مجاہد حسین کے جواب میں جمعیت کا موقف: شہریار احمد

0

اس ہفتے کی ۱۳، ۱۴، اور ۱۵ تاریخ کو جامعہ پشاور کی اسلامی جمعیت طلبہ نےاپنی روایات کے مطابق جامعہ میں کتاب میلے کا اہتمام کیا- ساٹھ کے قریب سٹالز جس میں لگائے گئے تھے- جمعیت کے منعقد کردہ کتاب میلوں میں تواتر کے ساتھ جانے والے حضرات جانتے ہیں کہ اس کتاب میلے میں ہر قسم کی کتابیں موجود ہوتی ہیں – اس میں ادبی، سیاسی، سماجی، معاشی، سائنسی، اسلامی، فلسفے غرض ہر موضوع پر مختلف کتابیں موجود ہوتی ہیں- لوگ آتے ہیں اور اپنی پسند کے مطابق کتابیں خریدتے ہیں-

دانش کے مجاہد حسین صاحب کی ایک تحریر نظر سے گزری جس میں انھوں نے جمعیت پر تنقید کے نشتر برساتے ہوئے الزام عائد کیا کہ جناب جاوید احمد غامدی صاحب کے ادارے "المورد” کو اس میلے میں سٹال لگانے کی اجازت نہیں دی گئ اور اسکی وجہ جاوید احمد غامدی صاحب سے ہمارا فکری اختلاف اور علماء کےان کے حوالے سے غلط تاثرات ہیں- درحقیقت معاملہ کچھ الگ قسم کا ہے اور اگر جناب مجاہد حسین صاحب کتاب میلے کا وزٹ کرتے تو ان پر بھی آشکارا ہوجاتا کہ وہ جمعیت کے حوالے سے اس معاملے میں کتنی غلط فہمی کا شکار ہیں- میں خود جامعہ پشاور کا طالبعلم نہیں ہوں- میراتعلیمی ادارہ بنوں میڈیکل کالج ہے- جامعہ پشاور والوں نے جونہی اس کتاب میلے کا اعلان کیا تو میں بنوں سے سیدھا پشاور آیا تاکہ کتاب سے جو میری رفاقت ہے اسکو مزید گہرا کرسکوں- مختلف سٹالز کا دورہ کرنے پر میں نے دیکھا اور ہمیشہ ہی دیکھتا رہا ہوں کہ یہاں پر جمعیت اور جماعت کے خلاف کتابیں موجود تھیں- عمران خان صاحب کی آپ بیتی جسکا آغاز ہی وہ جمعیت پر تنقید سے کرتے ہیں موجود تھی- مولانا وحیدالدین خان صاحب کی کتاب "تعبیر کی غلطی” بھی خوب بِک رہی تھی- یہاں پر تنظیمِ اسلامی والوں کا سٹال بھی لگا ہوا تھا جس میں ڈاکٹر اسرار صاحب کی جماعت پر تنقید سے بھری کتابیں پڑی تھیں- بات فکری اختلاف کی ہو تو کمیونزم اور نیشنلزم کا پرچار کرنے والی کارل مارکس اور غفار خان کی کتابوں سے بھی سٹالز مزین تھے- یہ سب بتانے کا مقصد یہ کہ جمعیت اختلاف کرنے والوں سے کبھی خائف نہیں ہوئ- ورنہ اس کتاب میلے میں یہ ساری کتابیں موجود نہ ہوتیں- اب آتے ہیں اس بات کیطرف کہ کیا وجہ تھی کہ المورد والوں کو سٹالگانے کی اجازت نہیں دی گئ؟؟؟ تو جامعہ پشاور کی جمعیت کے ذمہ داران سے میری بات ہوئ تو انھوں نے کہا کہ اصل میں امسال سٹالز کی تعدادزیادہ تھی جنکو ہم ایڈجسٹ نہیں کرسکتے تھے- سٹال ہولڈرز کیلیے رات گزارنے کے انتظامات بھی الگ سے تھے- اس وجہ سے ہم نے صرف المورد والوں سے نہیں بلکہ لاہور اور اسلام آباد کے دوسرے بڑے پبلشرز سے بھی معذرت کی تھی-
مجاہد حسین صاحب نے ساتھ میں یہ بھی لکھا ہے کہ مولانا مودودی پر بھی علماء نے اعتراض کیا تھا سو غامدی پر علماء کے تنقید سے انکو کیا تکلیف ہے؟؟؟ عرض ہے کہ غامدی اور مولانا مودودی ہر علماء کے تنقید میں بنیادی فرق ہے- غامدی صاحب کی تحریریں ہمیشہ مستشرقین ،سیکولرز اور لبرلز کے موقف کو تقویت پہچاتی آئ ہیں- ہر معاملے میں انکا موقف جمہور علماء کے خلاف رہا ہے- جہاد کا موضوع ہو، توہین رسالت کا معاملہ ہو، پردے کا ایشو ہو ، قادیانیوں کا مسئہ ہو،موسیقی ہو یا اسلام کو بطور نظامِ زندگی رائج کرنے کا نظریہ، غامدی صاحب نے ہمیشہ مسلمانوں کی مجموعی رائے کے خلاف اپنا موقف دیا ہے- ان کی نصیحتیں اور جھڑکیں ہمیشہ مسلمانوں کے حصے میں آئ ہیں، ہر معاملے میں انھوں نے مسلمانوں کو ہی کٹہرے میں کھڑا کیا-سید مودودی کی فکر سےتھوڑی بہت واقفیت رکھنے والے جانتے ہیں کہ سیدمودودی نے بنیادی طور پر قلم اٹھا ہی جدید دور کے فاسد نظریات کیخلاف تھا- انکی تنقیحات، الجہاد فی الاسلام ، رسائل و مسائل، قادیانی مسئلہ، سنت کی آئینی حیثیت، اسلامی نظامِ زندگی اور اسکے بنیادی تصورات، سود اور معاشیاتِ اسلام نے تو سامراجی نظام اور سیکولرازم کے قلعے میں شگافیں ڈالی تھیں- مولانا مودودی سے علماء کا جو اختلاف ہے اسکی تو نوعیت ہی مختلف ہے-

آخر میں مجاہد صاحب کی خدمت میں ایک سوال:
مجاہد صاحب پوری تندھی سے عمران خان کی پروموشن کرتے ھیں۔ خان کے دھرنے میں جنگ کے مطابق پانچ ھزار اور اے آر وائ کے مطابق پانچ لاکھ لوگ موجود ھوتے تھے۔ کیا مجاہد صاحب نے وھاں المورد کا سٹال لگوایا تھا؟

یقیناً نہیں لگوایا تھا تو دوسرا سوال یہ اٹھتا ھے کہ کہیں اندر سے مجاہد صاحب بھی انصافی کارکنان کو ایمیچیور تو نہیں سمجھتے اور اس قابل نہیں سمجھتے کہ ان کی تربیت ممکن ھے؟

About Author

مجاہد حسین خٹک کو سچائی کی تلاش بیقرار رکھتی ہے۔ تاریخ اور سماجی علوم میں خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اعتدال کا تعلق رویوں سے ہے، فکر کی دنیا میں اہمیت صرف تخلیقیت کی ہے۔ اسی لئے ان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ مختلف موضوعات کا جائزہ لیتے ہوئے سوچ کے نئے زاوئیے تلاش کئے جائیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: