منفرد لہجے اور اپنی نوعیت کا اکلوتا ادیب ——– احسن رومیز

0

جو اپنی رومان پسندی کی وجہ سے اْردو ادب میں اپنی الگ پہچان رکھتے ہیں۔ رحیم گل کوہاٹ کے علاقے ’’شکردرہ ‘‘ میں پیدا ہوئے۔ وہ ایک رومان پسند اور محبت کرنے والے انسان تھے۔ انہوں نے پوری زندگی محبت کا درس دیا ہے کہتے ہیں کہ

’’میرے نزدیک محبت ایک نیکی ہے۔ عورت سے محبت، مرد سے محبت، بچے سے محبت، جانور سے محبت اور پھولوں سے محبت۔ یہی میری سرشت ہے اور میں اسی سرشت کے ساتھ زندہ رہنا پسند کرتا ہوں۔‘‘

وہ محبت کو زندگی کے لئے ضروری گردانتے ہیں چاہے وہ کسی سے بھی ہو بس محبت ہو۔ لکھتے ہیں کہ

’’آدمی کو آدمی سے محبت کرنے کا حق ہے۔ محبت کو کسی ذات، کسی شخصیت اور کسی قبیلے کے لیے محدود اور مخصوص نہیں کیا جاسکتا۔ محبت کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔ محبت اپنی زبان ہوتی ہے، اپنی پہچان ہوتی ہے۔‘‘

رحیم گل کی ادبی زندگی کا آغاز افسانہ ’’ کالی لڑکی سے ہوا‘‘۔ یہ افسانہ ایک فوجی اخبار میں چھپا تھا جس کے مدیر’’کیپٹن آغا بابر‘‘ تھے۔ انہوں نے رحیم گل کی ستائش کی اور خط میں لکھا کہ

’’اگر یہ نقش اول ہے تو نقش ثانی خدا جانے کیا ہوگا۔ اگر آپ نے افسانوی مشق ترک کر دی تو یہ اْردو ادب پر ظلم عظیم ہو گا۔ ‘‘

انہوں نے کئی اصناف میں طبع آزمائی کی اور اپنی ذہانت، ادب فہمی اور فنکاری کی دھاک جمائی۔ انہوں نے ناول، افسانے، ڈرامے، خاکے اور فلمی کہانیاں لکھیں لیکن ناول سے ان کو خصوصی شغف تھا۔ رحیم گل نے ناول نگاری کی صنف نگاری میں اپنے سفر کا با قاعدہ آغاز ‘’تن تارارا’’ سے کیا اس کے بعد’’ پیاس کا دریا’’ ‘’زہر کا دریا’’ ‘’داستان چھوڑ آئے’’ ‘’وہ اجنبی اپنا’’ ‘’جنت کی تلاش’’ اور اب ‘’وادئ گماں میں’’ ایک طرح سے انکا ساتواں ناول ہے۔ رحیم گل وہ لکھاری ہیں جو نثر میں شاعری کرتا ہے۔ ’’واددیٔ گماں میں ‘‘ ۱۹۸۴ء میں شائع ہوا ہے۔ یہ ایک فینٹسائی ناول ہے۔ جو ایک ایسے سیارے کے بارے میں ہے جہاں ہماری کرہ سے دس ہزار سال آگے کی زندگی ہے۔ وہاں نہ نفرت ہے نہ محبت، نہ غم نہ دکھ نہ موت، بس خوشی ہی خوشی۔ اس ناول میں رحیم گل نے اپنے تخیل کے زور پہ ایک ایسی دنیا آباد کی ہے جو ’’آئیڈیل‘‘ ہے۔ جہاں انسان صرف انسان ہے کوئی ذات نہیں، کوئی طبقہ نہیں، کوئی امیر نہیں، کوئی غریب نہیں، سب کے سب برابر۔ ناول کا مرکزی کردار’’ چنگیز ‘‘ شاعر ہے۔ ثمرین اس ناول کی ہیروئن ہے۔ چنگیز اپنے دوستوں، زرین، ڈاکٹر ضیاء اور انجینئر رضاء کے ساتھ سیر کے لیے گیا ہے اس دن ثمرین ان کے ساتھ نہیں ہوتی۔ چنگیز اس کے بارے میں سوچ رہا ہوتا ہے کہ ایک اْڑن طشتری آ کر ان چاروں کو ایک عجیب و غریب سیارے پر لے جاتی ہے۔ چنگیز کے علاوہ باقی تین اس سیارے کے لوگوں اور ماحول سے مرعوب ہو کر وہاں رہنے کے لیے آمادہ ہو جاتے ہیں اور قطرۂ حیات پی کر ہمیشہ کے لیے امر ہو جاتے ہیں۔ چنگیز بھی قطرہ ٔحیات پی لیتاہے لیکن وہ کسی صورت وہاں رہنے کو تیار نہیں۔ چنگیز کو اْس پورے نظام پر اعتراض ہے کہ یہ کیسی دنیا ہے ؟یہ کیسی زندگی ہے؟زندگی کا مزہ تو رنگارنگی میں ہے جبکہ یہاں یک رنگی ہے۔ زندگی کا مزہ کوشش اور محنت میں ہے جب کہ یہاں ہر کام خود بہ خود ہو تا ہے۔ خوشی کا مزہ تو اس وقت ہوتاہے جب آدمی نے غم کا ذائقہ چکھا ہو۔ باون سال اس سیارے پر گزارنے کے بعد چنگیز واپس اپنی زمین پہ آجاتاہے اور باقی کے تین کردار وہاں رہ جاتے ہیں۔

ناول کی پوری فضا ماورائی قسم کی ہے بلکہ اس میں داستانوی عناصر دکھائی دیتے ہیں۔ ایک مرد کا عورت کے ساتھ پچاس سال تک جنسی عمل، انسان کا ہمیشہ جوان رہنا، غم نہ ہو نا، دکھ نہ ہونا یہ ماورائی باتیں ہیں۔ اس لیے نوید اے شیخ نے اس کے بارے میں کہا ہے کہ یہ ایک تصوراتی ناول ہے:

’’ وادیٔ گماں میں، ایک تخیلی اور تصوراتی ناول ہے۔ اس کے مصنف کے اندر حیات انسانی کا جو آئیڈیل پوشیدہ ہے ایک طرح سے یہ ناول اس کا منظر نامہ ہے۔ رحیم گل کے اندر ایک بقراط چھپا بیٹھا ہے جو اسے لحظہ بہ لحظہ چین نہیں لینے دیتا۔ ‘‘

ناول میں ادب سے تعلق رکھنے والوں کی نمائندگی چنگیز کے روپ میں کی گئی ہے جو کسی بھی چکا چوند سے متاثر نہیں ہوتے۔ وہ زندگی کو اپنی اصلی حالت اور شکل میں دیکھناپسند کرتے ہیں۔ حالا نکہ ڈاکٹر اور انجینئر سب وہاں کی زندگی سے متاثر ہو کر رہنے پر آمادہ ہوجاتے ہیں جبکہ شاعر اپنی زمینی فطرت کی حفاظت کرتا ہے اور اپنی محبوبہ کیلئے واپس آتا ہے۔ ۔ وہ خود تو عمر کی قید سے آزاد ہے لیکن پچپن سال بعد اسکی واپسی زمین پر بھونچال لے آتی ہے۔ اب اسکی محبوبہ کسی کی بیوی، ماں، نانی اور دادی ہے ناول میں یہ بتانے کی کوشش کی گئی ہے کہ ایک ادیب کے لیے اس کا وطن، اس کی مٹی، اس کی دھرتی سب کچھ ہوتی ہے۔ چنگیز کو اس کی دوست زریں زمین پر واپس جانے سے منع کرتی ہے تو چنگیز اس کو جواب دیتاہے:

’’زمین بری ہے، بہت بری ہے میں مانتاہوں، مگر میں اس لیے زمین پر رہنا پسند کروں گا کہ زمین واقعی بری ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میرا عقید ہ ہے برائی کا سامنا کرو، برائی سے لڑو، کیوں کہ برائی سے بھاگنابرائی کی فتح ہے۔ میں یہ بھی مانتاہوں کہ زمین پر نفرتیں ہیں، زمین پر دھوکے ہیں، زمین پر تضادات ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مگر میں اس لیے نفرتوں میں زندہ رہنا چاہتاہوں کہ نفرتوں کا مقابلہ کروں۔ میں ان تضادات کو مٹانا چاہتا ہوں۔ زریں ! میں ان تضادات سے بھاگنا نہیں چاہتا۔ میں نہیں چاہتا کہ زمین پر تاریکیوں کا راج ہو جائے۔ ‘‘

رحیم گل کا اْردو ناول کی دنیا میں ایک الگ مقام ہے۔ ’’تن تارارا‘‘ سے ناول کی دنیامیں ان کا سفر شروع ہوکر’’ وادیٔ گماں میں‘‘ پرختم ہو جاتاہے۔ اْردو ناول کے ارتقا میں رحیم گل کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

ناول میں الفاظ کی معمولی تبدیلی کے ساتھ ایک ہی نقطہ نظر کی بار بار تکرار ہوتی ہے جو قاری کو اکتاہٹ کا احساس دلا سکتی ہے۔

لیکن یہی رحیم گل کی خوبی ہے کہ وہ قاری کو کتاب بند نہیں کرنے دیتے۔

داستانیں اور بھی لوگوں نے لکھی ہیں لیکن رحیم گل کے قلم نے جو جادو جگایا ہے وہ سر چڑھ کے بولتا ہے۔بہت ہی مسحور کن انداز بیاں لیکن مجھے سمجھ نہیں آتا کہ اس قدر۔منفرد لہجوں کا مالک، اس قدر منفرد موضوعات پر قلم۔ اٹھانےوالا رحیم گل ہمارے ادبی کینوس پر کیوں نظر نہیں آتا؟؟

(Visited 1 times, 4 visits today)

About Author

دانش ڈیسک سروس

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20