سائل کی کتاب ’’چراغ درونِ در‘‘ پر کچھ باتیں — قاسم یعقوب

0

گذشتہ ایک صدی میں اردو غزل کے تخلیقی متن کے چند ایک اہم موڑ ہیں، جن کو سامنے رکھے بغیر ہم آج کی غزل کو نہیں سمجھ سکتے۔ حالی کے زیر ِ سایہ ’’نئی غزل‘‘ کا ڈھول پیٹا گیا۔ اس نئی غزل میں سب کچھ وہی تھا جو کلاسیکی غزل کی روایت کے ساتھ چلا آ رہا تھا مگر اگر کچھ مختلف تھا تو انسان کے نئے تصور سے جڑے نئے خیالات تھے۔ ان نئے خیالات میں سب سے اہم نقطۂ نظر افادی انسان کا تھا۔ اردو غزل کے ساتھ ساتھ پوری شاعری ہی افادی بنا دی گئی تھی۔ یا یوں کہہ لیجئے کہ حالی نے غزل کے اُس پہلو کو زیادہ اہمیت دی جو شاعری کے افادی معیارات کے ساتھ وابستہ تھا۔

حالی کے بعد فانی، یگانہ، اصغر، فراق، جگر اور حسرت کا توانا دور آتا ہے۔ اس دور میں غزل افادی پہلوئوں کی بجائے انسان کے جذباتی اور حسی کیفیات کے قریب تر ہوئی۔ مثلاً فانی کہتا ہے:

ادا سے آڑ میں خنجر کی منھ چھپائے ہوئے
مری قضا کو وہ لائے دلہن بنائے ہوئے

حسرت کی مشہور غزل :
دوپہر کی دھوپ میں میرے بلانے کے لیے
وہ ترا کوٹھے پہ ننگے پائوں آنا یاد ہے

جدید حسی کیفیات کو ہمارے تخلیقی مزاج کے بہت قریب لے آئی تھی۔ یوں غزل ظفر اقبال، سلیم احمد، شکیب، منیر نیازی، ناصر کاظمی، ابنِ انشا کے دور میں مزید ہماری جذباتی زندگی کے قریب ہوتی گئی۔ یہی دور نظم کے عروج کا دور بھی تھا۔ یہاںموضوعاتی سطح پر غزل کی نسبت نظم میں زیادہ فکری جھکائو نظر آتا ہے۔ ایسالگتا ہے کہ غزل نے فکری سطح پر سماجی فلسفیانہ بوجھ نظم کو دے دیا اور خود بننے سنورنے لگی۔ اس دور میں غزل خوب ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوئے اور حسی تخلیقی پیکروں میں نئے تجربات پیش کرنے لگی۔ ستر کی دہائی میں غزل کو ثروت حسین، سلیم کوثر، افتخار عارف، اظہار الحق، ریاض مجید، جاوید شاہین، اقبال ساجدجیسے غزل گو ملے جنھوں نے غزل کوشعری منظر نامے میں انفرادی حسی تجربوں کے بہت قریب کر دیا۔

اکیسویں صدی کی غزل تخلیقی متن کی تشکیلی جمالیات میں حد درجہ مختلف ہے۔ یہ غزل تضاد اور معنوی پیکر تراشی سے نئے نئے مضامین تراش رہی ہے۔ آج کی غزل کی خوبی یہ ہے کہ اس میں بہت قریب کے جذبات کو شعری جمالیات میں جگہ دی جانے لگی ہے۔

نئے نوجوانوں نے ڈکشن کی سطح پر نیا اسلوب تراشا ہے۔ نئے نئے مضامین لائے ہیں۔ جذبے کی داخلی اور خارجی دونوں حالتوں کو اکٹھا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان نوجوانوں کے ہاں شعری زبان کی معنوی اکائی لسانی موشگافیوں میں الجھنے کی بجائے جذبے کی بہت مانوس حالت کو نامانوس بنا کر پیش کرتی ہے۔ یہ ایک مشکل کام تھا جو اس عہد میں نوجوانوں کے ہاتھوں انجام پذیر ہوا ہے۔ لسانی تشکیلات والوں نے زبان میں اسم معرفہ کی خاص حالت کو تبدیل (replace) کرنے کی کوشش کی مگر ان کے ہاں زبان کا لسانی سٹرکچر حاوی رہا۔ ان کی زبان میں موجود اسم نکرہ کی تشکیلی جمالیات کی حسی حالتوں تک رسائی نہ ہو سکی۔ یوں کے غزلیہ تجربات لسانی موشگافیاں بن کے رہ گئے۔

آج کی غزل اسمِ نکرہ کی بے ترتیب جمالیات سے منتخب حسی جمالیات کا فن تراشنے کا مشکل کام کر رہی ہے۔ یہاں جذبہ پہلی ترجیح ہے۔ آپ جذبے سے تاثر یا Intensive Impression بھی مراد لے سکتے ہیں۔

مجھے ان تمہیدی باتوں کے بعد سائل نظامی کی غزل پر بات کرنی ہے۔ یہ نوجوان آج کی غزل کا نمائندہ شاعر ہے۔ ’’چراغ درونِ در‘‘ میں آج کی حسی جمالیات کا ادراک پوری تابانی سے جلوہ گر ہے۔ صوفیانہ فکریات کی کیفیتی جمالیات کو حسی سطح پر جس طرح فنی پیکر تراشی میں پیش کیا گیا ہے، اس کی مثال آج کی جدید غزل کی نمائندہ مثال ہو گی۔
سائل کی غزل میں فکری تنازعہ جنم نہیں لیتا۔ ایسا لگتا ہے کہ وہ فکری تنازعات حل کر چکا ہے اور صرف ان کی کشفی کیفیات کے نتائج کا اعلان کرتا جاتا ہے۔ وہ اپنی غزلوں میں ایک مطمعن شاعر کے طور پر نظر آتا ہے۔ وہ بہت کچھ کہنا چاہتا ہے اور ہمیں یہ ادراک اُس کی غزلوں کے باطن میں اتر کے ہوتا ہے کہ وہ جو کچھ کہنا چاہ رہا ہے، کہہ چکا ہے۔

سب کے سب بکھرے پڑے تھے کسی ملبے کی طرح
شہر سارا کسی بھونچال میں آیا ہوا تھا

میری کوشش ہے دل کی بات کہوں
یہ غزل بھی نہ تجرباتی ہو

میں نہ لکھوں گا کوئی نام ترے نام سے قبل
مصرعۂ عشق میں تعقید نہیں ہو سکتی

ذات کا مرکزہ اس کے پرکار کی حدوں کو اتنی وسعت عطا کر دیتا ہے کہ اُس کے امکانات کا کوئی کنارہ ہی نظر نہیں آتا۔ یہ ایک مطمئن شخص کی علامتی کائنات ہی سکتی ہے:
ابتدا کی طرف پلٹ آیا
دمِ آخیر دیکھتا ہوا میں

بنا سمجھے، بنا بولے، سہولت سے جئیں گے
ہمارے دور میں گونگے، سہولت سے جئیں گے

اب ذراان اشعار کو دیکھئے۔ ان میں سائل اظہار کے لہجے کو ہمارے کتنا قریب لے آیا ہے:

چیزیں تو ناشتے میں ہیں سائل وہی، پہ آج
مکھن میں ماں کے ہاتھ کی لذت نہیں ملی

میں اپنے گھر کے بجھے بام و در پہ پنسل سے
تری منڈیر کے جلتے دیے بنائوں گا

تاریکیِ شب سے نکل آیا تھا میں اس دم
جب چہرہ ترا صبح کے اخبار سے جھانکا

ریل چلنے لگی ہے اور سائل
دل بہ زنجیر، دیکھتا ہوا میں

میں اس لیے بھی شناسا ہوں سب خدائوں سے
کہ بیش تر تو مرے ہاتھ سے بنے ہوئے ہیں

تمھارا خط نظر آیا تو پڑھنے بیٹھ گیا
وگرنہ میں، مرا بٹوہ تلاش کر رہا تھا

فن کے حوالے سے سائل نے آج کی غزل کی انفرادی خاصیتوں کا جگہ جگہ اظہار کیا ہے۔ ایسا لگتا ہے وہ جانتا ہے کہ دریا کے دو کناروں کا فاصلہ کتنا ہے اور کہاں یہ فاصلہ ختم ہوکے دریا کی شناخت ختم کر سکتا ہے:
اہلِ منصب ہوں، سبک ساری نہیں کر سکتا
شعر سن لیجئے، اداکاری نہیں کر سکتا

میں کسی ایسے کی منت نہیں کرنے والا
جو مرے حرف کی عزت نہیں کرنے والا

میر سی شستہ زباں، داغ سا لہجہ سیکھو
یوں مرے شعر پہ تنقید نہیں ہو سکتی

کچھ بڑے شعر بھی سائل نے نکالے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ان اشعار نے ’’چراغِ درونِ در‘‘کو اپنے معاصرین کی کتابوں میںاہم کتاب کا درجہ دیا ہے:
پیروں میں وہ دائرے تھے سائل
دورانِ قیام تھک گیا میں

صداقتیں ہیں فقط پیش خیمہ ہجرت کا
نصاب میں ہمیں ہر شے غلط پڑھائی گئی

کچھ برہوں کے گیت، اک خط کا ٹکڑا رکھنے کو
حجرۂ دل میں جگہ بنائی دنیا رکھنے کو

کیا خبر کوئی لمحۂ عشرت
اپنے سامان سے نکل آئے

بے نمک وصل کیسے سہہ پاتا!
جیبھ میں ذائقے پڑے ہوئے تھے

ایسا لگتا ہے شام کا سورج
کیسری رنگ کا بنا ہوا ہے

بحث کرنے میں قباحت تو نہیں ہے لیکن
اب مرے پاس دلائل بھی تو ہو سکتے ہیں

سر پہ کوئی نہیں ہے دونوں کے
ایک سا غم ہے یہ، مرا، چھت کا

میرے ہجرے میں آ کے بیٹھے رہے
جو کوئی قیس کا صحابی ہے

یہ بالکل نئی غزل ہے۔ لفظ اپنی اساطیری جہتوں کو توڑ کے نئے معنی جوڑتا ہے۔ اس غزل کی شعریات اپنی طور پر الگ تھلگ ہے، اس کی گرائمربالکل نئی ہے۔ یہ ہمارا آج ہے۔ اس غزل کے تنقیدی ڈسکورس میںنئے سوال نئے لسانی مطابقتوں میں ظاہر ہو رہے ہیں۔ اس غزل میں ہمارے عہد کا تخلیقی اظہاریہ اپنے سوالوں کے ساتھ ظہور کرتا ہوا ملتا ہے۔

اگرگزشتہ عشرے کی غزل کی اچھی کتابوں کی فہرست بنائی جائے تو’’چراغ درونِ در‘‘ کو اس میں شامل کرنا لازمی ہوگا۔ اردو شعر کے قارئین کو یہ خوبصورت تحفہ مبارک ہو۔

 

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20