لفظ ”صوفی“ سے ملاقات: “چالیس چراغ عشق کے” کا ایک کردار ——- دبیر حجازی

1

(ناول ”چالیس چراغ عشق کے “ کے ایک کردار کی آپ بیتی)

”اے زی ظہارا جب دنیا کا سفر نہ کر رہے ہوں تو ایمسٹرڈیم میں اپنی کتابوں، بلیوں اور کچھووں کے ہمراہ رہتے ہیں۔ دلکش کفر ان کا پہلا اور غالباً آخری ناول ہے۔ ان کا ناول نگار بننےکا کوئی ارادہ نہیں اور انہوں نے یہ کتاب خالصتاً صوفی اور شاعر رومی اور ان کے محبوب تبریز کی محبت اور تحسین میں لکھی ہے۔“

عزیز سے ایلا کے تعارف کی یہ ابتدا تھی، اپنی شادی کی چالیسویں سالگرہ سے دو ہفتہ پہلے شروع کی گئی جاب کے نتیجے میں لٹریری ایجنسی کی جانب سے ایلا (Ella Rubinstein)کو پہلی اسائمنٹ کے طور پر کسی غیر معروف یورپی ادیب کے ناول پر تفصیلی رپورٹ لکھنے کا ٹاسک دیا گیا تھا جس کے مسودے کو وہ اس وقت اپنے ہاتھوں میں تھامے پورچ میں اپنی پسندیدہ جھولنے والی کرسی پر اکیلی بیٹھی ہوئی تھی۔ ناول پڑھتے پڑھتے مصنف سے رابطے تک کا سفر ایلا نے چند ہی ایام میں طے کر لیا تھا، پہلی بار رابطہ تب ہوا جب ایلا کی بیٹی جس نے اپنا کالج بھی مکمل نہ کیا تھا اپنے کلاس میٹ کی محبت میں گرفتار ہو چکی تھی اور اب اس سے شادی کا ارادہ کیے بیٹھی تھی، ایلا اس بات سے پریشان ہو کر عزیز سے اس معاملے میں رائے طلب کرتی ہے، کب بیٹی پس منظر میں چلی گئی اور ایلا خود اس بن دیکھےانجان شخص کی محبت میں گرفتار ہو گئی پتہ ہی نہ چلا، کھانا پکانے اور کوکنگ کلاسز لینے کی شوقین ایلا کی زندگی میں ایک نیا معمول شامل ہو چکا تھا یعنی ”عزیز سے میلز کے ذریعے بات چیت کرنا“ اصلی میں عزیز کے خیالات جاننے کے بعد ناول پڑھتے ہوئے کبھی کبھار ایلا کو شک گزرتا کہ عزیز شمس ہے یا پھر شمس عزیز ہیں، جس کے جواب میں عزیز اسے اپنی آپ بیتی سناتا ہے جسے وہ لفظ ’صوفی‘ سے ملاقات کا ٹائٹل دیتا ہے،لفظ ”صوفی“ سے ملاقات اسی آپ بیتی کا ذکر ہے۔

حرف ”ص“ سے ملاقات

”میری محبوب ایلا تم نے پوچھا کہ میں صوفی کیسے بنا۔ ایسا راتوں رات نہیں ہوا۔ میں سکاٹ لینڈ کے ایک پہاڑی ساحلی گاؤں Kinlochbervie میں کریگ رچرڈسن کی حیثیت سے پیدا ہوا تھا۔ میں جب کبھی ماضی کے بارے میں سوچتا ہوں تو مجھے ماہی گیر کشتیاں، ان کے مچھلیوں اور سبز پانیوں کی طرح لٹکتی سمندری جڑی بوٹیوں سے بھرے جال، ساحل پر ریت کرید کر کیڑے مکوڑے کھاتی ٹٹیریاں، غیر متوقع جگہوں پر اگتی سدا بہار جڑی بوٹیاں اور پس منظر میں سمندر کی تیز اور نمکین مہک یاد آتے ہیں۔ وہ مہک اور اس کے ساتھ وہ پہاڑ اور کھاڑی، اور جنگ کے بعد یورپ پر طاری بے کیف سکون، وہ پس منظر بناتے ہیں جس میں میرابچپن گزرا۔

1960 کی دہائی کا زمانہ جب دنیا طلبہ مظاہروں، ہائی جیکنگ اور انقلابات کا منظر نامہ پیش کر رہی تھی، میں تب ان سب چیزوں سے الگ تھلگ اپنے خاموش سرسبز گوشے میں تھا۔ میرے والد کی پرانی کتابون کی دکان تھی اور میری ماں بھیڑیں پالتی تھیں جن سے اعلیٰ درجے کی اون بنتی تھی۔ اپنے بچپن میں مَیں نے کسی چروا ہے کی سی تنہائی اور کسی کتب فروش کے مشاہدۂ نفس کا تجربہ کیا۔ کئی روز میں کسی پرانے درخت پر چڑھ کر قدرتی منظر دیکھتا رہتا، پُر یقین کہ میں اپنی ساری زندگی وہیں گزاروں گا۔ اکثر اوقات میرا دل کسی مہم جوئی کی خواہش میں مچلتا، لیکن مجھے اپنا گاؤں پسند تھا اور میں اپنی زندگی کی لگی بندھی ڈگر پر مطمئن تھا۔ مجھے کیسے معلوم ہو سکتا تھا کہ خدا نے میرے لیے کچھ اور ہی سوچ رکھا تھا۔“

پہلے پہل کا عشق ابھی یاد ہے فراز

اس کے بعد عزیز اپنی پہلی محبت کا حوال لکھتا ہے؛

”بیس برس کا ہونے کے کچھ عرصے بعد ہی، میں نے دو چیزیں دریافت کیں جن سے میری زندگی ہمیشہ کے لیے بدل گئی۔ پہلی چیز تھی، ایک پروفیشنل کیمرا۔ میں نے فوٹو گرافی کی کلاس میں نام درج کروایا تھا، نہ جانتے ہوئے کہ میں جسے صرف عام سا مشغلہ سمجھ رہا تھا، وہ میرا عمر بھر کا جنون بن جائے گا۔ دوسری چیز تھی محبت۔۔۔ ایک ڈچ لڑکی جو اپنے دوستوں کے ہمراہ یورپ کی سیر کی خاطر آئی تھی۔ اس کا نام تھا مارگٹ۔

وہ عمر میں مجھ سے آٹھ سال بڑی تھی، خوب صورت، خوش قامت اور انتہائی خود رائے۔ مارگریٹ خود کو بوہیمین، مثالیت پسند، دو جنسی، لیفٹسٹ، انفرادیت کی حامی انارکسٹ، کثیر ثقافتی، حقوق انسانی کی علمبردار، کاؤنٹر کلچر ایکٹوسٹ، ایکو فیمنسٹ کہتی تھی۔“

زندگی کے اُس مقام پر عزیز ان سب لفظوں کے معانی سے لا علم تھا، اس کےخیال میں چند لحظوں میں انتہائی خوشی سے انتہائی مایوسی اور ناامیدی کو پہنچنے کی اہل مارگریٹ اس کے لئے موزوں بھی نہیں تھی، اُسے اِس سے دور بھاگنا چاہئے تھا لیکن محبت پاؤں کی زنجیر بن چکی تھی۔ بیس سال کی عمر میں عزیز ایمسٹرڈیم شفٹ ہو جاتا ہے جہاں وہ مارگٹ سے شادی کرکے journey of happy life کے لئے پہلا قدم اٹھا تا ہے۔شادی کے بعد مارگٹ تو ایک تنظٰم سے وابستہ ہو گئی جو یورپ میں آنے والے پناہ گزینوں کو ہالینڈ میں قدم جمانے میں مدد کرتی تھی جبکہ گریجویشن کے بعد عزیز ایک بین الاقوامی فرم سے وابستہ ہو کر کارپوریٹ دنیا میں کامیابی کے زینے طے کرنے لگا۔ تبھی اس کی زندگی میں ایسا موڑ آیا جو اس کی خیالات و شخصیت سب کچھ بدل کر رکھنے والا تھا؛

”میں نے ہماری زندگی کی ساری منصوبہ بندی کر رکھی تھی۔ دو سال بعد ہمارے بچے ہوں گے۔ دو ننھی لڑکیاں میرے خیالی مثالی خاندان کو مکمل کرتیں۔ مجھے اس مستقبل کا بھروسا تھا جو ہمارا منتظر تھا۔ ہم دنیا کی محفوظ ترین جگہ پر بستے تھے، ان مصیبت زدہ ممالک میں سے کسی ایک میں نہیں جو پانی کے کسی ٹوٹے پائپ کی طرح یورپ میں تارکین وطن کی کھیپ بھیجتے رہتے تھے۔ ہم جوان اور صحت مند تھے اور ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے۔ کچھ بھی غلط نہیں ہو سکتا تھا۔ یہ یقین کرنا مشکل ہے کہ میں اب 54 برس کا ہوں اور مارگٹ اب دنیا میں نہیں۔“

لوگ اچھے ہیں بہت دل میں اتر جاتے ہیں
اک برائی ہے تو بس یہ ہے کہ مر جاتے ہیں

”اس کی موت بہت غیر متوقع اور سادہ تھی۔ ایک شب اُس مشہور روسی صحابی سے ملنے کے بعد، جس نے سیاسی پناہ کی درخواست دے رکھی تھی، واپسی پر اس کی گاڑی ہائی وے پر خراب ہو گئی۔ وہ ہمیشہ قوانین کی پابند رہی تھی، لیکن اس وقت اس نے اپنے مزاج کے برخلاف ایک کام کیا۔ فلیش لائٹس جلا کر مدد کا انتظار کرنے کی بجائے وہ اپنی گاڑی سے باہر نکلی اور پیدل ہی اگلے گاؤں جانے کا فیصلہ کیا۔ اُس نے سیاہ ٹراؤزر کے ساتھ گہرے بھورے رنگ کا کوٹ پہن رکھا تھا، اُس کے پاس کوئی فلیش لائٹ یا ایسا کچھ نہ تھا جس سے وہ نمایاں دکھائی دے جاتی۔ ایک گاڑی نے اُسے ٹکڑ مار دی۔۔۔ یوگوسلاویہ سے آتے ایک ٹریلر نے۔۔۔ یوں مارگٹ رات کے اندھیرے میں مکمل طور پر تحلیل ہو گئی۔

میں کبھی نوجوان لڑکا تھا۔ محبت نے ایک بھرپور زندگی مجھ پر روشن کی۔ اُس عورت کو کھو دینے کے بعد، جس سے مجھے محبت تھی، میری کایا پلٹ ہی ہو گئی۔ میں لڑکا رہا نہ کوئی بالغ مرد میں کسی پھندے میں پھنسا جانور بن گیا۔ اپنی زندگی کے اس مرحلے پر میرا سامنا لفظ ”صوفی“ کے حرف ’ص‘ سے ہوا۔“

حرف ”و“ سے ملاقات

مسند غم پہ جچ رہا ہوں میں
اپنا سینہ کھرچ رہا ہوں میں

”مارگٹ کی موت کے بعد میری زندگی بڑی ڈرامائی تبدیلیوں سے گزری۔ منشیات کے عادی لوگوں میں گم ہو کر، رات بھر جاری رہنے والی پارٹیوں اور ایمسٹرڈیم کے ان ڈانس کلبوں میں جاتے ہوئے جن کے نام کا بھی مجھے پہلے علم نہ تھا، میں نے سب غلط جگہوں پر سکون اور دردمندی کو تلاش کیا۔“

اسی یک گونہ بے خودی کی تلاش میں کئی بار عزیز نے اپنی جان لینے کے منصوبے بنائے۔ ایک بار سقراط کی طرح Hemlock بھی کھانے کی کوشش کی لیکن وہ کوئی اور عام سا پودا ہونے کی وجہ سے بے ضرر ٹھہرا۔ جلد ہی اس طرزِ زنگی کے اثرات ظاہر ہونا شروع ہو گئے، عزیز کی ملازمت چلی گئی، یار دوست چھوٹ گئے، تبھی اس کی زندگی کا اگلاموڑ آ پہنچا؛

”آخر کار وہ اپارٹمنٹ بھی چلا گیاجہاں مارگٹ اور میں نے بہت سے حسین دن گزارے تھے۔۔۔ میں ایک Squat house میں رہنے لگا جہاں دروازے نہ تھے، اندر نہ ہی باہر، باتھ روم تک کا کوئی دروازہ نہ تھا۔ سب کچھ ہم شیئر کرتے تھے۔ ہمارے گیت، خواب، پاکٹ منی، منشیات، کھانا، بستر۔۔۔ سوائے درد کے، سب کچھ مشترکہ تھا۔

منشیات اور عیاشی میں زندگی کو جھونکتے، میں اس شخص کا سایہ سا بن کر پاتال میں اتر چکا تھا جو میں کبھی ہوا کرتا تھا۔ ایک صبح منہ دھوتے میں نے آئینے میں دیکھا۔ میں نے تب تک کبھی کسی کو اتنی نوجوانی میں اس قدر شکستہ اور افسردہ نہ دیکھا تھا۔ میں دوبارہ اپنے بستر پر جا لیٹا اور کسی بچے کی طرح روتا رہا۔ اُسی روز میں نے وہ سارے باکس کھنگالے جن میں مارگٹ کی استعمال شدہ چیزیں رکھی تھیں۔ اُس کی کتابیں، کپڑے، ریکارڈز، بالوں کی پنیں، کاغذ کے پرزوں پر لکھی اس کی تحریریں، تصویریں۔۔۔ میں نے ایک ایک کرکے اس کی ہر نشانی کو الوداع کہا۔ اس کے بعد میں نے انہیں واپس ڈبوں میں رکھا اور اُنہیں ان تارکین وطن کے بچوں کو دے دیا جن کے لیے مارگٹ فکر مند رہا کرتی تھی۔یہ 1977ء تھا۔

پھر خدا کی طرف سے بھیجے گئے رابطوں سے مجھے ایک مشہور ٹریول میگزین میں فوٹو گرافر کی ملازمت مل گئی۔ یوں میں کینوس کا سوٹ کیس اور مارگٹ کی فریم شدہ تصویر لے کر اس آدمی سے دور بھاگتے جو میں بن چکا تھا، شمالی افریقہ کے سفر پر روانہ ہوا۔“

اسی دوران عزیز کی ملاقات ایک برطانوی اینتھروپولوجسٹ سے ہوتی ہے جو اسلام کے مقدس ترین شہروں میں جانے والے پہلے مغربی فوٹو گرافر بننے کے متعلق اس کی رائے دریافت کرتا ہے، سعودی قوانین کے مطابق ایسا ممنوع ہونے کی بنا پریہ سفر خطروں سے خالی نہ تھا اس کی سنسنی خیزی کے پیش نظر عزیز کو اس میں ایسی کشش محسوس ہو رہی تھی جیسے کسی شہد کی مکھی کو شہد کے مرتبان میں۔

”اس ایتھروپولوجسٹ نے کہا کہ میں یہ سب تنہا نہیں کرسکتا تھا اور مجھے اس کے لئے کسی رابطوں کی ضرورت تھی۔ اس نے علاقے کی صوفی برادری سے رابطے کا مشورہ دیا۔

مجھے صوفی ازم کے بارے میں کچھ علم نہ تھا اور مجھے اس کی پرواہ بھی نہ تھی۔۔۔ میرے نزدیک وہ بس کام نکلوانے کا ایک وسیلہ تھا۔

زندگی بہت عجیب ہے، ایلا۔ انجام کار یہ کہ میں کبھی مکہ یا مدینہ نہیں جا سکا۔ تب نہ ہی بعد میں۔ میرے قبول اسلام کے بعد بھی نہیں۔ تقدیر مجھے ایک بالکل مختلف راہ پر لے آئی، ایسے غیر متوقع موڑ اور تبدیلیاں جنہوں نے مجھےاس قدر گہرائی سے اور اٹل انداز میں بدلا کہ کچھ عرصے بعد اصل منزل اپنی اہمیت کھو بیٹھی۔ اگرچہ آغاز میں نے بالکل مادی وجوہات کے باعث کیا تھا مگر جب سفر انجام کو پہنچا تو میں مکمل طور پر ایک تبدیل شدہ شخص تھا۔

جہاں تک بات ہے صوفیوں کی، کسے خبر تھی کہ جنہیں میں نے شروع میں مقصد پورا کرنے کا ایک ذریعہ سمجھا تھا، وہی خود مقصد بن جائیں گے؟ اپنی زندگی کے اس حصے کو میں لفظ ”صوفی“ میں حرف ”و“ سے اتفاقیہ ملاقات کہتا ہوں۔“

حرف ”ف“ سے ملاقات

1977ء کا موسم گرما عزیز نے مراکش میں کچھ صوفیوں کے ساتھ گزارا جنہوں نے اسے رہائش کے لئے چھوٹا ساکمرہ دیا ہوا تھا، بوریا، تیل کا چراغ، عنبریں تسبیح، کھڑکی کے پاس پھولوں کا گملا، نظر بٹو اور اخروٹ کی لکڑی کی میز جس کی دراز میں مولانا روم کی شاعری کا نسخہ رکھا تھا، یہ اس کمرے کی کل جمع پونجی تھی، تبھی ایک شام پہلی بار شیخ سمید اس سے ملاقات کے لئے تشریف لائے؛

”انہوں نے کہا کہ میں مکہ روانگی کے لیے تیار ہونے تک ان کے ساتھ رہ سکتا ہوں، انہیں خوشی ہوگی۔ البتہ ایک شرط پر: کوئی منشیات نہیں۔

مجھے اپنے چہرے کا سرخ پڑنا یاد ہے، جیسے کسی بچے کو کوکیز کے جار میں ہاتھ ڈالے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا گیا ہو۔“

عزیز انہیں سوچوں میں گم تھا کہ کیا انہوں نے میری غیر موجود گی میں میرے سامان کی تلاشی لی تھی کہ شیخ سمید دوبارہ گویا ہوئے؛

”یہ جاننے کے لئے کہ تم منشیات استعمال کرتے ہو، ہمیں تمہارے سامان کی تلاشی کی ضرورت نہیں، برادر کریگ۔ تمہاری آنکھیں منشیات کے عادی لوگوں جیسی ہیں۔

درد کو سُن کرنا، اس کے علاج کے برابر نہیں۔شیخ سمید نے کہا: انستھیزیا جب ختم ہو جاتا ہے تو درد جوں کا توں موجود ہوتا ہے۔“

یہ سننے کے بعد عزیز نے اپنی رضامندی سے سب منشیات ان کے حوالے کر دیں، اس خانقاہ میں عزیز نے چار ماہ ’شب کو مے خوب سی پی صبح کو توبہ کر لی‘ کے سے عالم میں گزارے، خانقاہ کے ماحول کے متعلق لکھا؛

”شام کے اوقات میں خانقاہ پر طاری سکون سے لطف اندوز ہوتے ہوئے میری صوفیوں سے اچھی دوستی ہو گئی تھی۔ وہاں قیام کچھ الگ سا تھا مگر عجیب طور پر پُرسکون بھی تھا، میں اگرچہ پہلے بھی دوسرے لوگوں کے ساتھ ایک مشترکہ چھت تلے رہتا آیا تھا مگر خانقاہ میں مجھے کچھ ایسا ملا جس کا تجربہ مجھے پہلے کبھی نہ ہوا تھا: داخلی سکون۔

بہ ظاہر ہم ایک اجتماعی زندگی گزار رہے تھے، جہاں ہر کوئی مل کر کھاتا پیتا اور مقررہ وقت پر ایک سے فرائض ادا کرتا، لیکن گہرائی میں ہمیں تنہا رہنے اور اپنے باطن میں جھانکنے کی حوصلہ افزائی کی جاتی تھی۔ تصوف کی راہ پر، آپ سب سے پہلے ہجوم میں تنہا رہنے کا فن دریافت کرتے ہیں۔ اس کے بعد آپ اپنی تنہائی میں ہجوم دریافت کرتے ہیں۔۔۔ اپنے باطن کی آوازیں۔“

جب میں مراکش میں منتظر تھا کہ صوفی مجھے بہ حفاظت چوری چھپے مکہ اور مدینہ بھجوا دیں، میں نے صوفی فلسفے اور شاعری کا گہرا مطالعہ کیا، پہلے تو اکتاہٹ سے بچنے اور اس لیے کہ کرنے کو اس سے بہتر کچھ نہ تھا، مگر بعد میں اپنی دلچسپی کے سبب۔ کسی ایسے شخص کی طرح جسے پانی کا پہلا گھونٹ بھرنے سے پہلے اپنی پیاس کی شدت کا علم نہ تھا، مجھے معلوم ہوا کہ تصوف سے اس اتفاقی تعارف نے میری اس کے لیے پیاس کو بڑھا دیا تھا۔ اس طویل موسم گرما میں مَیں نے جتنی کتابیں پڑھیں، ان میں مولانا رومی کی شاعری نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا۔

تین ماہ بعد شیخ سمید نے اچانک کہا کہ مجھے دیکھ کر انہیں کسی کی یاد آتی ہے۔۔۔ شمس تبریز نامی ایک سرگرداں درویش۔

شیخ سمید سے شمس تبریز کے بارے جانتے ہوئے مجھے اپنی ریڑھ کی ہڈی میں کپکپی سی دوڑتی محسوس ہوئی، التباس کا عجیب سا احساس۔

اب تم سوچوگی کہ میں دیوانہ ہوں۔ لیکن خدا کی قسم، اسی لمحے مجھے پس منظر میں ریشمی سرسراہٹ سنائی دی، پہلے دور کہیں، پھر نزدیک آتی ہوئی، اور میں نے کسی ایسے شخص کا سایہ دیکھا جو وہاں موجود نہ تھا۔۔۔ بہرصورت میں جان گیا کہ کہیں جانے کی ضرورت نہ تھی۔ اب نہیں۔ ہمیشہ کہیں اور جانے کی آرزو میں، کہیں دور، ہمیشہ کسی عجلت میں، میں اس خواہش سے تنگ آ چکااور بیزار ہو چکا تھا۔

میں پہلے ہی وہیں تھا جہاں ہونا چاہتا تھا۔ مجھے اب بس وہاں رہ کر اپنے اندر جھانکنا تھا۔ میری زندگی کے اس نئے حصے کو میں لفظ ”صوفی“ کے حرف ”ف“ سے ملاقات کہتا ہوں۔“

حرف ”ی“ سے ملاقات

ایلا کی عزیز سے پہلی بار بوسٹن میں ملاقات ہوئی جہاں انہوں نے ایک ساتھ بوسٹن گھوما، ایک رات سیر سے واپسی پر عزیز نے اپنی بقیہ کتھا سنانا شروع کی، 1977ء میں اس نے اپنا پرانا نام کریگ چھوڑ کر اپنے لیے نیا نام عزیز اختیار کیا اور مکمل صوفی بننے کے بعد اپنی زندگی سفر و سیاحت کرتے، مطالعہ کرتے اور صوفی درویشوں کے نقوش قدم پر تعلیم دیتے ہر جگہ اور ہر شے میں خدا کی نشانیاں تلاش کرتے گزاری تھی، آپ بیتی کا یہ حصہ ایلا سناتی ہے؛

”پھر دو برس قبل، اسے اپنی بیماری کا علم ہوا۔

اس کا آغاز اس کی بغل میں ایک گلٹی سے ہوا، جس پر اس کی توجہ بہ ظاہر خاصی دیر سے گئی تھی۔ گلٹی ایک خطرناک رسولی ثابت ہوئی، جو جلدی کینسر کی ایک مہلک قسم تھی۔

اس وقت اس کی عمر باون برس تھی۔ اسے بتایا گیا کہ وہ زیادہ سے زیادہ پچپن برس کی عمر تک ہی جی پائے گا۔

اس طرح اس کی زندگی کے ایک نئے اور کئی طرح سے زیادہ پیداواری مرحلے کا آغاز ہوا۔۔۔ اس نے عالمی رابطوں سے ایمسٹرڈیم میں ایک صوفی فاؤنڈیشن کی بنیاد رکھی۔ “

انڈونیشیا، پاکستان، مصرکی سیروسیاحت کے بعد عزیزواپس مراکش بھی گیا جہاں وہ صوفی اور تصوف سے پہلی ملاقات کا مرکز خانقاہ کا دورہ کرنے بھی گیا تو پتہ چلا کہ شیخ سمید دنیاسے گزر چکے ہیں، عزیز نے اس کی لحد پر فاتحہ پڑھی، پھر اس نے اپنا ناول ”دلکش کفر “ لکھنا شروع کیا جو وہ کافی عرصے سے لکھنا چاہتا تھا اور پھر امریکہ کی ایک لٹریری ایجنسی کو بھیج دیا۔

”ہفتہ بھر بعد مجھے ( عزیز کو) بوسٹن کی ایک پُراسرار خاتون کی بڑی تجسس آمیز ای میل ملی۔“

اتنا ترسایا گیا مجھ کو محبت سے کہ اب
اک محبت پہ قناعت نہیں کر سکتا میں

یہاں سے عزیز کی زندگی کے آخری فیز میں ایک اور مرحلہ شامل ہو گیا؛

”عزیز نے بتایا کہ اس لمحے کے بعد سے کچھ بھی پہلے جیسا نہ رہا۔ موت کے لیے تیار ایک آدمی سے، وہ کسی ایسے شخص میں بدل گیا جو انتہائی غیر متوقع وقت پر محبت میں گرفتار ہو گیا تھا۔ یکایک زندگی کے وہ تمام ٹکڑے جو وہ سمجھتا تھا کہ عرصہ ہوا انہیں ان کی درست جگہوں پر رکھ چکا ہے، انہیں دوبارہ ہلانے کی ضرورت آن پڑی تھی۔ روحانیت، زندگی، خاندان، فنا، ایمان اور محبت۔۔۔ اس نے خود کو ان سب کے نئے معانی کے بارے میں سوچتے پایا اور وہ اب مرنا نہ چاہتا تھا۔

اس کی زندگی کا یہ مرحلہ پچھلوں کی بنسبت دشوار ترین ثابت ہوا تھا کہ یہ ایسے وقت سامنے آیا تھا جب اس کا خیال تھا کہ وہ اگر سب نہیں تو اپنے بیشتر داخلی تنازعات حل کر چکا تھا، ایسا وقت جب اس کا خیال تھا کہ وہ روحانی طور پر بالغ اور مکمل ہو چکا تھا۔

تصوف میں آپ موت سے پہلے مرنا سیکھتے ہیں۔ میں ( عزیز) ان تمام مراحل سے قدم بہ قدم گزر چکا ہوں۔ پھر جیسے ہی میں نے یہ سمجھنا شروع کیا کہ میں ان سب کو ترتیب دے چکا ہوں، تو یکایک جانے کہاں سے یہ عورت چلی آئی۔ وہ مجھے ای میل کرتی ہے اور میں اسے جواب دیتا ہوں۔ ہر ای میل کے بعد میں رکی سانوں کے ساتھ اس کے جواب کا انتظار کرتا ہوں۔ الفاظ ہمیشہ سے کہیں زیادہ بیش قیمت ہو گئے ہیں۔ ساری دنیا ایک بلینک سکرین میں بدل گئی ہے، اس کی منتظر کہ اس پر کچھ تحریر کیا جائے۔ اور مجھے ادراک ہوا کہ میں اس عورت کو جاننا چاہتا ہوں۔ میرا دل اس کے ساتھ زیادہ وقت گزارنے کو چاہتا ہے۔ اچانک ہی مجھے اپنی زندگی ناکافی لگنے لگی تھی۔ مجھے ادراک ہوا کہ مجھے موت سے خوف آنے لگا تھا اور میری ذات کا ایک حصہ اُسی خدا کے سامنے بغاوت کو تیار ہو گیا جس کی عظمت و جلال کے سامنے میں نے سرتسلیم خم کر دیا تھا۔“

اپنی زندگی کے اس نئے اور حتمی مرحلے کو عزیز نے لفظ ”صوفی“ میں حرف ”ی“ سے ملاقات کہا۔

اس ملاقات کے بعد ایلا اور عزیز نے چار ماہ ساتھ گزارے دنیا کی سیاحت کے بعد عزیز کی آخری منزل ”قونیہ“ تھی اس کے محبوب ”رومی“ کا دیار، عزیز اور ایلا کو قونیہ پہنچے چار روز ہوئے تھے کہ جب ایک روز خون کی الٹی آنے پر اسے ہسپتال پہنچایا گیا جہاں فجر کے وقت اس نے خاموشی سے جان مالک حقیقی کے سپرد کر دی۔اور عزیز کو قونیہ میں دفنا دیا گیا، اس کے محبوب ”رومی“ کے نقوش قدم پر۔

داستاں پوری نہ ہونے پائی
زندگی ختم ہوئی جاتی ہے

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

1 تبصرہ

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20