیپیٹا انکم، انویسٹمنٹ، پروڈکشن اور ایکسپورٹ میکسیم ہو، انفلیشن، ڈومیسٹک ڈیمانڈ، کنزمپشن، اور بیروزگاری منیمم ہو تو معیشت مضبوط اور عوام خوشحال ہوتی ہے۔

دیگر انڈیکیٹرز میں فسکل بیلنس، پبلک ڈیبٹ، انٹرسٹ ریٹ، ایکسچینج ریٹ، اسٹاک مارکیٹ، امپورٹ ایکسپورٹ ٹریڈ بیلنس اور زرمبادلہ کے ذخائر میں سے کچھ چیزیں کم اور کچھ زیادہ ہونی چاہئیں لیکن ان کا تعلق عوام سے کم اور بزنس ایکٹیویٹی سے زیادہ ہے۔

جی۔ڈی۔پی اور انفلیشن ہمارے ساتھ براہ راست تعلق رکھتے ہیں باقی سب اس کی بائی۔پراڈکٹس ہیں اس لئے دیگر تمام انڈیکیٹرز غیر متعلق ہونے کی بنا پر ہماری گفتگو سے باہر ہو جاتے ہیں۔

ملک کی سالانہ کاروباری مالیت کا حجم یا جی۔ڈی۔پی کا سالانہ والیم ہی معیشت کا کل حجم ہوتا ہے، یہی وہ بنیادی انڈیکیٹر ہے جس سے حکومتوں کی معاشی خدمات یا نااہلی کا پتا چلتا ہے، جتنا کاروبار پھیلے گا اتنی ہی معیشت بڑھے گی، روزگار کے مواقع زیادہ ہوں گے، افرادی قوت کا بھرپور استعمال ہوگا، مقابلے اور مسابقت کی فضا بڑھنے سے اجرتوں کے لیول میں بھی بہتری آئے گی اور ٹیکسیشن کا لیول بھی بڑھے گا جو عوامی فلاح، بنیادی ضرورتوں کی فراہمی اور انفراسٹرکچر کی بہتری پر خرچ ہوتا ہے، عوام کی بنیادی ڈیمانڈز انہی دو چیزوں سے پوری ہوتی ہیں لہذا جی۔ڈی۔پی کو بہتر بنانے کیلئے حکومتیں اپنے اداروں اور پالیسیوں سے مختلف بزنس سیکٹرز میں اصلاحات، اقدامات اور سہولتیں فراہم کرتی ہیں تاکہ بزنس، روزگار اور ٹیکس کلیکشن زیادہ سے زیادہ ہو سکے، جی۔ڈی۔پی گروتھ کرے اور اس کی میکسیمم ریکارڈنگ بھی ممکن رہے۔

اگر تمام ملک گیر کاروباری سرگرمیاں رجسٹرڈ ہوں تو ہی جی۔ڈی۔پی کا حقیقی حجم سامنے آتا ہے اور ٹیکس کلیکشن بھی سینٹ۔پرسینٹ ممکن ہوتی ہے لیکن فی زمانہ ایسا صرف ترقی یافتہ ممالک میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنا نظام کچھ ایسا وضع کر دیا ہے کہ کوئی بندہ بھی ٹیکس نیٹ سے باہر نہیں رہ سکتا، ہر بندے کو وہاں اپنے سالانہ ٹرن اوور کا گوشوارہ داخل کرنا پڑتا ہے، نہ بھی کرے تو ہر فرد کی رپورٹ سسٹم پر موجود ہوتی ہے، اس لئے حقیقی جی۔ڈی۔پی صرف انہی ممالک کی ہے جہاں نوے فیصد معیشت رجسٹرڈ ہے۔

ان ممالک میں بنیادی طور پر پلاسٹک کرنسی رائج ہے، یعنی ہر بزنس ایکٹیویٹی ڈیبٹ کارڈ، کریڈٹ کارڈ یا بینکنگ چینلز سے ہی ہوتی ہے اس لئے ہر بندے کا حساب کتاب عیاں رہتا ہے اور ٹیکس۔ایبل سطح کو چھوتے ہی ٹیکس کٹ جاتا ہے یا لائبلٹی جنریٹ ہو جاتی ہے، تاہم غیرملکی سیاحوں، طالبعلموں اور بعض دیگر مقاصد یا ہنڈی کے ذریعے دوسرے ملکوں کا پیسہ اپنے ہاں کھینچنے کیلئے نقد لین دین پر مشتمل کچھ حصہ اوپن بھی رکھنا پڑتا ہے یا کسی اور مجبوری کے تحت اوپن رہ جاتا ہے، یہ انفارمل اکانومی ہر ترقی یافتہ ملک میں دس فیصد یا کہیں کچھ زائد سطح پر بھی موجود ہے۔

اس اوپن پورشن کے ذریعے، ڈبل نیشنیلٹی ہولڈرز، کاروباری حضرات اور کارپوریٹ پروفیشنلز اپنی مخفی آمدنی، رشوتیں، امپورٹ ایکسپورٹ ٹرانزیکشنز پر چھپایا گیا سرمایہ یا کالے دھن کو وہ لوگ بھی اپنے آبائی ممالک، بزنس ریلیشن کنٹریز یا ٹیکس ہیون۔ز میں ہی پارک کیا کرتے ہیں اور وہیں جا کر ان پیسوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں لیکن مغربی دنیا نے ایسے استادوں کو پکڑنے کیلئے بھی اب ہر ملک کے ساتھ قانونی معاہدے کر لیے ہیں جن کی رو سے بیشتر ممالک میں ہر اکاونٹ کھلوانے والے کو اب ایک ڈیکلئیریشن جمع کرانی پڑتی ہے جو فوراً ان ممالک کو رپورٹ ہو جاتی ہے جن کا بندہ یہاں وہاں اکاؤنٹ کھلوائے یا ان میں پیسے کا لین دین کرے۔

[معیشت میں استحکام، ترقی یا تنزلی]
جی۔ڈی۔پی کی ترقی یا تنزلی جانچنے کیلئے ڈیفلیٹر کا فارمولا استعمال کیا جاتا ہے جو پچھلے سال کی نسبت ہونے والی ترقی یا تنزلی کا نتیجہ فراہم کرتا ہے، یہ ایک کمپاؤنڈ فارمولا ہے جسے عام آدمی استعمال نہیں کر سکتا اور فائنانس والوں کو ویسے ہی پتا ہے لہذا اسے ایک طرف رکھ کے اس سے جو جو صورتحال برآمد ہو سکتی ہیں ان کا ایک جائزہ پیش کرتے ہیں۔

[استحکام کی صورت]
ملکی آبادی میں اضافے، ملکی پیداواری صلاحیت میں اضافے اور پیداوار کی کل مالیت میں اضافے کے درمیان جب راست تناسب ہو تو یہ ایک مستحکم معیشت کی نشانی ہے، یعنی ایک سال آبادی سو افراد، پیداوار سو یونٹ اور پیداوار کی مالیت بھی سو روپے تھی تو دوسرے سال آبادی ایک سو دس افراد، پیداواری صلاحیت ایک سو دس یونٹ اور اس کی مالیت بھی ایک سو دس روپے رہے تو فی کس آمدنی دونوں سال میں برابر رہے گی، آگے آنے والے ہر دور میں جب یہ ریشو اسی طرح برقرار یا مستحکم رہے تو معاشرہ مستقل طور پر آسودہ حال یا اپنی موجودہ معاشی حالت پہ برقرار رہے گا۔

[ترقی کی صورت]
جب ملک کی پیداواری صلاحیت، آبادی کی نسبت، اپنی مقدار اور مالیت میں ہر سال بڑھتی رہے تو معاشی ترقی ہوتی ہے، مثال کے طور پر ایک سال آبادی سو افراد، پیداوار سو یونٹ اور مالیت بھی سو روپے تھی تو دوسرے سال آبادی ایک سو دس افراد، پیداواری صلاحیت ایک سو پچیس یونٹ اور اس کی مالیت بھی ایک سو پچیس روپے ہو تو فی کس آمدنی میں پچھلے سال کی نسبت اضافہ ہوا ہے، اگر یہ ریشو ہرسال اسی طرح سے برقرار رہے تو معاشرہ آسودگی سے آگے امارت کے درجے میں داخل ہوتا جائے گا۔

[بریک ایون کی صورتحال]
پہلے سال آبادی ایک سو، پیداوار ایک سو، مالیت ایک سو
سیکنڈ ایئر،آبادی ایک سو دس، پیداوار نوے، مالیت ایک سو دس

[بدحالی کے فیکٹرز]
بریک ایون خسارے کی سرحد پہ کھڑے ہونے والی صورتحال ہے، اس کے بعد آبادی کے مقابلے میں اگلی دو مقداروں میں کسی بھی طرح کی کمی بدحالی کی موجب بنتی ہے، جب آبادی کی رفتار سے پیداوار یا ریسورسز نہ بڑھیں تو بیروزگاری، جب پیداوار تو بڑھے مگر اس کی مالیت کم ہوجائے یا پیداوار کی کھپت نہ ہو تو کساد بازاری پیدا ہوتی ہے۔

معیشت کے متوازن اعدادوشمار، کسی چیز کی ایوریج کی طرح، ہمیں کسی معاشرے کی عمومی حیثیت کی خبر ضرور دیتے ہیں لیکن یہ ضروری نہیں کہ وہاں کا ہر فرد ہی خوشحال ہو، جیسا کہ پہلی قسط میں ہم نے ڈسکس کیا تھا، انفرادی خوشحالی پانچ چیزوں سے مشروط ہے، فرد کا فیلڈ و محنت، اس کا نصیب، افراد کا معاشی سرکل میں ری۔کنٹریبیوٹ کرنا، تجارتی طبقے کا بڑھنا اور سرکاری انتظامات کا اچھا ہونا، اس لئے ایک مستحکم یا ترقی یافتہ معیشت میں بھی مختلف عوامل کے تحت طبقاتی تقسیم، اونچ نیچ، امیری غریبی ہمیشہ موجود رہتی ہے تاہم معیشت کا اچھا فریمورک ہمیں ایک ایسے معاشرے میں ضرور بدل سکتا ہے جہاں کم از کم بنیادی سہولتوں اور آسودگی سے ایک فرد بھی محروم نہیں رہتا۔

اس چیپٹر کا حاصل کلام یہ ہے کہ جب کل ملکی پیداوار کی مقدار ضرب ریٹ پچھلے سال سے زیادہ ہو اور اس مالیت کو کل آبادی پر تقسیم کرنے سے فی کس آمدنی پچھلے سال کی نسبت برابر رہے تو استحکام، زیادہ ہو تو اکنامک گروتھ اور کم ہو تو تنزلی ہے اور پچھلے سال کی نسبت اگلے سال کی جی۔ڈی۔پی کی مالیت جتنے فیصد زیادہ ہو اتنے فیصد اکنامک گروتھ مانی جاتی ہے۔

ترقی یافتہ ممالک کی سالانہ فی کس آمدنی تیس لاکھ سے پچپن لاکھ روپے اور اکنامک گروتھ ایک فیصد تک ہے، تُرکی کی فی کس آمدنی دس لاکھ اور اکنامک گروتھ چار فیصد سالانہ ہے، تیسری دنیا کے ممالک میں فی کس سالانہ آمدنی ڈیڑھ لاکھ کے اردگرد اور اکنامک گروتھ پانچ فیصد تک رہتی ہے، ہمارے اڑوس پڑوس میں سب کا تقریباً یہی حال ہے۔

جی۔ڈی۔پی کی کل مالیت کو کل آبادی سے تقسیم کیا جائے تو فی کس قومی آمدنی نکل آتی ہے، جسے پرکیپیٹا انکم بھی کہتے ہیں، ہماری حالیہ فی کس آمدنی ایک لاکھ پچاس ہزار کے قریب اور اکنامک گروتھ چار سے پانچ فیصد سالانہ کے درمیان ہے۔
۔۔۔۔۔
اگلے چیپٹر میں معیشت کی بیماریوں پر بات ہوگی۔

مضمون کا دوسرا حصہ یہاں ملاحظہ کریں

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: