حرّیت کیا ہے؟ کلامِ اقبال کی روشنی میں ِ حرّیت اور جذبہء حریت کی وضاحت (حصہ سوم) ——– افضل رضوی

0

گزشتہ سے پیوستہ:
گویا غلام زندگی کے اعلیٰ و ارفع مقاصد سے یکسر محروم رہتا ہے۔ آگے بڑھنے کا ترقی کرنے کا جذبہ اس کے دل سے مفقود ہو جاتا ہے۔ وہ تھوڑے پر تکیہ کر لیتا ہے۔ جو مل جائے اسی کو کافی سمجھ لیتا ہے۔ سستی اور کاہلی اس پر غالب آ جاتی ہے اور بے عملی اس کی نس نس میں سما جاتی ہے۔ وہ ایک مقام پر رکا رہتا ہے جس سے حرکت و حرارت ختم ہو جاتی ہے اور جب ایسا ہو جائے تو وہ محض گوشت پوست کا ایک لوتھڑا باقی رہ جاتا ہے اس کی روح مردہ ہو جاتی ہے اور جب افرادِ قوم میں یہ چیزراسخ ہونے لگے تو غلامی جنم لیتی ہے جو حرکت کی ضد ہے اور غلامی کسی قوم کے افراد پرجو سب سے پہلا حملہ کرتی ہے وہ یہ ہے کہ افراد ِقوم کے دل و دماغ کو ضعیف و تاریک کر دیتی ہے۔ اس کے کرداروگفتار میں ایسا تغیر پیدا ہوتا ہے کہ اس کے اندر جذبہ ئ غیرت، قوت و توانائی، بیباکی، سوزواثر، روحِ اخلاص جیسی صفات نیست و نابود ہو جاتی ہیں۔ اس لیے اقبال کہتے ہیں

بندگی میں گُھٹ کے رہ جاتی ہے اک جوئے کم آب
اور آزادی میں بحرِ بے کراں ہے زندگی

اور نظم:”بندگی نامہ“ 38 میں مُضِرّاتِ غلامی بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں۔

ازغلامی دل بمیرد در بدن
غلامی میں بدن کے اندر دل مر جاتا ہے

از غلامی روح گرددبارِ تن
غلامی میں روح بدن کے لیے بوجھ بن جاتی ہے

ازغلامی بزمِ ملت فرد فرد
غلامی میں ملت ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتی ہے

این و آں بااین وآں اند رنبرد
ایک گرو ہ دوسرے گروہ سے لڑتا رہتا ہے۔

آں یکے اندر سجود ایں در قیام
ایک سجدے میں ہوتا ہے تو دوسرا قیام میں

کاروبارش چوں صلوٰۃ بے امام
ملت کا کام ایسے ہوتا ہے، جیسے امام کے بغیر نماز

درفتدہر فردبافردے دگر
ہر شخص دوسرے سے الجھتا ہے

ہرزماں ہر فرد را دردے دگر
ہر شخص نئی راگنی الاپتا ہے۔

از غلامی مردِ حق زنّار بند
غلامی میں اللہ تعالیٰ کا بندہ بھی (بت پرستی کا)زنّار پہن لیتا ہے۔

از غلامی گو ہرش ناارجمند
غلام کی قیمتی متاع کو بھی کوئی نہیں پوچھتا۔

شاخِ او بے مہرگاں عریاں زبرگ
اس کے درخت کی شاخ بغیر خزاں کے پتوں سے عریاں ہوتی ہے

نیست اند جانِ اوجزبیم مرگ
اور اسے ہر دم موت کا خوف لگا رہتا ہے۔

کورذوق و نیش راادانستہ نوش
وہ اتنا کورذوق ہو جاتا ہے کہ زہر کو شہد سمجھتا ہے۔

مردہ بے مرگ و نعشِ خود بدوش
بغیر موت کے مر جاتا ہے او راپنی نعش کو اپنے کندھے پر اٹھائے پھرتا ہے

آبروئے زندگی در باختہ
وہ زندگی کی آبرو گنوا بیٹھتا ہے

چوں خراں باکاہ وجود رساختہ
اور گدھوں کی طرح گھاس اور جو پر مطمئن ہو جاتا ہے۔

روز ہا در ماتم یک دیگراند
اس کے دن ایک دوسرے کے ماتم میں ہیں

در خرام از ریگِ ساعت متراند
اور اس کے دنوں کی رفتار ریگِ ساعت سے بھی سست ہے۔

اور زبورِ عجم میں ہی نظم ”موسیقی“ میں فرماتے ہیں:39

مرگ ہااندرفنونِ بندگی
میں غلامی کے جادو کے بارے میں کیا کہوں

من چہ گویم از فسونِ بندگی
غلامی کے فنون میں کئی اموات پوشیدہ ہیں

نغمہئ او خالی از نارِ حیات
اس کاراگ زندگی کی آتش سے خالی ہے

ہمچوسیل افتدبدیوارِ حیات
اور دیوارِ حیات کو سیلاب کی طرح گرا دیتا ہے۔

چوں دل او تیرہ سیمائے غلام
غلام کی پیشانی اس کے دل کی طرح تاریک ہے

پست چوں طبعش نوا ہائے غلام
اور اس کے راگ کی نوائیں اس کی فطرت کی طرح پست ہوتی ہیں۔ 40

از دلِ افسردہ او سوز رفت
اس کے افسردہ دل سے حرارت ِ زندگی بجھ چکی ہوتی ہے

ذوق ِفردا لذّتِ امروز رفت
نہ اسے اپنا مستقبل اچھا بنانے کا خیال ہوتا ہے اور نہ وہ اپنے حال سے لطف اندوز ہوتا ہے۔

چشم اورااشکِ پیہم سرمہ ایست
مسلسل آنسو اس کی آنکھ کا سرمہ ہیں۔

تاتوانی برنواے او مایست
جہاں تک ہو سکے اس کی آواز پر توجہ نہ دے۔

الحذر ایں نغمہ موت است و بس
اس کا نغمہ، نغمہ موت ہے۔

نیستی درکسوتِ صوت است وبس41
اس کے راگ کے لباس میں سوائے فنا کے اور کچھ نہیں۔

اور نظم ”مذہبِ غلاماں“ 42 میں فرماتے ہیں؛

درغلامی عشق جز گفتار نیست غلامی
میں عشق گفتار کے علاو ہ اور کچھ نہیں

کارِ ما گفتار ِ ما را یار نیست غلامی
میں عمل گفتار کا ساتھ نہیں دیتا

دین ودانش را غلام ارزاں دہد
غلام دین و دانش کو سستا بیچ دیتا ہے
تا بدن را زندہ دارد جان دہد
زندہ رکھنے کے لیے جان فروخت کر دیتا ہے۔

گرچہ برلب ہائے او نامِ خداست
اگرچہ اس کی زبان پر اللہ تعالیٰ کانام ہوتا ہے

قبلہ او طاقتِ فرمانرواست
مگر اس کا قبلہ حکمران کی طاقت ہے۔

طاقتے نامش دروغ بافروغ
اس کی طاقت مسلسل جھوٹ کا نام ہے

از بطونِ او نزاید جُزدروغ
اس کے اندر سے سوائے جھوٹ کے کچھ پیدا نہیں ہوتا۔

اور ”پیامِ مشرق“ کی ایک نظم غلامی میں اقبال نے اس بات کی وضاحت ہوں کی ہے ایک انسان جب دوسرے کی غلامی کرتاہے تو وہ کس درجہ گرتا ہے۔

آدم از بے بصری بندگی آدم کرد
گوہرے داشت ولے نذرِقبادوجم کرد

یعنی ازخوئے غلامی زسگاں خوارتراست
من ندیدم کہ سگے پیشِ سگے سر خم کرد 43

ایک انسان بے سمجھی کے سبب دوسرے انسان کی بندگی کرتا ہے۔ اس کے پاس(آزادی کا)ایک ہیرا تھا جو اس نے شاہوں کے سپرد کر دیا۔ گویا وہ خوئے غلامی میں کتوں سے بدتر ہے کیونکہ میں نے آج تک کسی کتے کو دوسرے کتے کے سامنے سر خم کرتے نہیں دیکھا۔ پیامِ مشرق کی ایک رباعی میں فرماتے ہیں:

بگوشم آمد از خاکِ مزارے
خاکِ مزار سے میرے کان میں یہ آواز آئی

کہ درزیرِ زمیں ہم می تواں زیست
کہ قبر میں بھی زندہ رہا جا سکتا ہے

چہ گوئمت کہ چہ بودی چہ کردہ چہ شدی
میں کیا کہوں کہ تو کیا تھا، تو نے کیا کیا اور اب کیا ہو گیا۔

اس بات نے کہ
خوں کند جگرم را ایازی محمود! ۵۴
میرے جگر کو خون کر دیا ہے کہ محمود نے ایاز کا شیوہ اختیار کر لیا ہے۔

اقبال غلامی کو قوم کے لیے سب سے بڑی نعمت تصور کرتے ہیں کیونکہ غلامی انسان کی تمام خوبیوں کو مٹا دیتی ہے اور آزادی سے محروم ہونا زندگی سے محروم ہونا ہے۔ محکوم قومیں ابدی نیند سو جاتی ہیں۔ صفحہ ہستی سے ان کا نام ونشان مٹ جاتا ہے۔ اقبال نظم ”عالم برزخ“46 میں اس تصور کو یوں واضح کرتے ہیں۔

بانگِ اسرافیل ان کو زندہ کر سکتی نہیں
روح سے تھا زندگی میں بھی تہی جن کا جسد

مر کے جی اٹھنا فقط آزاد مردوں کا ہے کام
گرچہ ہرذی روح کی منزل ہے آغوش ِ لحد

اور پھر قبر مردے سے کہتی ہے۔ 47

آہ ظالم! تو جہاں میں بندہ محکوم تھا
میں سمجھتی تھی کہ ہے کیوں خاک میری سوزناک

تیری میت سے مری تاریکیاں تاریک تر
تیری میت سے زمیں کا پردہ ناموس چاک

الحذر، محکوم کی میت سے سو بار الحذر
اے اسرافیل! اے خدائے کائنات!اے جانِ پاک 8 4

اقبال غلامی کو موت اور حریت کو زندگی قرار دیتے ہیں۔ چنانچہ غلامی کے خلاف اعلانِ جنگ کرتے ہوئے کہتے ہیں۔

آزاد کی اک آن ہے محکوم کا اک سال
کس درجہ گراں سیر ہیں محکوم کے اوقات

آزاد کا ہر لحظہ پیامِ ابدیت
محکوم کا ہر لحظہ نئی مرگِ مفاجات

آزاد کا اندیشہ حقیقت سے منور
محکوم کا اندیشہ گرفتارِ خرافات

محکوم کو پیروں کی کرامات کا سودا
ہے بندہئ آزاد خود اک زندہ کرامات 49

ارمغانِ حجاز کی ایک غزل میں حریت کی شان بیان کرتے ہوئے اسی قسم کے تصورات کو بیان کرتے ہیں۔ 50

آزاد کی رگ سخت ہے مانندِ رگِ سنگ
محکوم کی رگ نرم ہے مانندِ رگِ تاگ

محکوم کا دل مردہ افسردہ و نومید
آزاد کا دل زندہ و پُر سوزو طرب ناک

آزاد کی دولت دل روشن نفسِ گرم
محکوم کا سرمایہ فقط دیدہ نمناک

محکوم ہے بیگانہ اخلاص و مروت
ہر چند کہ منطق کی دلیلیوں میں ہے چالاک

ممکن نہیں محکوم ہو آزاد کا ہمدوش
وہ بندہ افلاک ہے یہ خواجہئ افلاک

اقبال کسی صورت غلامی کو قبول نہیں کرتے۔ وہ ایسے دشت کو نہاں ڈنک مارنے والے بچھو ہوں، آگ برساتی ہوئی ہوا ہو، آتشِ دوزخ کی گرمی ہو، بہتر سمجھتے ہیں غلامی کی ایک گھڑی سے۔

درچنیں دشتِ بلا صد روز گار
خوشتر از محکومی یک دم شمار 51

اقبال حالت غلامی میں قلبِ غلام کو جلوہئ حق کے ایک نفس کا بھی مستحق نہیں پاتے کیونکہ ان کے نزدیک جلالِ خداوندی اور جمالِ لازوالی سے بے خبر ہے اور اس سے بڑھ کر وہ حالتِ غلامی میں کسی لذتِ ایمان کی تلاش کو بے سود سمجھتے ہیں۔ یہاں تک کہ وہ غلامی کی حالت میں آقائے دو جہاں پر درود و سلام بھیجتے وقت بھی شرمندگی محسوس کرتے ہیں۔

تاغلامم درغلامی زادہ اُم
زآستانِ کعبہ دور افتادہ اُم

چوں بنام مصطفی خوانم درود
ازخجالت آب می گرددوجود

عشق می گوید کہ اے محکوم غیر
سینہئ تو از بتاں مانندِدیر

تانداری ازمحمد رنگ و بو
ازدرودِخودمیالانامِ او

چونکہ میں غلام ہوں اور غلامی کے اندر پیدا ہوا ہوں اس آستانِ کعبہ سے دور جا پڑا ہوں۔

جب میں حضوراکرمؐ پر درود بھیجتا ہوں تو میرا وجود شرم سے پانی پانی ہو جاتاہے۔

عشق مجھ سے کہتا ہے کہ اے غیر کے محکم بتوں کی وجہ سے تیرا سینہ بت خانہ بناہوا ہے۔

جب تک آنحضورؐ (کے اخلاقِ عالیہ) کی رنگ و بو اختیار نہیں کرتا اپنے درود شریف سے ان کے نام کو آلودہ نہ کر۔

میری نماز کے قیام بے حضور اور سجود بے سرور کی بات نہ پوچھ۔

اللہ تعالیٰ کا جلوہ خواہ ایک لمحہ کے لیے ہو صرف مردانِ آزاد کو نصیب ہوتا ہے۔

ایسے غلام میں خواہ وہ حافظِ قرآن ہو، ایمان کی لذت تلاش نہ کر۔

اقبال ذہنی، سیاسی، معاشی، معاشرتی ہر قسم کی غلامی کے خلاف تھے کیونکہ انہوں نے ایسے دو ر میں جنم لیا جب برّ صغیر پاک وہند کے مسلمان بالخصوص اور سارا عالمِ اسلام بالعموم مغرب کی غلامی کی لعنت میں گرفتار تھا۔ ایسے میں حساس دل شاعر کا دل تڑپ اٹھا اور وہ اپنی غلامی کا نوحہ پڑھنے پر مجبور ہوگیا۔

شرق وغرب آزاد ہ مانجھیر غیر
خشتِ ما سرمایہ تعمیر غیر

زندگانی بر مرادِ دیگراں
جاوداں مرگ است نے خوابِ گراں 52

ایسے دور میں شاعر اسلام، حریت کا علم بردار، آزادی کی تحریک کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہتے ہیں:

”بہرحال ہم اس تحریک کا جو حریت اور آزادی کے نام پر عالم اسلام میں پھیل رہی ہے، دل سے خیر مقدم کرتے ہیں۔ “ 53

اقبال غلامی کی مضرّات اور حریت کے ثمرات ایک ایک کر کے گنوانے کے بعد وہ گُر بھی بتاتے ہیں جن کے ذریعے سے غلامی سے چھٹکارہ حاصل ہو سکتا ہے اور کامل آزادی حاصل کی جاسکتی ہے۔

زمانہ اب بھی نہیں جس کے سوز سے فارغ
میں جانتا ہوں وہ آتش ترے وجود میں ہے

تری دوا نہ جنیوا میں ہے نہ لندن میں ہے
فرنگ کی رگِ جاں پنجہئ یہود میں ہے

سنا ہے میں نے غلامی سے اُمتوں کی نجات
خودی کی پرورش و لذّتِ نمود میں ہے 54

وہ کہتے ہیں:

دینِ حق راز زندگی از وقت است
قوتِ ہر ملت از جمیعت است

رائے بے قوت ہمہ مکر و فسوں
قوت بے رائے جُہل است و جنوں

پس وہ آزادی کا علم بردار بن گیا جس نے اپنے آپ کو حضور اکرمؐ کے دینِ فطرت کے تابع کر لیا اور شرع محمدی کو اپنی زندگی کا آئین بنا لیا کیونکہ حضور اکرمؐ کا دین ہی دین ِ فطرت ہے اور شرع محمدی آئینہ حیات کی تفسیر ہے۔ انسان پستیوں میں گر جائے تو یہ نسخہئ حیات اسے آسمان کی بلندیوں پر پہنچا دیتا ہے اور انسان اپنے اس جذبہ حریت کے باعث اس مقام پر پہنچ جاتا ہے جسے خلیفۃ اللہ کہا جاتا ہے

ہست دینِ مصطفی دینِ حیات
شرعِ او تفسیرِ آئینِ حیات 55

حصہ دوم کے لیے اس لنک پر کلک کیجے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

دانش ڈیسک سروس

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20