روٹس Roots : تبصرہ و تجزیہ —- احسن رومیز

0

غلامی آخرکیا ہے؟ یہ سوال میرے ذہین میں اکثر ہلچل برپا کیے رکھتا تھا۔ میں سوچتا تھا کہ اگراسلام نہ آیا ہوتا تو افلاطون کی مثالی ریاست کے غلام آج بھی گردنوں میں طوق لٹکائے گھوم رہے ہوتے خود افلاطون بھی تاریخ کا ایک گمشدہ باب ہوتا۔ انسان کتنا وحشی ہے یہ طے کرنا شاید اتنا ہی مشکل ہے جتنا یہ بتانا کہ عقل بڑی ہوتی ہے بھینس یا پھریہ بتانا انڈا پہلے آیا کہ مرغی؟

ایک معروف مشہور فرانسیسی مفکر روسو نے اپنی مشہور زمانہ کتاب سوشل کنٹریکٹ میں لکھا ہے کہ انسان آزاد پیدا ہوا مگر وہ ہر طرف زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے۔ وہ شخص جو کہتا ہے کہ میں سب سے آزاد ہوں حقیقت میں غلاموں کا غلام ہے۔ ہم سب سسٹم اور اپنی خواہشات کے اس قدرغلام ہیں کہ تہذیب کی منزلیں طے کرنے کے باوجود اس غلامی سے نجات حاصل نہیں کر سکتے۔ دنیا کے مشہور سیاسی فلاسفر اور معشیت دان ایڈم سمیتھ نے کہا تھا کہ یہ نا ممکن ہے کہ ان جمہوری معاشروں میں سے غلامی کو ختم کیا جا سکے کیونکہ ایسی جمہوریت میں پارلیمان میں بیشتر رکن اور سیاسی رہنما خود انسانی غلامی کے مالکان ہوتے ہیں اور وہ اپنے آپ کو سزا نہیں دے سکتے۔ انسان نےانسان کو غلام بنانےکا سلسلہ تقریباً بارہ ہزار برس پہلے شروع کیا جب کھیتی باڑی شروع ہوئی یہ پتھر کے زمانے کا آخری دور تھا اس کے بعد کانسی اور لوہے کا زمانہ آیا اور گزر گیا تب انسانی تاریخ لکھی جانی لگی صفحہ صفحہ لکھتے لکھتے بارہ ہزار برس بیت گے اور ہم اکیسویں صدی میں پیہنچ گئے انسان نے پتھر سے انفارمشن ٹیکنالوجی تک کا جادوئی اور جناتی سفرطے کیا ہے لیکن انسان کے ہاتھوں انسان کو غلام بنانے کا جرم ختم نہ ہوا انسانی ترقی کے ساتھ انسانی غلامی کی ترقی یافتہ صورتیں سامنے کی گئیں جسے ماڈرن سلیوری کہا جاتا ہے اس ضمن میں ایلکس ہیلی کا تخلیق کردہ ناول روؑٹس یاد آ رہا ہے جسے ایلکس ہیلی نے بارہ سال کی تخلیق و جستجو کے بعد لکھا اور یہ کتاب ریاست ہاےً متحدہ امریکہ کی دوسویں سال گرہ پر شائع ہوئی روٹس ناول ۱۹۷۶ میں پہلی بار شائع ہوا تو دیکھتے ہی دیکھتے بیسٹ سیلر بن گئی دنیا بھر میں اس کی مقبولیت کی دو وجوہات تھیں ایک یہ بے حد دلچسپ کتاب تھی اور دوسری وجہ اسکا موضوع اپنی مثال آپ تھا۔ یہ امریکہ کی ابتدائی تاریخ کا دردناک باب ہے۔ مجھ جیسا آدمی جو فلم، ٹی وی ڈرامے، ناول میں بھی ظلم ہوتا دیکھے تو گھبراکر چینل بدل دیتا ہے یا صفحہ الٹ دیتاہے اور ایلکس ہیلی کا ناول ’’روٹس‘‘ پڑھنے کواپنی ’’بہادری‘‘ کی دلیل کے طور پر پیش کرتا ہے۔

اس میں رنگ ونسل اور امتیازی فرق ایک انسان کو دوسرے سے جدا کرتا تھا۔ ۵۰ برسوں سے دنیا پر حکمرانی کرنے والے اس ناول میں خود غرض امپریلزم کی پوری تاریخ چھپی ہوئی ہے۔ چند نے ضمیر کی خلش کو مٹانے کیلےً اسے محض فکشن قرار دیا لیکن مصنف، مورخین اور سنجیدہ قارئین کا کہنا تھا کہ یہ صرف فکشن نہیں حقیقت بھی ہے اس اعتبارسے یہ ناول تاریخی دستاویز کی حثیثت بھی رکھتا ہے۔ اس ناول کو پڑھ کر احساس ہوتا ہے کہ چند ٹکوں اور بے حس مفادات کیلئے افریقی باشندوں بالخصوص افریقی مسلمان کی خرید وفروخت کی جاتی تھی۔ سفید فارم لٹیرے افریقی حکمرانوں کے تعاون سے سیاہ فاموں کو اغوا کرکے جہاز میں بھرتے اور امریکا و یورپ کی منڈیوں میں غلام بنا کر فروخت کر دیتے بعد میں ان ہی سیاہ فاموں کو عیسائی بنا لیا گیا اور آج یہ سیاہ فام اپنی پہچان کو تقریباً فراموش کر چکے ہیں۔

۱۷۵۰۶ آغاز بہار کے دن تھے، جب مغربی افریقہ کے ملک گیمبیا کے ساحل سے چاردن کی مسافت پر واقع گائوں میں عمورو اور بنتاکنتے کے ہاں ایک لڑکا پیدا ہوا‘‘ افریقیوں کی روایات بتاتی ہیں کہ ’’پہلا بچہ لڑکا ہو تو یہ نہ صرف والدین بلکہ پورے خاندان کے لئے عظیم برکتوں کا حامل ہوتا ہے اور یہ احساس بڑا مسحور کن تھا کہ اس سے کنتے کے نام کو افتخار حاصل ہوگا۔ عمورو ننھے کنتا کو اپنے مضبوط بازوئوں میں اٹھائے گائوں کی سرحد تک گیا، بچے کو آسمان کی طرف بلند کی اورآہستگی سے کہا ’’دیکھو! تمہارے علاوہ دوسری واحد عظیم شے!

پھر اس بچے کا نام رکھنے کے لئے، پیدائش کے آٹھویں روز کی صبح تمام گائوں والے عمورو اور بنتا کے جھونپڑے کے سامنے اکٹھے ہوئے جیسا کہ آٹھویں دن کا معمول تھا، سب سے پہلے بچے کے سر کے بال اتارے گئے۔ بنتا فخریہ انداز میں نومولود کو اٹھائے ہوئے تھی۔ دوسری تمام عورتوں نے بچے کی ساخت اور نین نقش کی تعریف کی، جب جلیبا (تقریب کا ایک شریک کردار) نے ڈھول بجانا شروع کیا تو تمام عورتیں خاموش ہوگئیں، پھر امام صاحب نے لسی کے برتنوں اور میٹھے لڈوئوں پر دعا مانگنا شروع کی۔ دوران دعا ہر عورت مرد نے برتن کو اپنے داہنے ہاتھ سے چھوا، جو رزق کے احترام کی علامت تھا۔ پھر امام دعا کے لئے بچے کی طرف پلٹا اوراللہ سے لمبی عمر اور اس کے خاندان، گائوں اور قبیلے کے لئے بہت سے بچوں نے دعا کی اور آخر میں ا س کے رکھے جانے والے نام میں برکت اور قوت کے لئے اللہ سے استدعا کی ڈھول پھر بجنا شروع ہوا۔ اب عمورو نے بنتا کے کان میں نام کی سرگوشی کی۔ بنتا خوشی اور فخر سےمسکرائی، پھر عمورو نےاستاد کے کان میں بچے کا نام بتایا جو نام سنکر گائوں والوں کے سامنے کھڑا ہوگیا۔ ’’عمورو اور بنتا کنتے کے پہلے بچے کا نام کنتا ہے۔‘‘ بریما سبیسے (استاد) نے اعلان کیا۔ دوصدیاں اور بیس برس تک کنتا کی روح اپنی نسل کے ایک وارث سے آگاہ نہیں تھی تاآنکہ اس وارث ’’ایلکس ہیلی‘‘، نے اپنے پرکھوں، اپنے آباواجداد، اپنی دھرتی کے سوتوں، اس کے آسمانوں کے تلے جنم شدہ تاریخ کی وادیوں کے بارے میں علم کا عَلم لہرایا، روٹس کے نام سے ایک شہرہ ٔ آفاق ناول کا نام عالمی ادب کے ایوان میں وقار و شہرت کے ساتھ کندہ ہوا۔ ایلکس کے لفظوں میں بارہ سال کی جستجو میں، میں نے کوئی آدھ ملین میل سفر کیا ہوگا۔ تلاش، چھان پھٹک، تصدیق، مزید تصدیق، مزید تلاش، ان لوگوں کے متعلق جن کی زبانی بیان کردہ تاریخ نہ صرف صحیح نکلی بلکہ سمندر کے دونوں کناروں سے جڑی ہوئی بھی تھی۔ آخر میں نے تلاش کا کام روک کر خود کو یہ کتاب لکھنے پر آمادہ کیا۔ کنتا کا لڑکپن اور نوجوانی لکھنے میں مجھے بہت وقت لگا۔

اس سے اچھی طرح مانوس ہوجانے پر مجھے اس کی گرفتاری کی اذیت سےگزرنا پڑا اور جب اس کی یا تمام غلام جہازوں کی بپتا لکھنے کاوقت آیا تو میں پھرافریقہ گیاتاکہ کسی ایسے کارگو جہاز پر سفرکی اجازت حاصل کرسکوں جوسیاہ افریقہ سےبراہ راست امریکہ جاتا ہو۔ وہ جہاز فیری لائنز کا افریقن سٹار تھا۔ سفرشروع کرنے کے بعد میں نےانہیں اپنا اصل مقصد بتایا کہ میں اپنے جدامجدکےسمندر پار جانے کی کہانی لکھنا چاہتا ہوں۔ ہر رات کھانے کے بعد سیڑھی کے ذریعے گہرے، بالکل اندھیرے اور ٹھنڈے گودام میں اترجاتا۔ زیرجامہ کے علاوہ سارے کپڑے اتار کر کسی تختے پر چت لیٹ جاتا۔ پوری دس راتیں میں نے ایسا ہی کیا کہ کنتا کیا دیکھتا، سنتا، محسوس کرتا، سونگھتا اور چکھتا ہوگا اور سب سے اہم یہ کہ وہ کیا سوچتا ہوگا؟ اس سے اس کی تہذیبی اساس، حتیٰ کہ اس کے نا م سے بھی زبردستی محروم کر کے اس کو امریکی آقا ؤں نے اپنی پسند کا نام دیا۔ جب اس کی شادی کے بعد اس کی ایک بیٹی پیدا ہوئی تو اس بیٹی کو بھی کسی اور امریکی آقا کے ہا تھوں بیچ دیا گیا۔ نسلی امتیا ز کا یہ سلسلہ یونہی چلتا رہااور کنتا کنتے کی ساتویں نسل کے ایک فرد ایلکس ہیلے نے اس سارے سلسلے کو ایک نا ول میں سمیٹ کر رکھ دیا۔

۱۷۵۰۶ کی صبح کنتا نے دنیا میں آنکھ کھولی، پھر ۲۲۰ برس بیت گئے۔ ان دو صدیوں اور بیس برسوں کے بعد، اس کی نسل کے ایلکس ہیلی نے آنکھ کھولی۔ وہ کون سا لمحہ تھا جب اس نے آنکھیں موندیں، خواب دیکھے، سوال ابھرے، ہم کون ہیں؟ ہماری دھرتی کیسی تھی؟ ہمارے آبائو اجداد کے ساز و آلات، لباس، تراش خراش، گیت اورماہئے، بزرگوں کی سیانپ، جوانوں اور جوانیوں کی الہڑپن، ہمارے جانور، ہماری بارشوں کےکالے سیاہ بادلوں کے گھٹاٹوپ اندھیرے، ان اندھیروں سے چمکتی دمکتی، کلکاریاں بھرتی زندگی کی جولانیاں۔ ایلکس ہیلی کسی طور اپنے اضطراب پر قابو نہ پاسکا اور دو سو بیس برس بعد، کنتا کے اس جانے کتنے ’’سوویں‘‘ وارث نے اپنے پرکھوں، اپنی زمین، اپنی فضائوں، اپنے اوپر تنے ہوئے آسمانوں سے دنیا کو آگاہ کرنےکاخود سے عہد باندھا، پوچھا جائے، آخر کیوں؟ درد کا کون سا پیمانہ ایلکس ہیلی کے قلب میں تیر بن کے پیوست ہوا۔ وہی پیمانہ، اپنی ذات کی تلاش، مجھے ایلکس ہیلی کا نام جنہوں نے دیا، وہ کون تھے؟ وہ کہاں تھے؟ پھر کدھر چلے گئے؟ ان کے ساتھ طاقتوروں نے کیا کیا اور ان کے کمزور کیسے قسطوں میں جیتے اور قسطوں میں مرتے رہے؟

چنانچہ وہ ۱۷۵۰۶ کی دو صدیوں اور بیس برس بعد ساری عالمی برادری کو آگاہی دے رہا یعنی اس نے اپنی تلاش کا اعلامیہ جاری کردیا۔ کہتا ہے ’’ان دو سو بیس برسوں کے بعد آخر میں اپنی ساتوں نسلوں کو باہم جوڑنے میں کامیاب ہو گیا جو کتابی شکلل میں آپ کے ہاتھ میں ہے۔ دوران تحریر میں نے کئی بار سامعین کو روٹس لکھنے کی وجہ بتائی ہے۔ پھر بھی کبھی نہ کبھی، کوئی نہ کوئی پوچھ ہی لیتا ہے روٹس کتنی حقیقت اور کتنا افسانہ ہے؟ میرے علم اور میری محنت کے مطابق خاندانی پس منظرکے حوالے سے ہر بات میرے افریقی یا امریکی خاندان میں محفوظ زبانی تاریخ سے لی گئی ہے۔ جس میں زیادہ دستاویز کی میں نے ترکی سے تصدیق کی ہے۔ رہن سہن، ثقافتی تاریخ اور وہ سب تفصیلات جو اساس کا گوشت پوست ہیں، میری پچاس لائبریریوں، آرکائیوز اور دیگر ذرائع سے حاصل کردہ معلومات کانتیجہ ہیں جو تین براعظموں پر پھیلی ہوئی تھیں! ایلکس ہیلی کی خودشناختی کا سفر در سفر، انسان کے قدرتی حسب نسب کے حلال پن کی ناگزیریت سے متعلق ہے۔ دنیا میں جب شعور کی توانائی کا پہلا ذرہ انسانی دماغ کی زینت بنا، اس کی حرکت سے ایک ہی بات منسوب ہوئی، اپنے حسب نسب کے حلال کی شاندہی کبھی نہ بھولنا روٹس اس ذرے سے تعمیرکردہ پہاڑ جیسی تخلیق ہے۔

ایلکس ہیلی کا یہ ناول ۱۹۷۶ء میں شائع ہوا۔ ساتھ ہی اے بی سی ٹیلیویژن نیٹ ورک نے اس کے اولین ابواب کو سات حصوں کی ٹیلی مِنی سیریل میں ڈھال کر جنوری ۱۹۷۷ء میں اسے ناظرین کے لئے بھی پیش کر دیا۔ یہ سیریل بھی سب سے زیادہ دیکھی جانے والی سیریلز میں شمار ہوئی۔ اسی برس یہ ناول متنازع بھی ہو گیا۔ سفید فام ادیب ’ہیرلڈ کور لینڈر‘ اور سیاہ فام ادیبہ ’مارگریٹ واکر‘ نے ایلکس ہیلی پر یہ دعویٰ کر دیا کہ اس نے اپنے ناول میں ان کے ناولوں ’افریقن‘ اور ’جوبلی‘ کے حصے استعمال کئے ہیں۔ ’واکر‘ کا الزام تو ثابت نہ ہو سکا البتہ ایلکس ہیلی کو ’کورلینڈر‘ کے کیس میں لگ بھگ ساڑھے چھ لاکھ ڈالر کی رقم ادا کرنا پڑی اور عدالت میں یہ کہنا پڑا کہ اس کے ناول کے وہ پیرے جو کورلینڈر کے ناول ’دی افریقن‘ سے میل کھاتے ہیں وہ محض اتفاقیہ اور غیر ارادی امر ہے۔

ایلکس ہیلی نے اپنے اس ناول میں اپنی اس جد ’کنتا کِنتے‘ کو اس وقت سے تلاش کیا ہے جب وہ گیمبیا کے ایک چھوٹے سے گاؤں مندنکا کےلوگوں کے ایک مسلمان خاندان کا ایک بچہ تھا اور ابھی سن بلوغت کو بھی نہیں پہنچا تھا کہ غلاموں کی تجارت کرنے والوں کے ہتھے چڑھا اور امریکہ پہنچا دیا گیا۔ تب سے اس کی نسلوں کا سفر خود ایلکس ہیلی تک آن پہنچتا ہے۔ اس دوران سیاہ فام غلاموں کے ساتھ جو بیتتا ہے وہ اس ناول کے بیانیے کے ساتھ ساتھ آگے بڑھتا ہے۔ ایلکس ہیلی کو 1977ء کا سپیشل ‘پُلزر’ انعام دیا گیا۔ 1979ء میں ’روٹس‘ کے بقیہ ابواب کو چودہ گھنٹے کی سیریز کی شکل میں ’روٹس: اگلی نسلیں‘ کے نام سے پیش کیا گیا۔ 1988ء میں اے بی سی ٹیلی ویژن نے دو گھنٹے کی فلم ’ روٹس: دی گفٹ‘ ٹیلی کاسٹ کی۔ ’روٹس‘ کا اثر اتنا وسیع ہے کہ یہ اکیسویں صدی میں بھی جاری رہا۔

ایلکس ہیلی کو ۱۹۷۷ء کا سپیشل ‘پُلزر’ انعام دیا گیا۔ ۱۹۷۹ء میں ’روٹس‘ کے بقیہ ابواب کو چودہ گھنٹے کی سیریز کی شکل میں ’روٹس: اگلی نسلیں‘ کے نام سے پیش کیا گیا۔ ۱۹۸۸ء میں اے بی سی ٹیلی ویژن نے دو گھنٹے کی فلم ’روٹس: دی گفٹ‘ ٹیلی کاسٹ کی۔ ’روٹس‘ کا اثر اتنا وسیع ہے کہ یہ اکیسویں صدی میں بھی جاری رہا۔ ۲۰۰۷ء میں بی سی، امریکہ نے ’روٹس‘ کو ’آوری فرینکلن بروکس کی آواز میں ریکارڈ کرکے بطور آڈیو بک ریلیز کیا۔ اس کے ناول ’روٹس‘ نے افریقی۔ امریکن ادب کے علاوہ عالمی ادب پر جو اثرات مرتب کئے سو کئے، اس نے علم جینیات اور ’اجدادی تحقیق ‘پر انتہائی گہرا اثر ڈالا۔

۲۰۰۶ میں اُدھر ٹی وی کے مشہور چینل ’ہسٹری‘ نے اعلان کیا کہ وہ ’روٹس‘ کو پھر سے فلما کر ناظرین کے لئے پیش کریں گے۔ اِدھر پاکستان میں قانون دان اور ادیب و مترجم عمران الحق چوہان اس کو اردو زبان میں ڈھال رہے تھے۔ وہ اس سے قبل میلکم ایکس کی آپ بیتی ’ گُہرہونے تک‘ ترجمہ کر چکے ہیں۔ عمران الحق چوہان نے روٹس کا ترجمہ اساس کے نام سے کیا ہے اور میں یہ بات کہنے میں بلکل عار محسوس نہیں کروں گا کہ انہوں نے ترجمے کے ساتھ خوب انصاف کیا ہے۔

احسن رومیز، پنجاب یونیورسٹی میں زیر تعلیم, ادب کے ایک سنجیدہ قاری ہیں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20