میری وفات، ایک انوکھی کتاب ——– نعیم الرحمٰن

0

محمد اظہارالحق بہت خوبصورت شاعر اور بہترین کالم نگارہیں۔ زبان و بیان کامزہ ان کی تحریرکا لطف دوبالا کر دیتا ہے۔ اظہارالحق کی شاعری کے چار مجموعے شائع ہوچکے ہیں۔ جن میں ’’دیوارِ آب‘‘‘ آدم جی ادبی ایوارڈ دیا گیا۔ ’’پانی پہ بچھا تخت‘‘ نے علامہ اقبال ایوارڈ حاصل کیا۔ مزید دو مجموعے ’’غدر‘‘ اور ’’پری زاد‘‘ کے علاوہ ’’کئی موسم گزر گئے مجھ پر‘‘ کے عنوان سے کلیات بھی شائع ہوچکا ہے۔ نثرمیں کالموں کا پہلا مجموعہ ’’تلخ نوائی‘‘ نے بھی قارئین کی بھرپور داد حاصل کی۔ محمد اظہارالحق کو حکومتِ پاکستان کی جانب سے تمغہ حسن کارکردگی بھی دیا جاچکا ہے۔

حال ہی میں محمد اظہارالحق کی نثری تصنیف ’’میری وفات‘‘ شائع ہوئی ہے۔ یہ ایک انوکھی کتاب ہے۔ جسے کسی بھی معروف نثری صنف میں شامل نہیں کیا جاسکتا۔ دوست پبلشرز کی تین سوبیس صفحات کی کتاب کی سات سو روپے قیمت بھی مناسب ہے۔ حرف ِ آغاز میں محمد اظہارالحق ان تحریروں کے بارے میں لکھتے ہیں۔

’’ذکاء الرحمٰن مرحوم طاقتور نثر نگار تھے۔ تحریرمیں جلال اور شکوہ تھا۔ جو کچھ لکھتے تھے اس کے لیے افسانہ یا مضمون یا کوئی اور رایتی، اصطلاحی نام نہیں استعمال کرتے تھے۔ ’لکھت‘ کہتے تھے۔ غالباً اسے ہی Write Up بھی کہتے ہیں! اس کتاب میں جو تحریریں شامل ہیں انہیں مضامین کہا جاسکتا ہے نہ کالم! نہ کچھ اور! یہ لکھتیں ہیں! ایک لکھت تقدیر کی ہوتی ہے۔ موت پر بَین کرنے والی عورتیں اسے لِخَت کہتی ہیں۔ ایک پرُاسرار تحریر! دور، اوپر، کہیں لوحِ محفوظ پر نقش! زمین پر پرچھائیاں ڈالتی! اس کتاب میں انسانی لکھتیں ہیں۔ زمین پر رہنے والوں سے متعلق۔ زمین پر رہنے والے کی لکھی ہوئیں۔ بستیوں، قصبوں اور شہروں کے احوال! اُن کھیتوں، پگڈنڈیوں، کھلیانوں، گلیوں اور آنگنوں کی یادیں جو لہو میں دوڑتی ہیں۔ اُن رشتوں کی جو معدوم ہوگئے ہیں اور اُن ذائقوں کی جو شاید اب بہشت ہی میں ملیں۔ اور اُن کے تذکرے جو بچھڑ گئے۔ سمندر پار بس جانے والے بیٹوں، پوتوں، پوتیوں، نواسیوں اور نواسیوں کی رُوداد! اُن خاک اڑاتے قریوں کی باتیں جنہیں پکی سڑکوں کی خواہش میں چھوڑ دیا گیا۔ اُن دیاروں کا حسرت آمیز ذکر جہاں لوگ جا بسے مگر اپنا ملک ویسا نہ بنا پائے۔ اُن بیماریوں کا حال جو قومی شعور کو چمٹی ہوئی ہیں۔ اُن تعصبات پر نوحہ جو زبان، نسل، رنگ اور مذہب کے نام پرلاحق ہیں۔ اُن مترفین کی گردن بلندی پر ماتم جو ایک سو باسٹھ برسوں سے مستضعفین کی قسمتوں ہی کے نہیں، عزتوں کے بھی فیصلے کر رہے ہیں۔ ان لکھتوں میں اُن ارادوں کی بھی جھلکیاں ہیں جو، جوانانِ وطن کے دلوں میں امنگیں بن کر نشونما پا رہے ہیں۔ اُن سپوتوں کی حسرتیں بھی جو، وطن سے دور، دلوں میں تڑپتی ہیں کہ وطن بدلے تو پلٹیں پوری نہیں ہوتیں۔ اور ایک جھلک اس کی بھی کہ کوچ کرنے کے بعد ہمارے دنیاوی اثاثوں پر کیا گزرتی ہے، علائق کہاں تک نبھائے جاتے ہیں اور یہ بھی کہ دریا کو اس سے فرق نہیں پڑتا کہ کون سا پانی سمندر میں جا گرا ہے اور کون سابھی ساتھ ہے۔‘‘

اس تحریر سے بہت کچھ کتاب کے مندرجات کی تفصیل عیاں ہوگئی۔ اب یہ لکھتیں ہیں یا انہیں جو بھی نام دیا جائے۔ ہر صاحبِ دل پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ بعض لکھتیں دل میں گھر کر لیتی ہیں اور سوچ کے در وا کر دیتی ہیں۔ بعض قاری کو آگے پڑھنے سے روک دیتی ہیں اور وہ بار بار اسی تحریر کا اسیر بن کر دوہرائے جاتاہے۔ کتاب کی پہلی لکھت ’’بات یہیں پر ختم نہ ہوگی‘‘ ہی میں کیا غور طلب بات محمد اظہارالحق نے کی ہے۔

’’لمبا تڑنگا علاؤالدین جسے اس کے دوست پیار سے اللہ دین کہتے ہیں سوڈان کا ہے۔ وہ کئی سال سعودی عرب میں میڈیکل کی پریکٹس کرکے آسٹریلیا آیا۔ ایک نشست میں، میں نے اس سے پوچھا کہ جنوبی سوڈان کے مسیحی الگ ہوگئے ہیں۔ کاش ایسا نہ ہوتا، آخر سوڈان اس تقسیم پر کیوں راضی ہوا؟اس کے ساتھ ہی میں نے کچھ دلائل بھی پیش کیے۔ میرے دلائل کالب لباب یہ تھاکہ سوڈان کی تقسیم میں مغربی ملکوں نے کلیدی کردار ادا کیا بالکل اسی طرح جیسے مشرقی تیمور کے نقشے پرلانے کے لیے ان ملکوں نے سرگرمی دکھائی تھی۔ علاؤالدین نے جواب میں کہا۔ ہوسکتا ہے تمہارے دلائل مشرقی تیمور کے ضمن میں درست ہوں۔ مجھے وہاں کے بارے میں کچھ معلوم نہیں لیکن میں سوڈانی ہوں۔ میں ڈاکٹر بننے تک سوڈان ہی میں رہا۔ میں جنوبی سوڈان کے نصرانیوں کو کلی طور پر سوڈان کی تقسیم کا ذمہ دار نہیں سمجھتا۔ ہم مسلمان اگر ان کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آتے، اگر ان کے حقوق ادا کرتے، اگر ملازمتوں میں انہیں ان کا جائز حصہ دیتے اور اگر سماجی حوالے سے انہیں وہ مقام عطا کرتے جس کے وہ سوڈانی شہری کے لحاظ سے حق دار تھے تو اس بدقسمت تقسیم سے بچا جاسکتا تھا۔ اس کا اصل نکتہ یہ تھا کہ ہم مسلمان غیرمسلموں کو اپنے سے کم تر سمجھتے ہیں۔ اس نے ثبوت کے طور پر کئی واقعات بیان کیے۔ جس میں ایک یہ تھا کہ ایک مسلمان ملک کے مسلمان اہلکار نے غیر مسلم نرس کو جسمانی طور پر ہراساں کیا۔ جب میں نے اسے لعن طعن کی تو اس نے ہنس کر کہا۔ کیا تم غیر مسلم کو مجھ پر ترجیح دوگے؟ میں مسلمان ہوں۔‘‘

آگے لکھتے ہیں۔

’’یہ کہنا مشکل ہے کہ علاؤالدین کی رائے سوڈان کے بارے میں سوفیصد درست ہے۔ ہوسکتا ہے بہت سے سوڈانی اس نکتہ نظر سے اختلاف کرتے ہوں۔ بظاہر یہ بھی معلوم ہو رہا ہے کہ ہم پاکستانی غیر مسلموں کے حوالے سے اپنے دیگر اسلامی بھائیوں کی نسبت کم متعصب ہیں۔ لیکن یہ ساری بحث ہمیں سوچنے کی دعوت ضرور دے رہی ہے۔ ہم میں سے اگر کچھ اس غلط فہمی میں مبتلاہیں کہ مسلمان ہونے کی وجہ سے ہم ملکی قانون یااسلامی قانون یا معاشرے یا خدا کے سامنے عزیز تر ہیں تو ہمیں یہ غلط فہمی فوراً اپنے ذہنوں سے نکال دینی چاہیے۔ عہدِ رسالت اور خلفائے راشدین کے عہد کی تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے۔ جواس غلط فہمی کی تردید کرتے ہیں۔ آج ہم نے غیر مسلموں کو ان کے حقوق نہ دیے تو بات یہیں ختم نہیں ہوگی۔ کل مسلمانوں ہی کا کوئی فرقہ ہماے حقوق کو اس بنیاد پرپامال کرے گا کہ ہمارا تعلق کسی اور فرقے سے ہے۔‘‘

یہ ایک فکر انگیز تحریر ہے۔ ایک اور ذہنوں کو جھنجھوڑنے والی لکھت ’’اے اہلِ وطن‘‘ ہے۔

’’خاکروب ماں خاکروب باپ کا بیٹا ذیشان لبھا مسیح مقابلے کے امتحان میں کامیاب ہو کر جوڈیشل مجسٹریٹ بن گیا۔ معلوم ہوتا ہے کہ جو نظام ہمارے ہاں جاری وساری ہے اور جس پرہمیں فخر ہے، اس کے علاوہ بھی ایک نظام ہے جو ہماری نظروں سے اوجھل ہے، تاہم اس کا چلانے والا کبھی کبھی، کہیں کہیں، اس کی ایک آدھ جھلک دکھاتاہے کہ ہمیں یہ احساس ہوسکے کہ ہمارا نظر آنے والا ظاہر نظام کتنا بودا، کھوکھلا، مضحکہ خیز اور بے بنیادہے۔ ذیشان لبھا مسیح نے جس گھر میں آنکھ کھولی اس میں کوئی پورچ، لاؤنج اورڈرائنگ روم نہیں تھا۔ وہ اونچی پشت والی کرسی پربیٹھ کرڈائننگ ٹیبل پر کھانا بھی نہیں کھاتا تھا۔ اس کی ماں زمین پربیٹھ کر کھانا پکاتی تھی اور وہ پاس ہی زمین پر یا پیڑھی پر بیٹھ کر دال سے یا چٹنی سے یا پیاز سے روٹی کھا لیتا۔ اسے معلوم ہی نہیں تھا کہ میکڈانلڈ کی ایپل پائی کیا ہوتی ہے اور کے ایف سی کا زنگر برگر کیسا ہوتا ہے۔ باپ تحصیل کونسل اوکاڑہ میں جھاڑو دیتا رہا۔ ماں اوکاڑہ کی گلیاں صاف کرتی رہی۔ دھول گلیوں میں بھی اڑتی رہی اور وقت کی بھی۔ ذیشان مسیح آگے بڑھتا رہا۔ ایک ایک انچ، ایک ایک قدم، پھر وہ وقت آیا کہ اس نے پنجاب پبلک سروس کمیشن کے مقابلے کے امتحان میں بیٹھنے کافیصلہ کیا۔ امتحان کی تیاری کے لیے وہ ہر روز صبح ساہی وال جاتا۔ دن بھر وہاں پڑھتا۔ واپس آکر رات گئے تک ٹیوشن پڑھاتا۔ نتیجہ آیا تو وہ خواب جو بے شمار آسودہ حال گھرانوں کے نوجوانوں نے دیکھا تھا، گرا تو مفلس کی جھولی میں گرا۔ وہ تو اچھا ہوا کہ کچھ چیزوں کی تقسیم کائنات کے پرودگارنے اپنے ہاتھ میں رکھ لی ورنہ اُسی پرودگار کی قسم! غریبوں کو ہوا، روشنی، پانی اور ماں کا بوسہ بھی نہ ملتا اور یہ نعمتیں بھی صرف امرا کے لاڈلے بچوں کو ملتیں۔ اے اہلِ وطن، اس خاک میں بے شمار ذیشان بکھرے پڑے ہیں۔ خدا کے لیے انہیں تلاش کرو۔ ان کے ہاتھ تھامو! ذرا ان خاک آلودہ گلیوں کو تو دیکھو جہاں کاریں ہیں نہ روشنیاں، لیکن جہاں تمہارے لعل، تمہارے گوہر تمہارا انتظار کر رہے ہیں۔‘‘

’’میری وفات‘‘ میں شامل ہر لکھت دل کی جذبوں سے گندھی ہے اور ہر صاحبِ دل پر اثر انداز ہوتی ہے۔ دل چھونے والے واقعات اور پھر بیان محمد اظہارالحق جیسے صاحبِ طرز اور منفرد اسلوب کے نثرنگار کا ہے۔ ایک واقعہ مشرقِ وسطیٰ کے ایک ملک میں کام کرنے والے عبدا لکریم کا ہے۔ جس کی بیوی راولپنڈی میں انتقال کر گئی۔ عبدالکریم نے آخری رسوم میں شرکت کے لیے کفیل سے رجوع کیا تو علم ہوا کہ وہ ملک سے باہر گیا ہوا ہے کب واپس آئے گا، کچھ علم نہیں۔ پاسپورٹ اسی کے پاس ہے اوراس کے بغیر نہیں مل سکتا۔ عبدالکریم نے میت کے اردگرد بیٹھے بھائی بہنوں کو، اپنے پانچ بچوں کو فون پر بتایا کہ وہ نہیں آسکتا۔ لاتعداد عبدالکریم ہیں جن سے یہ سلوک ہو رہا ہے۔ غلامی کانام نہیں استعمال ہو رہا لیکن پوری دنیا اس نظام کو، اس سسٹم کو غلامی کا نام دیتی ہے۔ زنجیریں نظرنہیں آتیں لیکن انسان قیدہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کے مسلمان ممالک میں ڈھائی کروڑ افراد کام کرتے ہیں۔ جن میں تین چوتھائی ایشین ہیں۔ انڈونیشیا اور فلپائن کی حکومت نے گھریلوں ملازمین کی کم از کم اجرت مقرر کرانے کی کوشش کی تو ان ملکوں سے بھرتی ہی بند کردی گئی۔ لیکن اس تمام صورتحال کااختتام کس دلپذیر انداز میں اظہارالحق نے کیا ہے، سبحان اللہ۔

’’اس قصے کو چھوڑیے۔ آئیے ہم ان ملکوں کی مذمت جاری رکھیں جو کافروں کے ہیں، جہاں چار کروڑ سے زیادہ مسلمان اتنے ہی شہری حقوق رکھتے ہیںجتنے مقامی لوگ، جہاں جائیدادیں، کاروبار، کمپنیاں سب تارکینِ وطن کے نام پرہیں، جہاں کوئی کفیل نہیں صرف دلیل سے کام نکلتا ہے۔ جہاں وہ پارلیمنٹ میں بیٹھے ہیں۔ وزارتوں پر فائز ہیں۔ عدالت میں کسی مقامی کے خلاف خواہ وہ کتناہی بڑا کیوں نہ ہو، اپنا مقدمہ پیش کرسکتے ہیں اور انصاف حاصل کرسکتے ہیں۔ طاقتور مسلمان ملکوں میں پیدا ہونے والے غیر ملکی مسلمان، وہاں رہتے رہتے بوڑھے ہوجائیں گے تب بھی شہریت نہیں حاصل کرسکتے۔ ان حقوق کا سوچ بھی نہیں سکتے جو اصل شہریوں کو حاصل ہیں۔‘‘

کیا ان تلخ حقائق سے ہم لاعلم ہیں۔ ہرگز نہیں۔ ہرشخص ان سے واقف ہے۔ لیکن ہماری حکومتیں اپنے مفاد کے لیے خاموش رہتی ہیں۔ کسی میں جرأت نہیں کہ اس پر آواز اٹھائے اور جن پاکستانیوں کی بھیجے ہوئے زرمبادلہ سے ملکی معیشت چلائی جاتی ہے ان کے مسائل کے حل کی کوشش کی جائے۔

عزت اور ذلت صرف خدا کے ہاتھ میں ہے۔ اس فلسفہ کا محمد اظہارالحق نے ’’خریدلو‘‘ میں کس خوبصورتی سے بیان کیا ہے۔ یہ کہانی ایک بادشاہ کی ہے جو ایک عالی شان محل میں رہتا تھا۔ محل پہاڑ پر بنا تھا جس پر پہنچنا بھی ہرکسی کے بس میں نہیں تھا۔ پہاڑ پر چاروں طرف پہرہ تھا۔ اس بادشاہ کا تکیہ کلام ’خرید لو‘ تھا۔ اس نے مورخین کو خرید لیا۔ صحت خراب ہوئی تو دوسرے ممالک کے ماہرین بلوا کر صحت خریدلی، یہ علم ہونے پر عوام چراغ زیادہ جلا کر تیل ضائع کر رہے ہیں تو ملک بھر سے تیل خرید لیا۔ کرنا خدا کا یہ ہوا کہ بادشاہ کو عزت کی ضرورت پڑ گئی۔ ہرکارے دوڑائے گئے۔ ملک بھر کے بازار چھان مارے ناکام و نامراد مصاحبین نے واپس آکر بادشاہ کو رپورٹ دی یہ بدبخت عزت کسی بازار میں دستیاب نہیں۔ بادشاہ کو ناچار بقیہ زندگی عزت کے بغیر ہی زندہ رہنا پڑا۔

کیا کمال خیال اور کیا عمدہ طرز بیان ہے۔ اور بات قارئین تک پہنچ گئی۔ کتاب کی سب سے عمدہ اور دل کو چھونے والی تحریر ’’میری وفات‘‘ ہے۔ جس پر کتاب کا نام بھی رکھا گیا ہے۔ اردو اور بین الاقوامی ادب میں بے شمار ادیبوں نے اپنا خاکہ یا اپنے انتقال کے بارے میں مضامین یا اپنا وفات نامہ لکھا ہے۔ لیکن محمد اظہارالحق نے اپنے منفرد انداز میں وفات اور اس کے بعد اہل خانہ اور دوست احباب کے رویوں کا ذکر کیا ہے۔ اور دنیا کے بے ثباتی کو کامیابی سے اجاگر کیا ہے۔ لکھتے ہیں۔

’’سرما کی ایک یخ زدہ ٹھٹھرتی شام تھی جب میری وفات ہوئی۔ جو بیٹا پاکستان میں تھا، وہ ایک تربیتی کورس کے سلسلے میں بیرون ملک تھا۔ چھوٹی بیٹی اور اس کا میاں دونوں یونیسیف کے سروے کے لیے کراچی ڈیوٹی پر تھے۔ لاہور والی بیٹی کبھی نے فون نہ کرنے دیاکہ اس کا میاں بے حد مصروف ہے اور بچوں کی وجہ سے خود اس کا آنا مشکل ہے۔ رہے دو لڑکے جو بیرون ملک ہیں، انہیں پریشان کرنے کی کوئی تک نہ تھی! مجھے محسوس ہو رہا تھا کہ میں آہستہ آہستہ اپنے جسم سے باہر نکل رہا ہوں۔ پھر جیسے میں ہوا میں تیرنے لگا اور چھت کے قریب جاپہنچا۔ عجیب بات تھی کہ میں سب کچھ دیکھ رہا تھا مگر بول نہیں سکتا تھا۔ لحد میں ایک عجیب کیفیت طاری ہوگئی۔ اسی کیفیت میں سوال جواب کا سیشن ہوا۔ محسوس ہو رہا تھا کہ چندلمحے گزرے ہیں مگر فرشتوں نے بتایا کہ پانچ برس ہوچکے ہیں۔ پھر فرشتوں نے ایک عجیب پیشکش کی۔ ’’ہم تمہیں کچھ عرصے کے لیے واپس بھیج رہے ہیں۔ تم وہاں، دنیا میں، کسی کو نظر نہیں آؤگے، گھوم پھر کر، اپنے پیاروں کودیکھ لو، پھرگرتم نے کہا تو تمہیں دوبارہ نارمل زندگی دے دیں گے۔ ورنہ واپس آجانا۔‘‘

کیا دلچسپ اور پراسرار انداز میں اپنی وفات اوراس کے بعد کے حالات بیان کیے ہیں۔ پھر دنیا میں واپسی کا احوال دیکھیے۔

’’آنکھ کھلی تو میں اپنی گلی میں تھا۔ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا اپنے گھرکی جانب چلا۔ مکان کے گیٹ پر پہنچ کر ٹھٹک گیا۔ میرے نام کی تختی غائب تھی۔ پورچ میں گاڑی بھی نہیں تھی۔ فات سے چندہفتے پہلے ہی تازہ ترین ماڈل کی خریدی تھی۔ درازہ کھلاتھا۔ اوپر اپنی لائبریری میں گیا۔ یہ کیا؟ کتابیں تھیں نہ الماریاں، رائٹنگ ٹیبل، اس کے ساتھ مہنگی کرسی، صوفہ، بے شمار فوٹو البم کچھ بھی تو نہیں تھا۔ بیوی کچن میں اکیلی کچھ کر رہی تھی۔ پانچ برسوں میں اتنی تبدیلی آگئی۔ اتنے میں فون کی گھنٹی بجی۔ بیوی بہت دیرباتیں کرتی رہی۔ جو کچھ اس طویل گفتگو سے میں سمجھا، یہ تھا کہ بچے اس مکان کو فروخت کرناچاہتے ہیں۔ ماں نے مخالفت کی کہ وہ کہاں رہے گی۔ مگر وہ بچوں کی ضدکے آگے ہتھیار ڈال رہی تھی، گاڑی کا بھی معلوم ہوا کہ فروخت ہوچکی ہے۔ میں نے ایک ایک بیٹے بیٹی کے گھرجا کر ان کی باتیں سنیں۔ کبھی کبھار ہی ابا مرحوم یعنی میرا ذکر آتا۔ وہ بھی سرسری سا۔ ہاں زینب نواسی اکثر نانا ابو کا تذکرہ کرتی۔ میں شاعروں، ادیبوں کے اجتماعات اور نشستوں میں گیا۔ کہیں اپنا ذکر نہ سنا۔ ایک چکر قبرستان کا لگایا۔ میری قبرکاحال بھی برا تھا گھاس اُگی ہوئی تھی۔ کتبہ پرندوں کی بیٹ سے اٹا تھا۔ ایک سال کے جائزے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا کہ میری موت سے دنیا کو کوئی فرق نہیں پڑا تھا۔ میں نے فرشتے سے رابطہ کیا اور اپنا آخری چوائس بتادیا۔ میں واپس قبر میں جانا چاہتا ہوں! فرشتہ مسکرایا۔ اس کا کمنٹ بہت مختصر تھا۔ ہر انسان یہی سمجھتا ہے کہ اس کے بعد جو خلا پیدا ہوگا، کبھی بھر انہیں جاسکے گا، مگر وہ یہ نہیں جانتا کہ خلا تو پیدا ہی نہیں ہوتا۔ ‘‘

جالب کے مشہور شعر

وہ جواک شخص پہلے یہاں تخت نشیں تھا
اس کو خدا ہونے اتنا ہی گماں تھا

کی کیا عمدہ تفسیر کی ہے۔ انسان کے فانی ہونے کا، بہترین بیان ہے۔ میری وفات میں اڑسٹھ لکھتیں شامل ہیں۔ جن میں سے ہر ایک خوب سے خوب ترہے۔ جس کے لیے محمد اظہارالحق کو بھرپور مبارکباد پیش ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

دانش ڈیسک سروس

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20