نیاسیاسی محاذ: کیا کشمیر کو مصائب سے نجات دلا پائے گا؟ — غازی سہیل خان

0

وادی کشمیر میں ۵؍ اگست کے بعدچل رہا سیاسی خلا اب پورا ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ اب ایک نئے سیاسی محاذ کی باضابطہ طور پر لانچنگ ہو گئی ہے۔ گزشتہ ہفتے ۸ مارچ کو سرینگر کے شیخ باغ علاقے میں اپنی رہائش گاہ پر سید محمد الطاف بخاری نے ایک پریس کانفرنس کا انعقاد کیا تھا۔ جس میں ایک نئی سیاسی جماعت کو لانچ کیا گیا۔ نئی جماعت کا نام ’جموں کشمیر اپنی پارٹی‘ رکھا گیا ہے۔ پارٹی کے صدر محمد الطاف بخاری نے میڈیا کے سامنے پارٹی کا منشور بیان کیا اور میڈیا کے تیکھے سوالات کا جواب بھی دیا۔ ایک صحافی نے بخاری سے دفعہ ۳۷۰؍ لیڈران کی رہائی وغیرہ کے بارے میں سوال کیا تو جواباً الطاف بخاری نے کہا کہ دفعہ ۳۷۰؍ ابھی سپریم کورٹ میںہے اس پر بات کرنا مناسب نہیں،لیڈران کی نظر بندی کے حوالے سے بخاری کا کہنا تھا کہ یہ اچھی بات نہیں ہے کہ جمہوری ملک میں اس طرح سے کسی لیڈر کو قید کیا جائے بلکہ اُنہیں رہا کیا جانا چاہے۔ بخشی صاحب کا اپنا ایک نظریہ تھا انکا مقصد ترقی تھاہمیں بخشی صاحب کے اقتصادی وژن کو اپنانے کی ضرور ت ہے۔ اس وقت جموں کشمیر کی حالت بہت خراب ہے زندگی کے ہر ایک شعبہ سے لوگ متاثر ہو رہے ہیں وہ چاہے خوانچہ فروش ہوں یا ٹرانسپورٹر یا دکاندار ہر ایک متاثر ہے ایسے حالات میں میرے ضمیر نے خاموش رہنا مناسب نہیں سمجھا۔ ایک اور سوال کے جواب میں بخاری کا کہنا تھا کہ کشمیر میں جو کوئی بھی عوامی مفاد میں بات کرنے کے لئے آگے آتا ہے تو اسکو مختلف ناموں سے پکارا جاتا ہے۔ ہم ہر ایک کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہیں۔ اس وقت ہمیں دہلی کے ساتھ تجارت کرنی ہے۔ ہمارا مقصد نئی دلی اور جموں کشمیر کے اعتماد کی بحالی ہے۔ کیوں کہ جو جموںوالے بھی زمین و جائداد اور نوکریوں کا تحفظ چاہتے ہیں اورکشمیر کی وادی بھی وہی چاہتی ہے۔ ہم آج جموں کشمیر کے باشندے ملے ہیں اس میں کچھ پرانے چہرے ہیں آنے والے دنوں میں ہماری پارٹی میںنئے چہرے بھی دیکھیں گے۔ وہیں خصوصی پوزیشن پر انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ’ کیا میری مخالفت کرنے سے خصوصی پوزیشن واپس دی جائیگی؟‘۔

اس نئی سیاسی پارٹی کے قیام کے بعدپارٹی کے کچھ مخالفین کا کہنا ہے کہ ان کو بی جے پی کا آشرواد حاصل ہے۔ جبکہ وہیں اس پارٹی کا منشور سیلف رول، آٹونامی، مسئلہ کشمیر کے بجائے اب محض ترقی پر آگیا ہے۔ اس نئے سیاسی محاز کی خبریں ا س وقت گردش کر رہی تھیں جب گزشتہ سال اکتوبر میں یورپی یونین کے وادی دورے کے دوران پوری وفد کے ساتھ دلی میں محمد الطاف بخاری، مظفر حسین بیگ اور عثمان مجیدنے ملاقات کی اسی سلسلے میں اکتوبر ۲۰۱۹ء میں الطاف بخاری اور مطفربیگ نے دہلی میں اجیب دووال کے ظہرانے میں شرکت کی تھی اور گزشتہ ماہ الطاف بخاری اور رام مادھو نے گلمرگ میں بھی ملے تھے۔ جبکہ اسکے بعد رواں سال جنوری میں آٹھ لیڈران نے بخاری کی قیادت میں لیفٹننٹ گورنر گریش چندر مرمو کے سامنے ۱۵ مانگوں پرمشتمل ایک میمورنڈم پیش کیا جس میں سیاسی لیڈران کی رہائی، انٹرنیٹ کی بحالی، زمین اور نوکریوں کے حقوق کے تحفظ کی مانگیں شامل ہیں تاہم آج کل لیفٹینٹ گورنر اور اس کے مشیروں کی طرف سے یہ بیانات آ رہے ہیں کہ جموں کشمیر کی عوام کو زمین،جائداد اور نوکریوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا۔ لیفٹنینٹ گورنر کے ساتھ ملاقات میں پی ڈی پی اور کانگریس کے لیڈران بھی شامل ہوئے جنہیں پارٹی کی طرف سے وجہ بتائو نوٹس جاری کیا گیا وہیں پی ڈی پی نے ایک درجن سے زائد لیڈران کو پارٹی کی بنیادی رکنیت سے معطل کیا گیا تھا۔ دوسری جانب وادی کی دوبڑی علاقائی جماعتیں این سی اور پی ٰ پی ڈی پی پہلے سے ہی اس نئے سیاسی محاذ کی مخالفت کرتے آرہے ہیں۔ نیشنل کا نفرنس نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا ہے کہ الطاف بخاری کی پارٹی لانچ میں ہر طرح سے دہلی سے مدد دی گئی اور کانگریس کہنا ہے کہ یہ بی جے پی کی ذیلی پارٹی ہے۔ وہیں دوسری اور جموں کشمیر کے بی جے پی کے جنرل سیکٹری اشوک کول نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ کشمیر میں نئے سیاسی محاذ کو ہماری مکمل تائید حاصل ہوگی اور ہم مل کر جموں کشمیر کی ترقی کے لئے کام کریں گے۔

۵ اگست کے بعد کشمیر میں سیاسی خلا مرکزی حکومت کے لئے ایک چلینچ ثابت ہوا لیکن اب الطاف بخاری کے سیاسی میدان میں نئے انداز میں انٹری کے ذریعے کشمیر میں اس خلا کو پُر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ایسا لگ رہا ہے کہ بخاری کا نیا سیاسی محاذ سنبھالنے کے بعد کشمیر کی دیگر سیاسی جماعتوں کے وجود کے لئے خطرے کی گھنٹی بج گئی ہے۔ الطاف بخاری کے ان سیاسی اقدامات کی بنا پر ہی نیشنل کانفرنس کے ایک لیڈر نے دہلی کے ایک موقر انگریزی روز نامہ دی ہندو میں کہا تھا کہ ’’آزادی، سیلف رول اور اٹونامی کے مقصد کو فرامو ش کر کے اب بخاری نے اپنی جدوجہد (مقصد) کو نوکریوں کے ریزرویشن اور زمین و جائداد کے قانون کے تحفظ کی مانگ میں تبدیل کر دیاہے جو کہ علاقائی سیاست کے لئے انتہائی خطرنا ک تصور کیا جائے گا۔ ۔ کشمیر میں نجات دہندہ کے طور پر اُبھرنے والے سیاسی لیڈر الطاف بخاری نے وادی کے ایک ہفتہ وار اخبار کشمیر لائف کے ساتھ ایک انٹرویو میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’’میں ایمانداری سے آپ سے کہوں گا کہ جب میں نے یہ فیصلہ لیا۔ تو بہت سارے لوگوں نے کہا کہ آپ کو لوگ ایجنٹ کہیں گے میں نے جواباً کہا کہ اب ایجنٹ بننے کے لئے کیارہ گیا ہے؟ کشمیر میں اب ایسی کوئی شئے نہیں ہے جس کو بیچا نہ گیا ہو۔ اگر آپ دفعہ 370 کو دیکھے گیں تو وہاں آپ اس میں کچھ بچا ہوا نہیں پائیں گے۔ میں جانتا ہوں مجھے مختلف ناموں سے پکارا جائے گا کچھ مجھے بخشی غلام محمد کہیں گے۔ ہماری جماعت کو بھی بہت ناموں سے پکارا جاتا ہے۔ مجھے اس میں کوئی شرمندگی نہیں ہوگی اگر مجھے کوئی بخشی غلام محمد کے نام سے پکارے گا۔ میں تو اللہ سے دعا مانگتا ہوں کہ مجھے بخشی غلام محمد کے قد کا بنا دے۔ پھر بھی اس نے کچھ تو اپنی عوام کے لئے کیا جس کے لئے آج بھی لوگ اُسے یاد کر رہے ہیں اللہ تعالیٰ بخشی صاحب کو جنت میں جگہ عطا فرمائے وہ خانقاہ معلی میں دفن ہیں جس کالوگوں کو بہت احترام ہے۔ یہ بات واضح رہے کہ بخشی غلام محمد نیشنل کا نفرنس کے ساتھ وابستہ تھے اور ان کو شیخ محمد عبداللہ کا قریب ترین ساتھی مانا جاتا تھا بلکہ نیشنل کانفرنس کے بانی ممبروں میں ان کو گنا جاتا ہے۔ بخشی غلام محمد نائب وزیر اعظم کے عہدے پر بھی شیخ عبداللہ کے دور میں فائز رہے ہیں۔ اسی دوران شیخ محمد عبدااللہ کے ساتھ سیاسی اختلاف کی بناء پر صدر ریاست کرن سنگھ کے ساتھ مل کر شیخ عبداللہ کے خلاف بغاوت کر کے 1953ء میں مرکزی حکومت کی مدد سے وزیر اعظم کی کرسی پر قبضہ جمانے میں کامیاب ہو گیا۔ اور شیخ محمد عبداللہ کو 9اگست 1953کو گلمرگ سے گرفتار کر کے کُد کے گیسٹ ہاوس میں قید کر دیا گیا۔ بخشی غلام محمد سب سے زیادہ دور اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے تاہم لوگ آج بھی مرحوم بخشی غلام محمد کو موقعہ پرست سیاست دان اور حادثاتی وزیر اعظم مانتے ہیں۔

نئے سیاسی محاذ کو کشمیر معوام پرانی شراب نئی بوتل میں کے مترادف ہی مانتے ہیں۔ ساتھ ہی لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ بخاری ہی وہ واحد لیڈر تھا جس کو نظر بند نہیں کیا گیا تھا یہاں تک کہ مظفر بیگ جس کو حال ہی میں پدم بھوشن سے بھی نوازا گیا ہے کو بھی چند ہفتے تک گھر میں نظر بند کیا گیا یہاں یہ شک کی گنجائش پیدا ہوتی ہے کہ الطاف بخاری اور مرکز کے درمیان پہلے سے ہی کوئی ڈیل چل رہی تھی جس کی بنا ء پر اسکو نظر بند نہیں کیا گیا۔ سماجی رابطہ کی ویب گاہوں پر نرم گرم بحثیں بھی چل رہی ہیں ایک ٹوئٹر ہنڈلر نے الطاف بخاری کی تصویر کے ساتھ کچھ اس طرح کے سوالیہ انداز میں الفاظ رقم کیے تھے ’’نیشنل کانفرنس نے ہمارا ایمان اور مستقبل بیچا، کانگریس نے ہماری زمین اور پانی بیچا،پی ڈی پی نے ہماری اُمیدوں اور جذبات کو بیچا،اب آپ ہمارا کیا بیچنا چاہتے ہو؟کپڑے اور گھر ؟‘‘عام لوگ بھی اپنے اپنے نظریے کے مطابق اس نئی سیاسی پہل کے متعلق باتیںکر رہے ہیں۔ کشمیر کی تاریخ میں یہ پہلی بار ہوا ہے جب کسی سیاسی جماعت کے منشور میں مسئلہ کشمیر کا ذکر نہیں ہے۔ بایں ہم جن جماعتوں کا منشور اور مقصد مسئلہ کشمیر کے حل کا تھا وہ بھی ہاتھی کے دانت ہی ثابت ہوئے۔ اب دیکھنا یہ ہو گا ’’کہ اپنی پاڑی‘‘ کس حد تک جموں کشمیر کی عوام کو ترقی (development) کے سلوگن کو بیچنے میں کامیاب ہوتی ہے؟

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20