کاش عمران خان کی بیٹی ہوتی: آصف محمود کی دلگداز تحریر

0

سراج الحق صاحب کی گود میں کھیلتی بیٹی کی ویڈیو دیکھی تو پہلا خیال یہ آیا کہ کاش عمران خان صاحب کی بھی ایک بیٹی ہوتی جو ان کے آنگن کو اپنے قہقہوں سے جنت بنا دیتی. ان کے مزاج کی تلخی کو ختم کر دیتی اور اس کے معصوم مطالبات اور ضدیں عمران سے ان کا لا ابالی پن چھین لیتے. شام ڈھلتی عمران کا فون بجنے لگتا "بابا کب گھر آو گے” اور عمران خان محبتوں میں گندھے احساس ذمہ داری سے پگھل جاتے. کبھی آدھی رات کو اس کی آنکھ کھلتی اور وہ عمران کو جگا کر کہتی "بابا پیپسی کی بھوک لگی ہے”. اتفاق سے اس وقت گھر میں پیپسی نہ ہوتی اور عمران اپنی بیٹی کو گاڑی میں بٹھا کر رات گئے پیپسی لینے نکل پڑتے. اس کی معصوم مسکراہٹ عمران کو سمجھاتی کہ گھر کیا ہوتا ہے اور انسانی زندگی میں رشتوں کی کیا اہمیت ہوتی ہے. کسی رات عمران کے کتے بھونکتے اور وہ ڈر کر اٹھ جاتی "بابا کتوں کو بھگائیں” اور اگلی صبح بنی گالہ کے دروازے کتوں کے لیے بند ہو جاتے.

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: