پرانے وقت اور شادی کی وڈیو: تماشے کیا کیا —- اظہر عزمی 

0

اب تو خیر وہ زمانہ لد گئے ہیں جب 80 اور 90 کے عشروں میں شادی کی سب سے اہم اٹریکشن شادی کی ویڈیو ہوا کرتی تھی۔ آج کل اسمارٹ فون کا زمانہ ہے۔ ہاتھ کے ہاتھ وڈیو اور سیلفی جس طرح چاھیں بنائیں۔ جو چاھیں ڈیلیٹ کردیں۔ پہلے تو یہ تھا یہاں شادی ختم ہوئی سب کی طرف سے بالخصوص لڑکیوں کی طرف سے مطالبہ شروع ہو جاتا کہ ویڈیو کب آئے گی۔دل تو خیر سب کا چاہ رہا ہوتا لیکن اصرار لڑکیاں ہی کرتیں۔ جس لڑکے نے ویڈیو والے سے بات کی ہوتی آتے جاتے اس کی جان مصیبت میں رہتی۔ نئی نویلی دلہن سے کہا جاتا “اللہ بھابھی آپ سراج (بیچ کی مانگ نکالے، امیتابھ بچن بنتے) سے کہہ دیں جلدی ویڈیو لے آئے۔ قسم سے بہت دل چاہ رہا آپ کو ویڈیو میں دیکھنے کا” یہ سب غلط ہوتا سب کو اپنے آپ کو دیکھنے کی بے تابی ہوتیں۔ نو بیاہی دلہن کہتی کہ میں سراج سے کہہ دوں گی لیکن لڑکیاں بضد رہتیں کہ ہمارے سامنے کہیں۔

پھر لڑکیاں بہانہ سے سراج کو دلہن کے سامنے لا کھڑا کرتیں۔ سراج کہتا کہ بھابھی جس کی چاھیں قسم لے لیں۔ میں روز ویڈیو والے سے کہتا ہوں۔ اس کے پاس کام کا رش زیادہ ہے۔ لڑکیاں چلاتیں “کوئی نہیں۔ اتنے دن تو ہوگئے”۔ ایک لڑکی لقمہ دیتی “میری دوست کی بہن کی شادی بھی بھابھی کے ساتھ ہوئی تھی۔ ان کی ویڈیو تو کبھی کی آگئی۔ آج تمھیں بھابھی کے سامنے وعدہ کرنا ہوگا۔ ویڈیو کب لاو گے” سراچ تنگ آکر کوئی دن بتا دیتا۔ لڑکیاں سراج کے پیچھے لگ جاتیں۔ دیکھو سراج بھابھی کے سامنے وعدہ کر رہے ہو۔ مکرنا نہیں۔ ورنہ پھر تمھیں نا مار پڑے گی۔

سراج چار ونا چار مان جاتا۔ اس کے جاتے ہی لڑکیاں “اللہ کتنا مزہ آئے گا” کہتیں۔ خدا خدا کر کے وہ دن آتا کہ ویڈیو آجاتی۔ لڑکیوں کا بس نہ چلتا کہ وی سی آر میں کیسٹ ڈالیں اور دیکھنے بیٹھ جائیں۔ جن گھروں میں وی سی آر نہ ہوتا وہاں لڑکیاں گھر کے چھوٹے بچوں کو دوڑاتیں کہ دیکھ کر آو کہاں کرائے کا وی سی آر خالی ہے یا بھر کسی جاننے والے کے پاس بھیجنے کی کوشش کی جاتی۔ ایسے میں ساس (دادی اماں) کی آواز گونجتی “کوئی ضرورت نہیں کسی سے وی سی آر مانگنے کی۔۔ مانگا تو وہ بھی اپنی پلٹن کے ساتھ دیکھنے آجائئں گی۔ کرائے پر مانگا لیں گئے لیکن وی سی آر اس وقت لگے گا جب گھر کےسارے مرد آجائیں گے کوئی جذباتی لڑکی کہتی “دادی بہت دیر ہو جائے گی دادی (ساس) کہتیں “کیا کوئی ویڈیو بھاگی جا رہی ہے”۔ سب لڑکیاں منہ بنا کر رہ جاتیں۔ بس کیسٹ کو ٹکرٹکر دیکھے جاتیں۔ وقت ہے کہ گذرنے کا نام نہیں لیتا۔

اس رات کو وقت سے پہلے ہی کھانا تیار کرلیا جاتا۔ کھانے کا یہ تھا کہ آخری نوالہ منہ میں جائے اور وی سی آر لگ جائے۔ ایسے موقعوں ہر گھر کا کوئی نہ کوئی فرد آفس سے لیٹ ہوجاتا۔ دادی پھر کہتیں کہ سب ساتھ دیکھیں گے۔ تھوڑا انتظار کرو” لڑکیوں کے دل پر چھریاں چل جاتیں۔ دعائیں مانگتیں کہ وہ آخری فرد بھی آجائے۔اس زمانے میں موبائل کی ڈائریکٹ ڈائلنگ کی سہولت تو نہ تھی۔ اس لئے اللہ میاں سے دعائیں مانگی جاتیں۔ لیجئے وہ آخری صاحب بھی آجاتے۔ آتے ہی کوئی لڑکی کھانے ٹرے سجا کر لے لیتی۔ وہ کہتے “ذرا دم تو لے لو۔چینج تو کر لوں”۔ یہ بیچ والے مشتاق چچا داستان گو مشہور ہوتے۔ آج تو لگتا کہ دن بھر کی رام لیلہ سنا کر ہی دم لیں۔ لڑکیاں چڑ رہی ہوتیں۔ ثمینہ کہتی “پاپا آج تو اپنے قصے کہانی رہنے دیں۔ زرینہ کہتی “قسم سے کل میں اکیلی ایک ایک بات سن لوں گی مشتاق چچا کی۔ مگر صاحب اسٹوری رائٹر تھے۔ روز کے روز تازہ بہ تازہ قسط سناتے۔ اگر اگلے دن چھٹی ہوتی تو ری پیٹ ٹیلی کاسٹ کر دیتے۔ بیوی بھی ہلکے سے کہتی “سنیں جلدی کھا لیں۔ آپ کی وجہ سے ویڈیو نہیں چل رہی ہے “۔ وہ نوالہ چباتے ہوئے کہتے “اچھا تو میں وی سی آر کا بٹن ہوں۔ پہلے بتانا تھا”۔

ادھر دلہن بے چاری دولہا کے پاس ہوتی۔ دولہا میاں بظاہر تو ویڈیو سے دلچسپی کا اظہار نہ کرتے لیکن جلدی انہیں بھی ہوتی۔اس دوران دولہا میاں کمرے میں دلہن کو اپنے ماضی کے ناقابل فراموش قصہ سنانے لگتے یا پھر یہ کہ ان کے آفس میں وہ کتنے اہم ہیں۔ایک دو واقعات ایسے سناتے جس سے محسوس ہوتا جیسے کہ آفس میں مالک کے بعد سب سے اہم آدمی وہی ہیں۔ دلہن اگر کم گو ہوتی تو بس سر ہلا کر رہ جاتی اور اگر ہوشیار ہوتی اور صاحب کو سمجھ چکی ہوتی تو ان کو داد دیتی۔اس پر صاحب خوش ہو کر کسی اور کے واقعات اپنے نام سے سنا دیتے۔

 صد شکر الہی وہ ساعت آئی ! مشتاق چچا پیٹ کی آتما کو شانتی دے چکے ہیں۔اس دوران سراج میاں ہیرو بنے ادھر سے ادھر پھدک رہے ہوتے، کیسٹ ان کے ہاتھ میں ہوتا۔ بڑے فخر سے لڑکیوں کو بتاتے کہ وہ خود ایڈیٹنگ پر بیٹھے تھے۔ایسے ٹائٹ گانے لگوائے ہیں کہ مزہ آجائے گا۔ دیکھو گی تو دیکھتی رہ جاو گی۔ بر لڑکی کو باری باری چھیڑتے “ارے ثمینہ تم اتنی بری آئی ہو۔ میں نے تو تمھارا کوئی کلوز اپ رکھا ہی نہیں”۔ ثمینہ چڑ کر کہتی “کوئی نہیں۔ سب میری اتنی تعریف کر رہے تھے۔ خالہ امی نے تو باقاعدہ میری بلائیں لیں تھیں”۔ سراج ذومعنی انداز میں کہتا ” ہاں سب کو معلوم ہے یہ سب وہ کیوں کرتی ہیں۔بتا دوں سب کو؟ لڑکی کہتی “پھر میں بھی بتا دوں گی وہ شرارے والی لڑکی نے تم سے ولیمہ والے دن کیا کہا تھا ۔اب بولو بچو” سراج کھسیا جاتا۔ لڑکیاں زور سے ہنستیں لیکن پھر گھر میں بڑوں کی موجودگی کو دیکھ کر منہ پر ہاتھ رکھ لیتیں۔سراج شیر ہوجاتا اور کسی قدر بلند آواز میں کہتا (اشارہ ثمینہ کی طرف ہوتا) “کیمرہ کسی کا رشتہ دار نہیں ہوتا بھائی۔کسی کو مسکہ پالش نہیں لگاتا۔ اس کا کوئی کنوارا لڑکا نہیں ہوتا”۔

سراج اب دوسری لڑکی کی طرف متوجہ ہوتا “اور زرینہ تم یہ بتاو اس رنگ پر اتنا ڈارک کلر اور اس پر اتنا ہی ڈارک میک اپ۔ویڈیو والا کہہ رہا تھا۔ بھائی یہ تمھاری رشتہ دار ہے۔میں تو صاف مکر گیا۔ میں نے کہا کہ ہمارے گھر جو ماسی آتی ہے۔ اس کی بیٹی ہے۔ مستقل کام میں لگی ہوئی تھی اس لئے بارات میں لے آئے۔ ابھی یہ ٹھٹول بازی چل رہی ہوتی کہ آواز آتی “سراج اب ویڈیو لگا بھی دے۔صبح سب کو آفس بھی جانا ہے۔ گھر میں خوشی کے مارے بجلی دوڑ جاتی۔ دولہا صاحب اور دلہنیا کمرے سے نکلنے لگتے تو دلہنیا پہلےکام والا بھاری سا ڈوپٹہ سر پر لیتیں۔اٹھانے لگتیں تو دولہا میاں ہاتھ پکڑ کر اٹھاتے مسکراہٹوں کا تبادلہ ہوتا۔اب پیروں کی پازیب کی ہلکی ہلکی چھن چھن کے ساتھ وی سی آر والے کمرے میں آتے۔ ارے یہ کمرے کا کیا ہوا؟ دو تین کرسیوں کے علاوہ سب باہر نکال دی گئیں۔ نیچے صاف چادر بچھی ہے۔ بھائی اتنا اہتمام کیوں نہ ہو آج کی ویڈیو کا پریمیئر شو جو ہے۔

سسر (دادا) اور گھر کے ایک دو بڑی عمر کے لوگ کرسیوں پر بیٹھ جاتے۔ساس (دادی) عورتوں کے ساتھ نیچے بیٹھ جاتیں۔کوئی کہتا بھی کہ دادی اماں اوپر بیٹھ جائیں تو وہ کہتیں ” بھیا میں نیچے ہی بھلی”۔ سسر کمرے پر اچٹتی نظر ڈالتے تو بڑی بہو کو کمرے میں نہ پا کر کہتے “ارے یہ بڑی والی کہاں ہے؟”۔ ساس ہلکے سے مگر اتنے ہلکے سے سب سن لیں کہتیں “پتہ نہیں یہ کیوں جلی جا رہی ہیں۔ ہمارا لڑکا ہے جہاں چاھیں شادی کریں۔ اب اگر تمھارے خاندان میں کوئی دیکھ لی تو اسٹمپ پیپر پر لکھکر تو نہیں دے دیا تھا” خیر دو تین آوازوں کے بعد بڑی بہو آجاتیں اور کہتیں “منے کو صبح سے دست لگے ہوئے ہیں” ساس فورا بولتیں “دلہن صبح سے تو دست وست نہ آرہے تھے”۔ بڑی بہو ان کی بات سنی ان سنی کرکے دوسری بہو کے ساتھ لگ کر بیٹھ جاتی۔

لیجئے جناب انتظار کی گھڑیاں ختم ابھی سراج کیسٹ لگا ہی رہا ہوتا تو ساس کی آواز گونجتی “لڑکیوں ذرا گیٹ کو کنڈی لگا آو۔ کوئی بھی آئے تو پہلے تو کھٹ کھٹ کا جواب ہی نہ دینا۔ اور اگر بہت کھکھٹائے تو کہہ دینا دلہن کے گھر والے آئے ہوئے ہیں “۔ اس موقع پر کرسی پر بیٹھے گھر کے سربراہ (دادا) کہتے “کیوں بھی۔ اس میں چھپانے والی کیا بات ہے”۔ اس پر وہ کہتیں “آپ کو نہیں پتہ برابر والی کو کتنی ٹوہ لگی یے ویڈیو کی اور سیدھی سی بات ہے مجھے گھر کی ویڈیو کسی کو بھی دکھانا زہر لگتا ہے”۔ لڑکیوں میں سے ایک لڑکی اٹھتی اور زور سے کنڈی لگاتی تاکہ سب سن لیں۔ ساس کی زبان تالو سے نہ لگی ہوتی۔ کہتیں کہ اس برابر والی نے پوری شادی میں بڑا دماغ کھایا۔ ہر بات میں مشورہ بیگم بنی ہوتی۔ بھئی ہمارے گھرکی شادی ہے۔ ہمارے اپنے رسم و رواج ہیں جو چاھیں کریں۔ تیسری شادی کر رہی ہوں۔ بچی تو نہیں اور تو کون؟ کیا پھوپھی لگے ہے اشتیاق (دولہا) کی؟”۔ سسر کو یہ ریمارکس اچھے نہ لگتے۔ وہ جانتے تھے کہ ایک تیر سے دو شکار کھیلے گئے ہیں۔ دل ہی دل میں کہتے “عجیب عورت ہے یہاں بھی نہیں چھوڑا میری اکلوتی بہن کو ” پھر خود ہی کہتے “کوئی نیا تھوڑی ہے بھائی”۔

ابھی مزید وہ کچھ بولنے والی ہوتیں لیکن سراج وی سی آر کے پلے کا بٹن دبا کر دادی اماں کے کلام کو منقطع کرتا۔ لیجئے جناب سب عبادت شادیہ میں باجماعت ٹی وی رو ہو کر بیٹھ گئے۔ کنھکیوں سے دولہا نے لڑکیوں کے جھرمٹ میں بیٹھی دلہن کو دیکھا اور وہ شرما کر نظریں جھکا بیٹھی۔ ایک لڑکی نے دوسری لڑکی کو کہنی ماری اور کان میں بولی “اچھے چچا بڑے رومانٹک چل رہے ہیں”۔ کسی بڑے کی آواز گونجتی “اب کسی کی آواز نہ نکلے ” (ہاں بھائی اول وقت کی عبادت ہے۔ ثواب کثیر جو سیمٹنا ہے)۔

کیسٹ وی سی آر میں لگی تو پہلے ویڈیو والے کی ایڈورٹائزنگ شروع ہو جاتی جس میں انگریزی اسپیلنگ کی قاتلانہ غلطیاں ہوتیں مگرجناب اس وقت یہ غلطیاں کون دیکھتا۔ اس کے بعد دلہن (کسی اور کی) کے ہاتھ کا دل بنا ہوتا اور اس میں دولہا میاں کی نکاح کے بعد کی سر پر سہرا الٹی پسینہ زدہ تصویر آتی۔ اس کے بعد تصویر الٹتی دولہا میاں اسکرین سے آوٹ ہوتے تو نیچے سے اخبار کی طرح صفحہ آجاتا جس پر دلہن نکاح سے پہلے آنکھیں بند کئے بیٹھی ہے۔ پھر باری باری سب گھر والوں کی تصویریں آتیں۔ دادا دادی کو ایک ساتھ دیکھکر لڑکیوں کی ہلکی ہلکی کھی کھی شروع ہو جاتی۔ ثمینہ زرینہ کے کان میں کہتی “پہلی بار دادی کو خاموش دیکھا۔ اچھا نہیں لگ رہا۔ دادی کو بھنک پڑ جاتی “اے لڑکی تیری زبان تالو سے نہیں لگتی۔ کیا کہہ رہی ہے”۔ ثمینہ ڈرتے ڈرتے کہتی “دادی میں تو کہہ رہی تھی دادی آئیں تو ویڈیو میں جان آئی۔ دادی کو یقین ہوتا کہ پوتی جھوٹ بول رہی ہے مگر پہلی دفعہ نئی دلہن کے لحاظ میں کچھ نہ کہتیں اور یوں ثمینہ کی جان میں جان آتی۔ اس کے بعد فلم کا باقاعدہ آغاز ہوتا۔ آج دولہا کا مایوں ہے۔ پہلا سین گھر پر لگی لائٹوں کا ہوتا۔جھالریں جگمگا رہی ہوتیں۔ بیچ میں ایک چرخہ جلتی بجھتی چھوٹی چھوٹی لائٹوں کے ساتھ گھوم رہا ہوتا۔ اب کیمرہ گھر کے دروازے پر آتا اور گھر پر لگی تختی کا کلوز اپ بناتا اور اس کے ساتھ دوسرے شہر سے آئے مہمان بچے کرسیوں پر بیٹھنے کے لئے لڑ رہے ہوتے اور کیمرے کو دیکھ وکٹری کا نشان بنا رہے ہوتے۔ کوئی کیمرے کو سلامی دیتا ہوا گذر رہا ہے اور تو اور ایک بچہ ٹیڑیں پاپا کرتا پہیہ گھماتا ہوا آجاتا۔ اب دادی کا صبر جواب دے جاتا “ارے سراج یہ تو سرکس کی ویڈیو اٹھا لایا ہے کیا۔ ایک سے ایک نمونہ نظر آرہا ہے”۔ دادی کچھ اس طرح سے کہتیں کہ دلہن بھی مسکرا دیتی۔ لیجئے ابھی کیمرہ ان بچوں سے فارغ ہوتا تو کچھ دور خاندان کے ایک بزرگ (جنہیں خاندان کی عورتیں دولہا میاں بھائی جان کہا کرتیں) کرسی پر بیٹھے نظر کا موٹا چشمہ لگائے ہونقوں کی طرح کیمرے کی طرف دیکھے چلے جا رہے ہوتے۔ دادی ان کے احترام میں فورا ڈوپٹہ سر پر لے لیتیں۔

ان صاحب نے اپنی بزرگی اور مہمان ہونے کا پورا پورا فائدہ اٹھایا اور بلا شرکت غیر، شادی کے ناپسندیدہ ترین شخض کا اعزاز حاصل کیا۔ لڑکیاں خود سے پہلے انہیں اسکرین پر دیکھکر چڑ جاتیں اور ہلکے سے ایک دوسرے کے کان میں کہتیں “یہ جان نہیں چھوڑیں گے۔ سب سے پہلے انہیں ہی آنا تھا ویڈیو میں”۔ ایک لڑکی شرارت سے کہتی “کیسے جان چھوڑ دیں دولہا میاں بھائی جان جو ہیں”۔


مصنف کا تعلق ایڈورٹائزنگ کے شعبہ تخلیق سے ہے ۔ 30 سال پر محیط کیریئر میں متعدد ٹی وی کمرشلز اور جنگلز آپ کے کریڈٹ پر ہیں۔ 90 کی دھائی میں اخبارات میں مختلف موضوعات پر آرٹیکلز لکھے ۔ ٹی وی کے لئے ڈرامہ بھی لکھتے رہے ہیں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20