جائے ملازمت اور صنفی تعامل: مسائل و نتائج ۔۔۔۔ صابر علی

0

فیمینزم کا خلاصہ “مرد اور عورت کے مابین تعلقات منہدم کر کے کسی نئی شکل پر ترتیب دینا” اور یوں دنیا تبدیل کرنا ہے۔ ان کے اعتراضات، اہداف اور حکمت عملیاں واضح ہیں اور متضاد بھی۔ ان کے ارادے اچھے ہیں یا بُرے، بروقت ہیں یا بے وقت ہم اس پر کوئی اخلاقی حکم نہیں لگانا چاہتے۔ بس اتنی بات کہ جس دنیا کو وہ تبدیل کرنے نکلے ہیں وہ کب کی بدل چکی ہے۔ یہ انکی خوش فہمی ہے کہ ان کی فعالیت اور سرگرمیوں کی وجہ سے تبدیلی آرہی ہے اور ان کے مقاصد پورے ہو رہے ہیں۔ قصہ یہ ہے کہ دوسروں کو غلط شعور کا الزام دینے والے اپنے نظریات و اہداف کو اصلاً اپنے سمجھ رہے ہیں۔ یہ ان کے اپنے نہیں، مروج نظام کی مجبوریوں کی عطا ہیں۔

اگر یہ بات تجربے سے سمجھنا چاہیں تو وہ بھی کرسکتے ہیں۔ تجربے کے طور پر یہ اپنے تمام اہداف اور دعووں سے دست بردار ہو کر ”روایتی مظلوم“ عورتیں بن جائیں۔ پھر دیکھیے تماشا۔ یہ کوئی بے سروپا بات نہیں خود فیمینسٹوں کے اعترافات موجود ہیں جو اپنی عمر یں گنوا کر پچھتا رہے ہیں اور دوسروں کی عبرت کے لیے اپنے تجربات لکھ رہے ہیں۔ روایتی مظلوم عورت سے مراد وہ عورت ہے جو فیمینسٹ نہیں ہے بلکہ فیمینزم کو ناپسند کرتی ہے۔ فیمینسٹ منطق میں چاردیواری میں قید اور حجاب میں روپوش اور خاوند کی مطیع عورت بے چاری اور مظلوم ہے۔

Flirting at Work: Pros, Cons, Attitudes | Casanova Styleمطلب یہ ہے کہ اگر یہ فیمینسٹ حضرات اپنا سب کاروبارِ مظلومیت بند کرکے چپ ہو بیٹھیں تو یہ سسٹم سے بغاوت کے مترادف ہو گا کہ اس نے بڑی محنت سے فعال ایکٹوسٹ تیار کیے تھے جو غیر فعال ہوچکے ہیں۔ لہٰذا ڈھونگ کے طور پر اس کا تجربہ کر کے دیکھا جا سکتا ہے۔ تارکینِ فیمینزم کو جن مصائب سے گزرنا پڑتا ہے وہ سب لکھا جا چکا ہے۔ ہمت اور دیانت ہے تو پڑھ لیں۔ یہ سسٹم کی مجبوری ہے کہ اسے کچھ باغی نما وفادار میسر ہوں۔ مارکسیت کی طرح فیمینزم بھی کاروبارِ مظلوماں ہے۔ یعنی مظلومین کی تعداد جتنی زیادہ ہو گی ان کا دعویٰ اور موقف اتنا ہی زیادہ مضبوط ہو گا۔ تو ان کی حکمت عملی کا نتیجہ مظلومین میں کمی نہیں بلکہ ان میں اضافہ ہے خواہ یہ اضافہ حقیقی ہو یا کاغذی کارروائی یا پھر مصنوعی طور پر پیدا کردہ یا غلط طور پر نشان دہی۔ مطلب یہ کہ ظلم اور عدل کی تعریف، معیار اور پیمانہ بدل دیں تو سب الٹ پلٹ ہوجاتا ہے۔ جب عدل کی تعریف سرمایہ داری (بلکہ شرمایہ داری) سے لے رہے ہیں تو ظلم کی اپنی تعریف لانا ظلم ہے۔ تو روایتی مظلوم کا مطلب یہ ہے کہ فیمینزم جس وسیع سسٹم کا کل پرزہ ہے وہ اپنے مرتدین کو معاف نہیں کرتا لہٰذا مرتد بن کر خوب سمجھ آجائے گی کہ آزادی اور درست شعور تو محض وہم اور سراب تھا۔

ملازمت اور ادائیگی کے لیے کیے جانے والا کام Job حاصل کرنا ایسا خواب ہے جو فیمینسٹ دیکھتے ہیں اور دوسروں کو بھی دکھاتے اور بیچتے ہیں۔ یہ خودمختاری اور آزادی کا سنگ میل سمجھا جاتا ہے۔ فیمینسٹ سمجھتے ہیں کہ ”جاب“ ان کی خودمختاری اور نجات کے لیے شاہ کلید Master Key ہے لیکن اصل بات یہ ہے کہ مارکیٹ کو ان کی اشد ضرورت ہے۔ انہیں لگتا ہے کہ ان کے تمام مسائل کا حل جاب ہے مگر نہیں جانتے کہ جاب ہی تمام مسائل کی جڑ ہے۔ یہ بات صرف خواتین کے لیے ہی نہیں بلکہ مردوں کے لیے بھی درست ہے۔ مشیل فوکو کی پاور تھیوری کا حوالہ تو یہ فیمینسٹ دیتے ہیں لیکن ان کا دھیان اس طرف نہیں جاتا کہ سسٹم کا یہ ڈسپلن اور جبر مارکیٹ کے ذریعے ہی آرہا ہے۔ اور یہ ہیں کہ مارکیٹ میں گھسنے کو بے تاب ہیں۔ مارکیٹ میں جاب کرنا اور کام کرنا دو الگ چیزیں ہیں۔ فیمینسٹ یہ فرق خوب سمجھتے ہیں مگر حیرت ہے کہ یہ فرق سمجھنے کے باوجود جاب ہیFe کرنا چاہتے ہیں کام نہیں کرنا چاہتے۔

روایتی زرعی معاشروں میں کام کی جگہ گھر کے آس پاس ہوتی تھی یا کھیت کھلیان ہی گھر ہوتے تھے۔ صنعتی معاشروں میں کام کی جگہ گھر سے دور ہو گئی۔ انفارمیشن معاشروں میں گھر اور دفتر اور نجی اور دفتری زندگی میں فرق ختم ہو گیا ہے۔ گھر ہی دفتر ہے اور دفتر ہی گھر ہے۔ ملازمین گھر جاتے ہیں تو بس نیند پوری کرنے کے لیے[1]۔ مغرب میں “کام کرنے والوں کی جنسی زندگی” کے عنوان سے کئے گئے ایک سروے کے مطابق جاب کرنے والے مردوخواتین کو گھر میں بیوی یا شوہر کے ساتھ گزارنے کے لیے وقت نہیں ملتا لیکن اس سے جنسی تقاضوں میں کوئی خلل نہیں پڑتا کیوں کہ جنسی تسکین کا سامان گھر سے باہر بھی ہوتا ہے۔

یورپ اور امریکہ کے ہر ادارے میں خواتین ورکرز کا تناسب مردوں کے برابر رکھنے کی کوشش معنی خیز ہے۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ ہر ادارہ لبرل ماحول قائم کرنے کی کوشش میں اس پالیسی پر عمل پیرا ہے لیکن اسکی اصل وجہ فیمینسٹ تحریک کا دبائو ہے۔ اس پالیسی کے محرکات کچھ بھی ہوں لیکن سطحی سوچ رکھنے والے مرد ورکرز اس صورتِ حال کو اپنے حق میں برا نہیں سمجھتے۔ اداروں کی انتطامیہ کا بھی یہی خیال ہے کہ کام جگہوں پر مرد و خواتین ورکرز کے ذاتی تعلقات میں باہمی رضامندی موجود ہو تو یہ بات ادارے کے لیے کوئی مسئلہ نہیں، بلکہ اس سے کارکردگی میں بہتری آتی ہے اس لئے جائے کار (workplace) پر رفاقت سے منع کرنے والوں کو اچھا خیال نہیں کیا جاتا۔[2]

ترقی یافتہ ممالک کےدفاتر اور اداروں میں جدید ”کام“ کی فضا اور دفتری ساخت جسمانی قربت کے لیے سازگار بھی ہے اور ضروری بھی۔ اگر کہیں جھجک موجود ہو تو اسے کم کرنے کے لیے دوسرے عناصر مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ مثلاً تربیتی ورکشاپس، پراجیکٹس، سپروژن، بزنس ٹرپس، گروپ ورک اور ٹیم ورک جیسی سرگرمیاں اختلاط، قربت اور خلوت پیدا کرنے کا اہم ذریعہ ہیں۔ دفتروں اور کارخانوں کے مخلوط ماحول میں قربت کی مختلف شکلیں اور مراحل ہیں جن کے مشاہدے اور تجربے سے ہر ورکر گزرتا ہے۔ دلی جذبات کا اظہار کرنا، دوسرے کا خیال رکھنا، نرم گوشہ رکھنا، جذباتی وابستگی دکھانا، عہدو پیمان کرنا، ڈیٹنگ، عارضی اور مستقل تعلقات کیلئے تجاویز دینا وغیرہ اسکی واضح شکلیں ہیں۔

یورپ کے محققین، جاب، کام کی جگہوں پر مرد و زن میں پائے جانے والی قربت اور تعلقات کی وجوہات یہ بیان کرتے ہیں:

جاب میں ترقی چاہنا، جاب کا تحفظ چاہنا، ایڈونچر یا ذاتی تسکین کی خواہش، اپنی اہمیت یا اثر و رسوخ بڑھانے کی خواہش، دوسروں کی نظروں میں دل کش اور پسندیدہ بننے کی خواہش۔ کسی کام کو موثر انداز میں بروقت پورا کرنے کے لیے دوسرے کولیگ پر انحصار، عہدے میں ترقی کے لیے دوسروں کی رضامندی پر انحصار، قربت کی تلاش، کسی کا محبوب بننے کی خواہش وغیرہ۔ طویل مدت کے لیے اور معمول کی جسمانی قربت اور اختلاط کی صورت خواہ کچھ بھی ہو اس کا انجام جنسی فعل ہوتا ہے۔ دو لوگوں کے درمیان جسمانی فاصلہ جتنا کم ہوتا ہے ان میں ایک دوسرے کے لیے کھچاؤ محسوس کرنے کے امکانات اتنے ہی زیادہ ہوتے ہیں۔ جب آٹھ دس گھنٹے روزانہ ایک دوسرے کے ساتھ گزارے جائیں گے تو کشش، قربت اور لگاؤ ہونا کوئی حیرت کی بات نہیں[3]۔

مغرب میں رہائش پذیر مشرقی اور روایتی مرد، مذکورہ حقائق کو مکمل طور پر جانے بغیر اپنے تئیں یہ سمجھتے ہیں کہ وہاں کے آفسز اور اداروں میں کام کرنے والی انکی بیوی، بیٹی یابہن چونکہ مشرقی اقدار کا پس منظر رکھتی ہے اس لئے وہ محفوظ ہے۔ وہ کبھی اس بات پر غور نہیں کرتے کہ مارکیٹ کے لیے آپ محض ایک کموڈٹی اور ورکر ہیں خواہ آپ رابعہ بصری ہوں یا کسی مفتی اور متقی صوفی اور عالم دین کی بہو بیٹی۔ مارکیٹ میری بہن اور بیٹی کی عفت و عصمت کی حفاظت کے لیے نہیں آئی اور نہ مجھے اس غلط فہمی میں رہنا چاہیے۔ مارکیٹ میں نکل کر دفتر تک جانا ہی تذلیل ہے خواہ آپ کے دامن پر رسوائی کا ایک بھی چھینٹا نہ پڑے۔ یہ بھی معلوم رہے کہ مذہبی اور پاک دامن خواتین مارکیٹ میں زیادہ کشش رکھتی ہیں اور ان کا استحصال ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ میری جھوٹی مذہبی انانیت حقیقت کے سامنے کوئی معنی نہیں رکھتی۔ جسے عفیفاؤں کی ملازمت کا بہت احساس ہے اسے Veiled Employment یعنی باحجاب ملازمت پڑھ لینی چاہیے جو ایران کی صورت حال پر لکھی گئی ہے[4]۔

سرمایہ دارانہ نظام میں خواتین کو مارکیٹ میں شامل کرنے کا مقصد کام کروانا تو ہے ہی نہیں، کام نکلوانا ہے۔ بس یہی وجہ ہے کہ انہیں مردوں سے کم معاوضہ ملتا ہے۔ یہ فیمینسٹ شرمایہ داری سے زیادہ سمجھ دار اور ہوشیار نہیں، سرمایہ دار کو پتا ہے کس کی کیا اوقات اور قیمت ہے۔ کام کی ہر قسم کی اپنی ویلیو ہے اور کچھ کام تو کیٹالسٹ کے طور ہوتے ہیں۔ تو سرمایہ داری کی منطق کے مطابق عورتوں کو جتنا مل رہا ہے وہ بھی بہت زیادہ ہے، ان کا کم معاوضہ ہی ان کا بونس ہے استحصال نہیں۔

معاوضہ کم رہتا ہے تو اسے بڑھانے کی تگ و دو میں عورت کا زیادہ وقت جاب پر گزارتی ہے اور دوسری طرف زیادہ زیادہ سے عورتیں مارکیٹ میں داخل ہوتی ہیں تاکہ مجموعی طور پر آمدن بڑھ سکے۔ وجہ یہ ہے کہ سرمایہ داری کے وجود کے لیے ایک اجتماعیت کا موجود ہونا ضروری ہے خواہ یہ اجتماعیت فیمینسٹوں اور سرمایہ داری کے مخالفین ہی کی کیوں نہ ہو۔ جاب کرنے والی عورت یہ بات نہیں سمجھتی اور انفرادیت پسندی کو مطلق سمجھتے ہوئے کم معاوضے کا شور مچاتی ہے۔ اصلیت یہ ہے کہ یہ کام کا معاوضہ نہیں بلکہ گھر سے نکلنے پر ملنے والی شاباشی ہے۔ اصل مقصد تو صارف بنانا اور صارفیت کو بڑھانا ہے اس کام کے لیے اسے بغیر کام کیے بھی پیسے مل جاتے ہیں۔ عورت سمجھتی ہے کہ اسے پروڈکشن بڑھانے کے لیے ہائر کیا جا رہا ہے۔ یہ اس کی غلط فہمی ہے۔ اس کا کام تو فیکٹری کے زہریلے دھوئیں کو اپنے نسوانی جھونکوں سے معطر کرنے کی کوشش کرنا ہے۔

جنسیات، شہوانیات، مارکیٹ اور جاب کے پیچیدہ لیکن واضح تعلق پر مفصل تحقیقات موجود ہیں۔ خواتین کا کیسے استحصال کیا جاتا ہے یہ بات خود فیمینسٹوں کو اچھی طرح معلوم ہے۔ منافع خوری کی مشین بنے انسانوں کے دفتر میں تفریح طبع کا سامان تو ہونا چاہیے، اور کچھ نہیں تو ٹیلی فون آپریٹر یا رسپشنسٹ کے نام پر ہی سہی۔ انہیں جاب مل جائے گی، خوش ہوں گی۔ پھر انقلابی بن جائیں گی کہ بطور مزدور ان کا استحصال ہو رہا ہے اس لیے فیمینسٹوں کا مظلوم اکٹھا کرنے کا کام بھی بڑھے گا۔ ادھر کارپوریشن صنفی عدل کا پرچم بھی بلند کر لے گی اور اس کے خشک بیاباں میں نخلستاں بھی آن موجود ہوگا۔ اب یہ بات بھی ایک فیمینسٹ ہی کہتی ہے کہ ویمن ایمپاورمنٹ یعنی عورتوں کی خودمختاری بھی ایک کموڈٹی بن چکی ہے۔ جس سسٹم میں ”ریپ“ (زنا بالجبر) بھی باقاعدہ ایک انڈسٹری ہو وہاں مظلوم بھی کموڈٹی ہے اور ظالم بھی، خودمختاری کا پنچھی پتا نہیں کون سی فضاؤں میں اڑتا ہے۔ یہ تو اڑنے والے ہی بتا سکتے ہیں، یا پھر شکاری!

واضح رہے کہ اس درجہ کی صورتحال کا بیان اور مضمون میں پیش کردہ حقایق مغربی مآخذ سے لئے گئے ہیں اور بالعموم وہیں کی تصویر کشی کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں ہماری دم توڑتی اقدار بعینہ اس منظر کی تکمیل میں حائل ہیں مگر کب تک؟ ہم بہت تیزی سے اس منزل کی طرف اسی رستہ پہ سرپٹ دوڑ رہے ہیں۔ بلا سوچے سمجھے، بلا رکے، تھمے۔ سو نتیجہ معلوم۔

[1] Andrew Kakabadse and Nada K. Kakabadse, Intimacy: An International Survey of the Sex Lives of People at Work (Palgrave McMillan, New York: 2004), p. 119.
[2] Ibid, p. 112.
[3] Ibid, p. 33.
[4] Hadi Salehi Esfahani & Roksana Bahramitash, Veiled Employment: Islamism and the Political Economy of Women’s Employment in Iran (New York: Syracuse University Press, 2011)


نوٹ: “دانش” ایک خالصتاً علمی فورم ہے، یہاں پر شائع ہونے والے مضامین اور ان میں پیش کئے جانے والے خیالات و نظریات سے ادارہ کا متفق ہونا ضروری نہیں، ان خیالات اور نظریات کے رد میں اگر کوئی لکھنا چاہے تو دانش کے صفحات  حاضر ہیں”۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20