قرآن کا نظریہِ علم اور مغرب کا مادی نظریہِ علم —- برہان احمد فاروقی

0

قرآن نے کیا نظریہِ علم عطا کیا ہے؟ اور وہ مغرب کے مادی نظریہِ علم سے کیوں برتر ہے؟

اس کے جواب میں مشکل یہ ہے کہ قرآن کی نسبت ہم یہ طے نہ کریں کہ اس سے ہمیں کس قسم کی ہدایت کی توقع کرنی چاہیے تو ممکن ہے ہم قرآنی علم سے بھی اس مسئلے کو حل کرنا چاہیں جو انسان کی اپنی استعداد سے حاصل ہونے والے علم کا مسئلہ ہے۔ جیسے اس سوال میں ہم یہ جاننا چاہتے ہیں کہ قرآن کا عطا کردہ نظریہِ علم کیا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ قراان مجید کا مسئلہ یہ ہے کہ علمی، اخلاقی، جمالی، مذہبی اور روحانی فضائل زندگی میں پیدا کیسے ہوں گے۔ علمی، اخلاقی جمالی، مذہبی اور روحانی فضائل کی نسبت نظریات کی تشکیل کرنا ہمارا کام ہے۔

یہاں ملحوظ رکھنے کی بات یہ ہے کہ نظریہِ علم سے مراد ہے علم العلم۔ اور علمیات یا علم العلم اس سوال کا جواب ہے کہ علم کی ماہیت کیا ہے؟ اور علم کیوں کر ممکن ہے؟ اور نظریہِ علم کی نشو ونما کی ایک تاریخ اور ایک تدریج ہے۔ اور مغرب میں علمیات کی نشو ونما کی تدریج میں علم کا نظریہ مختلف مدارج سے گزرنے کی بنا پر اپنی ارتقا کے ہر مرحلے پر ایک خاص نوعیت کا حامل رہا ہے۔ اور نظریہ کوئی بھی ہو نظریے کی حد تک وہ ذہنی، عقلی اور بسیط ہی ہو گا۔ نظریہ مادی نہیں ہو سکتا۔ مغرب میں علم کا نظریہ اپنی نشو ونما کی منطقی تدریج میں تین مدارج سے گزر کر دوبارہ التباس کا شکار ہو گیا ہے اور فکری زوال کا موجب ہوا ہے۔

اگر قرآنی علم و ہدایت کی حیثیت صرف اوامرونواہی کے وعظ کی مقصود ہو تو اس سوال کے جواب میں کہ آنحضرت صل اللہ علیہ وسلم کا لایا ہوا اخلاقی انقلاب کیا تھا، صرف صحابہِ کرام کے فضائلِ اخلاق کے قصّے باقی رہ جائیں گے، زندگی عملاً سیکولرزم کے نمونے پر ڈھل جائے گی۔ زندگی کے تمام مسائل کسی اور مروجہ تدبیر سے حل ہو رہے ہوں گے۔ اور مذہبی زندگی کی صرف آرزو رہ جائے گی جو واقعہ نہ بن سکے تو اس علم و ہدایت کی صحت کا یقین کیسے پیدا ہو گا۔

مغرب کی علمیاتی نشونما کے تین مدارج ہیں۔ ایک اثبات۔ دوسرے نفی۔ اور تیسرے تطبیق۔ اثبات کے مرحلے پر موقف یہ ہے کہ عقلِ نظری اور خالصتاً عقلِ نظری ہی ذریعہِ علمِ حقیقت ہے۔ علم قضیہِ تحلیلیہ کا نام ہے اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ کہ صرف معقول ہی حقیقت ہے اور صرف معقولات پر غور کرنا، بسیط حقائق پر غور و فکر میں منہمک رہنا سب سے بڑی غائت ہے۔ نفی کا مرحلہ یہ ہے کہ حواس ہی ذریعہِ علم ہیں۔ اور اس موقف کا نتیجہ یہ ہے کہ صرف محسوسات ہی حقیقت ہیں اور ادراک حسی علم ہے۔ اور تطبیق یہ ہے کہ حواس سے علم کا خام مواد حاصل ہوتا ہے اور عقلِ نظری کے بنیادی تصورات اس مواد کو علمِ مدوّن کی صورت دیتے ہیں۔ اس طرح علم محسوسات تک محدود ہے۔ ماورائے محسوسات کا علم نہیں ہو سکتا، یقین ہو سکتا ہے۔ اس یقین کی اساس یہ ہے کہ اختیار، حیات بعد الموت، کائنات کے اخلاقی نظام ہونے اور خدا کی ہستی کا علمِ مدلل نہ بھی حاصل ہو سکے تو ان حقائق کو ماننا اس لئے ضروری ہے کہ ہمارا اخلاقی نصب العین ان حقائق پر یقین کئے بغیر حاصل نہیں ہو سکتا۔ ولیم جیمز اور جان ڈیوی کا مؤقف یہ ہے کہ محض حواس ذریعہِ علم ہیں اور صرف محسوسات حقیقت ہیں اور اختیار، حیات بعد الموت اور خدا کی ہستی کی نسبت ان دونوں کا مؤقف یہ ہے کہ اگر یہ حقیقت نہ بھی ہوں تو ان کا ماننا اخلاق پر اچھا اثر رکھتا ہے۔ اس لئے انہیں تسلیم کرنا درکار ہے اور ان کا مفید ہونا ہی ان کا حقیقت ہونا ہے۔ اس کا نام ولیم جیمز اور جان ڈیوی کے فلسفے میں (Pragamatism) استنتاجیت ہے۔

قرآن مجید کو ہم نے ماقبل مصحف کی تمثیل پر قیاس کیا ہے اور ہماری نظر صرف مابہ الاشتراک پر ہے مابہ الامتیاز پر نہیں ہے۔ اگر قرآن مجید آنحضرت صل اللہ علیہ وسلم کو یوں مخاطب کرے ’’ماقدری ماالکتاب‘‘ تو ہمیں توریت و زنبور و انجیل سے کچھ زیادہ قرآن مجید میں تلاش کرنا چاہیے۔ اور وہ اس سوال کا حل ہے کہ جس سے قرآن مجید کا خاتم الوحی ہونا ثابت ہو۔ اور وہ سوال یہ نہیں کہ حقیقت کیا ہے؟ اور نیکی کیا ہے؟ بلکہ وہ اس سوال کا جواب ہے کہ حقیقت کے بارے میں رسوخ فی الایمان کیسے میسر آئے اور فضائلِ اخلاق پر استقامت کیسے نصیب ہوگی؟ اس کے بغیر ہم نئی بعثت کی احتیاج سے بے نیاز نہیں ہو سکتے۔  فلسفیانہ نظریات کا مسئلہ یہ نہیں کہ حقیقت کیا ہے؟ بلکہ حقیقت کو حقیقت تسلیم کرنے کی دلیل کیا ہے؟ اور ہر فلسفے پر اس کے غور و فکر کے طریقے سے کچھ قیود عائد ہوتی ہیں جن کی وجہ سے نتائج غلط ہو جاتے ہیں۔

ہمارے ہاں ترتیب یہ نہیں کہ پہلے ایک نظریہ قائم کیا جائے اور پھر اس کے مطابق عمل کیا جائے۔ اس طرح نظریے کے مطابق عمل کو ڈھالنے سے واقعی (Actual) اور معیاری (Ideal) کے درمیان جو فرق ہے وہ مٹتا نہیں اور جب اس میں کامیابی نہ ہو تو شکست خوردگی کا احساس مثبتیت (Positivism) تک پہنچا دیتا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ فضائل کا انکار کر کے صرف واقعات پر اصرار باقی رہ جاتا ہے۔

قرآن مجید صرف نصب العین مہیا نہیں کرتابلکہ نصب العین کے مطابق زندگی کو ڈھالنے کے لئے نفسیاتی محرک (Psychological Derive) بھی مہیا کرتا ہے۔ مگر جب سے ہم نے دینِ کامل کے تصور کو مسخ کر کے اسے چند مابعد الطبیعی عقائد، چند اخلاقی اسباق، چند تمدنی ضوابط، چند معاشرتی اصولوں، چند عدالتی قوانین اور رسوم و ظواہر میں محدود کر لیا ہے، پسندیدہ نتائج کے پیدا ہونے کا اعتماد زائل ہو گیا ہے۔ دین کا تصور ایک اخلاقی ضابطے کے علاوہ اور اور کچھ نہیں رہ گیا، کیونکہ جب سے یہ اخلاقی ضابطہ قوتِ نافذہ کی پشت پناہی سے محروم ہوا ہے، اس کی حیثیت فقہی ضابطہِ حیات کی بھی باقی نہیں رہی۔ یہ دراصل اسلام کی تعلیمات کو ادیانِ سابقہ کی تمثیل پر قیاس کرنے کا اثر ہے کہ وہ محض اوامرونواہی سمجھا جاتا ہے، جس پر صحیح صحیح عمل ہونے کی کوئی ضمانت نہیں ہے۔

اگر قرآنی علم و ہدایت کی حیثیت صرف اوامرونواہی کے وعظ کی مقصود ہو تو اس سوال کے جواب میں کہ آنحضرت صل اللہ علیہ وسلم کا لایا ہوا اخلاقی انقلاب کیا تھا، صرف صحابہِ کرام کے فضائلِ اخلاق کے قصّے باقی رہ جائیں گے، زندگی عملاً سیکولرزم کے نمونے پر ڈھل جائے گی۔ زندگی کے تمام مسائل کسی اور مروجہ تدبیر سے حل ہو رہے ہوں گے۔ اور مذہبی زندگی کی صرف آرزو رہ جائے گی جو واقعہ نہ بن سکے تو اس علم و ہدایت کی صحت کا یقین کیسے پیدا ہو گا۔

قرآن مجید سے جس علم و ہدایت کی ہمیں توقع کرنی چاہیے وہ یہ ہے کہ قرآن مجید جو نتائج پیدا کرنا چاہتا ہے ان کے پیدا ہونے کی کوئی ضمانت ہے یا نہیں۔ اگر ’’یظہرہُ علی الدینِ کلہ ولو کرہَ المشرکین‘‘ کے حتماً پورا ہونے کی ضمانت نہ ہو تو پھر ہمارے پاس کچھ یقین کرنے کے لئے ہے نہ تلقین کرنے کے لئے۔ اور ہدایت رہنمائی نہیں، ایصال الی المطلوب کا نام ہدایت ہے۔

اس لئے قرآن مجید سے جو علم حاصل ہونا چاہیے وہ اس سوال کا جواب ہے کہ قرآن مجید زندگی میں جو انقلاب لانا چاہتا ہے اس پر صبر و استقامت سے جدوجہد کرنے اور اس ہمہ گیر انقلاب کو واقعہ بنانے کی ضمانت کس طریقِ کار میں ہے۔ اور صرف وہی طرقِ کار اسوۂِ مبارک ہے جس کی پیروی سے وہی سیرت پیدا ہو جو صحابہِ کرام میں ہوئی اور ایک بار انقلابِ سیرت کے بعد انحراف نا ممکن ہو جائے۔ نظریات سب نکاتِ بعد الوقوع ہیں۔

(اپنے شاگرد جلیل عالی کے نام ایک خط)

ڈاکٹر صاحب کی شخصیت اور افکار کے لئے یہ بھی پڑھیئے:
 ڈاکٹر برہان احمد فاروقی ۔۔۔۔۔۔ جلیل عالی کی خود نوشت کا ایک باب حصہ 1

یہ مضمون بھی پڑھیے: قرآن کا نظریہ علم و تعلیم —– ڈاکٹر غلام شبیر

 

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20