ماحولیاتی تنقید، عصری صورت حال اور لائبریری بک کلب —- مشتاق احمد

2

دادا سے اکثر “پھتے کراڑ” کے بارے میں سنا تھا۔ “پھتا کراڑ” ایک ‎عجیب و غریب مگر دلچسپ کردار تھا، جو کہ سنار تھا۔ “پھتے کراڑ” کے بارے میں مشہور تھا کہ اس کے شہر میں 40 چوبارے تھے جن کے تہہ خانے بھی تھے، جہاں اس نے سونے کی مورتیاں رکھی ہوئی تھیں۔ مہینے میں ایک بار مورتیوں والے تہہ خانے کی صفائی کے لئے جب وہ کسی بندے کو لے جاتا تو پہلے اس کی آنکھوں پر پٹی باندھتا اور پھر متعلقہ تہہ خانے میں لے جا کر پٹی کھول دیتا، کام کر چکنے کے بعد دوبارہ پٹی باندھ کر اسے باہر لے آتا۔ یہ واقعہ سنانے کے بعد دادا کہتے لیکن پھتے کراڑ نے پوری زندگی ایک ہی  چولے میں گزار دی۔ دولت اور سونا سانبھ سانبھ کر رکھتے رکھتے پھتا کراڑ آخر چل بسا۔

پھتے کراڑ والا قصہ بہت یاد آتا ہے آج جب ہم جامعات کی اور پبلک لائبریریوں کی صورتِحال کا جائزہ لیتے ہیں۔ یہاں بھی آئے روز درجنوں کتابیں خرید کر الماریوں میں گھسائی جارہی ہیں ۔لائبریریوں میں رش لگنے کے باعث الگ الگ چالیس سیکشن بنائے جارہے ہیں، جہاں موسمی کیفیات کی مناسبت سے سہولیات بھی فراہم کی جارہی ہیں،لیکن کتابوں کے اجراء پر جیسے کوئی پابندی لگائی گئی ہو اور یہ رویہ خصوصاً ادبی کتابوں کے ساتھ ہے،  سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر اتنے رش کے باوجود بھی  ادبی کتابوں کی طرف خال خال ہی کوئی نظر جاتی ہے کیوں؟ کیا باقی آنکھوں پر کوئی پٹی باندھی ہوتی ہے؟ لائبریریوں میں یہ ہجوم آخر کیا کرتا ہے؟ اس کا سیدھا اور سچاسچا جواب یہ ہے کہ لائبریریوں میں آنے والوں کی زیادہ تعداد ان لوگوں پر مشتمل ہوتی ہے جو مقابلے کے امتحان کی تیاری کے لیے کسی پرسکون جگہ کی تلاش میں آنکلتے ہیں بس یہ مقابلے کا امتحان ہی وہ پٹی ہے جونئے انسان کی آنکھوں پر بندھ چکی ہے۔ یہ وہی نیا انسان ہے جس کی غیر ادبی سرگرمیوں پر راشد اپنی نظموں میں کڑھتے نظر آتے ہیں۔

‎ایسے ماحول میں ادب کے فروغ کے لیے ڈاکٹر محمد ہارون عثمانی (چیف لائبریرین، جامعہ پنجاب) اور شاہ زیب خان (اسسٹنٹ پروفیسر، جامعہ پنجاب) نے مل کر ایک اپنی کوشش سے 10 جنوری 2018 کو جامعہ پنجاب کی مرکزی لائبریری میں بک کلب کے نام سے ماہانہ نشست کا آغاز کیا جس میں دو کتابوں کا انتخاب کیا گیا۔

‎1۔  اردو: دیوارگریہ کے آس پاس از ڈاکٹر کاشف مصطفی گفتگو؛ ڈاکٹر محمد ہارون عثمانی
2.English: Forty Rules of Love by Elaf Shafaq : Talk; Shahzeb Khan

‎یہ ماہانہ نشست جس کا آغاز 2018 میں ہوا تھا، تاحال جاری ہے۔ جس میں دو کتابوں کے ساتھ دو جید علماء کا انتخاب کیا جاتا ہے جو منتخب کتابوں کے اہم پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے تعارفی گفتگو کرتے ہیں۔ سینکڑوں لائبریریوں میں سے جامعہ پنجاب کی لائبریری کی یہ کاوش فروغ ادب میں بہت بڑا کارنامہ انجام نہ دے سکے تو اتنا ضرور ہے۔

رات کو جیت تو پاتا نہیں لیکن یہ چراغ
‎کم سے کم رات کا نقصان بہت کرتا ہے
‎ (عرفان صدیقی)

‎11مارچ 2020 کو جن دو کتابوں کا انتخاب کیا گیا ان میں سے ایک کتاب ماحولیاتی تنقید:نظریہ اورعمل (منتخب مضامین) تھی مذکورہ موضوع پر منتخب مضامین کے مترجم ڈاکٹر اورنگ زیب نیازی (ایسوسی ایٹ پروفیسر گورنمنٹ اسلامیہ کالج سول لائنز) ہیں (یہ کتاب 2019 میں اردو سائنس بورڈ سے شائع ہوئی )، جس پر ممتاز نقاد اور افسانہ نگار ڈاکٹر ناصر عباس نیّر نے گفتگو کی۔

‎ہمارے معاشرے کی عوام میں طرح طرح کے خوف پائے جاتے ہیں، ہر طبقے اور ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والوں کے اپنے خوف ہیں جیسے ایک کسان کو فصل کے حوالے سے ناموافق موسم کا خوف ،مزدور کو ہڑتال کی افواہ ملنے کا خوف یا ملاح کو سمندری طوفان کی زد میں آجانے کا خوف وغیرہ، اسی طرح ادب سے دلچسپی رکھنے والے طبقے کی اکثریت کو “تنقید” کے لفظ سے خوف آتا ہے، یہی وجہ ہے کہ کوئی بھی نیا تنقیدی دبستان ہمارے یہاں قبول کیے جانے میں اہلیان ادب کتراتے ہیں لیکن ڈاکٹر اورنگ زیب نیازی نے گھبرائے بغیر ماحولیاتی تنقید جیسے دبستان کا اردو ادب میں باقاعدہ آغاز منتخب مضامین کے تراجم سے کیا۔ ڈاکٹر ناصر عباس نیّر نے ماحولیاتی تنقید: نظریہ اور عمل  پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ترجمہ بہت مشکل کام ہوتا ہے اور خاص طور پر کسی ایسی کتاب کا ترجمہ کرنا جس کے اندر بے شمارنئی اصطلاحات ہوں اور نئی فکر ہو، نیازی صاحب نے ایک تو ترجمے میں روانی پیدا کردی دوسری اہم بات یہ ہے کہ انھوں نے مضامین میں مذکورہ اصطلاحات کی توضیحی لغت کے طور پر ایک باب قائم کیا۔

‎انھوں نے مزید کہا کہ ہماری تنقید میں جس چیز کو بالکل نظر انداز کیا جاتا ہے وہ زمین ہے، جس زمین پر ہم رہتے ہیں۔ ماحولیاتی تنقید زمین کو اپنا موضوع بناتی ہے۔

‎کتاب کے پہلے باب میں ماحولیاتی تنقید کا تعارف اور آغاز و ارتقا کو موضوع بنایا گیا۔‎

“ماحولیاتی تنقید کی اصطلاح پہلی مرتبہ  1978 میں ولیم روئیکرٹ نے اپنے مضمون Literature and Ecology: An Experiment in Eco-criticism میں استعمال کی۔ماحولیاتی تنقید سے روئیکرٹ کی مراد “ادب میں ماحولیات اور ماحولیاتی تصورات کا اطلاق” ہے ۔”
‎ص17

‎انسان کی مادی ترقی نے ماحول کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا ، فطرت کو تباہ و برباد کرنے کا سب سے بڑا ذمہ دار انسان خود ہے، آرنلڈ نے دہائیاں پہلے ہمیں خبردار کردیا مگر ہم نے عدم توجہی سے کام لیا اور آج ہمیں اس کے منفی اثرات سے دوچار ہونا پڑ رہا ہے ،گلین-اے-لوّ اپنے مضمون “فطرت سے متعلق نظریات پر نظرثانی” کے ایک اقتباس میں لکھتے ہیں۔

‎”۔۔۔ہمارا کرّہءحیات انسان کے لئے واحد قابل رہائش مقام ہے اور ہمیشہ سے رہا ہے مگر انسان نے اب اس  کو ‘غیر آباد’ کرنے کی طاقت حاصل کرلی ہے۔ اس خودکش عمل کے ممکنہ نتائج بہت جلد سامنے آئیں گے اگر اس کرّے پر آباد انسانوں نے آلودگی اور اس تخریبی عمل کی روک تھام کے لیے بروقت اور موثر اقدامات نہ کیے جو انسان کی تنگ نظری اور حرص کی وجہ سے کرّہء حیات پر اثر انداز ہو رہا ہے ۔”ص73

‎مندرجہ بالا سطور کو اگر کرنٹ وبائی امراض کے ماحولیاتی تناظر میں دیکھیں تو انسان کو اپنی حماقتوں کو تسلیم کرنے کے لئے کسی اور کی ثبوت کی ضرورت نہ ہوگی۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

2 تبصرے

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20