مفلوج تعلیمی پالیسی اور حکومتی سنجیدگی

0

اس وقت پاکستانی طلباء کی کثیر تعداد اپنی مدد آپ کے تحت دنیا کی معروف تعلیمی درسگاہوں میں زیر تعلیم ہیں۔ ان میں سے تقریباً 19000 طلباء چائنہ کی یونیورسٹیوں کے اندر تعلیم اورتحقیقی فنی مہارت حاصل کرنے میں مصروف ہیںجب کہ جنوبی کوریا کی یونیورسٹیز کے اندر پڑھنے والوں کی تعداد2013 کے اعداد و شمار کے مطابق 10423 ہے امریکہ کے اندر یہ تعداد 2014-15 میں آٹھ اعشاریہ پانچ فی صد اضافے کے ساتھ5345 ہو گئی ہے جب کہ اس فہرست کے اندر برطانیہ، جرمنی، فرانس، کینیڈا، سویڈن، تھائی لینڈ اور کئی دوسرے ممالک کے اندر پڑھنے والے طلباء کی تعداد موجود نہیں۔

موجودہ حکومت نے10000پاکستانی طلباء کو پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے امریکہ بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔بے شک یہ ایک احسن اقدام ہے جس کے لئے طلباء حکومت وقت کے ممنون و مشکور ہیں لیکن ملک کودور حاضر میں مسئلہ صرف پی ایچ ڈیز (PhDs) کی تعدادکاہی نہیں بلکہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد ملک واپس آنے والے پی ایچ ڈی سکالرز کا ہے جووطن واپس آنے کے بعد اپنی اہلیتوں کے شایانِ شان جگہ پانے میں ناکام ہوجاتے ہیں اور جو حاصل شدہ تجربے اور فنی مہارتوں کو عملی جامہ پہنانے کے حوالے سے مسائل کا شکار ہیں۔

ترقی یافتہ ممالک کے اندر ملک کے تعلیمی بجٹ کا معقول حصہ صنعتوں اور الیکٹرانک انڈسٹریز سے آتا ہے۔ جنوبی کوریا کے اندر سام سنگ (SAMSUNG)، ایل جی (LG)، ہنڈئی (Hyundai) اور کیا موٹرز (Kia motors) نے پوری کی پوری یونیورسٹیاں خرید رکھی ہیں اور ان کے تمام فنڈز اور اخراجات کا ذمہ اٹھایا ہواہے جن میں کئی یونیورسٹیاں دنیا کی پہلی 500 یونیورسٹیوں کی فہرست میں جگہ بنانے میں کامیاب ہو چکی ہیں اور مزید ترقی کی راہ پر تیزی کے ساتھ گامزن ہیں۔ جب کہ اس کے بر عکس پاکستان کے اندر ایسا کوئی نظام موجود نہیں ہے۔

ترقی یافتہ ممالک کے تعلیمی پالیسی کو دیکھ کر اپنی پالیسی بناناخوش آئند ہے لیکن یہاں یہ بات بہت اہمیت کی حامل ہے کہ ہر ملک اپنی روایات، عوامی سوچ اورملکی ضروریات کو دیکھ کر تعلیمی پالیسی وضع کرتا ہے۔ بنیادی انتظامی مسائل اور ملک کے اندر موجود فطری استعداد کے مالک پی ایچ سکالرزکے اوپر توجہ دینا بھی وقت کی اہم ضرورتوں میں سے ہے۔ اور ان کے مسائل سننے کے ساتھ ساتھ اس کو حل کرنے کی سنجیدہ کوشش کرنا بھی اولین ترجیح ہونی چاہئے۔

کئی نئے اعلیٰ تعلیمی اداروں کے اندرفیکلٹی کے لئے آفس موجود نہیں حتیٰ کہ ضروری انتظامی دستاویزات کے پرنٹ کے لئے اساتذہ کو ایک جگہ سے دوسری جگہ چکر کاٹنے پڑتے ہیں۔ دوسری جانب پرائیویٹ اداروں کے اندر با صلاحیت افراد کا استحصال زوروں پر ہے۔ ان کے کام کے بوجھ اور کارکردگی کے اعتبار سے ان کی تنخواہیں انتہائی غیر معقول ہیں جو ان کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لئے ناکافی ہیں۔ اس سلسلے میں ایچ ای سی (HEC) اور وزارت تعلیم کا از خود نوٹس لینا اور اصلاحات لانااولین ترجیحات میں سے ہونا چاہئے۔  سکیل کے حوالے سے باہر ممالک سے تعلیم یافتہ افراد الجھن کا شکار ہیں۔ باہر سے پڑھ کر آنے والے سکالرز کی کثیر تعدادکا ٹی ٹی ایس (TTS) کی بنیاد پر تقرر کیا جاتا ہے جب کہ اہم انتظامی کرسی اور اسامی کے لئے بی پی ایس (BPS) کا معیار اور سکیل مقرر کیا گیا ہے جس کے ذریعے کئی سارے قابل اذہان اپنے تجربات کو لاگو کرنے میں( موقع نا ملنے کے سبب) ناکام ہو جاتے ہیں۔

اعلیٰ تعلیمی اداروں کے اندر سائنسی تجربہ گاہوں (ریسرچ لیبارٹریز) کا نا ہونا ایک اور اہم مسئلہ ہے جہاں معیاری تحقیق اور تجربوں کے راستے میں رکاوٹیں درپیش ہیں جس کے نتیجے میں دنیا کے معروف رسالوں (Journals) کے اند ر مقالے شائع کرنا ایک خاصہ مشکل اواعصاب شکن کام ہے۔  موجودہ میزانئے (بجٹ) کے اندر سب سے یتیم و مسکین بجٹ تعلیم کا ہے جو کہ جنوبی ایشیائی ممالک کے اندر سب سے کم ترین بجٹ ہے۔ جب کہ 24 ملین بچے ابھی تک تعلیم کے حصول سے محروم ہیں اور اس معاملے میں پاکستان نائیجیریا کے بعد دوسرے نمبر پر ہے۔

اس عصر کے سربراہان مملکت کو اس اہم قومی اور ملکی مسئلے کے اوپر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ طلباء کو اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے بے شک باہر بھیجا جائے لیکن تعلیمی پالیسی اور تعلیمی نظام کے اندر اصلاحات پر سنجیدہ توجہ دینا حالات کا تقاضہ ہے۔ اور ان افراد کی واپسی کے بعد ان کی مناسب جگہ تقرری کر نا حکومت کے لئے ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ ہمارا ملک پہلے ہی کمزور پالیسیوں کے سبب مسائل سے دوچار ہے اور جس کا خمیازہ پورے عوام کو اجتماعی طور پر اور ہر شہری کو انفرادی طور پر بھگتنا پڑ رہا ہے۔ فوراً اور جلد از جلد مضبوط تعلیمی پالیسی بنا کر ان تعلیمی یافتہ افراد کے لئے مواقع پیدا کئے جائیں اس سے پہلے کے تعلیمی یافتہ افراد کا ایک بہت بڑا مجمع ملکی ترقی میں کردار ادا کرنے کی بجائے مزید مسائل کا سبب بنے۔

………………………………..

محمد نعمان کاکا خیل کینگ پوک نیشنل یونیورسٹی جنوبی کوریا میں پی ایچ ڈی ریسرچ سکالر جب کہ یونیورسٹی آف واہ میں تدریس کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: