دنیا سانس لینے کو ٹھہری ہے ———— رضا شاہ جیلانی

0

رفتہ رفتہ ہم خواب گاہ سے نکل رہے ہیں اور اب تعبیر کی منزل کی جانب تیزی سے دوڑتے ہوئے جا رہے ہیں۔
ہم نے سائنس کو مسترد کیا اور سائنس نے ہمیں آج مسترد کرنے میں کوئی کسر نہ اٹھ رکھی ہے۔

ہم نے جا بجا میزائل بنا لیے، زمین سے زمین ہر مار کرنے والے، فضا سے زمین پر، گیرے پانیوں سے آسمان پر اور آسمان سے پھر انسان ہر شعلے پھینکنے کے تمام انتظامات کر کے دیکھ لیے
نہیں کیا تو بہرحال رحمتوں کا بندوبست نہ کیا۔
ہم نے اپنے آپ سے جڑے رہنے کا بندوبست نہ کیا۔
یہ صرف ہماری آپ بیتی نہیں یہ ووھان سے میلان تک کی کہانی ہے۔ یہ فقط ہمارا رونا نہیں بلکہ مشرق سے مغرب تک تمام انسانیت کا ایک ہی نوحہ ہے۔
کاش ہم نے ہتھیاروں سے بدبودار ہوتی فضا پر سینہ تان کر نعرے لگانے سے کہیں بہتر وہ سب کیا ہوتا جس سے آج پورے عالم میں انسانیت کے وجود کو راحت ملتی۔
مگر مشرق سے مغرب تک کی اس کہانی میں یہود ہنود سے مسلم و مسیحی تک بلکہ وہ بھی آج بےبس ہو بیٹھے جنہوں نے خدا کے تصور سے بھی خود کو یکسر الگ تھلک کر رکھا تھا۔

مذھب تو دور کی بات رہی آج تو مذھبی طبقے کی جانب سے انہیں بھی اجازت ہے جو کسی وجود کی تلاش میں ہنوز جستجو میں رہے، وہ بھی اپنے آپ کو اتنا بےبس ہی تصور کر سکتا ہے جتنا حجاز کی آندھی کا مصنف اگر زندہ ہوتا تو آج اپنے آپکو بےبس تصور کرتا۔

آج ایران کی مقدس سرزمین پر بسنے والا وہ شخص بھی اپنے آپ اتنا ہی بےبس تصور کر رہا ہے جسے نیند میں آئے خواب کی بشارتوں نے جاگتے انسانوں کے فیصلے کرنے پر مجبور کیا آج اس شخص کی مثال ویسے ہی ہے جیسے خدا کی تلاش میں سرکرداں میلان کی سڑکوں پر پھرنے والا ایک شخص تصور کر رہا ہوگا۔۔
روتے پیٹتے دن تو جیسے تیسے گزر جاتا ہے مگر یہ منحوس راتیں۔۔۔
پھر رات آتی ہے جس میں وہم کی ایک نئی دنیا آباد ہوتی ہے مائیں اپنے بچوں کاصدقہ اتارتی ہیں، باپ اپنے بچوں کو دیکھ کر پریشان ہوتا ہے بچے اپنے والدین کو گھبرا کر دیکھ رہے ہیں۔۔۔۔
مگر یہ رات نہیں کٹتی۔
فجر کی ازان ہو تو مؤزن کی آواز پہلے جیسی محسوس نہیں ہوتی، عبادت گاہوں سے دور رہنے کی احکامات صادر ہوچکے ہیں، گلے تو پہلے ہی ملنے سے گئے تھے کہ اب ہاتھ ملانے کی حسرت بھی جاتی رہی الغرض کہ فتنہ شور انگیز آب و تاب پر ہے مگر کہنے کی امنگ قہقہے لگاتے چند فرد اب بھی موجود ہیں۔
دل مغموم ہوچکے ہیں اور ضبط اپنی حدود سے نکل کر ووھان سے ہوتا ہوا اب میلان کی مست سڑکوں پر ماتم کناں ہے۔
چند ایک دیوانے اس موت کے رقص پر بھی مسکراتے ملیں گے
ایسے دیوانے سرشام ماضی کی یاد کی شمعوں کے گرد بےبسی سے دور کہیں پرے موجود ہوتے ہیں جو خیالات کے تبادلے سے ایک امنگ بیدار کرنے کی جسارت کر رہے ہیں۔۔
غمگین آنکھوں کے گرد گہرے سیاہ حلقوں والے ہنستے مسکراتے چہرے یہ ضرور جانتے ہیں کہ ساقی کا پیمانہ لبریز ہونے کو ہے اور جام چھلکنے والا ہے۔۔۔
اور ایسے میں جب ایک جانب خدا کی جستجو والے خدا کے سجدہ ریزوں کیساتھ ہاتھ میں ہاتھ ملائے ایک دوسرے کی موت کا رونا رو رہے ہوں تو یہ ہی مسکراتے چہرے وقت کے امام ثابت ہوں گے تاحال انکے لیے اتنا کہنا کافی ہے کہ یہ ہی وہ رندِ خرابات ہیں جو شاید وقت کے اصل ولی ہیں۔۔۔

بات اب ووھان کی نہیں رہی وہاں رندوں نے جنگ جیت لی ہے وہاں خرابات کا امام کوئی تو ثابت ہوا ہوگا مگر اب میلان کی سڑکوں پر بکھری انسانیت کا رونا رونے والوں کو سہارا دینے کی جستجو ہے۔
بات اب انسانیت سے بھی بڑھ گئی ہے کہ اب عبادت گاہوں کے میناروں سے گونجتی صداؤں میں ایک نئی دعا سننے کو مل رہی ہے۔۔
دعاؤں میں اب سارے جہاں کی انسانیت کی خیر مانگی جا رہی ہے جس کا پیام ہی ازل سے تھا۔

جو خدا سے روٹھے بیٹھے ہیں وہ بھی اب سائنس کی بےبس ہوتی لیبارٹری سے اکتا گئے ہیں اور اسکی کرشمہ سازی میں ہوتی دیر سے خائف ہیں۔۔۔

مگر ایک کونے میں مسکراتی انسانیت امید لگائے بیٹھی ہے کہ کوئی نہ کوئی شمع ضرور روشن ہوگی اور دنیا پھر سے نیا جنم لے گی۔۔

قدرت کا یہ ہی فیصلہ تھا کہ یہ سیارہ اب کچھ سمے سانس لینے کو کہیں ٹھہرے۔۔
سو ٹھہر گیا۔۔۔
اور یہ سیارہ کچھ دیر کو آئیسولیشن میں آگیا۔۔
سڑکیں خالی ہیں تو دھواں بھی غائب ہے۔ آسمان کی جانب دیکھو تو منظر صاف ہے فضاء سے دھندھلاہٹ کے آثار مٹتے جا رہے ہیں،
پرندے صاف فضاؤں میں رقص کر رہے ہیں۔۔
اپنی کھڑکی سے باہر جھانک کر دیکھو کتنا حسین موسم ہے ہر جانب جیسے سفیدی سی پھیر دی گئی ہو۔۔۔۔
امید کے دن جاگ گئے ہیں ساری انسانیت نفرت کو کہیں پرے پھینک کر ہاتھوں میں ہاتھ ملانے کے بجائے اب دل سے دل ملانے کو بےتاب ہے۔۔

اور شاید یہ ہی قدرت کی منشاء تھی اور یہ ہی اصل منطق ہے جینے مرنے کی۔

آئیسولیشن میں گئے چند سر پھرے فلیٹس کی بالکونیوں میں کھڑے تالیاں بجا بجا کر اپنے زندہ ہونے کا پیغام پہنچا رہے ہیں۔۔
وہ دور کھڑے اپنے پیاروں کو زیست کا پیغام دے رہے ہیں،
ان میں چند بےحد خوش ہیں کہ وہ اب روز مرہ کی قید و بند سے آزاد تازہ ہواؤں میں چند دن جی لیں گے۔
ان میں سے چند پچھلی محبت کی یادیں تازہ کریں گے، کچھ یوگا کر رہے ہیں تو کچھ بستر سے لگے تکیے کو منہ دئیے محبوب کا بچھڑنا یاد کرتے ہوئے نم آنکھوں سے پرانے دنوں کے خواب میں مست الست ہیں۔۔۔

ان میں کچھ اعلی پائے کے شاعر بھی ہیں تو چند لفظوں کے موتی پرونے والے،
تو کوئی اپنی بربادی کے دنوں کی مستی میں مست ہے اور کوئی تو نئی دل لگی کے لیے پریشان ہے الغرض کہ شیلے اور کیٹس کی چھاؤں میں ہر فرد جینے کی نئی امنگ کیساتھ نئے خطوط پر زندہ رہنے کی جستجو میں مگن ہے۔۔
یقیناً کوئی مجھ جیسا بھی دیوانہ ہوگا جو رات گئے عابدہ کی آواز کے سُرور میں کھو کر شیرازی کا ترجمہ پڑھتا ہوگا اور جھومتا ہوگا ہر چند کے دیوانہ کوئی مجھ سا دن بھر برٹرنڈ رُسل کی آپ بیتی میں سر کھپا رہا ہوگا۔۔

جینے کے لیے ایک مسکراہٹ ضروری ہے، یہ جھوٹ نہیں بلکہ سچ ہے کہ دنیا ایک بہت بڑے آئیسولیشن کا مرکز بن چکی ہے۔

سانسیں اکھڑنے سے پہلے جینے کی امنگ پھر سے جاگ گئی تو دیوانے مرتے نہیں جی اٹھتے ہیں۔
تالیاں بجانے والے کچھ نغمہ سرا کچھ اہلِ چمن کچھ نوحہ خواں کچھ روتے چہروں سے جگ مگ کرتی یہ دنیا یوں ہی سدا آباد رہے گی جیسے آباد تھی مجھ سے بھی کہیں بہت پہلے، اتنا پہلے کہ میری آخری محبت سے بھی بہت پہلے۔۔
سنو…!
پریشان مت ہونا یہ دنیا کئی مشکلات کے درمیان سے نکل آئی ہے تو یوں ہی ہنستی کھیلتی میری اور تمہاری محبت کے سہارے آگے بھی چلتی رہے گی۔۔

میلان کا میلہ پھر سے سجے گا، ہاں جو چلے گئے وہ اختیار ہی کب رکھتے تھے کہ ٹھہر سکیں۔ ہاں مگر درد دیتی انکی یاد کی شمعیں مستقبل میں مشعل راہ ضرور ہوں گی۔۔

انکی یاد سے دل بوجھل ضرور رہے گا مگر میری آپ بیتی پڑھنے والے ہاتھ سلامت رہیں گے۔

یہ دنیا ووھان سے میلان تک کسی آسیب میں مبتلا ہونے کا نام نہیں بلکہ مشرق سے مغرب تک ایک نئے سلسلے کا نام ہے جس میں ایک نیا باب ایک نئی شمع روشن ہونے والی ہے۔

جس کا بانی اب عبادت گاہوں میں انسانیت کے لیے دعا کرے گا اور جس کا جنگجو اب انسانیت کے دفاع کے لیے میدان سجائے گا۔۔۔
سنو…!!
پریشان مت ہونا، میں رہوں نہ رہوں یہ دنیا اپنے آب و تاب کیساتھ جگمگ کرتی رہے گی۔

پھول کھلیں گے مہکتی کلیاں چٹخیں گی پرندے شوخ و چنچل فضاؤں میں ایک بار پھر سے رقص کریں گے اور ایک دن یہ دنیا اپنی آئیسولیشن سے نکل کر اپنے اصل رنگ میں آجائیگی۔

بس زرا انتظار کرنا۔۔۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20