وبا کے دنوں میں محبت کا نیلا پھول ——- دعا عظیمی

0
“میں نے تو سنا تھا کہ لوگ موت کے خوف سے محبت چٹھیاں سب بھول جاتے ہیں”۔
اس نے خط کو تہہ کر کے الماری میں رکھاجہاں اس کا آرائشی سامان اور زیور رکھے تھے۔ یہ دل کی شکل کی ایک سنہری ڈبیہ تھی۔
 اور ہاتھ میں رکھی رقم کو دیکھنے لگی۔
 لوگ  نہیں جانتےتھے کہ اس کا اصلی نام بلیو بیل تھا. سب لوگ اسے چٹھیاں لکھنے والی لڑکی کے نام سے جانتے تھے۔ اس نے کھڑکی کے پار دیکھا۔
نیل گگن تلےآٹھ پتیوں والے پہاڑی پھول اپنی رعنائی پر نازاں و فرحاں مسکرا رہے تھے اور دریائے ڈی دریائے ڈان کے شمال جنوب کی طرف متوازی بہہ رہا تھا صرف بیاسی میل کی مسافت پر ان دونوں کو آبنائے ابرڈن میں جا اترنا تھا۔ دریا سمندر ملنے کے لیے ہی تو اتنا لمبا سفر طے کرتے ہیں. دونوں ساتھ ساتھ بےنیازی سے  ابدی سکون سے رواں دواں  تھے۔
بلیو بیل نے گٹار پہ اپنا سریلا نغمہ بکھیرا, جو اس نے اپنی ماں سے سیکھا تھا۔
میں اور میری میٹھی محبت کبھی دوبارہ نہیں ملیں گے,
” دریا اپنی روانی میں بہیں گے اور وادی میں آٹھ پتیوں والےنیلے اور سنہری پھول کھلتے رہیں گے”,
 وہ میوزک فیسٹیول میں شرکت کی تیاری کر رہی تھی جب ہر طرف بیماری اور موت کی خبروں نے سرا سیمگی پھیلا دی۔
اس نے اکتا کے سوچا, “اف اب اسے ہر روز گھر میں ہی رکناپڑے گا.”
 کیا فریج میں آنے والے دنوں کے لیے کافی بریڈ ہے۔ اس نے تشویش سے سوچا
اوہ! نہیں جار اور بوتلیں تو سب خالی ہو چکی  تھیں۔ میں جلد ہی لے آؤں گی اس نے خود کو تسلی دی۔
 بلیو بیل نے شیشے سے پار گلہری کی طرف دیکھا جو خشک میوہ کترتے کترتے ادھر ادھردیکھ رہی تھی۔ سکاٹ لینڈ میں گرامبین پہاڑوں کے اس پار یہ ایک چھوٹی سی پھولوں کی بستی تھی۔
 شہر کے بازار میں بلیو بیل کی  رنگین چھتری تلے مخصوص چبوترے پر تین پایوں والی تپائی پر پڑی ٹائپ رائٹر اس کا انتظار کر رہی تھی۔
 بلیو بیل دو سال پہلے ایک حادثے میں  اپنے ماں اور باپ دونوں سے محروم ہو چکی تھی.اور اسی حادثے میں بدقسمتی سے معذوری اس کا مقدر بن گئ تھی. وہ اپنی ایک ٹانگ کی ہڈی ٹوٹنے کے بعد ویل چیئر کے سہارے چلتی تھی اور چٹھیاں لکھ کر معاوضہ حاصل کر کے اپنی زندگی کو چلا رہی تھی۔
بالآخر اس نے اپنی رنگین چھتری کے نیچے بنے چبوترے کی طرف جانے کا فیصلہ کیا. مسٹر جو بلیو بیل   کے قریبی ہمسائے تھے,انہوں نے اسے سمجھایا۔ بلیو بیل ان دنوں کوئی چٹھی پتر اور نامے نہیں لکھوائے گا۔ ان دنوں لوگ موت کے خوف سے محبت بھول جائیں گے۔
مگر وہ اپنے حالات سے مجبور تھی اس کے پاس رقم کب تھی .اس نے فیصلہ کرنا تھا کہ اسے بھوک سے مرنا پسند ہے یا بیماری سے۔
“”بلیو بیل بازار سنسان ہیں , اور باہر جانا خطرے سے خالی نہیں””
مسٹر جو خاصے بزرگ اور کمزور نظر آ رہے تھے اس نےمحبت سے انہیں دیکھا اورسفید دستانے چڑھائے ان کی بات کو نظر انداز کرتی ٹرام میں بیٹھ کر اپنے کام کی طرف چلی گئ۔
پھولوں کی دکان بند تھی اور باسی پھولوں کی مہک ہوا کو نئ کہانیوں کی خبر دے رہی تھی. قریبی سڑک کا مالی اپنے پودوں کی کانٹ چھانٹ میں ہنوز مصروف تھا۔
اس نے غور سے دیکھا اس راستے پر گاہک چل کر اس کے پاس تواتر سےآیا کرتے تھے. وہ عجیب متوکل لڑکی تھی. وہ اپنے کام سے کام رکھتی تھی.اور جتنے پیسے اس کی ضرورت کے لیے ہوتے تھے کما کر بے فکر ہو جاتی تھی.اس کا کام اچھا چل جاتا تھا. اس کے پاس گاہکوں کی کوئی کمی نہیں تھی۔
وہ دیر تک اپنے ٹائپ رائٹر اور سفید کاغذوں کو دیکھتی رہی. وہ لاشعوری طور پر اپنے گاہکوں کی منتظر تھی۔
کیا اب مائکل نہیں آئے گا جو اپنی محبوبہ کے لیے ہر دوسرے دن نیا پتر لکھوانے آ جاتا تھا. اور مارتھا بھی نہیں آئے گی جس کا منگیتر بارڈر پر پہرا دینے چلا گیا تھا اور ان خطوط کی گرمی سے وہ اپنادل بہلا رہی تھی اور بوڑھی سوزین جس کا بیٹا دوسرےشہر کمانے نکل گیا تھا۔
اس نے دیکھا, خوف نے سب کو جکڑ رکھا تھا… پھولوں کا سٹال بند تھا, عطر کی شیشیوں والی ریڑھی بھی صاحب فراش  تھی …
اور وہ دوکان جہاں رش ختم ہی نہیں ہوتا تھا. جہاں نقلی زیورات اور لڑکیوں کی آرائش کا سامان فروخت ہوتا تھا. ,جس کے بارے میں وہ اب  تک  فیصلہ نہیں کر پائی تھی کہ دکان  زیورات کی وجہ سے  سجی تھی یا لڑکیوں کے حسن نے اسے چار چاند لگائے ہوئے تھے مگر اب تو چاند کو گہن لگ چکا تھا. سب طرف پریشانی تھی۔
خوانچہ فروش آواز لگائے بغیر نکل گئے تھے. اور وہ بیٹھی تھی اس نے دونوں ہاتھوں پہ دستانے چڑھا رکھے تھے ..
سڑک کنارے مالی کی قینچی کی کٹ کٹ اسےاچھی لگ رہی تھی. سناٹے میں رونق کا احساس بھر رہی تھی, تب ہی اسے آواز آئی
“اب تم گھر جاؤ نیک دل لڑکی”
سیکورٹی کا لباس پہنےایک نوجوان  اس کے بہت پاس سے گزر کے اسے مشورہ دے کے آگے نکل گیا۔
کیا تم میرے گاہک نہیں بن سکتے اس نے دل میں سوچا شاید اس لیے کہ وہ آنے والے دنوں کے لیے کچھ سامان خریدنا چاہتی تھی اور اس کی پس انداز کی ہوئی رقم ناکافی تھی اور فریج جار اور بوتلیں خالی ہو چکی تھیں . وہ اور اس کی سہیلی گلہریاں کیا کھائیں گی یا شاید گلہریاں خشک میوے کے علاوہ کچھ کھا سکیں مگر بلیو بیل کا کیا ہو گا. اس نے دل میں سوچا۔
حکومتی امداد کے ملنے تک انہیں اپنا بندوبست خود کرنا پڑے گا۔
چٹکی بجاتے محبت نامے لکھ لینے والی لڑکی کی آنکھوں میں خوف تھا۔
چٹھیاں لکھنا اس کا ہنر تھا کیونکہ اسے سوزن کاری نہیں آتی تھی.وہ جانتی تھی کہ اسے کبھی کوئی محبت بھرا لفظ نہیں بولے گا, اور اس کی زندگی اس محرومی سمیت گزرے گی.وہ سوچوں میں گم تھی۔
اچانک اجنبی کو کیا سوجھی. وہ مڑ کے واپس آیا کیا آپ میرے لیے کچھ لکھ دیں گی۔
میں نے سنا ہے آپ بہت پرتاثیر محبت نامے لکھتی ہیں جو دلوں کو باہم جوڑ دیتے ہیں. گویا نوجوان اس کے متعلق کچھ پہلے سے جانتا تھا۔
بلیو بیل کی مغموم نگاہوں میں امید روشن ہوئی..جی جی کیا آپ کو لکھوانا ہے. اس کی آرزو پوری ہوگئ۔
کیوں نہیں۔
کس کے نام
محبوبہ کے نام
وہ کہاں رہتی ہے… اس نے پوچھا
اور کاغذ ٹائپ رائیٹر میں ڈالا او
اور مہربانی کر کےخط کا مدعا بتائیں
اجنبی خواب کے سفر پہ نکل گیا…
اسے لکھیں کہ وہ اس دنیا کی سب سے حسین اور خوبرو دوشیزہ ہے اور یہ کہ
اس نے لکھا
“دختر خوش گل”
اسے بتائیں کہ میں ایک عرصے سے اس سے محبت کرتا ہوں اور چاہتا ہوں کہ وہ میری زندگی میں شامل ہو جائے.
 اچھا وہ گہری سوچ میں ڈوب گئ. وہ خط کا متن تیار کرنے لگی بلکہ
  لفظوں کے گلاب چننے لگی ,
  اجنبی نے سوچا, جب اس نے کسی سے مجبت نہیں کی تو یہ گلابی فر والے کوٹ میں لپٹی لڑکی اس شیریں احساس کو لفظوں کے پیمانے میں کیسے انڈیلتی ہے۔
  خود بلیو بیل کو معلوم نہیں تھا کہ اس کے لکھے  لفظوں سے امرت رس کیوں بہہ نکلتا ہے. لطافت پڑھنے والے کے دل پر کیسے اثر کرتی تھی. سب جانتے تھے کہ اس کے پتر دو دلوں کے بیچ پل کا کام کرتے ہیں اور اس کے.لکھے ہوئے پریم پتر عاشق اور محبوب کوبہت قریب لے آتے تھے۔
جب اس کی مخروطی انگلیاں ٹائپ رائٹر پہ کام کرتیں تو ایسے لگتا جیسے کوئی گٹار بجا رہا ہو. دراصل اس کی ماں گٹار بجایا کرتی تھی اور اس کا باپ حادثے سے ہہلے بیگ پائپر تھا. محبت اس کی پور پور سے بہتی تھی جو لفظوں سے نکل کر دلوں میں اتر جاتی تھی.شاید سب کسی محرومی کا نتیجہ تھا۔
 اس نے اپنے ٹائیپ رائٹر کا رخ سیدھا کیا اور دستانے اتار کر ٹوکری میں رکھے۔
 اور اس کی ماہر انگلیاں ایسے بجنے لگیں جیسے رقاصہ کسی دھن کی لے پر رقص کناں ہو۔
 یہ لیجیے
نوجوان نے کھولا پڑھا,
اے دختر خوش گل
واہ کیا القاب ہیں
اس نے سراہا اور رقم تھما دی
یہ تو بہت زیادہ ہیں
 اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی  رہ گئیں. یہ تو بہت زیادہ ہیں میں توپچاس سٹرلنگ لیتی ہوں بس اور یہ تو اتنے سارےپاؤنڈز ہیں.اس نے ہاتھ پیچھے کر لیے
پلیز, انہیں رکھ لیجیے اس کے لہجے میں اپنائیت تھی. آنے والے دنوں میں شاید آپ کو ان کی ضرورت ہو۔
آواز میں مٹھاس اور نرمی تھی
محبت نامے لکھنے والی لڑکی کو گھر کے خالی جار یاد آ گئےاور اس نے تشکر سے سر جھکا دیا.اوکے
نوجوان جا چکا تھا…مگر محبت نامہ تو لے کر نہیں گیا اس نے حیرت سے سوچا
“اررے یہ تو لیتے جائیے”
سچ تو یہ ہے یہ آپ کے نام ہے
جی
بلیو بیل حیرت سے مجسمہ بنی  بیٹھی رہی. وہ کیسی باتیں کر رہا تھا. اسے لگا جیسے کوئی حسین خواب ہو.حب تک وہ خواب سے باہر نکلی سیکورٹی آفیسر بہت دور جا چکا تھا
  اس نے حیرت سے محبت نامے کو دیکھا چوما اور آنکھوں سے لگا لیا.اور گھر واپس چلی آئی۔
مسٹر جو تو کہتے تھے “لوگ وبا کے دنوں میں  موت کے خوف سے محبت بھول جاتے ہیں۔
 وہ مسٹر جو کو یہ خبر سنانے کے لیے ان کے گیٹ تک پہنچی اس نے بتایا کہ سیکورٹی مین نے کس طرح اس کی مدد کی. وہ اسے باہر ہی مل گئے.
 مسٹر جو آپ کو آج کل کچھ رقم کی ضرورت تھی نا. جانے کیسے اسے پتہ چل جاتا تھا کس کو کب کیا چاہیے ہوتا ہے.
مسٹر جو اپنی گاڑی کے پہیے صاف کر رہے تھے۔
  کیا یہ ممکن ہے کہ آپ مجھے ساری رقم دے دیں .میں جلد لوٹا دوں گا۔
مسٹر جو تو ایسے نہ تھے. شاید کوئی بڑی مجبوری ہو گی . اسے خالی جار اور برتن یاد آ رہے تھے جن کے لیے اس  کے پاس یہی رقم تھی,
    اس کا دل چاہا کہ وہ انکار کر دے یا آدھی رقم ان کو دے دے مگر وہ کبھی کسی کو ضرورت کے وقت انکار نہ کر سکی تھی  دو پل کے بعد اس نے ساری کرنسی ان کے ہاتھ میں پکڑا دی۔
اس کے جاتے ہی مسٹر جو اٹھے اس رقم کو آگ لگا دی اور جلدی سے ہاتھ دھو لیے اور چیخ کر بولے بلیو اپنے ہاتھ صاف کرو اس سیکورٹی مین کا بھائی کل ہی اٹلی سے آیا ہے.  کیا تمہیں نہیں معلوم کرنسی جرثومے کی ترسیل کا زریعہ ہےاسے آئے ہوئے چودہ دن نہیں گزرے ان کی آنکھوں میں خوف کا سمندر تھا. اور بلیو بیل نے سنہری ڈبیہ کھولی اور اپنے ہی لکھے ہوئے خط کو بے تحاشا چومنے لگی۔
دریائے ڈی دریائے ڈان کے پہلو میں ابرڈن کے سمندر میں اترنے کے لیے سکون سے بہہ رہا تھا۔
(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20