کیڑا خور وں کی ضرورت ہے۔ میاں ارشد فاروق کی شگفتہ بیانیاں

0

ہرچند کہ ہم نے پہلے ایسا کم ہی کیا ہے لیکن چونکہ ہمارے دفتر کو چند ہائی پروفائل کلائنٹس کی درخواستیں موصول ہوئی ہیں لہذا ہمیں اشتہار اخبار دینے کی قانونی ضرورت پیش آئی ہے ۔ چونکہ پرنٹ میڈیا کے دقیانوسی رواج مذکورہ کلاینٹس کی ضروریات سمجھنے سے قاصر ہیں اسلیے مناسب یہی سمجھا گیا ہے کہ ان اشتہارات کو سوشل میڈیا یعنی دیسی ہائیڈپارک پر شایع کردیا جاے۔ ہر گاہ خبردار رہے کہ کلاینٹس میں چونکہ نام نہاد شرفا شامل ہیں اس لیے ڈایریکٹ رابطے کی صورت میں ہر قسم کے نقصان ، خرچہ و ہرجہ کے ذمہ دار آپ خود ہوں گے البتہ ہوشیار باش رہیں کہ ہمارے دفتر کے ذریعے رابطے کی صورت میں آپکو جو نقصان ہوگا اسکے ذمہ دار بھی آپ خود ہوںگے ہاں البتہ اس صورت میں ہمدردانہ قانونی مشاورت حاصل کرنے کاآپکا حق فایق سمجھاجاے گا۔

ضرورت کیڑاخور ۔
ایک معزز کلاینٹ جو نام نہاد لبرلز کے شیخ اکبر سمجھے جاتے ہیںہرچند کہ انکے بدخواہ اور چاہنے والے انکوئیکساں طور پر دشمن ایماں کہتے ہیں، انکو ایسے عالم فاضل سکالر کی ضرورت ہے جسکی تعلیم بھلے نہ ہو لیکن وہ اساطیر میں سے کیڑے نکالنے کا کام مہارت سرانجام دے سکے۔ شیخ اکبر کو ملال ہے کہ ایسے دانشور نایاب ہو گئے ہیں جو فکری مغالطے تخلیق کر سکیں اور اپنی تخلیق کا نام بھی فکری مغالطے رکھ کر ساری قوم سے علامتی مذاق کیا کریں۔ البتہ وہ امید سے ہیںکہ اب بھی علم الکلام، منطق اور اصول بحث کی تعلیم دے کر اچھے مغالطے تخلیق کیے جاسکتے ہیں۔لہذا سکالر مذکور کیلیے لازم ہے کہ وہ جلالپوری ، فتح پوری اور سبط حسن کے علمی کارنامہ ہاے کا بخوبی مطالعہ کر چکا ہو ۔ایسے افراد کوجنہیں روایت پسندی سے خدا واسطے کا بیر ہو ترجیح دی جاے گی۔ اگرتلاش کیا گیا کیڑامنطقی طور پر درست معلوم ہو اور اس میں اساطیر کی بے توقیری کی بدبوبھی آتی ہوتو محترم شیخ اکبر، موگیمبو کی طرح خوش ہوں گے اور انعام کے طور پر سکالر مذکور کو حسب توفیق، صحبت شیخ سے نوازا جاے گا (یاد رہے فیض رسانی کیلیے جنس ، رنگ اور نسل کی کوئی قید نہیںہے )۔ یہ جاب کانٹریکٹ بیس پر ہو گی اور معاوضہ کی ادایگی کسی ڈونیشن کے ملنے سے مشروط ہو گی۔ پیمینٹ فی کیڑا کے حساب سے کی جاے گی ، زیادہ کریہہ الخلقت کیڑا نکالنے پر اضافی بونس بھی دیا جاے گا۔

ضرورت لکھاری ۔
ہمارے ایک معزز کلاینٹ کو آئندہ الیکشن 2018 میں حکومت وقت کی کرپشن کوبے پناہ طورپر ایکسپوز کرنے کیلیے ایک وائٹ پیپر تیار کرنا ہے جسکے لیے تھوک کے حساب سے کالم لکھنے والے لکھاریوں کی ضرورت ہے ۔ لکھاری بے بنیاد شماریات سے اعلی تخلیقی مضمون تیار کرنے اور مایوسی پھیلانے میں ماہر ہونے چاہیں ۔ مختلف ٹھیکوں میں کماے گئے کمیشنوں کے رواجات ،اور بلیک کے دھندوں سے واقفیت ،اضافی قابلیت سمجھی جاے گی۔اچھے لکھاریوں کے لیے چانس ہو گا کہ انکو پارٹی میں بلاسفارش ، مفت ممبرشپ دی جاے تاکہ وہ باقاعدہ سیاست میں آسکیں اورحاتم طائی کی قبر کو لات مارتے ہوے کسی کونسلر شونسلر کی سیٹ کا ٹکٹ بلا قیمت عنایت کر دیا جایگا، اگر لکھاری مذکور زیادہ نخرے دکھائے گا تو ہو سکتا ہے کہ اسے پارٹی سربراہ سے چند منٹ کی ملاقات کا شرف عنایت کر دیا جاے لیکن یاد رہے کہ بلاڈونیشن کارکنان کو سیلفی بنانے کی اجازت نہیں ہو تی۔ اگر لکھاری مذکور، محترم حسن نثار کی طرح زہریلی تحریر لکھ سکتا ہو تو معقول معاوضہ بھی دیا جاے گا۔

ضرورت میڈیا پرسنز۔
ایک پراپرٹی ڈیلر جو بفضل ریستورانتِ لاہور، نو سو چوہے کھا چکا ہے، کو اب اپنے مخیر ہونے کا تاثر پھیلانے کیلیے میڈیا ماہرین کی ضرورت ہے جو اسکی ہر نمایشی سخاوت کو ایک عظیم کارنامے کے طور پر پیش کر سکیں تاکہ اسکے دبلے پتلے سے ماضی کو بھلایا جا سکے۔ ڈیلر مذکور کے خلاف چند جھوٹے الزامات پر مبنی کیسز بھی ہیں ،انکو بھی اس طریقے سے ہای لایٹ کیا جانا مطلوب ہے کہ وہ ایک معصوم ،بے گناہ اور خوامخواہ کی مصیبت میں گرفتار شخص دکھائی دے اور فیصلہ کرنے والے ایماندارججوں کا دل اسکے حق میں نرم ہو۔ مشن سٹیٹمنٹ یہ ہے ڈیلر مذکور ایک سلیم الطبع ، نیک اور ایماندار شخص معلوم ہو ۔ کامیاب امیدواروں کو معقول معاوضہ دیا جاے گا۔

ضرورت افواہ ساز۔
ایسے چرب زبان افراد کی ضرورت ہے جو ایک ماڈرن شیخ کی کرامات کی افواہیں ملک کے کونے کونے میں پھیلانے کی اہلیت رکھتے ہوں۔ افواہ ساز اس مقصد کیلیے کوئی بھی ذریعہ اختیار کر سکتے ہیں البتہ کوشش یہ ہو کہ افواہ گول مول سی ہو اور بوقت ضرورت اس میں سے اپنے مطلب کے کئی معانی نکالے جا سکتے ہوں۔ افواہوں کا کوئی ایسا ریکارڈ نہ ہو جو آنے والے وقت میںکوئی عاقبت نااندیش مخالف بطور ثبوت ماڈرن شیخ کے خلاف استعمال کر سکے۔ کوئی معاوضہ نہیں دیاجاے گا الٹا نذرنیاز کی فرمایش کی جاے گی۔

ضرورت عارضی محبوبہ۔
ایک شاعر نامراد، ناکام عاشق جس کو ایک طویل صبر آزما عشق میں زبردست ناکامی ہوئی ہے اور اسکا دل تین سو باون مرتبہ توڑ دیا گیا ہے کو اپنی عجیب و غریب ذہنی و جذباتی کیفیات سے چھٹکارے کیلیے ایک شارٹ ٹرم ہلکے پھلکے رومانس کی ضرورت ہے جسکے لیے بڑی عمر کی خوش شکل خواتین رابطہ کر سکتی ہیں۔ ہدیے کے طور پر شاعر موصوف لمبی لمبی تعریفی ای میلز، پیارے پیارے شارٹ میسیجز اور اپنی بے وزن و بے نطق قسم کی شاعری میں کامیاب درخواست دہندہ کا نام شامل کریں گے، جس پرنہ صرف درخواست دہندہ کو تاریخی حیثیت حاصل ہوگی بلکہ اسکی آنے والی نسلیں ان پربجا طور پر فخر کر سکیں گی۔ البتہ موصوف کی عنقریب آنے والی کتاب کا انتساب ،جو شایع ہوتے ہی ردی کے مول پہنچ جاے گی ،وہ اپنی اسی پہلی ظالم محبوبہ کے نام کریں گے ۔ شاعر مذکور کافی خوش فہمی بلکہ غلط فہمی کا شکار ہیں اسلیے ہمارے دفتر کے ملازمین نے انکا نام رئیس الا حمقین رکھ دیا ہے جسکا وہ ذرا برا نہیں مانتے۔ انکا خیال ہے کہ درخواست دہندگان کی تعداد بہت زیادہ ہو جائے گی اسلیے وہ صرف چست کپڑوں میں ملبوس تصاویر والی درخواستوںپر ہی غور کریں گے ۔

المشتہر : ۔ میاں ارشد فاروق
ایڈوکیٹ ہای کورٹ ،
لاہور

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: