آیئے چٹنی بنائیں —- شازیہ ظفر کی فکاہیہ تحریر

0

صاحبو! آجکل ہر طرف کورونا وائرس کا ہنگامہ برپا ہے جس نے ہر سو ایک دہشت اور سراسیمگی سی پھیلا رکھی ہے۔۔۔ ایک طرف سماجی سرگرمیاں محدود ہونے کی بناء پر زندگی سست روی اور بیزاریت کا شکار ہے تو دوسری جانب ٹی وی چینلز نے عوام الناس کو ہولانے کا عزم صمیم کیا ہوا ہے۔۔۔
” بریکنگ نیوز۔۔!!! (ڈھن ڈھنا ڈھن ڈھن)

ناظرین فلاں ملک، فلاں صوبے، فلاں شہر، فلاں علاقے کے فلاں محلے میں کرونا کے مریضوں کی تعداد اب اتنی ہوچکی ہے۔۔

تعلیمی ادارے بند، شادی ہالز بند، شاپنگ سینٹرز بند۔۔ تفریحی مقامات بند، انٹر بس سروس بھی بند۔۔۔
بلکہ بس نہ چلے کہہ دیں کے سانس لینا بھی بند۔۔
یعنی آپ اگر ابھی تک نہیں مرےہیں تو گھر میں مقید خوف سے کپکپایئے اور ڈر ڈر کے روز جیتا ہوں روز مرتا ہوں کی تفسیر بنے رہیئے۔۔
تیسری جانب سوشل میڈیا پر کورونا وائرس پہ تحقیق، اس سے بچاؤ کی تدابیر علاج، ٹونے ٹوٹکے، وظائف، ذکر اذکار۔۔۔ اور اس وائرس پر مروّجہ لطائف سبھی کچھ موجود ہے۔۔۔۔ یعنی سوشل میڈیا نہ ہوا پوری بارہ مصالحے کی چاٹ ہوگئی۔۔ اس وبائی صورتحال میں عجب مشکل درپیش ہے۔۔ اس سے بچ کر جائیں تو کہاں جائیں کہ ساری دنیا ہی اسکی لپیٹ میں ہے ایک چھوٹے سے جرثومے نے سب کا سکون تہہ وبالا کر رکھا ہے۔

اس ساری دھماچوکڑی میں کورونا وائرس سے متعلق اگاہی حاصل کرنے۔۔ اس سے نبرد آزما ہونے کی تمام تر تیاریوں اور مکمل حفاظتی اقدامات بروئے کار لانے یعنی کیل کانٹوں سے لیس ہونے کے بعد جب ہم کچھ شانت ہوئے تو اندازہ ہوا کہ بھئی یہ والی زندگی تو بہت بور اور کافی روکھی پھیکی سی ہے کہیں نہ کہیں اس میں کچھ نہ کچھ کمی ضرور ہے۔۔

روکھی پھیکی تو خیر ہمارے حلق سے کھچڑی تک بھی نہ اترے، پھر یہ تو ہماری زندگانی کا سوال تھا۔۔۔ لہذا اسے کچھ چٹپٹا اور مذیدار بنانے کی خاطر ہم نے سوچا کیوں ناں چٹنی بنائی جائے۔۔۔ اور جب ہم چٹنی بنانے کی ٹھان ہی لی تو اچانک ہمارے زرخیر ذہن میں ملک و قوم کی خاطر کچھ کر گذرنے کا خفتہ جذبہ بیدار ہوگیا۔۔۔ اور یوں ہم نے مفاد عامہ کی خاطر یہ طے کر لیا کہ آپ سب کو بھی شریکِ چٹنی کر لیتےہیں۔۔۔۔ تو پھر دیری کاہے کی۔۔۔ آیئے یہ کار خیر شروع کرتےہیں۔۔۔ کیونکہ
مصالحہ ہے تو
زندگی میں ہے مزا۔۔۔
چٹنی بنانے کے لئے ہمیں جو اجزاء درکارہیں۔۔ ان میں سرفہرست ہے مرچیں۔۔۔

کسی بھی طرح کی چٹنی کو مزیدار اور تیکھا بنانے میں مرچیں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔۔ اگر آپ کو مرچیں لگانا آتی ہیں تو چٹنی بنانا اور بھی آسان ہوجاتا ہے۔۔۔ اور نہیں آتیں (ویسے یہ ممکن ہی کب ہے) تو اپنی اس اکلوتی زندگی کو رائیگاں نہ جانے دیجیئے اور یہ ہنر پہلی فرصت میں سیکھ لیجیئے۔۔۔ چونکہ اس فن میں کب کے طاق ہوچکے۔۔۔ لہذا نادر موقع تھا کہ اپنی لگائی مرچوں سے ہی چٹنی بنانے کام لیا جائے۔۔۔ چنانچہ ہم نے اپنے رسوئی باغیچے میں سے سرخ تیز اور تیکھی، مٹھی بھر مرچیں اس مقصد کے لیے اکھٹا کرلیں۔۔۔

چٹنی بنانے کے لیے دوسرا جزو لہسن ہے۔۔۔ ہم نے یہاں دیسی لہسن استعمال کئے ہیں۔۔۔آپ کے علم میں اضافے کے لیے بتاتے چلیں کہ جتنی مذیدار چٹنی “دیسی” کی بنتی ہے۔۔ اتنی بدیسی کی کہاں۔۔
کیونکہ بدیسی فورا رنگ بدل لیتے ہیں مزاج بھی ذیادہ گرم رکھتےہیں، فربہی کی جانب مائل اور قدرے سخت جان سے ہوتےہیں بغاوت کے سر کی مانند انہیں کچلنا خاصا دشوار ہوتا ہے انتہائی بدذوق مطلب بدذائقہ بھی ہوتےہیں۔۔جسکی وجہ سے نہ صرف چٹنی بنانے کا سارا مزا کرکرا ہو جاتا ہے بلکہ منہ میں زہر سا گھل جاتا ہے۔۔۔ لہذا ہمارا مشورہ ہے کہ آپ بھی ذائقہ دار چٹنی بنانا چاہتےہیں تو ہمیشہ دیسی کا استعمال کیجیئے۔۔
کچلنا، پیسنا، کوٹنا سب آسان۔۔۔

چٹنی کا تیسرا اور لازمی جزو نمک ہے۔۔۔ چٹنی بنانے کے دوران اس میں اگر وقتاً فوقتاً نمک نہ چھڑکا تو نہ لطف رہا اور نہ چٹخارہ۔۔۔ زندگی کا۔۔ مطلب چٹنی کا اصل مزا ہی نمک چھڑکنے میں ہے۔۔۔ یہ بھی دھیان رہے کہ چٹنی میں نمک دل کھول کے چھڑکنا ہے۔۔ کوئی کسر نہ رہ جائے ورنہ ساری محنت اکارت ہی جائے گی۔۔۔۔ بھئی زبان کا چٹخارہ ہی تو اصل حسنِ زندگی ہے۔۔۔

تینوں اجزائے ترکیبی اکٹھا ہونے کے بعد اب باری آتی ہے طریقہ واردات کی۔۔۔ یعنی طریقہ کار کی۔۔۔ یہاں آلہ قتل کا درست انتخاب بہت ضروری ہے۔۔۔ یاد رکھیئے۔۔۔ چٹنی بنانے میں مشینی طریقہ کار بالکل کار آمد نہیں ہیں۔۔۔ ماہرین کے فرمان کے مطابق اصل مزا ہاتھ سے استعمال ہونے والے آلات میں ہی پوشیدہ ہے۔۔۔ لہذا ھاون دستہ، کونڈی ڈنڈا، چٹو وٹہ، سل بٹہ۔۔۔ غرض ان میں سے جو بھی دسیتاب اور میسر ھو اسے بصد خوشی بروئے کار لایا جاسکتا ہے۔۔۔

اجزائے ترکیبی کی مثلث مکمل ہونے کے بعد اور آلہ قتل منتخب کرنے کے بعد اگلا مرحلہ کچھ یوں ہے کہ لہسن اور مرچوں کو فی الفور بلاخوف خطر اوکھلی میں دے دیں۔۔۔ بس اب آپ نے گھبرانا نہیں ہے۔۔۔
موسلوں کی برسات کرتے ہی چلے جایئے۔۔۔ آپ قارئین کی خوش قسمتی کہ بروقت زبیدہ آپا کا نادر ٹوٹکہ راقمہ کے ذہن میں آگیا۔۔۔ ٹوٹکا کچھ یوں ہے کہ اگر آپ موسل برسانے میں شدت لانا چاہتےہیں تو اس سمے زندگی کے ناپسندیدہ واقعات اور ان سے وابستہ ناپسندیدہ شخصیات کو تصور میں لے آیئے۔۔ اور پھر جادوئی اثر دیکھیئے۔۔۔
آن کی آن میں چٹنی تیار ہونے لگے گی۔۔جیسے جیسے آپ کے ہاتھ چلیں گے آپ خود کو ھلکا پھلکا محسوس کرنے لگیں گے۔۔۔ اور جب آپ دیکھیں کہ اتنی مشقت کے باوجود آپ کے چہرے مسکراھٹ رقصاں ہے۔۔ آپ کا موڈ خوشگوار، ذہن ہلکا پھلکا اور تروتازہ ہوچکا دوسری جانب موسلوں کی برسات سے لہسن اور مرچوں کے بیچ “من و تو” کا فرق مٹ چکا ہے۔۔۔ اور اب انکی حالت پکار پکار کر کہہ رھی ھے کہ
اچھا خاصا کُٹتے کُٹتے گم ہو جاتا ہوں
تب ہاتھ روک دیجیئے۔۔۔ بس یہی عین وہ وقت ہے جب آپ چٹنی بنانا روک کر نمک چھڑکنا شروع کر دیں۔۔۔۔ اگر نمک چھڑکنے سے گذارا نہیں ہوتا اور آپ مذید چٹخارے کے خواہشمند ہیں تو تب اسی وقت آپ لیموں بھی نچوڑ سکتے ہیں۔۔۔
مطمئن ہوجائیے کہ ایک آنچ کی جو کسر رہ گئی تھی۔۔وہ بھی پوری ہوئی۔۔۔

لیجیئے آپ کی چٹنی تیار ہے۔۔۔ حسب موقعہ اور حسب ضرورت استعمال کیجیئے اور ہمیں دعائیں دیجیئے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20