رئیلزم: واقعیت پسندی یا حقیقت نگاری ——- عزیز ابن الحسن

0

ریئلزم ( حقیقیت) اصل میں فلسفے کی اصطلاح ہے، جس کا مصداق افلاطونی ”حقیقیت” (ریئلزم) سے آج تک مسلسل بدلتا رہا ہے۔
افلاطونی حقیقیت (Platonic realism) سے یہ مراد تھی کہ ”جزئی” (Particular)، یا خارجی مادی اشیاء، کے مقابلے میں ”کلی” (Universals )، یا اعیانی حقائق (archetypes) اصل ہیں، ان پر فوقیت رکھتے ہیں اور ان سے قبل موجود ہوتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں ارسطوئی حقیقتت سے یہ مراد ہے کہ ” کلی” (عالم اعیان) محض تصورات ہیں اور “جزئی” (خارجی اشیاء) سے ماخوذ ہیں، ان کے اندر موجود ہوتے ہیں۔ بالفاظ دیگر ”جزئی”  کو ” کلی” پر فوقیت ہے۔ عیسوی مدرسیت (Scholisticism) کے زمانے کے بعد یہ بحثیں حقیقیت اور اسمیت (Realism & Nominalism)  کی اصطلاحوں میں سمٹ آئیں؛ اسمیت کا موقف یہ ہوا کہ ”کلیات” (Universals) خارجی اشیا یعنی ” جزئیات” کے محض نام (اسم) ہیں، الفاظ ہیں، حقائق نہیں، یہ نہ ان سے پہلے موجود ہوتے ہیں نہ ان کے اندر ہیں بلکہ ا ن کے بعد آتے ہیں۔ ان کی خارجی حقیقت کوئی نہیں۔(1)

مغربی فکر کی پوری تاریخ کسی نہ کسی طرح اسی مسئلے سے الجھتی رہی ہے۔ سولہویں صدی کے بعد وہاں Desacralization کا جو عمل ہوا اس میں اسمیت (Nominalism) کے فلسفے کا خاص کردار ہے جس نے کلیات کو جزیات کا محکوم بنا دیا۔ بیسویں صدی میں ”وجودیت” نے ”وجود کے جوہر پر مقدم ہونے” (2) کا جو موقف اپنایا ہے، وہ بنیادی طور پر جزئی کی کلی پر فتح کی علامت ہے۔ حقیقت، جو افلاطون کے ہاں اعیانِ ثابتہ میں براجمان تھی ، کانٹ کی طرف سے مابعد الطبیعیات کے عملاً ناممکن ہونے کے اعلان کے ساتھ تحلیلی اور منطقی ثبوتیت کے فلسفوں، وجودیت اور بعد کے لسانی و ساختیاتی مباحث کے نتیجے میں اب صرف اسی حد تک باقی رہ گئی ہے، جس حد تک انسانی زبان اس کا اظہار کرسکے۔

حقیقت کو ”مابعد الطبیعیاتی خرافات” سے نکال کر عام ترین اشیاء میں منحصر کرنے کا فریضہ تو بنیادی طور پر پس ارسطوئی فلسفیوں نے سر انجام دیا تھا مگر انیسویں صدی کے وسط سے حقیقت اور صدا قت کی معنویت اور اس کے حصول کے امکان پر ادیبوں اور فن کاروں کی بھی خاص توجہ رہی ہے۔ فلسفہ، جس کا کام ایک زمانے میں حقیقت کا علم دینا سمجھا جاتا تھا، حقیقت (بمفہوم افلاطون) کے علم کے ممکن ہونے یا نہ ہونے کے سوال میں الجھ کر وجودیات (ontology) سے ”علمیات” ( epistemology) میں سمٹ کر رہ گیاہے۔

کہا جاتا ہے کہ بیسیوں صدی میں پیشہ ور فلسفیوں سے زیادہ تخلیقی فن کاروں نے فلسفیانہ مسائل پر غور کیا ہے۔ مگر کوئی الگ راہ نکالنے کے بجائے رومانویت (romanticism) کے ردعمل میں ان کے اندر علویت و جمال کے عناصر کو عمداً نظر انداز کرکے ادب و آرٹ میں عموماً عام ترین اشیا بلکہ حقیر و رذیل اور کریہہ چیزوں کو جزیات کےساتھ پیش کرنے کا رجحان پیدا کر دیا ہے (cult of ugliness)۔ انفرادی اور جزئی (Particulars) اجزا پر زور دینے اور انواع اور کلی (Universals) نمونوں کو نظر انداز کرنے کا جو عمل ”اسمیت” کے ساتھ شروع ہوا تھا، وہ ادب و فن میں بھی اسی طرح قبول کرلیا گیاہے۔(3)

اس طرح فلسفیوں کی ”حقیقیت” (Realism ) ادیبوں کے ہاں ” حقیقت نگاری” بن گئی اور اس کے بھی متعدد تصورات سامنے آئے مگر ”اعیان” کے بجائے ”زمینی حقائق” کو مرکز نگاہ بنانے میں سب برابر ہیں۔ ان کے انفرادی خدوخال یہ ہیں: ایک گروہ حقیقت کے مطابقتی نظریے (Correspondance Theory) سے متاثر ہے جس کے مطابق حقیقت وہ ہے جو مدرکات ِحواس اور سائنسی تفتیش کے ذریعے سامنے آتی ہے۔ یہ گروہ حقیقت جیسی کہ وہ ہے کو بے کم و کاست پیش کرنے کا مدعی ہے۔ دوسرا گروہ حقیقت کے ربطی/ اتصالی نظریے (Coherance Theory) سے اثر پذیر ہوا ہے۔ حقیقت جیسی کہ وہ جاننے کے مراحل کے اعتبار سے نظر آتی ہے۔ اس نظریہ کو ماننے والے حقیقت کو اپنے نقطۂ نظر سے از سر نو تخلیق کرنے کا قائل ہے، جس میں فرد کے باطنی تجربات بھی اہم قرار پاتے ہیں۔

روس میں حقیقت نگاری کے نمائندوں یا متاثرین میں ٹالسٹائی، گوگول اور گورکی کے نام آتے ہیں۔ یورپ کی ادبی تاریخ ایک اعتبارسے کلاسیکیت، رومانویت، حقیقت نگاری(فطرت نگاری) اور علامت نگای کے رجحانات میں بند ہے۔ جن خطوط پر رومانویت نے کلاسیکیت اور سترہویں صدی کے سائنسی انقلاب کے خلاف رد عمل کیا (وائٹ ہیڈ) انہی خطوط پر حقیقت نگاری نے رومانویت کے خلاف سر اٹھایا، اور پھر حقیقت نگاری کے دو اہم مکاتب میں سے دوسرے گروہ نے فطرت نگاروں (naturalism)  کی حد سے بڑھی ہوئی ”معروضی و سائنسی حقیقت/ فطرت نگاری” کے متوازی حقیقت کے انفرادی و باطنی تجربے کی اہمیت پر زور دیا اور حقیقت کو وجدانی ادراک سے دیکھ کر زبان کو ایسی خلاقی سے استعمال کیا جس میں حقیقت نئے سرے سے جنم لیتی ہے۔ یہاں یہ نئ جنم لینے والی حقیقت “نقل’ (imitation) کے ذریعہ نہیں بلکہ “تخلیقِ نو” کی صورت وجود میں آتی ہے۔ اس رجحان میں انفرادی تجربے، انفرادی نظر، دماغ کے اندرونی تعامل، خواب اور وجدان کے ذریعے حقیقت کو دیکھنے اور انفرادی تمثالوں اور علامتوں میں اسے بیان کرنے کے اصول (علامت نگاری) میں اتنا غلو ہوا کہ بالآخر یہ رجحان فوق الحقیقیت (Surrealsim) پر منتج ہوا۔ حقیقت نگاری کی اس قسم کو نفسیاتی حقیقت نگاری کا عنوان بھی دیا گیا ہے۔ اس میں ایک طرف حقیقت کا مطالعہ موضوعی نقطہ نظر سے کےیا جاتا ہے۔ بلکہ خارجی حقیقت کے بجائے اکثر و بیشتر مطالعے کا معروض بھی فرد کی باطنی کائنات ہوتی ہے۔ بیسویں صدی کہ ابتدائی نصف میں حقیقت نگاری کے اس رجحان نے سب سے زیادہ فروغ پایا ہے۔(4)

حقیقت نگاری میں رومانویت کی خیالی دنیا، ماورائی حسن کی جستجو، مسرت اور سرخوشی کی تلاش اور ماضی و مستقبل کی خیالی بہشت کے مقابلے میں عام زندگی کے حقایق و وقائع کا بیان، اس کی جزیاتی تفصیلات کے ساتھ دکھانے پر زور تھا جو بالعموم کسی خاص نظریے سے وابستگی کے بغیر تھا، ماسوائے خارجی دنیا کو ایک سائنسدان کی آنکھ سے دیکھنے اور فوٹو گراف کی سی درست تفصیل کے ساتھ دکھانے کے۔ یہ حقیقت نگاری آگے چل کر سماجی حقیقت نگاری اور اس کی دوسری مخصوص انتہا اشتراکی حقیقت نگاری میں بدل گئی۔

سماجی حقیقت نگاری کا تعلق عام معاشرتی رویوں، لوگوں کی زندگیوں، معاشرے میں سماجی و معاشی ناہمواریوں اور عامۃ الناس کے سماجی تجربات کو حتی المقدور سادگی کے ساتھ بیان کرنے دینے سے تھا۔ مگر ادب کے بارے میں اس تصور سے کہ یہ آئینے کے عکس کی طرح کام کرتا ہے اس کے بارے میں ‘معاشرے کا آئینہ’ ہونے کا تصور ابھرا ۔ آگے چل کر اسی بنیاد پر ادب کو معاشرے میں تبدیلی کا آلہ کار کہاجانے لگا ۔ مارکس نے فلسفے کے بارے میں جو کہا تھا کہ اس کا کام کائنات کی تعبیر و تشریح نہیں بلکہ دنیا کی تبدیلی ہونا چاہےے، ادب پر بھی اثر اندازہوا۔ لہٰذا عام حقیقت نگاری کو سماجی اور پھر اشتراکی حقیقت نگاری میں بدلتے دیر نہ لگی۔ مذکورہ بالا حالات کے ذمہ دار عوامل کے تجزیاتی مطالعے نے جلد ہی اس میں مارکسی و سوویت روس کے نظریات کا رنگ بھر دیا۔ بس میں صدی کی ابتدا میں حقیقت نگاری کے اس رجحان کو زیادہ فروغ ہوا جس پر مارکس سے زیادہ فرائڈ اور وجودیت کے اثرات تھے۔ اسی سے آگے وہ ادبی جدیدیت پیدا ہوئی جس کے بڑے نمائندوں میں جیمس جوائس، ڈبلیو ییٹس اور ٹی ایس ایلیٹ جیسے لوگوں کے نام آتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔
حواشی
(1) Thelli, Frank, A History of Philosophy,1914, pp 168-173
Sartre, “Existantialism is (2) Humanism”, in Kaufmann, Walter, Existantialism, p 289
(3) رابنسن، ڈی ایس، مقدمہ فلسفہ حاضر،ترجمہ: ڈاکٹر میر ولی الدین، ۔ہمارے مطلب کے اعتبار سے اس کتاب کے وہ حصے اہم ہیں جن میں ”حقیقیت” کے مختلف تصورات پر بحث ہے۔
(4) ادبی حقیقت نگاری اور متعلقہ مباحث کا یہ مختصر خاکہ ہم نے J A Cuddon, Dictionary of Literary Terms and Literary Theory , اور خصوصاً The Critical Idiom Series کی کتابوں Damian grant ,Realism ; Lilian, R.furst ,Romanticism سے لکھا ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20