اداروں میں باہمی خلفشار ۔ ۔ ۔ حل کے لیے مشورے اور تجاویز ——– عاطف افتخار بھٹہ

1

اداروں کی کامیابی یا ناکامی میں ملازمین یا ماتحت عملے کا کلیدی کردار ہوتا ہے۔ کسی بھی ادارے کی ترقی و تنزلی کے گراف کا انحصار ملازمین کے درمیان کشمکش اور تنازعات کو نمٹانے کے طریقوں پر ہے کہ آپ ان تنازعات یا مخاصمت کو کس طرح معمول پر لاتے ہیں۔ آج کل ہر بڑے ادارے یاآرگنائزیشن میں علیحدہ ہیومن ریورس(ایچ آر) ڈیپارٹمنٹ موجود ہوتا ہے جو ملازمین کے آپسی یا ان کے افسران کے ساتھ تنازعات کو نمٹانے کا کام کرتا ہے۔ ہیومن ریسورس پروفیشنلزانتشار یا تصادم کی صورت میں ملازمین کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرتے ہیں اور مسائل کا معتدل اور قابل قبول حل کے لیے کوشاں رہتے ہیں اور ادارے کے امور معمول کے مطابق سر انجام دینے کے لیے سرگرداں رہتے ہیں۔ ادارے کے سربراہ کے طور پر آپ کو ملازمین کے درمیان کشمکش یا تصادم کے حل کے لیے تخلیقی اور تزویری(سٹریٹجک) طریقوں سے واقفیت کی اشد ضرورت ہے، یہ نہ صرف آپ کے عملے کے لیے مفید ہوں گے بلکہ ادارے پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ دونوں اطراف کے موقف کو سننے، آپ کے منصفانہ اور شفاف فیصلےاور مسائل کا حل تلاش کرنے کی مخلص کوشش سے دونوں گروہ خوش ہوتے ہیں جو کہ آپ کے ادارے کو درپیش مسائل اور تنازعات کے بروقت اور مناسب حل میں معاون بازو کاکام کرتے ہیں۔

عالمی شہرت یافتہ میگزین فوربز کی ہیومن ریسورس کونسل نے ایچ آر پروفیشنلز کے لیے ملازمین یا عملے کے درمیان تصادم یا خلفشارکے حل کے لیے مفید مشورے اور قابل عمل تجاویز فراہم کی ہیں۔ یہ تجاویز ان سنیئر اور تجربہ کارافراد کے تاثرات اور زندگی کا نچوڑ کہی جاسکتی ہیں۔ آپ بھی ایک ادارے کے سربراہ ہیں اور آپ کو بھی اپنے افراد کارکے تنازعات سے اکثر سابقہ پیش آتا ہوگا۔ اگر تنازع اور کچھاؤ کی فضا برقرار رہے تو ادارے کی ترقی اور آگے کا عمل مشکل ترین کام بن جاتا ہے۔

ایک تعلیمی ادارے کے سربراہ کی حیثیت سے ان تاثرات اور تجاویز کا بغور مطالعہ کیجیے اور دیکھیے کہ آپ ان میں سے کن پر عمل کرکے ادارے کے ماحول (ورکنگ انوائرنمنٹ) کو بہتر سے بہتر بنا سکتے ہیں۔

وسعت نظری اور فراخ دلی کا مظاہرہ کیجیے
جب عملے کے درمیان تصادم یا ٹکراؤ کا سامنا ہو تو مسئلے کی جڑ معلوم کرنے کے لیے فریقین سے کھلے اور قبول ذہن کے ساتھ بات چیت کریں، ہر ایک سے ہمدردی کا اظہار کریں۔ ان کی رائے لیجیے اور فریقین کے موقف کا تجزیہ کیجیے۔ ان کو حوصلہ دیں اور پرسکون رہنے کے لیے آمادہ کریں۔ اہم نکتہ یہ ہے کہ ان کو یقین دلائیں کہ آپ کو سب سے ہمدردی ہے اور اس معاملے کو احسن طریقے سے نمٹائیں گے۔

وکیل بنیے جج نہیں
آپ کے ملازمین یا عملہ سمجھتا ہے کہ آپ کے پاس ایک جادو کی چھڑی یا پٹاری ہے جس میں ہر مسئلے کا حل موجود ہے۔ حالانکہ یہ فارمولہ طویل عرصے کے لیے کارگر ثابت نہیں ہوتا ہے۔ اس صورت حال پر قابو پانے کے لیے آپ کو بطورمنتظم ایک وکیل یا کوچ کا کردار ادا کرنا چاہیے۔ آپ کوچنگ مائنڈ سیٹ اپنائیں نہ کہ مسائل حل کرنے والی مشین بن جائیں۔ اپنے ماتحتوں کی ہمت افزائی کے ساتھ ان کو آمادہ کریں کہ وہ اپنے مسائل کا خود حل تلاش کرنے کی صلاحیت پیدا کریں۔

صبر وتحمل اور غیر جانب دار ی
ملازمین کے درمیان کشمکش یا تنازعات کو حل کرتے ہوئے قبل از وقت فیصلے، مفروضے اور جلد بازی میں جاری کردہ حکم نامے خطرناک نتائج کا سبب بنتے ہیں۔ امکانات کے دروازے ہمیشہ کھلے رکھیں اور ایسے اندازِ تکلم اپنائیں جیسے آپ ان کے جوابات سے لاعلم ہیں۔ یعنی آپ مسئلے کی جزئیات کو تفصیل سے جاننے کی کوشش کریں۔ ایچ آر پروفیشنلز کو غیر جانب دار رہنا چاہیے اور مناسب طور پر صورت حال پر قابو پانا چاہیے۔

آپ حل بنیں نہ کہ مسئلہ
بعض اوقات ایچ آر انتظامیہ کو کسی کی طرف سے سماجی دباؤ کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یاد رکھیے کہ آپ حل کے ذمہ دار ہیں نہ کہ مسئلہ یا مسئلے کا حصہ۔ اس لیے تنازعہ کا شکار تمام افراد کومتفقہ یا مشترکہ مقاصد کی طرف توجہ دلائیں۔ اگر وہ اس پر رضامند ہوں کہ متفقہ یا مشترکہ مقصد کے لیے کام کریں گے اور نئےحل کے خواہش مند ہیں تو پھراختلافی نکات کو نظر اندازکرتے ہوئےبہتر اور مناسب مقصد پر بات کریں۔

ملازمین کے مزاج اور نفسیات سے واقفیت
ایچ آر پروفیشنل کی ذمہ داری ہے کہ وہ ملازمین کے تصادم یا کشمکش کو احسن انداز سے حل کرے۔ اس کے لیے انفرادی سطح پر دوسروں کے مزاج اور تعلقات کی نوعیت کا ادراک مفید ثابت ہوتا ہے۔ سربراہ ادارہ کو چاہیے کہ وہ ملازمین کے شخصی ابلاغ کے فلٹرز یعنی ان کی شخصیت، نفسیات، مزاج، ذہانت وغیرہ سے واقف ہو، تمام متعلقہ افراد کی بات کو توجہ سے سنے اور مسئلے کی جڑ تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ ابتدائی معاونت کے بعد اس معاملے کا فالو اپ بھی لےکہ آیا وہ مسئلہ حل ہوا یا نہیں۔

سنو سب کی۔ ۔ ۔ کرو اپنی
سربراہ ادارہ کو اپنے عملہ کے باہمی خلفشارکے ہر پہلو پر نظر رکھنی چاہیے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہر متعلقہ شخص سے اس کی رائے لیں اور اسے غور سے سنیں کہ وہ اس مسئلہ کو کس طرح حل کرسکتا ہے۔ ہر شخص سے انفرادی طور پر بات کریں اور پھرحتمی حل یا عمومی بات چیت کے لیے تمام متعلقہ افراد کا اجلاس/میٹنگ طلب کریں۔ اس طرح ہر کوئی یہی محسوس کرے گا کہ اس کی بات کو توجہ سے سناگیا اور اہمیت دی گئی ہے۔ اس طرح مسائل کے جلد اور بہتر حل کی طرف سفر آسان ہوجائے گا۔

سچے خیرخواہ بنیے
لوگوں اور نتائج سے متعلق سچے خیرخواہ بنیں۔ لوگ سمجھتے ہیں ثالث یعنی آپ ان کی امنگوں کے مطابق بہتر ممکنہ فیصلہ کریں گے۔ مسئلے کے تمام پہلوؤں اور امکانات کو سمجھنے کے لیے اپنے ردعمل کو ایک طرف رکھتے ہوئے بات کو غور سے سنیے۔ بنیادی مسائل اور ضروری پہلوؤں پر توجہ مرکوز کیجیے اور پھر مثبت نتیجے کے لیے، اپنے بہتر ادراک اور سچی خیرخواہی کی بنیاد پر، ماہرانہ طور پر مسئلے کے حل کی طرف راہنمائی کرنے والے نکات کو بیان کریں۔

حفظِ مراتب کا خیال رکھیے
حفظِ مراتب کا خیال رکھیے، پیشہ ورانہ مزاج اپنائیے اور سچے انسان بنیے۔ پریشانیوں اور چینلجز کا پامردی اور تحمل سے مقابلہ کیجیے۔ یاد رکھیے کہ الفاظ کا برمحل اور حسبِ تقاضا چناؤ آپ کی بات کو باوزن اور پراعتماد بنائے گا۔ “پہلے تولو پھر بولو” کے اصول پر عمل کیجیے۔ آپ کی شخصیت آپ کی گفتگو میں مُضمَر ہے۔ اگر آپ دوسروں کے ساتھ عزت سے پیش آتے ہیں تو نتائج حوصلہ افزا حاصل ہوں گے۔ کوئی ہدایت یا حکم پہنچانے کے لیے ملازمین سے حفظِ مراتب کے مطابق رویہ اختیار کریں یعنی سنیئر اور جونیئر کا فرق پیشِ نظر رہے۔ یہ طرزِ عمل پیغام یا ہدایت میں تو کوئی تبدیلی نہیں لائے گا لیکن اس سے نتایج پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

مستقل مزاج بنیں
جب لوگ شدید ذہنی اضمحلال یاپریشانی اور جذباتی حالت میں ہو تو ان کو غصے اور حالتِ دفاع میں لانا مشکل نہیں ہوتا، وہ ایک ہی نشست میں شکایات اور مسائل کا انبار لگادیتے ہیں جیسے: انتظامی امور، دوسروں کے رویے، ان کالہجہ، اختیارات سے متجاوز ہونا وغیرہ۔ لیکن آپ ایک وقت میں ایک ہی مسئلے کو توجہ مرکوز رکھیں، جب ایک مسئلہ حل ہوجائے تو دوسرے پر غور کریں اسی طرح باقی تمام مسائل کو بتدریج اور صبر و تحمل سے نمٹائیے۔

مسئلے کے حل کا فالو اپ
اکثر ایچ آر پروفیشنلز تنازعات کو حل کرنے کی مہارت تو رکھتے ہیں لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ جب ایک بار معاملات کو قابو کرلیا گیا تو وہ مسئلہ ختم ہوگیا۔ لیکن بعض اوقات معاملات لٹکے رہتے ہیں، اس لیے جب ایک مسئلہ حل ہوجائے تب بھی اس کو وقتاً فوقتاًدیکھتے رہنا چاہیے کہ آیا مزید معاونت اور فالو اپ کی ضرورت ہو تو نہیں ہے۔

اختلاف باعث ِرحمت ہے
اختلافات کا نتیجہ ہمیشہ برا نہیں ہوتا بلکہ کسی ادارے میں صحت مند اختلافات اس کی ترقی اور شہرت کا اہم حوالہ بن جاتے ہیں۔ جب لوگ ایک دوسرے کی عزت کرتے ہیں اور حقائق کو قبول کرنے میں تعامل نہیں کرتے تواس پُرکیف سفر کا آغاز ہوتا ہے جس کی منزل ترقی اور کامیابی ہے۔ اس سفر میں پہلے مشترکہ مقاصد طے پاتے ہیں، پھر امور کار پر تبادلہ خیال کیا جاتا ہے(اکثر اداروں میں اس کی کمی ہے) اور بعض اوقات سمجھوتے کی بھی ضرورت پڑتی ہے۔ ایک اچھا منتظم باہمی اختلافات کو ختم کرنے میں سہولت بہم پہنچاتاہے لیکن صحت مند مقابلے کے لیے کوچنگ بہترین راستہ ہے۔ یعنی مختلف آراء کو ردکرنا ہی واحد حل نہیں ہے بلکہ ان اختلافی آراء کو گفت و شنید سے قابل عمل بنایا جاسکتا ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

دانش ڈیسک سروس

Leave a Reply

1 تبصرہ

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20