ہم عجیب قوم ہیں: وباء کے دنوں کی روداد —– اورنگ زیب نیازی

0

’’اور اللہ صاف رہنے والوں کو پسند کرتا ہے۔‘‘(القرآن) ’’صفائی نصف ایمان ہے۔‘‘(الحدیث) متعدد صحیح احادیث سے روایت ہے کہ آنحضورﷺ نے نہ صرف اپنے جسم اور آس پاس کے ماحول کی صفائی کو پسند فرمایا بلکہ اس کے بارے میں واضح احکامات بھی دیے۔ آپﷺ نے راستے کے حقوق مقرر فرمائے اور راستے میں رکاوٹ ڈالنے، پیشاب کرنے،گندگی، کچرا پھیلانے سے سخت منع فرمایا۔ کرونا وائرس اور دیگر وبائی امراض سے بچنے کے لیے سنت نبویﷺ پر عمل پیرا ہوں۔اپنے جسم کے علاوہ گھر،گلی اور محلے میں صفائی کا خاص خیال رکھیں۔ بلغم، تھوک، نزلہ واش روم میں پھینکیں اور زیادہ پانی بہائیں۔ ماسک کا استعمال کریں، بلا ضرورت گھر سے باہر مت جائیں۔ نزلہ، زکام کی صورت میں اپنے منہ اور ناک کو ڈھانپ کر رکھیں، بچوں کو صاف ستھرا رکھیں،صابن سے ہاتھ دھونے کی عادت ڈالیں، انھیں بازاری اشیاء کھانے اور گندگی میں کھیلنے سے روکیں۔ــ‘‘

پرسوں رات یہ عبارت جلی حروف میں ایک کاغذ پر لکھ کر  اپنی گلی میں موجود مسجد کے دروازے پر چسپاں کر دی۔ صبح اُٹھ کر دیکھا تو کسی نے کاغذ پھاڑ پھینکا تھا۔ غصہ آ گیا، ہر خوف کو بالائے طاق رکھا اور کھری کھری سنائیں۔ نوجوان امام مسجد نسبتاََ سمجھ دار آدمی ہیں۔ تھوڑی دیر بعد دروازے پر آئے اور کہا کہ اگر آپ پیسے دیں تو ہم یہ عبارت بڑے فلیکس پر لکھوا کر آویزاں کر دیں۔ علاوہ ازیں دوسری مسجد میں بھی لگا دیں گے۔ رقم خوشی سے دی اور وہ فلیکسز بنوا لائے۔

کل ظہر کے وقت دیکھا کہ ایک صاحب بڑی توجہ سے تحریر پڑھ رہے ہیں۔چہرے مہرے سے پڑھے لکھے نظر آتے تھے۔ نورانی چہرہ اور دراز ریش۔دل خوش ہوا کہ اپنے حصے کی  جو شمع جلائی تھی اس کی روشنی پھیلنے لگی ہے۔تحریر پڑھ کر وہ روانہ ہوئے اور ان کے پیچھے میں بھی۔ ابھی چند قدم چلے تھے کہ انھوں نے ناک سڑک کر نزلہ پھینکا، مجھے کراہت ہوئی مگر نظر انداز کر گیا، دو قدم اور چلے تو گلا کھنگار کر صاف کیا  اور عین گلی کے درمیان پائو بھر بلغم  اُگل دیا۔ اب برداشت جواب دینے لگی۔جی میں آئی کہ پکڑ لوں۔ پھر سوچا کس کس کو پکڑو گے؟ آج صبح گلی میں جھاڑو والے کی آواز سنی تو بٹوا اُٹھایا اور دوڑ کر باہر آ گیا۔ منت کے لہجے میں اسے کہا: بھئی ذرا اچھی طرح صفائی کرنا۔ اسے میری بات اچھی نہ لگی۔ کہنے لگا جیسی روز کرتا ہوں ویسی ہی کر رہا ہوں۔ پچاس کا ایک نوٹ نکالا، اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا ’’ماسک خرید لینا‘‘۔ اس نے ناراض نظروں سے دیکھا۔ شاید اس کا خیال تھا  کہ اس کے پیشے اور مذہب کی وجہ سے حقارت سے کہہ رہا ہوں۔ معاملے کی نزاکت دیکھ کر کہا؛ ’’بھئی تم بھی انسان ہو،تمھارا کام ایسا ہے کہ تمھیں احتیاط کی زیادہ ضرورت ہے۔‘‘ اس نے نوٹ لے کر جیب میں ڈالا اور ’’ہمیں کچھ نہیں ہوتا‘‘ کہتا ہوا آگے بڑھ گیا۔

دوپہر کو بیگم کہنے لگیں: ’’آٹا ختم ہو رہا ہے، آپ کو بازار جانا پڑے گا۔‘‘ ایک بڑے رومال سے منہ لپیٹا اور پانچ دن بعد گھر سے باہر نکلا۔خیال تھا کہ بازار ویران اور گلیاں سنسان ہو نگی مگر حیرت ہوئی کہ اتنا ہی رش، ویسی ہی گندگی، گاڑیوں، موٹر سائیکلوں، چنگ چیوں کا وہی شور، ایک فی صد سے بھی کم لوگوں کے چہرے پر ماسک،جیسے دنیا میں کوئی مسئلہ ہے ہی نہیں۔ چکی والے سے کہا؛ ’’ماسک لیا کریں،آج کل تو ویسے بھی کرونا کی وباء پھیلی ہے‘‘۔  کہنے لگا؛ ’’کیہڑا کڑونا؟‘‘۔ اس کے لہجے میں طنز واضح تھا۔ پھر خود ہی کہنے لگا: ’’ایمان مضبوط ہونا چاہیے،کوئی کرونا نہیں ہے۔ یہ امران خان خود پھیلا رہا ہے، دوسرے ملکوں سے قرضے لینے کے لیے۔‘‘ ۔۔۔ ’’میاں صاحب! ۱۸۶ ملکوں کے سارے حکمران نااہل ہیں۔ ایک آپ ہی۔۔۔۔۔‘‘۔ یہ کہتے کہتے رُک گیا۔ ان سے الجھنا تو بتیس بلکہ چھتیس کا گھاٹا ہے۔

گھر آکر اورحان پاموک کا ناول Snow پڑھنا شروع کر دیا۔ اس نے ناول کے آغاز  میں ہی  ترکی میں ’’سیاسی اسلامائزیشن‘‘ کو موضوع بنایا ہے۔کمال فن کاری  کا مظاہرہ یہ کیا کہ اس حساس موضوع میں مصنف کی مداخلت نہ ہونے کے برابر ہے۔ہر دو مکاتب فکر کے نظریات اور دلائل کو کرداروں کے ذریعے پیش کیا ہے۔مذہبی شدت پسند شخص، پروفیسر نوری کے بار بار اقرار کے باجود کہ وہ بھی مسلمان ہے،اسے قتل کر دیتا ہے۔۔۔ ترکی کے حالات کے بارے  میں تو ہماری دوست  ڈاکٹر آسمان بیلن ہی بہتر بتا سکتی ہیں، پاموک اگر ہمارے ہاں ہوتے تو یہ چند صفحات لکھنے کی پاداش میں کب کے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شام کے وقت ادب کے ایک معروف پروفیسر اور معتبر شاعر سے فون پر بات ہوئی۔ موجودہ صورت حال پر طویل تبادلہ ء خیال ہوا۔ان کا کہنا تھا کہ کرونا وائرس ایک سازش ہے۔ امریکہ نے حیاتیاتی ہتھیار استعال کیا ہے۔ عرض کیا: ’’کسی بھی امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا کہ مغرب کا سیاسی اور معاشی کردار کچھ ایسا ہی رہا ہے۔لیکن اس معاملے میں مغرب خود بھی بے بس نظر آرہا ہے۔ اور دوسرا یہ کہ سازش ہے یا نہیں لیکن اب یہ وباء پوری دنیا میں پھیل چکی ہے، اس کا مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے۔‘‘ کہنے لگے آدمی کا ایمان مضبوط ہونا چاہیے‘‘۔میں نے ذرا بے تکلفی (یا گستاخی) کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا؛ ’’کل آپ نے ایک شاعرہ کی فضول سی نظم پر زمین آسمان کے قلابے ملا دیے،اپنے ادبی مرتبے کا کچھ خیال کیا کریں۔‘ ‘اب ان کی آواز میں غصہ در آیا، فرمانے لگے؛ ’’بات ہے بھی یہی۔ خدا انسانوں سے انتقام لے رہا ہے۔‘‘ عرض کیا: ’’میرا اللہ تو غفور ہے، رحمان و رحیم و کریم ہے۔ وہ  اپنے بے گناہ  بندوں سے انتقام کیوں لے گا؟ وہ کچھ کی سزا سب کو کیونکر دے گا؟‘‘ انھوں نے جھٹ سے فون بند کر دیا اور میں اورحان پاموک کا ناول پڑھنے لگا۔ وباء کے دنوں میں کتاب سے بہتر دوست اور کون ہو سکتا ہے؟

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20