زندگی کی مسرت کی تلاش میں ——– قاسم یعقوب

0

مشین کی ایجاد کے ساتھ ہی زندگی کا معیاری اور پیمائشی تصور بھی مضبوط تر ہوتا گیا ہے۔ جس طرح مشین اپنے پرزوں اور اندازِ عمل میں معیاری اور پیمائشی تصور رکھتی ہے، انسان نے بھی خود کو اسی تناسب سے محدود اور مکمل بنانے کے چکر میں خود کو غیر ضرروی میکینکل بنا لیا ہے۔ حالاں کہ زندگی کی حرکت کا تصور کسی شے کا حصول نہیں بلکہ خود زندگی کا حصول چاہتا ہے۔ انسانی زندگی سماج کے تکلیف دہ عمل سے گزرنے کے بعد جس شے کے حصول کا دعویٰ کرتی ہے، وہ بھی زندگی ہے۔ لہٰذا زندگی کا آخری حاصل بھی زندگی ہوتا ہے۔ مگر ہم اپنے اردگرد دیکھتے ہیں کہ زندگی کرنے کے اس مشکل عمل میں زندگی نام کی کسی چیز کا حاصل نہیں۔ ہم دن رات ایک بے کار ریاضت انجام دیتے ہیں اور ایک دن مر جاتے ہیں۔ نئے انسان کے پیچیدہ تصورِ حیات نے آسان انسان کا تصور اتنا دھندلا دیا ہے کہ اُسے تلاش کرتے کرتے ہم خود پیچیدہ ہو جاتے ہیں اور کچھ ہاتھ نہیں آتا۔ چارلس ڈارون نے اپنی سوانح (جس کا تعارف برین ریگل (Brain Regal) نے لکھا ہے) نے ایک جگہ اپنا تجربہ بیان کرتے ہوئے کہا ہے:

“I trust one part at least will turn out true, and I shall act as I know think-as a man who dares to waste one hour of time has not discovered the value of life.”
Charles Darwin:The Autobiography of Charles Darwin, Barnes & Noble Books, NewYork, Page 156

یعنی جس نے زندگی کا ایک گھنٹہ ضائع کردیا اس نے زندگی کی قدر و قیمت نہیں جانی۔ کیا زندگی اس قدر پیمائشی ہو سکتی ہے؟ زندگی میں کچھ وقت ضائع کر کے ہم کس چیز کے حصول میں ناکام ہو سکتے ہیں؟ اور ضائع کرنے سے کیا مراد ہے؟ کیا اکیلے بیٹھ کے کچھ وقت اپنے ساتھ گزارنا یا بے کاری میں بیٹھ کے اڑا دینا وقت کا ضیاع ہیں؟ نئے انسان کے مشینی تصور نے وقت کو پیمائشی اورا فادی پیمانوں سے ماپنا شروع کیا تو اسے کچھ وقت اپنے ساتھ گزارنا یا بے کار بیٹھنا بھی زندگی کاضیاع لگنے لگا تھا۔ آج ہم زندگی کو اس قدر پیچیدہ کر چکے ہیں کہ ہمیں زندگی کے معیاری تصور کے بغیر ہر چیز ادھوری لگتی ہے۔ ڈارون کا خیال اگرچہ زندگی کی بے ثباتی کے ایک اور تصور سے جڑا ہوا ہے مگر مجموعی طور پر دیکھا جائے تو حرکت کے جدید تصور نے زندگی کو بے کار قرار دے کے انسان کو اس بے کاری سے نکلنے کے مشورے دینا شروع کر دیئے تھے۔ انسان مرتا تو تھا، اب اس نے ان مشوروں پر عمل کرتے کرتے مرنے میں زندگی کا اصل مقصد تلاش کر لیا یوں اُس کے ہاتھ سے سب سے قیمتی چیز زندگی نکل گئی۔

ہم نے شاید غور نہیں کیا کہ ہمارے اردگرد بہت سارے کام اور پیشے بالکل غیر ضروری اور بلاوجہ ہیں۔ وقت کے جدید تصور اور ہماری غیر ضروری مصروفیات نے ان پیشوں اور کاموں کو ہمارے ساتھ منسلک کر رکھا ہے۔ ہم ان کے ذریعے دوسروں کو منسلک رکھتے ہیں اور وہ آگے دوسروں کو۔ یوں ایک زنجیر بنتی جاتی ہے اور پورا سماج اسی زنجیر میں جکڑا ہوا ملتا ہے۔

پچھلے دنوں میں نے ایک ویڈیو دیکھی جس میں ایک موٹیویشنل سپیکر کالج کی لڑکیوں سے مخاطب تھا اور انھیں نہایت جذباتی انداز سے لیکچر دے رہا تھا کہ آپ کا اولین مقصد زندگی کے مقصد کو دریافت کرنا ہے۔ آپ کے ماں باپ کے کچھ خواب ہیں جن کو پورا کرنے کے لیے آپ کو کچھ کرنا ہے۔ آپ زندگی کو بے کاری میں ضائع کر رہے ہیں۔ پھر وہ بے کاری کے وہ تمام ذرائع بتاتا ہے جن میں بچیاں مشغول رہتی ہیں اور زندگی کے اعلیٰ مقاصد کے حصول سے دور ہوتی جاتی ہیں۔ کیمرہ بچیوں کی طرف جاتا ہے تو تمام بچیاں رو رہی ہیں اور نہایت شرمندگی سے اپنی زندگی پر غور و خوض کرنے کا اہتمام کر رہی ہیں۔

یہ اور اس طرح کے بہت سے تصوارت کا سامنا ہمیں آئے روز کرنا پڑتا ہے۔ ہم زندگی میں کچھ کرنا چاہتے ہیں اور جو کرنا چاہتے ہیں، اس میں زندگی نہیں، باقی سب کچھ ہوتا ہے۔ بڑا آدمی بننا، دولت کا حصول، وقت کا استعمال، ہوٹلنگ، مہنگے کپڑوں اور گھریلو اشیا کی خریداری، دفتر کی دن رات کی مصروفیت، لڑائی جھگڑے میں وقت کا استعال، عدالتیں، وکیل، پراپرٹی ڈیلنگ، کسی کو فتح کرنے کی منصوبے، نئے منصوبوں اور مقاصد کی فہرست سازی پر کام، کاروبار کی تھکا دینے والی مصروفیت اور پیسے کے حصول کے لیے دن رات کوششیں وغیرہ۔ اگر کچھ نہیں کر پاتے تو وہ ایک گھنٹہ ضائع نہیں کر پاتے جسے ڈارون نے زندگی کا ضیاع بتایا ہے۔ اس میں ہمارا قصور نہیں، یہ مشین کے ساتھ نئے انسان نے پیمائشی انسان کے تصور کوجوڑ دیا تھا۔ اس پیمائشی انسان نے عمر اور وقت کو بھی پیمائشی انداز سے دیکھنا شروع کر دیا ہے۔ ہم ہر ہر لمحہ عمر اور وقت کے خاص تصور میں دیکھنے کے عادی ہو چکے ہیں۔ ہم سوچتے ہیں کہ ہماری اتنی عمر اور اتنے سال ہو چکے ہیں اور اتنی زندگی رہ گئی ہے۔ اس وقت انسان ریٹائر ہو جاتا ہے اور اس وقت انسان مر جاتا ہے۔ یہ تصور بھی جدید تصور حیات ہے۔ پہلے انسان وقت کی قید میں ہر چیز کو نہیں سوچتا تھا۔

میرے بڑے بھائی طیب یعقوب نے ایک دفعہ اپنے دفتر کا ایک واقعہ سنایا۔ ان کے دفتر میں کچھ دوست اسی موضوع پر بات کر رہے تھے کہ زندگی بہت مشکل ہو گئی ہے اور اتنی تنخواہ میں گزارا کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ پیسا کیسے زیادہ کمایا جائے تا کہ زندگی کو سہولت سے گزارا جائے۔ ابھی یہ باتیں ہو ہی رہیں تھیں کہ چائے رکھنے کے لیے ادھیڑ عمر ملازم کمرے میں داخل ہوا۔ بھائی نے کہا کہ میں نے ایک دم گفتگو کا رُخ اس طرف موڑ دیا اور اس سے پوچھا۔ رحمت علی تم بتائو، تمھاری کتنی تنخواہ ہے؟ اس نے جواب دیا کہ دس ہزار روپے۔ میں نے پوچھا کہ تمھارے کتنے بچے ہیں اور کیسے گزارہ کر لیتے ہو ان پیسوں میں؟ اس نے جواب دیا کہ الحمد اللہ جی، میرے چار بچے ہیں اور بہت اچھا گزارہ ہو جاتا ہے۔ یہ 2010 کا واقعہ تھا۔ اس حساب سے چار بچوں کے ساتھ گزارہ کرنا اور صرف دس ہزار روپے میں واقعی ایک مشکل حقیت تھی۔ بھائی نے پھر پوچھا کہ رحمت علی کیسے کر لیتے ہو گزارہ، تم دفتر آنے جانے کا خرچہ بھی تو کرتے ہو گے۔ اس نے کہا: نہیں جی، میں نے سائیکل رکھا ہے، اور اسی پر گھر آتا جاتا ہوں۔ ایک سائیکل میرے بچے کے پاس ہے۔ کوئی خرچہ نہیں ہوتا۔

بھائی نے بیایا کہ اس پر میرے سامنے بیٹھے صاحب نے اس سے سوال کیا: آخر گھر میں کچھ دال سبزی بھی تو آتی ہو گی، کھانا بھی تو روز پکتا ہوگا نا۔ اس نے جواب دیا کہ جی کچھ لے آتے ہیں بازار سے، ورنہ گائوں سے سامان آ جاتا ہے۔ وہاں چھوٹے بھائی کے ساتھ شراکت ہے، سبزیاں وغیرہ وہیں سے لے آتا ہوں۔ کچھ زیادہ خرچہ نہیں کرنا پڑتا۔ اب سب مسکرانے لگے کہ واقعی یہ آدمی تو کمال سہولت سے زندگی گزار رہا ہے۔ ایک اور صاحب نے ذرا اُکتا کے اس سے سوال کیا: اور جناب آخر غمی، خوشی پر بھی تو جاتے ہو گے۔ بچے بھی تو سکولوں میں پڑھتے ہوں گے؟ کپڑا لتّا بھی تو بناتے ہو گے؟ کیسے گزارہ کر لیتے ہو، اس دس ہزار میں؟ رحمت علی نے چائے کے کپ میز پر رکھتے ہوئے اپنا آخری جواب دیا: جی میرے بچے سرکاری سکول میں پڑھتے ہیں اور بہترین پڑھ رہے ہیں۔ بڑا بیٹا تو خوب لائق ہے۔ غمی خوشی کا موقع پچھلے چھے سال سے نہیں آیا۔ آئے بھی تو کچھ جوڑ جاڑ کے گزارہ ہو جاتا ہے۔ کبھی دقّت محسوس نہیں ہوتی۔ بھائی نے بتایا کہ ہم سب مسکرانے لگے کہ دیکھو ہم کس قدر خوار ہو رہے ہیں دن رات کی تگ و دو میں اور یہ کس قدر پُر اعتماد اور پر سکون زندگی گزار رہا ہے۔ بلاخر ان سب نے ہنستے ہوئے کہا کہ رحمت علی پھر تو تمھارے پیسے بچ جاتے ہوں گے تنخواہ سے۔ رحمت علی نے بڑے فخر سے بتایا کہ : جی الحمد اللہ ہر مہینے کچھ جوڑ بھی لیتا ہوں۔

آپ یقین جانیے کہ ہم نے اپنے اردگرد جعلی اور غیر ضروری زندگی کا خول چڑھا رکھا ہے۔ ہمیں بیشتر کاموں کی قطعاً ضرورت نہیں ہوتی مگر ہم اس بے کار مصروفیت میں دن رات غرق ہوتے ہیں۔ دن رات پیسے کماتے ہیں اور اُسے نہایت بے کار کام پر صرف کرکے روح پر گہرے داغ ڈال رہے ہوتے ہیں۔

بے کار مصروفیت، غیر ضروری پیشے اور کاروبار دن رات ہماری زندگیوں کو پیچیدہ کرتے جاتے ہیں۔ روح کو اذیت دینے والی خواہشوں کا ایک انبار ہمارے اوپر گرا پڑا ہے اور ہم ان کے نیچے دبے ہوئے ہیں۔ ہمیں کچھ وقت ٹھہر کے اپنے اردگرد دیکھنا چاہیے کہ ہم کس قدر بے کار زندگی کے حصار میں ہیں۔ ہمیں محاسبہ کرنا چاہیے کہ کتنے بے کار کام کر رہے ہیں اور کتنے کام زندگی کی مسرت کے حصول میں گزارتے ہیں۔ فطری زندگی اور ماحول سے کتنا دور جا چکے ہیں۔ ہم کیا سیکھ رہے ہیں اور کیا نہیں سیکھنا چاہیے۔ ہر چیز کی آگاہی ضروری نہیں اورہر چیز سے عدم واقفیت بھی خطرناک ہے۔ ہمیں بہت منتخب اور فیصلہ کن زندگی کے ساتھ زندگی میں اترنا چاہیے۔ یہ تبھی ممکن ہے جب ہم کچھ وقت اپنے ساتھ گزاریں اور کچھ گھنٹے ضائع کرنے کی ہمت کر سکیں۔

آپ دیکھیے کہ ڈارون چوں کہ ایک سائنس دان تھا، وہ زندگی کو کیسے دیکھ رہا تھا جب کہ اسی کے عہد (انیسویں صدی) میں ولیم ورڈز ورتھ اپنی ایک نظم میں کیسے سوچ رہا تھا:

ہم بہت مادہ پرست لوگ ہیں، دیر سے سوتے ہیں اور جلد اٹھتے ہیں

دولت کما رہے ہیں اور خرچ کر رہے ہیں
اس طرح اپنی صلاحیتوں کو ضا ئع کر رہے ہیں

مختلف دیوتائوں کی جھلکیاں دیکھتا اور اپنے آپ کو کم تنہا محسوس کرتا

سمندرر دیوتا کی زیارت کرتا
یا بوڑھے ٹریٹن کی بانسری سنتا

(The World is Too Much With Us)
افادی انسان کے نزدیک یہ بانسری سننا ایک بے کار اور نہایت فضول عمل ہے، کیوں کہ اسے زندگی میں مصروف ہونا ہے اور اس کے پاس ایک گھنٹہ صائع کرنے کی ہمت نہیں۔ آپ دیکھ لیجئے کہ دونوں کا زمانہ ایک ہے مگر ایک شاعر زندگی کی مسرت کو اولین ترجیح دے رہا ہے اور ایک سائنس دان زندگی کی افادی پہلوئوں پر زندگی کی مسرت کو قربان کرنے کا درس دیتا ہے۔

آئیے کچھ وقت ضائع کرنے کی ہمت پیدا کریں اور خوبصورت زندگی کے قریب جائیں تاکہ مسرت کی ابدی طاقتوں کے حصول کے بہترین ذرائع تک پہنچ سکیں۔ ورنہ زندگی کی بے کاری اور غیر ضروری مصروفیت تو ہمیں ایک دن ختم کر ہی دے گی۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20