میرا جسم اور جسم کی مرضی : ایک مکالمہ —— صابر علی

0

آج میری اپنے بدن سے خوب لڑائی ہوئی۔ بات اتنی سی تھی کہ میں آنگن میں کھڑی اپنی مرضی سے فون سُن رہی تھی کہ ایک کوے نے میری مرضی کے خلاف اپنی مرضی سے میرے بالوں پر پچکاری مار دی۔ میری مرضی کے خلاف کچھ ہو اور میں انتقام نہ لوں! میں نے اپنے بدن کو حکم دیا کہ میرا پنڈ چھوڑو، تمہاری وجہ سے میں کششِ ثقل میں جکڑی ہوئی ہوں۔ ذرا دیر کے لیے مجھ سے الگ ہو جاؤ تاکہ میں ہواؤں میں اڑ کر اس کوے کو دوسروں کی مرضی کا احترام کرنا سکھا سکوں۔ لیکن یہ بدن ایسا بے شرم، بے غیرت اور بدتہذیب ثابت ہوا کہ ایک لمحے کے لیے بھی مجھے آزاد نہیں کیا۔

میں نے اسے بتایا کہ اے میرے بدن تو میری ملکیت ہے، جیسے میں چاہوں گی تجھے ویسا ہی کرنا پڑے گا۔ بس میرا یہ کہنا تھا کہ بدنی اعضا میرے تو پیچھے پڑ گئے۔ تیری یہ مجال، تو ہوتی کون ہے اپنی مرضی سے ہمیں استعمال کرنے والی، ٹھہر تیری تو۔ میرے سر نے پیچھے مڑنے سے انکار کر دیا۔ آنکھوں نے طعنہ دیا کہ اندھی کہیں کی ہمارے بغیر تُو دیکھ تیرے ساتھ کیا ہوتا ہے۔ کانوں نے کہا ہم نہ سنیں گی تیری زبان درازیاں۔ زباں نے کہا بی بی جی میری زبان نہ کھلواؤ کہیں کی نہ رہو گی۔ ہاتھوں نے کہا پکڑ کے دکھا ہمیں۔ ٹانگوں نے کہا جا تو سہی کہاں جاتی ہے۔ اصل حملہ تو دماغ نے کیا۔ بولا، تم ذرا اپنے بدن کو ڈیفائن تو کرو۔ تم کہاں سے شروع ہو کر کہاں ختم ہوتی ہو اور تمہارے بدن کی باؤنڈری کہاں کہاں تک ہے؟ تم اپنے بدن پر ملکیت کا دعویٰ کرتی ہو تو مالک اور مملوک یعنی اَونر اور پراپرٹی کو الگ الگ کر کے دکھاؤ پہلے۔ پھر یہ بتاؤ کہ یہ ملکیت تمہیں کیسے ملی اور کس نے دی؟ کوئی معاہدہ؟ دستخط؟ انگوٹھا؟ نوٹری تصدیق؟ گواہیاں؟ اور یہ ملکیت کتنی مدت کے لیے ہے؟ اچھا تم ”مرضی“ کو کیسے ڈیفائن کرتی ہو؟ یہ مرضی تمہارے بدن سے جدا تمہارے اندر کہاں پیدا ہوتی ہے؟ جیسا کہ تم نے کہا ”تمہارے بدن“ پر ”تمہاری مرضی“ چلے گی، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ تم بدن اور مرضی دونوں پر ملکیت کا دعویٰ کر رہی ہو لیکن کیا کوئی ایسا معاہدہ ہوا ہے تمہارے بدن اور تمہارے درمیان؟ کیا یہ معاہدہ باہمی رضامندی سے ہوا تھا کہ تمہارا بدن تمہاری مرضی کے مطابق چلے گا اور تم اسے اپنی مرضی سے استعمال کرنے کی مجاز ہو گی؟

دماغ ٹھہرا منطقی، مجھے تو یہ سوالات سن کر چکر آنے لگے۔ میرا دل کیا کہ دماغ ٹھکانے لگاؤں اس کا لیکن دل بھی کہاں قابو میں تھا، اس نے بھی نہ سنی۔ دماغ نے میری پچھلی باتیں نوٹ کر رکھی تھیں اس لیے مجھے مجالِ انکار نہ تھی۔ دماغ نے پھر سے سوالوں کی بوچھاڑ کی۔ اچھا تو تم نے کہا تمہارا جسم شرم، غیرت اور تہذیب کی زنجیروں میں قید ہے، ٹھیک سے بتاؤ تم قید ہو یا تمہارا جسم؟ جب تم نے جسم پر اپنا حقِ ملکیت ثابت ہی نہیں کیا تو تمہیں کس نے ٹھیکہ دیا کہ بدن کو آزاد کرنے کا مطالبہ کرو؟ تم بدن سے آزاد ہونا چاہتی ہو یا بدن کو آزاد کرنا چاہتی ہو؟ شرم، غیرت اور تہذیب جسم کے لیے زہر یا منفی اثر رکھتے ہیں تو پھر یہ کندن بدن اتنا پھیل پھول کیسے گیا؟ کیا بدن سے تم نے کوئی ڈائیلاگ کیا جس سے یہ ثابت ہوا ہو کہ یہ چیزیں واقعی جسم کے لیے نقصان دہ ہیں؟ خیر، جسم کو ان بیڑیوں سے آزاد کرانے کی تمہارے پاس کیا حکمت عملی ہے؟ بے شرمی، بے غیرتی اور بدتہذیبی؟ لیکن تمہارے پاس کیا گارنٹی ہے کہ بے شرمی، بے غیرتی اور بدتہذیبی بدن کی زنجیریں نہیں بن سکتیں؟ اس سے بھی بنیادی سوال یہ ہے کہ شرم و غیرت کا بدن سے کیا رشتہ ہے؟ کیا شرم و غیرت کا اطلاق و نفاذ صرف بدن پر ہوتا ہے یا اس میں غیربدنی عناصر بھی شامل ہوتے ہیں؟

دوسری بات تم نے کہی کہ تمہارا ”وجود“ تمہاری مرضی کے مطابق چلے گا۔ مجھے عقلی طور پر مطمئن کرو کہ وجود، بدن اور جسم ایک ہی چیز کے مختلف نام ہیں۔ کیا وجود بس ٹھوس بدن ہی کا نام ہے یا کچھ اور بھی ہے؟ اور کیا وجود پر مرضی چل سکتی ہے؟ میرا تو خیال ہے کہ وجود پر میری یعنی ذہن کی مرضی بھی نہیں چلتی تو تیری کہاں سے چلے گی؟

دماغ نے میرے ہوش ٹھکانے لگا دیے۔ ذرا رک کر پھر بولا۔ یہ جو تم نے انتہائی مبہم لفظ پدرسری نظام بولا ہے کیا تم اس کی وضاحت کرو گی؟ یہ مرد کون مخلوق ہے؟ تیرا اس سے کیا رشتہ ہے؟ کیا وہ بھی اپنے بدن پر اپنی مرضی مسلط کرنا چاہتا ہے؟ اور یہ سماج کس بلا کا نام ہے؟ کیا اس مرد نے اکیلے ہی سماج تخلیق کر لیا کہ تم اس کی مالک نہ بن سکیں؟ کیا سماج کی تخلیق میں تمہارا کوئی حصہ نہیں جب کہ تم مرد سے زیادہ تخلیقی صلاحیتوں کی مالک ہو بلکہ مرد کو بھی تم ہی جنم دیتی ہو؟ پھر کیا وجہ ہے کہ مرد تم سے زورآور اور برتر رہتا ہے؟ اور یہ زبان یعنی بولی جسے تم بے دھیانی میں اپنی سمجھ رہی ہو کیا اس کی تشکیل میں بھی مرد اکیلا ہی بازی لے گیا؟

میں نے کہا کہ مرد میرا بدن استعمال کرتے ہیں۔ اسے اپنی مرضی سے جیسے ان کا دل چاہے دل خوش کرتے ہیں۔ ان کی مرضی میرے بدن پر کیوں چلے؟ دماغ بڑا ذہین اور شاطر ہے۔ فوراً بولا، بات تو ایک ہی ہے جو تمہاری کھوپڑی میں نہیں گھستی۔ تمہارا دل جب، جیسے اور جہاں چاہے گا تم بدن ہی کو پیش کرنا چاہتی ہونا؟ سوال یہ ہے تمہارا دل کیسے چاہتا ہے اور تمہاری مرضی کیسے بنتی ہے؟ یہ بدن جس پر تم حق ملکیت جماتی ہو، اسے اپنا کہتی ہو، اپنی مرضی سے استعمال کرنا چاہتی ہو تو پھر کیا وجہ ہے کہ اسے اتنا بناتی سنوارتی بھی ہو، وہ کس کے لیے؟ آخر کوئی مقصد تو ہوتا ہے۔ تمہیں اپنے بدن کی زیبائش اور نمائش کی اتنی فکر کیوں رہتی ہے؟ یہ بدن تم اپنی مرضی سے کیسے استعمال کرو گی؟ تم یہی کہنا چاہتی ہو کہ تم اسے اپنی مرضی سے استعمال کرواؤ گی۔ تو دشمنِ جاں کی ضرورت تو تمہیں رہے گی۔ تمہاری ہاں یا ناں سننے والا کون ہے بھلا؟ اور لاجیکلی جب تم اس سراب کا شکار ہو گی کہ یہ بدن تمہارا ہے تو پھر تم اس کا کثرت سے استعمال کرو گی۔ اصل میں تم آزادی کے بہکاوے میں بدن کو میدانِ جنگ بنا دو گی۔ دو مرضیوں کے تصادم میں نقصان تمہارے بدن ہی کا ہو گا۔

اور یہ بھی تم نے خوب کہی کہ تم عورت بھی ہو! کیا تم عورت ہی ہو؟ میں نے تو آج تک کوئی عورت نہیں دیکھی۔ عورت کس نے دیکھی ہے؟ جب بھی کسی نے دیکھا کسی خاص عورت ہی کو دیکھا، محض عورت تو کہیں نہیں۔ اس دنیا کی تین کھرب ماؤں، بہنوں، بیٹیوں، بیویوں میں سے کون ہے جو کہے کہ میں ان چاروں میں سے کچھ نہیں بلکہ محض عورت ہوں؟ بیک وقت ماں، بہن، بیٹی اور بیوی ہونا تو ممکن ہے لیکن بیک وقت کچھ بھی نہ ہونا محال ہے۔ اور اگلی دریافت بھی کیا خوب ہے۔ تم نے کہا تم عاشق بھی ہو سکتی ہو؟ یہ تمہاری اپنے بارے میں انتہائی جہالت کا ثبوت ہے۔ عاشق ہوتی ہی عورت ذات ہے، مرد ہمیشہ معشوق ہوتا ہے۔ تمہیں بدن کے جھنجٹ سے فرصت ملتی تو عاشقی کا فلسفہ جانتیں!

تم اپنی مرضی کا لمس مانگتی ہو۔ تم اپنے بدن سے غیرت کو نکالو گی تو اسے غیریت یعنی otherness عطا کرو گی۔ تم اپنے بدن کو اپنی ذات سے جدا تصور کرو گی۔ اسے غیر تصور کرتے ہوئے اسے مینیج اور ایڈمنسٹر کرنے کا سوچو گی اور اس پر سامراجیت مسلط کرو گی۔ یہ سب تم خود ہی کرو گی۔ تم بدن کی آزادی اور اٹانومی مانگتی ہو تو لیکن جب یہ ملیں گی تو پھر تمہارا ہر عضو اٹانومس ہو گا، انگ انگ اجنبی ہو گا۔ کیا کہا تجھے تقدیس نہیں چاہیے؟ تقدس بوجھ ہے؟ تیری یہ باتیں ثابت کرتی ہیں کہ تجھے اپنے بدن سے نفرت ہے۔ اپنے جسم کی تقدیس کا اعتراف ثابت کرتا ہے کہ استحصال کا واویلا جھوٹ ہے۔ مقدس کا احترام ہوتا ہے استحصال نہیں۔ تو اسے غیرمقدس بنانےکا مطالبہ کر رہی ہے کیا تو نے اپنے بدن سے اس کی رضامندی لی ہے؟ تقدیس ہٹانے کا مطالبہ صرف اسی لیے ہے کہ اسے کمرشل کر دیا جائے کیوں کہ جب تک چیز مقدس رہتی ہے اس کی خرید و فروخت میں جھجھک رہتی ہے۔ وہ دن دور نہیں جب تو مغربی فیمی نسٹوں کی طرح کہے گی کہ ”اوہ سوری، میری شرارتی چھاتیاں پھر باہر نکل گئی ہیں“۔ تب تجھے احساس ہو گا کہ مرضی تیری نہیں، مرضی بدن کی ہے۔ اب تو چاہے تو بدن کو طلاق دے یا اس سے خلع کا دعویٰ دائر کر دے۔

یہ بھی پڑھیں: آخر فیمنزم کا قصہ کیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ممتاز رفیق
(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20