عزیز ابن الحسن کا عسکری نامہ ——– فتح محمد ملک

0

ڈاکٹر عزیز ابن الحسن ایک عمر سے بڑے محبت بھرے انہماک کے ساتھ محمد حسن عسکری کے درد و داغ و جستجو و آرزو کی تفہیم و تعبیر میں منہمک ہیں۔ اُن کا یہ انہماک درحقیقت برصغیر میں مسلمانوں کی تہذیبی روایات کی شناخت اور تحسین کی گہری اور جبلی تمناؤں سے پھوٹا ہے۔ اب تک وہ محمد حسن عسکری پر دو کتابیں شائع کر چکے ہیں اور تیسری زیرِ تصنیف ہے۔ وہ اس موضوع پر اپنی پہلی کتاب بعنوان ”محمد حسن عسکری: شخصیت اور فن“ کا پیش لفظ اس اعتراف سے شروع کرتے ہیں کہ:

” برصغیر پاک و ہند میں ملت اسلامیہ کا تاریخی و تہذیبی سفر درحقیقت ایک تخلیقی سفر تھا جس میں محض حکومتی و انتظامی ادارے ہی قائم نہیں کیے گئے بلکہ تمدنی و کلچری اوضاع نے بھی فروغ پایا۔ اس سفر کے مختلف سنگ ہائے میل میں سے ایک عظیم ترین نشانِ منزل اردو زبان اور اس میں پیدا ہونے والا ادب ہے‘‘۔

اُنہیں اس حقیقت کا احساس ہے کہ :

”ہند اسلامی تہذیب کی وہ وراثت، جس میں یہاں کے مسلمانوں کے مذہبی تصورات اور تمدنی اوضاع کی ہر صورت جلوہ گر تھی، اس کی حفاظت کی ذمہ داری پاکستان کے سر آگئی کیونکہ یہ ملک انہی آدرشوں اور تصورات کی بقا اور تحفظ کے لیے ایک سیاسی حصار کے طور پروجود میں آیا تھا…… قیام پاکستان کے ابتدائی دنوں میں ان امتیازات کو اپنے ادبی شعور کا حصہ بنا کر انہیں پاکستانی کلچر اور ادب کے خدوخال متعین کرنے کا کارنامہ محمد حسن عسکری نے سرانجام دیا…..محمد حسن عسکری کی ذہنی و نظریاتی کاوشوں نے”پاکستانی ادب“ کی ضرورت، جواز اور امتیاز کی بات ایک ایسے دور میں کی تھی جب ہمارے عمومی ادبی شعور کے نزدیک اس کی حقیقت محض دیوانے کے خواب کی تھی۔ لہٰذا اس بناء پر بلا خوف تردید کہا جا سکتا ہے کہ ”پاکستانی ادب“ کا حقیقی معیار اور بنیاد گزار اگر کوئی ہے تو وہ حسن عسکری ہے۔ “۱

پاکستان کے حقیقی تصور اور تحریک پاکستان کے تہذیبی محرکات و عوامل سے محمدحسن عسکری کی اسی جبلّی وابستگی کے پیشِ نظر عزیز ابن الحسن ایک عمر سے بڑی دقتِ نظر کے ساتھ عسکری شناسی میں محو ہیں۔ اِن کی دوسری کتاب بعنوان ”محمد حسن عسکری: ادبی اور فکری سفر“ میں تمامتر جزئیات کے ساتھ اس موضوع پر دادِ تحقیق دی گئی ہے۔ عسکری کا قومی و ملّی طرزِ احساس اس ضخیم کتاب کا مرکزی موضوع ہے۔ اِن کا یہ قول صداقت پر مبنی ہے کہ

”قیام پاکستان سے متصل، قبل اور اُس کے بعد کے ابتدائی عرصے میں اُن کا موضوعِ گفتگو وتحریر زیادہ تر پاکستان ہی رہا۔ “۲

وہ ایک ایسے زمانے میں ہماری ادبی دنیا میں وارد ہوئے تھے جب ہمارے ادیبوں، شاعروں اور نقادوں نے برصغیر میں جداگانہ مسلمان قومیت کے سیاسی اور تہذیبی تصور سے بیگانگی اور لاتعلقی کا رویہ اپنا رکھا تھا۔ محمد حسن عسکری نے اس رسم و رہِ عام سے ہٹ کر تحریکِ پاکستان کے اوّلیں مرحلے پر ہی بیگانگی کی بجائے یگانگت کا مسلک اپنا لیا تھا۔

ایک ایسے وقت میں جب ہماری ادبی دنیا میں پیرویٔ مغربی سکۂ رائج الوقت تھا اوراس کے زیرِ اثر ہمارے ادیب قومی انداز ِ نظر کی نفی کو ترقی پسندی اور جدیدیت کا لازمہ سمجھتے تھے عسکری صاحب کا پاکستانیت اور اسلامیت پر زور ایک اجتہادی شان رکھتا ہے۔ عزیز ابن الحسن کتاب کے آغاز میں ”ابتدائی باتیں“ کے زیرِ عنوان ہمیں اس حقیقت کی جانب یوں متوجہ کرتے ہیں:

”برصغیر پاک و ہند کی تاریخ میں پاکستان کا قیام جس تہذیبی روح کو مجسم کرنے کی ایک کوشش تھی پاکستان میں محمد حسن عسکری کی تنقیدی سرگرمیاں انہی اقدار و تصورات کوادب میں متشکل کر کے عصری طرزِ حیات اور مسائل کے شعور کو اس ادب کا لازمی جز دیکھنا چاہتی تھیں۔ پاکستانی کلچر اور پاکستانی ادب کی بحثیں اس کے سوا کچھ نہیں۔ قیام پاکستان کے زمانے میں ہمارے ہاں دو ادبی تصورات کارفرما تھے: ترقی پسند نظریۂ ادب اور جدیدیت۔ ترقی پسند تو پاکستانی کلچر اور ادب کے ان تصور سے سخت نالاں تھے جبکہ جدیدیت پسند ان معاملات کو ادب کا مسئلہ ہی نہ جانتے ہوئے اس بحث سے بالکل لاتعلق تھے۔ عسکری کا تصور ادب ان دونوں انتہاؤں سے الگ ہو کر جس طرح فعال اور سرگرم رہا، وہ بڑی تحریکوں اور رجحانوں کے درمیان ایک فرد واحد کی انتھک جدوجہد اور رجحان ساز اپج کی انوکھی مثال تھا۔ “۳

عسکری صاحب اقبال کے خطبۂ الہ آباد کے بعد ہمارے ادبی اُفق پر طلوع ہوئے تھے۔ اُنھوں نے بھی اسلامیانِ ہند کی اجتماعی ہستی کو درپیش مشکلات و مصائب پر تخلیقی انداز میں غور و فکر کے دوران سیاسی فکر و عمل سے کبھی کنارہ کشی نہیں کی۔ عزیز ابن الحسن نے اپنی زیرِ نظر کتاب میں عسکری صاحب کے۹۔ اگست 1945ء کے ایک خط کا ایک اقتباس پیش کیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ:

”آج کل مجھے مسلم لیگ کا جنون ہو رہا ہے اس وجہ سے اور میرا جی چاہتا ہے کہ کالج (عربک کالج، دہلی) ہی میں رہوں تاکہ دسہرے کی لمبی چوڑی چھٹیوں میں دو چار قصبوں اور گاؤوں میں جا کر کچھ سیاسی کام کر سکوں۔ جب میں انٹر میں تھا تو اس زمانے میں تو ایک قصبے میں مَیں نے مسلم لیگ کی تنظیم کی تھی، لیکن پھر میں سیاست سے دور ہٹتا چلا گیا۔ لیکن اب کچھ نہ کچھ سیاسی کام ضروری معلوم ہوتا ہے۔ بلکہ میں تو سیاست کے پیچھے اتنا پاگل ہو رہا ہوں کہ کانگریسی مسلمانوں پر ایک طنزیہ افسانہ لکھنا چاہتا ہوں۔ میں نے ۱۹۳۷ءکے الیکشن میں کچھ کام کیا تھا اس لیے مجھے ان لوگوں کا بڑا مزیدار تجربہ ہے اگر شاہد صاحب نے اجازت دی تو میں”ساقی“ میں بھی سیاست سے متعلق کچھ لکھوں گا۔ “۴

اُن کے سیاسی نظریات سے بحث کے دوران عزیز ابن الحسن بتاتے ہیں کہ:

”اُن کا تصورِ پاکستان ایک عوامی اشتراکی ریاست کی قسم کا تھا۔ ایک ایسی ریاست جس میں مسلمانوں کی کلچری روایات کی بقا کے لیے سیاسی اورمعاشی نظام میں زبردست تبدیلی کی ضرورت تھی۔ وہ اسلامی مساوات اورانصاف کے لیے ملک میں اُس نظام کے خواہاں تھے جس کا نام قائداعظم نے اسلامی اشتراکیت رکھا تھا ….. عسکری کو ترقی پسندوں پر اعتراض ہی یہ تھا کہ وہ برصغیر کے مسلم عوام کی آدرشوں کے برعکس اپنی سیاست و ادب کو اشتراکی روس کے نمونے پر ڈھالنے کے خواہاں تھے….انھیں ترقی پسندوں سے اختلاف یہ تھا کہ یہ لوگ برصغیر کے مسلمانوں کے قومی و تہذیبی شعور سے نہ صرف بےگانہ ہیں بلکہ قوم کی اجتماعی اُمنگوں کے بھی خلاف ہیں۔ مسلمانوں نے اپنے مذہبی تمدن اور کلچر کی بنیاد پر جب اپنا علیحدہ تشخص قائم کرنا چاہا تو ترقی پسندوں نے اس میں اُن کا ساتھ نہیں دیا۔ یہیں سے اُن کے راستے ترقی پسندوں سے جدا ہو گئے تھے۔“۵

پاکستان میں انجمن ترقی پسند مصنفین کا قیام اور پروگرام ہندوستان کی انجمن ترقی پسند مصنفین کی رہنمائی میں ترتیب دیا گیا تھا۔ اس انجمن کی قیادت کی خاطر ہندوستان ہی سے سجاد ظہیر کو پاکستان بھیجا گیا تھا۔ پاکستان میں یہ انجمن اور اس کی سیاسی اور ادبی حکمتِ عملی اسلامیت اور پاکستانیت کے اُن تصورات کی نفی میں سرگرمِ عمل تھی جب کہ محمد حسن عسکری پاکستانیت اور اسلامیت کی حقیقی ترقی پسند روح کو بیدار اور سرگرمِ کار دیکھنا چاہتے تھے۔ عزیز ابن الحسن نے اس نظریاتی کشمکش کے باب میں یوں اظہارِ خیال کیا ہے:

”عسکری کے سوئے ہوئے” عوامی اشتراکی مزاج “کو بھٹو کی شعلہ نوائیوں نے جگا دیا تھا۔ …..عسکری ساری زندگی بھر ٹی وی سے نفور رہے مگر بھٹو کے زمانۂ اقتدار میں وہ گھر میں ٹی وی بھی لے آئے تھے۔ باقی پروگراموں کو تو لہو و لعب سمجھا کیے مگر بھٹو کی تقریریں اور سرگرمیاں باقاعدگی سے سُنا دیکھا کرتے تھے۔ ۷۷ء کے انتخاب میں پیپلز پارٹی نے کراچی کی ایک نشست پر جمیل الدین عالی کو اپنا امیدوار نامزد کیا تھا۔ عسکری خوشی خوشی ان کے حق میں ووٹ ڈالنے بھی گئے مگر انتخاب کے نتائج کو عوامی قبولیت نہ ملی۔ قومی اتحاد کی تحریک شروع ہو گئی۔ عسکری کو یہ بات بھی ناگوار گزری۔ آخر ۷۷ء کا مارشل لاءآ گیا۔ بھٹو پر مقدمہ چلنا شروع ہوا۔ ان دنوں وہ بہت دل گرفتہ رہے۔ بھٹو اور پیپلز پارٹی پاکستان میں عسکری کی زندگی کی آخری سیاسی دلچسپی ثابت ہوئی۔ نومبر ۱۹۷۷ءمیں جب ڈاکٹر آفتاب احمد کی ان سے آخری ملاقات ہوئی تو انھوں نے بھٹو کے انجام کے بارے میں عسکری کو بہت فکرمند پایا تھا۔ اس کے دو ماہ بعد ہی ان کا انتقال ہو گیا۔“۶

محمدحسن عسکری سوویت روس سے انقلاب درآمد کرنے کی بجائے اپنی قومی و ملّی تمناؤں کو اپنی تہذیبی و ثقافتی روایات کے مطابق انقلاب آشنا کرنے میں کوشاں تھے۔ روسی ترمیم پسندی اور چینی بنیاد پرستی کے سے تنازعات میں اُلجھنے کی بجائے پاکستان اور دُنیائے اسلام کو اپنے قومی و ملّی تناظر میں انقلاب کی راہوں میں رواں دواں کرنے کے تمنائی تھے۔ پاکستان کے ساتھ ساتھ پوری دنیائے اسلام میں اسی انقلابی روح کی بیداری اور کارفرمائی اُن کے پیشِ نظر تھی۔ مصر کے صدر جمال عبدالناصر نے جولائی۱۹۵۶ء میں جب نہر سویز کو اپنی قومی تحویل میں لے لیا تو برطانیہ اور فرانس نے مصر پر مشترکہ فوجی یلغار کر دی تھی۔ ہمارے اُس وقت کے وزیراعظم حسین شہید سہروردی نے عرب دنیا کو صفر جمع صفر جمع صفر قرار دے ڈالا تھا۔ مصر پر یورپی یلغار اور اُس کے ردعمل میں سہروردی کے بیان نے محمد حسن عسکری کو اس قدر بے چین کر دیا تھا کہ اُنھوں نے اگر ایک طرف”پاکستانی ادیب اور مصر“کی سی مختصر تحریر اور ایک مفصل مضمون بعنوان ”تھینک یو امریکہ“ میں ہماری سیاست اور ادب کی دنیا کو اپنی بے حسی اور ضمیر فروشی پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ اُنھوں نے” تھینک یو امریکہ “ میں پاکستان اور امریکہ کے حکمرانوں کی مذمت اور مصر اور روس کی حمایت میں یوں آواز اُٹھائی تھی:

”عالم گیر خطرے کے باوجود مصر کی حمایت میں انگلستان اور فرانس کو الٹی میٹم دے کر روس نے انسان کی لاج رکھ لی۔ انگلستان اور فرانس کے خلاف ہائیڈروجن بم استعمال کی دھمکی دراصل شیکسپیئر اور راسین کی مدافعت کا اعلان ہے….. اس موقع پر روس کے الٹی میٹم کے معنی یہ ہیں کہ انسانی ضمیر ابھی تک مرا نہیں لیکن یہ دیکھ کر میرا سر شرم سے جھک جاتا ہے کہ میرے ملک میں ایسے اخبار بھی ہیں جو متارکہ جنگ کے سلسلے میں آئزن ہاور کا شکریہ ادا کر رہے ہیں اور اُسے امن کا دیوتا کہہ رہے ہیں، …. یہ اخبار حالات کو اس طرح پیش کر رہے ہیں گویا پاکستان اور امریکہ کا مفاد ایک ہے۔ چنانچہ یہ لوگ پنڈت نہرو کی طرح ہنگری اور مصر کا نام ایک سانس میں لے رہے ہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اگر اس وقت مشرقی یورپ زرپرستوں کے ہاتھ میں چلا جاتا تو اسلامی ممالک کے گلے میں پھانسی کا پھندا پڑ گیا تھا۔ لیکن ہمارا فرض تو یہ قرار پایا ہے کہ اسلامی ممالک کا اور ساتھ میں پاکستان کا جو بھی حشر ہو ہم بہرحال ’تھینک یو امریکہ‘ کہے جائیں۔“۷

یہاں مجھے محمد حسن عسکری کی شخصیت، کردار اور افکار پر عزیزابن الحسن کا یہ محاکمہ بے ساختہ یاد آیا ہے کہ:

”ہمارے دور میں انھوں نے وہی کام کیا جو اپنے زمانے میں اقبال نے کیا تھا۔ اقبال کے بعد ہمیں اپنی قومی و تہذیبی تاریخ میں ایک بھی آدمی ایسا نظر نہیں آتا جو اُن سوالوں سے الجھا ہو جن پر عسکری نے ہاتھ ڈالا تھا۔ …..اصل بات یہ ہے کہ عسکری کی سوچ بہت منفرد اور جرأت لائق تحسین تھی۔ مگر ان کے اس طریق کار پر عمل کرنے میں جوکھم بھی بہت ہیں۔ عسکری جیسی ذہانت، علم، ذکاوت، عقابی نظر، اخذ نتائج کی حیرت انگیز صلاحیت اور سب سے بڑھ کر کوہ ہمالیہ جیسی قناعت اور بے خوفی، کے بغیر ایسی جرأت کا مظاہرہ کرنا خطرناک بھی ہو سکتا ہے۔ ‘‘۸

محمد حسن عسکری ایک درویش صفت شخص اور ایک بے باک اور حق گو فنکار تھے۔ وہ ادبیات، سیاسیات اور دینیات سے اپنے تخلیقی شغف کے طلسم میں اسیر زندگی کے ثمرات بانٹنے میں مصروف رہے۔

یہ بھی پڑھیں: عسکری نگر کا باشندہ: عزیز ابن الحسن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قاضی حسین

حواشی

۱۔ محمد حسن عسکری۔ شخصیت اورفن، عزیز ابن الحسن، اکادمی ادبیات پاکستان، اسلام آباد، صفحات ۹۔ ۱۰۔
۲۔ محمد حسن عسکری: ادبی اور فکری سفر، عزیز ابن الحسن، اسلام آباد، اکتوبر۲۰۱۹ء، صفحہ ۵۹۔
۳۔ ایضاً، صفحات ۲۰۔ ۲۱۔
۴۔ ایضاً، مکتوب بنام ڈاکٹر آفتاب احمد، ص۳۹۳۔
۵۔ ایضاً، صفحہ۷۰۔
۶۔ ایضاً، صفحہ۲۰۷۔
۷۔ محمد حسن عسکری۔ ایک مطالعہ، ڈاکٹر آفتاب احمد، سنگ میل، لاہور، ۱۹۹۴ء، صفحات ۳۵۔ ۳۶۔
۸۔ محمد حسن عسکری: ادبی اور فکری سفر، عزیز ابن الحسن، اسلام آباد، اکتوبر۲۰۱۹ء، صفحات۲۵۵۔ ۲۵۶۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

دانش ڈیسک سروس

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20