وبا کے دنوں میں سرگوشیاں : پہلا خط —- دعا عظیمی/ شہنیلہ آصف

0

پیاری شہنیلہ

سلامتی کے بہت سے پھول اور دعائیں،

مجھے یہ جان کر اداسی محسوس ہو رہی ہے کہ گلیاں ویران اور لوگ سہمے ہوئے ہیں… گو یہ چند دنوں کی بات ہے مگر پہلے ہی اہل کشمیر کے لیے دل دکھی تھے۔ وادی میں قہر اور جبر کی فضا کس قدر آزردہ کر دینے والی بات ہے۔ اور اب وبا…

مگر میں نے سن رکھا ہے،

“وبا اور خوف کے دنوں میں اداسی کی بات گناہ ہے”۔ آؤ! کھلکھلا کر ہنسیں تاکہ اداسی بھاگ جائے۔

میں چاہتی ہوں ہم وبا کے دنوں میں کچھ نئ سرگوشیاں بنیں جیسے ہماری مائیں اپنے بچوں اور چاہنے والوں کے لیے جاڑے سے تحفظ کے لیے اون اور سلائیوں سے بنا کرتی تھیں۔

نرمیوں سے گفتار کے پھول کاڑھیں، لطف کے ساز چھیڑیں حسن کی بات کریں، سرگوشیوں میں پھولوں کے کھلنے کی۔۔۔ دلوں کے ملنے کی، سپدہ سحر کی، مترنم نظموں کی چھوٹی بحر کی۔۔۔ فطرت کی مدحت سرائی کریں۔

شکر گزاری اور مہربانی کی، برداشت کی اور دوسرے کی صلاحیتوں کے اعتراف کی، تعریف و تحسین ایک قابل قدر عمل ہے۔

میں برملا کہنا چاہتی ہوں کہ جب تم ہنستی ہو کائنات مسکراتی ہے .خوف کی مکڑی کا جالا ٹوٹ جاتا ہے… آؤ ہم احوال لکھیں اور اس میں صرف محبت کو تصویر کریں امید سے بھرا روشن کوئی خیال تحریر کریں….

کیا حس لطافت زندگی کے حسن کو ارفع بنا دیتی ہے؟

میں نے سنا ہے، بولتے رہنے سے ڈر بھاگ جاتا ہے تمہیں معلوم ہے ایسے ہی ہوتا ہے جب گھر کے سربراہ گھبرا جاتے ہیں تو ان کے ساتھ اور ان کے پیچھے چلنے والوں کے دلوں پر بھی خوف کے بادل چھا جاتے ہیں۔ بالکل ایسے ہی جیسے چوزے اپنی ماں کے سامنے شیر ہوتے ہیں ہم بھی چوزوں کی طرح ان کے پروں کے نیچے خود کو محفوظ تصور کرتے ہیں.. مگر جب ان کے توانا کندھوں پہ بوجھ پڑتا ہے اور ان کے چہرے پہ فکر کی عبارت درج ہوتی ہے تو باقی سب کو معلوم پڑ جاتا ہے کہ خطرے کی کوئی گھنٹی بجی ہے… کل سے میرے گھر والے کے چہرے پر تفکر کی کچھ عبارتیں درج تھیں۔ یہ میرے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔

شہر ویران ہیں اور عبادت گاہیں سنسان!!

ان تمام دنوں میں جب گھر کے سربراہان بے فکر ہو کر فکر کرتے ہیں میں مطمئن رہتی ہوں۔ مگر کبھی کبھار جب وہ فکر مند ہوں میں ہمیشہ ہنس کر ان کی فکر کو ٹال دیتی ہوں۔ مجھے معلوم ہے سب پشت پر کھڑی رہنے والیاں ایسے ہی کرتی ہیں۔ ایسا کرنے سے سب کا اعتماد بحال رہتا ہے۔ تمہارا کیا خیال ہے تم مجھے ہمیشہ سنتی آئی ہو.. آج کل سننے والوں کا قحط ہے لوگ عدم برداشت کا شکار ہیں، مجھ سمیت۔ جانے میں اتنی بےلچک کیوں ہوں؟

مجھے حیرت ہے کہ انسان کیسے دوسرے کو حال دل سنانے کے لیے معتبر سمجھتا ہے کیا اس کے پیچھے فکر کی ہم آہنگی ہوتی ہے یا ظرف کا پیمانہ..؟

ہمارے درمیان یہ کیسی ہم آہنگی ہے …

کیسی انسیت ہے۔۔۔۔ جیسے ہم صدیوں سے ایک دوسرے کو جانتے ہیں. مجھے معلوم ہے تم مزاروں پر نہیں جاتی مگر تم جانتی ہو کہ مجھے مزار اچھے لگتے ہیں… اس لیے کہ ان میں خدا کے دوستوں کا صوفیوں اور ولیوں کا بسیرا ہے… اور اس لیے بھی کہ ہر گنبد کا رنگ سبز ہے اور سبز رنگ پاکی کا رنگ ہے. ٹھنڈک کا رنگ ہے. اور ایک بڑے گنبد کا رنگ جسے ہم سب مانتے ہیں.. چھوڑو ان مذہبی باتوں کو ….

کل میں ایک مزار پہ گئی… ماحول پرسکون تھا۔ میرے کمرے کی کھڑکی سے برگد کا وہ درخت نظر آتا ہے نا جو اس مزار کے احاطے میں سایہ کیے ہوئے ہے… کہنا تو یہ تھا شہنیلہ…… کہ

سنگ مرمر کی جالیوں سے بندھی چوڑیوں نے مجھے اپنی جانب متوجہ کر لیا… تمہیں پتہ ہے یہ چوڑیاں نہیں تھیں یہ عرضیاں تھیں چٹھیاں تھیں اور نامے تھے، دیواروں سے کی گئی سرگوشیاں تھیں۔

مجھ جیسی ہزاروں عورتوں کے آنسووں سے بندھے دل کے فسانے تھے جو انہوں نے باندھے تھے کیونکہ ان کے پاس اچھی ہم راز اچھی سہیلی نہیں تھی جو ان کو دلاسہ دے، انہیں اندھیرے میں روشن جگنو سی کوئی بات کہے۔ یہ ڈھارس یہ حوصلہ یہ روشنی بہت اہم ہے جو لفظوں کی اور خلوص کی صورت ہم ایک دوسرے کو دیتے ہیں۔ معاشرے کو اچھے سننے والوں کی ضرورت ہے۔ اچھا سننا ایسا ہے جیسے پھول چننا. تمہارے جواب کی منتظر۔

تمہاری دعا


اپنے نام کی طرح پیاری دعا عظیمی!

تم نے سچ کہا ہے۔۔۔ کرونا کی وبا نے کسی خون آشام بلا کی طرح ہماری دھرتی پر اپنے پنجے گاڑ دیے ہیں۔ موت کے خوف نے بہت سے چہروں پر زردی کھنڈ دی ہے۔ دل دہلے اور چہرے سہمے ہوئے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ آج وہ لوگ بھی اس عفریت کے ڈر سے کونوں کھدروں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں جن کا نعرۂ مستانہ ہی یہ رہا ہے۔۔۔ ‘بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست’ مگر

موت سے کس کو رستگاری ہے
آج وہ، کل ہماری باری ہے

دعا! میں سوچتی ہوں کہ ایک دن تو اس کی جناب میں حاضر ہونا طے ہے تو موت سے پہلے ہی موت کے خوف سے کیوں مرا جائے!

کیوں نہ اس وقت کو خدا کی طرف سے مہلت مان کر اپنے نامۂ اعمال کی جانچ پڑتال کی جائے۔ خسارے کو منافع میں بدلا جائے۔۔۔۔ یقین مانو یہ کوئی اتنا مشکل کام بھی نہیں ہے۔ جانتی ہو کیوں؟ کیونکہ اس کے ساتھ تجارت میں نفع ہی نفع ہے۔ وہ عطا ہی عطا ہے۔ اس کے نوازنے کے ڈھنگ تو دیکھو خود کہتا ہے آؤ مجھ سے مانگو۔ مانگنے پر نثار ہوتا ہے۔ مسکراہٹ کو بھی نیکی شمار کرتا ہے۔ راستے سے پتھر ہٹانے کا بھی اجر دیتا ہے اور بےشمار دیتا ہے۔ وہ تو دینے پر آمادہ ہے کاش ہم لینے والے بن جائیں۔ آؤ ہم خدا سے دوستی کر لیں۔ اسے اپنے دلوں میں بسا لیں تاکہ وہاں خوف، طمع، حرص، شر کی جگہ ہی نہ بچے۔ صرف خیر ہی خیر بن جائیں۔

پیاری دعا! پھولوں کی سی نرماہٹ لیے اور لطافت بھرے خط میں تم نے پوچھا ہے کہ کیا حسِ لطافت زندگی کے حسن کو ارفع بنا دیتی ہے؟ تو میرا جواب اثبات میں ہے۔ میں جانتی ہوں کہ تم یہ بات مجھ سے کہیں بہتر جانتی ہو تبھی تو اپنی سوچ کو خوبصورت ترین الفاظ کا جامہ پہنا کر اسے کسی دلہن کی طرح آراستہ کرتی ہو تاکہ پہلی نظر میں وہ سیدھی دلوں میں اتر جاۓ۔

دعا! میرے خیال میں حسِ لطافت کا زندگی سے وہی تعلق ہے جو خوشبو کا پھول سے ہے، سر کا گیت سے اور احساس کا انسان سے ہے۔ احساس کے بغیر انسان فقط جسم ہے۔

یہ احساس کی ڈور ہی تو ہے جو انسان کو ایک دوسرے سے باندھتی ہے تو دینا کے غم ہلکے ہو جاتے ہیں اور خوشیوں کا پلڑا بھاری۔۔۔ احساس کی ایسی ہی ایک ڈور نے ہمیں بھی تو باہم جوڑ دیا ہے نا۔ کتنا تسکین بخش ہے محبت اور اعتماد کا یہ تعلق۔۔۔۔ دعاگو ہوں کہ یہ تعلق ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید گہرا ہو۔

تم نے لکھا ہے کہ تمہیں حیرت ہوتی ہے کہ انسان کیسے دوسرے کو حال دل سنانے کے لیے معتبر سمجھتا ہے؟ تم سوچتی ہو کہ کیا اس کے پیچھے فکر کی ہم آہنگی ہوتی ہے یا ظرف کا پیمانہ….؟؟؟

میں کہوں گی ان دونوں سے بڑھ کر محبت اور اعتماد کا احساس ہوتا ہے جو لوگوں کو آپ کے قریب لے آتا ہے اتنا کہ من و تو کا فرق مٹ جاتا ہے، اور آپ کو لگتا ہے کہ آپ کسی دوسرے سے نہیں، خود اپنے آپ سے باتیں کر رہے ہیں۔

محبت بلاوجہ ہی فاتح عالم تو نہیں ٹھہری نا۔

Little deeds of kindness,
Little words of love,
Make our earth happy.
Like the Heaven above

دعا! محبت اور درد کی شراکت کو ہم زندگی گزارنے کا فلسفہ بنا لیں تو ہماری عورتوں کو اپنی عرضیاں مزاروں کی جالیوں پر نہ باندھنی پڑیں۔ ہم خود ایک دوسرے کے درد کا درمان بن جائیں، ایک دوسرے کو سراہیں، سنواریں، سمجھائیں۔۔

دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو

پیاری دعا! ہم اسی طرح چٹھیاں لکھتے رہیں گے۔ باتیں کرتے رہیں گے اور وبائی وسوسوں اور اندیشوں کو ہوا برد کرتے رہیں گے۔

وبا کے دنوں میں جسم تو گھر رہنے پر مجبور ہے لیکن محبت بھرے دل اور روحیں تو آزاد ہیں نا۔ تو سوچ کے سفر پر نکلیں گے، ماضی، حال اور مستقبل کو کھوجیں گے۔۔۔ دنیائیں گھوم کر آئیں گے، پھر کچھ اپنی سنائیں گے اور آپ کی سنیں گے۔

سو اگلے خط تک خدا حافظ
ڈھیروں پیار
تمہاری اپنی
شہنیلہ آصف

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20