تقریظ ۔۔۔۔ حاصل عمر ہے جو ایک کسک باقی ہے ——– محمد حمید شاہد

0

شکیل جاذب کا پہلا شعری مجموعہ’’جب سانس میں گرہیں پڑتی ہیں‘‘ تھا۔ یہ اس شاعر کا دوسرا مجموعہ ہے۔ انہوں نے لگ بھگ سال بھر پہلے اپنے کلام کا مسودہ مجھے عطا کیا تھا۔ میں اسے گاہے گاہے پڑھتا رہا ہوں اور لطف لیتا رہتا ہوں۔ تاہم شکیل سے میرا سال بھر کا نہیں کئی برسوں کا تعلق ہے۔ کئی مشاعروں میں انہیں سنا اور ایسی خاص نشستوں میں بھی کہ بس وہ شعر سناتے اور ہم سنتے۔ اس سارے عرصے میںاُن کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا رہا، مکالمے کے مواقع نکلے اور یقین ہو گیا کہ شاعری ان کی زندگی کی ترجیحات میں بہت اوپر ہے۔ وہ کلاسیکی غزل سے لے کر آج کی غزل تک کے سفر سے آگاہ ہیں۔ انہیں سیکڑوں اشعار یاد ہیں۔ وہ اس صنف کی نزاکتوں کو سمجھتے ہیں اور خوب سمجھتے ہیں۔ تاہم یوں ہے کہ انہوں نے اپنے آپ کو غزل تک محدود نہیں رکھا، نعت، منقبت، سلام اور قومی موضوعات پر نظمیں بھی زیر نظر مجموعے کا حصہ ہیں۔

شکیل جاذب نے اپنے تخلیقی مزاج کو آنک کر غزل ترجیح دی، یہ صنف ان پر مہربان ہوئی اور ان کی پہچان بن گئی۔ وہ اس صنف کی روایت کو محترم جان کر اس جستجو میں رہے ہیں کہ کہاں کہاں سے نئی راہیں نکالی جا سکتی ہیں۔ شکیل جاذب کے ہاں یہ ساراالتفات، علم اور تخلیقی تجربہ کس صورت میں ظہور کرتا ہے، اس پر سوچتے ہوئے میں نے تین باتیں اخذ کی ہیں :

۱۔ وہ شعر کہے چلے جانے کی ہوس میں موضوعات کی تلاش میں نہیں رہتے۔ شاید موضوعات ہمارے اس شاعر کا اُس سطح پر مسئلہ نہیں ہیں جس سطح پر ہمارے جدید شاعروں کے ہاں مسئلہ بنے ہیں ؛جی ایسامسئلہ کہ وہ غزل کی اپنی تہذیب کا ناس مار کر رکھ دینے سے بھی نہیں چوکتے۔

۲۔ یوں نہیں ہے کہ موضوعات کا تنوع اور عصری حسیت اُن کے ہاں نہیں ہے۔ وہ ہے اور ان کے مقابل وہ ایک بچے کی سی معصومت اور حیرت سے ہوتے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ موضوعاتی تنوع اور عصری حسیت جیسے علمیاتی عناصر، ان کی غزل کی اپنی تہذیب کے اندر سے ایک بھید کی صورت برآمد ہوتے ہیں۔

۳۔ زبان کی سطح پراکھاڑ پچھاڑ کرکے چونکانا ان کا مسئلہ ہے نہ وہ متروک لفظوں سے عُجب پیدا کرتے ہیں۔ اُن کے ہاں الفاظ کا استعمال میکانکی سطح پر ہے نہ اکہرا اور بے روح۔ وہ غزل کی اپنی لغت پر قانع رہتے ہیں اور صنائع لفظی و معنوی سے کام لے کر اپنے کلام کی جمالیات مرتب کر لینے پر قادر ہیں۔

درج بالا نتائج تک پہنچتے پہنچتے مجھے ایک لفظ سوجھتا رہا ہے اور وہ لفظ ہے؛’’ کیفیت ‘‘۔ غزل کے معلوم اور مقبول موضوعات کو برتتے ہوئے بھی یہ کیفیت ہی ہے جو شکیل جاذب کی غزل کا نمایاں عنصر ہوئی ہے۔ غزل کو میں تہذیبی صنف سمجھتا ہوں : جی، ثقافتی نہیں تہذیبی۔ سماجی سطح پر ثقافتی ہلا گلا بہت نمایاں رہتا ہے۔ سب کچھ اوپر ہی اوپر اچھلتا ہوا۔ دوسری شعری اصناف اپنے مزاج کے اعتبار سے ثقافت کا تخلیقی اظہار ہو سکتی ہیں غزل نہیں۔ اس صنف کوتو سماجی اور سیاسی تحرک کے بہت نیچے بیٹھ چکے اجزا اور روایت کا حصہ ہو چکے اس مزاج سے اپنا مواد اور مزاج اخذ کرنا ہوتا ہے۔ یہ وہ عناصر ہیں جو تہذیب کا تانا بانا ہوتے ہیںاور تہذیبی سرمائے میں نمو کا موجب بھی۔ شکیل جاذب کی تخلیقی ترجیحات آنکتے ہوئے میرا دھیان غزل کے تہذیبی وصف’’ کیفیت ‘‘ کی طرف گیا تو اس لیے نہیں کہ وہ محض اور صرف کیفیت کے شاعر ہیں، بلکہ اس لیے کہ وہ اس کیفیت کو کسک اور تاہنگ کی کٹھالی میں ڈال کر موضوع میں ڈھال لینے پر قادر ہیں۔ انہی کی ایک مشہور غزل کا مطلع ہے:

حاصل عمر ہے جو ایک کسک باقی ہے میری سانسوں میں ابھی تیری مہک باقی ہے

جسے یہاں ’’حاصلِ عمر ‘‘کہاگیا ہے ؛ اسی کسک، اسی مہک اور اسی تاہنگ سے انہوں نے اپنی غزل کا مزاج ڈھال لیا ہے۔ اس مزاج کا بنانا لگ بھگ ایسا ہی ہے جیسے ایک اور غزل کے ایک شعر میں ’’سماعت کی حضوری ‘‘ کا عمل ہو گیا ہے۔ :

تجھ کو سنتے ہیں سماعت کی حضوری کے لیے
تیری آواز سے آواز خدا ملتی ہے

کسی موضوع اور کیفیت کو ایک دوسرے میں ڈھالنے کے لیے شکیل جاذب جس طرح تجربے کے اچانک پن کو حیرت کے عنصر سے گرفت میں لیتے ہیں وہ انہیں اپنے ہم عمر ہم عصروں میں الگ اور نمایاں کرتا ہے۔ یہاں میں نے تجربے کے جس اچانک پن کا ذکر کیا ہے، اس میں وہ تجربہ بھی شامل ہیں جوروزمرہ کاتجربہ ہو کر بھی کسی خاص رُخ سے اپنی جمالیات متشکل کر لیتا ہے ؛بالکل یوں جیسے کوئی مصور اپنے معمول کے مطابق کینوس کے سامنے کھڑا رنگوں سے کھیل رہا ہو اور اچانک اس کے بُرش سے ایسا سٹروک سرزد ہوجائے کہ خود مصور کو حیرت میں مبتلا کردے۔ جی ایسا ایک سٹروک، جس سے فن پارے کی نئی جمالیات مرتب ہو نے لگتی ہے۔ مصور ہو یا شاعر اس اکتشاف سے متعین ہونے والی سمت ایک قرینے سے آگے بڑھتا ہے اور فن پارہ مکمل کرلیتا ہے۔ کبھی کبھی یہ’ ’اچانک پن‘‘ بچے کی سی معصوم حیرت کے ساتھ ظہور کرتا ہے۔ ایسے کہ، یہ حیرت ہی اپنا کام مکمل کر دیا کرتی ہے۔ ’’شعرالعجم‘‘ میں بیان ہونے والے ایک واقعے کی طرف دھیان جاتا ہے۔ اس واقعے کے مطابق ؛ حسان بن ثابت کے ننھے منے بیٹے کو ایک بھڑ نے کاٹ لیا۔ وہ روتا روتا باپ کے پاس آیا۔ باپ نے پوچھا : ’’بیٹے کیا ہوا؟‘‘ روتے ہوئے بچے کا جواب تھا: ’’ مجھے اُس نے کاٹ لیا‘‘۔ حسان بن ثابت نے پوچھا: ’’اُس کا کوئی نام بھی تو ہوگا؟‘‘ بچہ یہ تو جانتا تھا کہ ُاسے بھڑ نے کاٹا تھا مگر یہ نہیں جانتا تھا کہ اس کا نام کیا تھا۔ حسان بن ثابت نے کہا: ’’اچھا اُس کی صورت بتائو؟‘‘ بچے کا جواب تھا: ’’کانہ ملتف ببردی حیرۃ‘‘ (گویا یوں معلوم ہوتا تھا کہ وہ مخطط چادروں میں لپٹا ہوا ہے)۔ اس جملے کو شبلی نعمانی نے شاعری کہا تھااور اس کا جواز یہ دیا کہ بچے کے جواب میں ایک تشبیہ استعمال ہوئی تھی۔ شبلی نعمانی نے جس بنیاد پر اسے شاعری کہا اس میں ایک اور کا اضافہ بھی کر لیجئے اور وہ ہے ’اچانک پن‘ سے پھوٹ پڑنے والی وہ’ حیرت‘ جو بیان کا اُتھلا پن ختم کر دیتی ہے۔ اچانک پن اور حیرت کی ایک سے زیادہ صورتیں شکیل جاذب کے تخلیقی تجربے کے عقب میں شناخت کی جا سکتی ہیں۔

یہاںہنری جیمس کا کہا یاد آتا ہے۔ یہی کہ ’’تجربہ کبھی محدود نہیں ہوتا اور نہ ہی یہ اپنی صورت میں مکمل ہوتا ہے۔ ‘‘ یہ جو موقع بے موقع ہمارے ہاںاکثر شاعر، سیف الدین سیف کا یہ شعر پڑھ کر بہت سی گنجائشیں پیدا کر لیتے ہیں کہ ’’سیف انداز بیاں رنگ بدل دیتا ہے/ورنہ دنیا میں کوئی بات نئی بات نہیں‘‘ تو واقعہ یہ ہے کہ یہ بات اتنی سادہ بھی نہیں ہے۔ اس میں کئی طرح کے بھید بھنور پڑتے ہیں اور پہلا بھید یہی ہے کہ ہر حقیقت پوری طرح بیان میں نہیں آتی، اس کا کوئی نہ کوئی پہلو بیان سے باہر رہ جاتا ہے، آپ اسے حقیقت کا غیر مُصَرّح وصف کہہ لیں۔ حقیقت کے اس وصف کے مقابل ہونا اور حیرت میں مبتلا ہونا اتنا اچانک اور حقیقی ہوتا ہے کہ تخلیقی عمل میں ایک نئے تجربے کی صورت ظہور کرتا ہے۔ شکیل جاذب کی ایک اور غزل کا مطلع دیکھیے:

اے چشم تیرا آئینہ سامان تو گیا
اپنا سا جو لگا تھا، وہ حیران تو گیا

اسی غزل کا ایک اور شعر:

اُن سے نگاہ ملتے ہی یہ کہہ کے دل چلا
آپ اپنا گھر سنبھالیے مہمان تو گیا

ان دونوں اشعار میں کوئی بھی لفظ ایسا نہیں ہے جو غزل کی روایت کا حصہ نہ ہو۔ ’’ چشم تر‘‘، ’’آئینہ سامان‘‘، ’’ مہمان‘‘ وغیرہ سب جانے پہچانے الفاظ ہیں اور غزل کی روایت کا حصہ؛ مگر جس طرح ’’چشم تر‘‘ کو’’ آئینہ سامان‘‘ کیا گیا ہے اور ایک حیرت کو اچھال کر ایک کسک پیدا کرلی گئی ہے اس نے لطف دوآتشہ کیا ہے۔ یہی کام دوسرے شعر میں کیفیت کو بدل کر کیا گیا ہے۔ جب وہ ’دِل کے چلنے‘، ’ گھر سنبھالنے‘ اور’ مہمان تو چلا‘، کی اطلاع دیتے ہیں تو یہ محض اطلاع نہیں رہتی، لفظوں کے لغوی معنی پسپا ہوتے ہیں اور مصرعے کی ساخت میں یہ عام سے الفاظ آکر یوںخاص ہو جاتے ہیں کہ ان سے نئے معنوی علاقے کا التباس پیدا ہوتا ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اسی رعایت سے یہ التباسی معنوی علاقہ، حقیقی بھی ہو جاتا ہے۔ شکیل جاذب نے اسے ’’اشعار میں ڈھلتی گئی کیفیت ہستی‘‘سے تعبیر دِی ہے۔ جس ’’کیفیت ہستی‘‘ کو شاعر نے تخلیقی عمل میں برتا ہے وہ محض کسی وجود کی ایک سطح نہیں ہے، اُس وجود کی ہر سطح سے اخذ شدہ تجربہ ہے جو اپنے آپ میں گم ہے مگر کائنات اس میں گم:

میں شش جہات لیے اپنے آپ میں گم ہوں
مری تلاش میں محمل بھی ہے اور صحرا بھی!

اسی برتے پر میں کہتا ہوں کہ شکیل جاذب کے ہاں تخلیقی عمل محض اور صرف حقیقت کا اظہار نہیں ہے۔ کسی حقیقت کی لفظوں سے عین مین تصویر بنالینا اپنی جگہ بہت اہم ہے اورہمارے ہاں اسے خوبی سے برتاگیا ہے لیکن حقیقت کا امیج بنالینا ایک سطح پر حقیقت کی نقل سے آگے کا عمل نہیں رہتا۔ شکیل جاذب کی غزل یہاں رکتی نہیں ہے۔ ان کے ہاں احساس جست بھرتااور آگے نکلتا ہے؛ جی، موجود حقیقت سے اوپر اٹھ کر، اسے دھندلا پگھلا کر اور ایک نئی صورت میں ڈھال کر یا پھر حقیقت کو اس رُخ سے شناخت دے کر جو بالعموم نظر سے اوجھل رہتی ہے۔ کہہ لیجئے حقیقت کی مصوری اور خیال کا بیان نہیں، اُن کی تخلیق نو۔ اسی وسیلے سے ان کے ہاں چراغِ عشق سے ایک کائنات روشن ہوتی ہے؛ ایک ایسی کائنات جو شاعر نے خود تخلیق کی ہوتی ہے۔ نئی اور اتنی روشن کہ اس میں کچھ بھی چھپا نہیں رہتا :

جاذب چراغ عشق سے روشن ہے کائنات
اس روشنی میں کچھ بھی چھپا دیکھتے نہیں

میں شکیل جاذب کے اس مجموعے کی اشاعت پر انہیں مبارکباد دیتا ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ یہ کتاب ادبی اور عوامی حلقوں میں یکساں مقبول ہوگی۔ اپنے فن سے انہیں عشق ہے یہ عشق ہی اُن کی شخصیت اور شاعری کو نکھارتا رہا ہے اور مسلسل نکھار رہا ہے۔ میں جانتا ہوں کہ یہ عشق ایسا ظالم ہے کہ انہیںایک پل چین سے بیٹھنے نہیں دیتا تاہم یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ وہ اِسی لگن سے شعر کہتے رہیں گے اور ہم ان کے عشق سے جڑ کر انہیں سنتے رہیں گے اور ان کے کئی اور فراز کی منزلیں اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے۔

یہ چراغِ عشق کی لَو فقط ترے رُخ پہ جلوہ فگن نہیں
مری جان میں بھی نکھر رہا ہوں ترے خیال کی چھائوں میں

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

دانش ڈیسک سروس

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20