مجرم ————- طیبہ ژویک

0

میں قریباً چودہ برس بعد یہاں آئی تھی ۔۔ ۔۔ اور میری نظریں مُسلسل شیشے سے باہر کا منظر دیکھنےمیں مصروف تھیں۔۔ ۔وہی سڑکیں، وہی رونق ۔ ۔وہی بھاگ دوڑ۔ ۔ہر کوئی اپنی فکر میں مصروف۔ ۔نجانے یہ لوگ واقعی ہی اتنے مصروف ہوتے ہیں یا نظر آنے کی اداکاری کرتے ہیں کہ اتنے ریپر کو کوڑے دان میں بھینکنا تک نہیں گوارا کرتے۔ ۔ اور یہ چھوٹا سا بچہ ہینڈ فری کانوں میں ٹھونسے گھوم رہا ہے۔ ۔کیا اس کے مستقبل کی فکر کسی کے پاس نہیں۔؟ یہ ڈرائیور اگر پیک مارے بغیر یہاں سے گزر جاتا تو یہ اشتہار زدہ دیوار کچھ اور صاف رہ جاتی۔۔ یہ ڈھیروں آرائشی گملے  جو ترقی یافتہ ممالک کی نقالی میں لگائے گئے ہیں، اگر ان کی جگہ مشرقی انداز سے کچھ فائدہ مند پودے لگا لیے جاتے جو آنے والے وقت میں تناآور درخت بنتے تو لاہور کا کچھ بھلا ہو جاتا۔ ۔ اف خُدا یہ بڑی دکانوں کی اس سے زیادہ بڑی تجاوزات کو کوئی ختم کیوں نہیں کرتا اور ریڑھی والوں کو بغیر کو متبادل ذریعہ دیے ہر تیسرے دن ان کی روزی چھین کر پتہ نہیں کونسے انصاف کا بول بالا کر لیتے ہیں  ۔۔ ۔ ۔ذہن  نہ ختم ہونے والے راستے جیسی سوچوں میں مگن تھا اور نظریں بچپن کے ساتھی کو ڈھونڈنے میں مصروف تھیں  کہ بس ابھی آیا ۔ابھی۔  ۔ مگر نہیں ۔ ۔نہ اسے نظر آنا تھا نہ آیا۔ ۔ ۔بددلی سے اپنا کام انجام دیا اور واپسی کی راہ لی۔  ۔ یونہی شیشے سے چِپکے واپسی کا سفر شروع ہوا۔ ۔۔ اور پھر میں نے اسے دیکھا بہت دور سے ۔ ۔ ۔ بالکل ایک بزرگ کی طرح ۔ ۔ وہ جیسے اپنی طرف بُلا رہا تھا ۔ ۔ میری آںکھیں نم ہونے لگیں۔ ۔میں اس سے مِل نہیں پائی تھی ۔ ۔ایسے افراءتفری میں ملنا بھی نہیں چاہتی تھی ۔ اس لیے کسک دل میں لیے گھر پہنچ گئی۔۔۔۔

پانچ ماہ بعد میں دوبارہ لاہور میں تھی ۔ بہنا کو یونیورسٹی سے لیا  اور لوکل واپسی کا ارادہ کیا ۔۔   متعدد قدیم عمارات اور تاریخی مقامات کے سامنے سے گزرتے ان کی حالتِ زار پر افسوس کرتے اور ان  کو تفصیل سے دیکھنے  کا ارادہ دل میں باندھتے ہوئے لاری اڈا پہنچے۔۔ ٹکٹ لے کر نشستوں پر بیٹھ گئے۔۔ میرا ذہن حسبِ معمول اپنی سوچوں میں گم ہو گیا ۔ ۔۔ ۔ ۔مقررہ وقت پر  منزل کی جانب گامزن ہوئی۔زیادہ یاد نہیں۔۔ ۔ ۔کچھ پرپیچ سا راستہ تھا۔ ۔ اسی راستے پر دو تین منٹ بعد بس  نے چکر کاٹا  اب شاید ہم  فلائی اوور پر تھے۔ ۔  مجھے  نہیں معلوم ۔ ۔ بس مجھے اتنا یاد ہے وہ بالکل میرے سامنے تھا ۔ ۔ ایک دم سے اردگرد کی ہر چیز میرے لیے بےمعنی ہو گئی ۔ ۔ ۔۔ اور میرا ذہن مجھے آٹھ دہائیاں پیچھے لے گیا۔۔ یہی جگہ تھی ۔ یہی میدان تھا۔۔ جہاں ہم جیسے ہزاروں، لاکھوں لوگوں کے مستقبل کا فیصلہ ہوا تھا۔۔ برق رفتاری سے  چہرے اور منظر بدلتے ہوئے ۔قائداعظم تا ایوب خان اور بھٹو سے طاہر القادری تک گِنے چُنے سفید اور لاتعداد سیاہ چہرے ، قیام  پاکستان، ستمبر 1965 سقوطِ ڈھاکہ اور  کارگل اور میلے اور  سیاسی اکھاڑے۔ کبھی اپنوں اور کبھی غیروں کے ہاتھوں لہو لہو ہوتے میرے مظلوم وطن کی جھیلی ساری مصیبتیں نظروں میں گھوم گئیں۔۔۔ اور ۔ ۔  لمحہ موجودہ ۔ ۔ ۔  دل کو ایک دم دھچکہ سا لگا ۔۔ سفید بلکہ مٹیالے رنگ کا  خستہ حال وجود  جسے کبھی بڑے اہتمام سے ہمارے بزرگوں نے اپنے پیاروں کی جدوجہد کی یاد میں تعمیر کیا۔۔ ۔ میرے سامنے تھا۔۔ کئی جگہوں سے رنگ اڑا ہوا۔۔ اتنے بڑے میدان میں  ایسی پررونق جگہ پر ۔ ۔بھاگتی دوڑتی زندگی میں۔ ۔ ۔ اتنے ہجوم میں ۔ ۔ ۔ سکیورٹی گارڈز اور آہنی جنگلوں کے حصار میں  مقید مینارِ پاکستان ۔ خاموشی کی زبان میں مجھ سے ہم کلام تھا۔ ۔ تمہیں پتہ ہے ۔۔ ۔ اب یہاں طالبِ علم نہیں آتے ۔ ۔ فقط سیاسی مداری  تماشا دکھانے یا میرا تماشا بنانے آتے ہیں ۔ ۔مجھے اپنا اور قیام پاکستان کا حال سننانے کی ممانت کر دی گئی ہے ۔ ۔ ۔ جوانوں کو میرے پاس آنے کی اجازت نہیں ہے۔ ۔   کہیں میں کسی سوئے ہوئے ذہن کی جستجو جگا نہ دوں۔ ۔ ۔ ۔ کہیں کوئی فرد وطنِ عزیز  کی خستہ حالی پر فقط نوحہ کناں ہونے کی بجائے حالات کو بدلنے کا عزم نہ کر ڈالے۔ ۔۔ مجھے اس آہنی حصار میں بند کر دیا گیا ہے۔   لوگوں کو میری اونچائی سے خوف آتا ہے کہ یہ حادثات کا سبب بنتی ہے۔۔ ۔ کیا میرے سامنے جو مجھ سے بلند عمارتیں ہیں وہاں حادثات نہیں ہوتے؟۔  بتاؤ مجھے !! وہ رندھی ہوئی آواز میں بولا۔ ۔ ۔ ۔ ۔میں خاموشی سے تکتی رہی۔۔ کیا کہتی ؟ ۔ میرے پاس کوئی جواب تھا ہی نہیں۔ ۔ ۔اب تو کوئی مجھے جانتا بھی نہیں۔۔ میں بھولی ہوئی یادگار ہوں۔کیا دنیا میں کسی اور یادگار کے ساتھ  بھی ایسا سلوک ہوتا ہے، شاید ہوتا ہو ۔ ۔یوں بھی تم لوگ اپنی پہچان بھلا کر نقالی کرنے کی کوشش ہی تو کرتے رہتے ہو۔ ۔ ۔وہ بولتا رہا ۔میرے ذہن میں مشیر کاضمی مرحوم کے مصروں کی تکرار چل رہی تھی

آج کے نوجواں کو بھلا کیا خبر

کیسے قائم ہوا یہ حصارِ وطن

جس کی خاطر کٹے قوم کے مرد و زن

ان کی تصویر ہے یہ مینارہ نہیں

  چند لمحات کا مختصر سا عرصہ تھا۔ ۔بس دور ہوتی گئی اور وہ  خاموشی کی زبان میں شکوہ کرتا ہوا میری دھندلائی  آنکھوں سے دور ۔ ۔ ۔ بہت دور ہوتا چلا گیا۔ ۔۔۔  

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20