تاریخِ گُم گشتہ: مائیکل ہیملٹن مورگن —- باب 7، حصہ اول

0

گنبد صخرہ۔ ۔ ۔ مدینہ ازہرہ ۔ ۔ ۔ اور الحمرا

’’ان کے لیے سدا بہار جنّتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہوں گی، وہاں وہ سونے کے کنگنوں سے آراستہ کیے جائیں گے۔ باریک ریشم اور اطلس و دیَبا کے سبز کپڑے پہنیں گے اور اُونچی مسندوں پر تکیے لگا کر بیٹھیں گے۔‘‘ (سورہ کہف، آیت ۰۳)

یروشلم 691 شہر مقدس میں دین ابراہیمی کے تینوں مذاہب جہاں ملتے ہیں، وہاں سونے کا ایک گنبد تعمیر کیا جا رہا تھا۔ نیلے اور سفید ٹائلوں سے مزین آٹھ کونوں والی یہ عمارت، اورسنہرا گنبد فن تعمیرکا شاہکار ہے۔ اس گنبد تلے ایک ٹیلہ ہے، جو یہودیت کی بنیاد ہے، اُن کا عقیدہ ہے اس مقام پر حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ کے حکم سے اپنے بیٹے حضرت اسحاق علیہ السلام کو قربان کرنے والے تھے۔ مسلمانوں کے لیے یہ وہ مقام ہے، جہاں سے محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جبریل علیہ سلام کی معیت میں سفر معراج کیا۔ نبی مہربان صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت کے ساٹھ سال بعد، اموی امیر عبد الملک کے حکم پر 691 میں گنبد صخرہ تعمیر کیا گیا، یہ اس عہد کا پائیدار ترین تعمیری نمونہ ہے۔ آٹھ زاویوں کا یہ عمارتی ڈھانچہ دوہرے ستونوں کے سلسلے پر استوار ہے۔ عمارت کے اندرون حصہ میں عمدہ گُل کاری اور سنہری استرکاری کی گئی ہے۔

جب گنبد صخرہ پر سورج کی کرنیں پڑتی ہیں، شہر مقدس کا حُسن نکھر جاتا ہے۔ دین ابراہیمی کایہ امتیازی نشان تیرہ صدیوں سے اصل قدیم حالت میں قائم ہے۔ عبدالملک کے بعد، مسلم امراء اور حکام انیسویں صدی تک اس کی تزئین وآرائش مسلسل کرتے رہے۔ یہ مسلم فن تعمیر کا شاہکارہے، اس کی تاریخ گُم گَشتہ نہیں، شاید اس کی وجہ اسلام کے علاوہ دیگر دو مذاہب کے لیے اس مقام کا یکساں مقدس ہونا ہے۔ جبکہ بغداد کے فنی شاہکاراور شان و شوکت ہلاکو خان کے ہاتھوں قصہ پارینہ ہوئی۔

اندلس کا ایک تباہ شدہ شاندار شہرقرطبہ تھا، جوایک ہزار سال قبل قائم کیا گیا تھا، آج تاریخ میں کہیں گُم ہے۔ جہاں کبھی زندگی کے رنگ اورونقیں زندہ تھیں۔ آج یہاں آنے والوں کو Sierra Morena کے قدیم پتھروں میں اس کے مٹے مٹے سے آثارملتے ہیں۔ جب المرابطون کے ہاتھوں امویوں پرزوال آیا، بھولے بسرے اشبیلیہ کے محلات پہلے کھنڈراورپھربکھرے پتھرہوگئے۔ یہاں نئی عمارتوں کی بنیادیں اٹھائی گئیں، مسلمانوں کے قلعہ کی جگہ عیسائی بادشاہ پیٹرکا قصراشبیلیہ Alcazar of Seville تعمیر ہوا۔ سین جیرونی موکی خانقاہ اٹھائی گئی۔ سنگ مرمر کے چُرائے گئے ستونوں پرکئی نئے محلات استوار کیے گئے۔ فوارے کئی صدیوں تک گردو وغبارسے اٹے رہے، حوض گندگی سے بھرے رہے۔ یہاں تک کہ اس جگہ کا نام بھی تاریخ میں گُم کردیا گیا۔ وہ دن بھی آیا جب مدینہ ازہرہ ”قدیم قرطبہ” کہلایا۔ کوئی اُس نام کی وجہ تسمیہ تک نہ جانتا تھا، اسیامیرعبدالرحمان سوئم نے سب سے عزیزبیوی زہرہ کے نام سے منسوب کیا تھا۔ زہرہ انتہائی زیرک اور ذہین خاتون تھی۔ اُس کے مشوروں نے ریاست اور سیات کے معاملات میں خاص اہمیت اختیار کرلی تھی۔

یہ خوبصورت شہر ایک میل طویل اورنصف میل سے زائد چوڑا تھا۔ تین نشیبی رستے وادی الکبیرکی جانب نکلتے تھے۔ ایک چڑیا گھراور مچھلیوں سے بھرے چارتالاب بنائے گئے تھے، تین سو حمام خانے تھے، محل سے ملحق چار سوعمدہ رہائش گاہیں تھیں، ایک اسلحہ خانہ تھا۔ شاہی محل فن تعمیرکا حیرت کدہ تھا، جلسہ مشاورت کا ایک بڑا کمرہ تھا جوتراشیدہ شیشوں اوربلور سے آراستہ تھا، جب سورج کی کرنیں ان پرپڑتی تھیں قوس قزح کے رنگ کمرے میں بکھرجاتے تھے۔ ایک اور کمرے کے وسط میں پارہ سیاب کا بہت بڑا کاسہ رکھا گیا تھا، جوسورج کی کرنیں پڑنے پردرودیوارروشن کردیتا تھا۔ اس عظیم طرزتعمیرمیں یہودی سرمایہ کارحصدائی بن شاپرت کا اہم کردارتھا۔ وہ ریاست کا وزیراعظم تھا، اوراس شہرکی تعمیروترقی میں پیش پیش رہاتھا۔

مصر کے قبطی عیسائی مؤرخ المکین نے خلیفہ کے درباری ابن حیان کے حوالے سے اس دور کے فن تعمیر پر تفصیل سے لکھا ہے

’’یہ تیرہویں صدی کا زمانہ تھا۔ عبدالرحمان سوئم کے عہد میں چھ ہزارپتھروں کے چھوٹے بڑے ٹکڑے مختلف شکلوں میں تراشے گئے، اورپھرانھیں چمکایا گیا، ہمواربنایا گیا، اورتعمیرات میں استعمال کیا گیا۔ تقریبا ڈیڑھ ہزارباربردارجانورتعمیری منصوبوں پریومیہ مصروف رہے۔ ہزاروں اونٹ اورخچرمنوں چونا اور سنگ رخائم لاد کرقافلوں کی صورت یہاں سے وہاں آتے جاتے نظر آئے۔ یہ باربردار جانور ہزاروں مثقال ماہانہ کرایے پرحاصل کیے گئے۔ شاہی محل کے لیے چھوٹے بڑے ستون لائے گئے، یا بنائے گئے۔ ان میں سے کچھ روم سے منگوائے گئے، انیس ستون فرانس سے لائے گئے، اورایک سوچالیس قسطنطنیہ کے بادشاہ نے تحفہ کیے۔ سبز اور دیگر رنگوں کے ایک ہزار تیرہ بڑے سنگ مرمر قرطاجنہ تیونس سے لائے گئے۔ دیگراندلس ہی سے حاصل کیے گئے۔ ‘‘

ابن حیان مدینہ ازہرہ کی نیرنگیوں پر مزید لکھتا ہے

’’دو فوارے اورحوض فن تعمیر کا منفرد شاہکار تھے، خاص طورپرچھوٹا فوارہ اعلیٰ فنی نمونہ تھا۔ خلیفہ نے اسے مشرقی دیوان خانہ ال مونس میں نصب کروایا، اور اسے سونے جواہرات سے جڑے مجسموں سے آراستہ کروایا۔ یہ شیر، مگرمچھ، چیل، اور دیگرجانوروں کے مجسمے تھے۔ فوارے کا پانی ان جانوروں کے منہ سے پھوٹتا تھا۔ ‘‘

مدینہ ازہرہ کی شان و شوکت سے گمان گزرتا تھا کہ ہمیشہ یونہی قائم رہے گا، سنگ مرمر سی عمر پائے گا، یہاں کے فنی شاہکاار بربادی سے کوسوں دور رہیں گے۔ مگر یہ صرف پینسٹھ برس ہی مزید جی سکا، یہ عمر تاریخ میں پلک جھپکنے جیسی لگتی ہے۔ مدینہ ازہرہ پرپہلا حملہ شمالی افریقا کے المرابطون نے کیا، یہ بنی امیہ کے طویل اقتدارکا خاتمہ کررہے تھے۔ شہر پر بڑی قیامت گزری، ہرشے برباد ہوئی۔ اس کے بعد جوجس کے ہاتھ لگا وہ تاریخ میں گُم ہوا۔

مدینہ ازہرہ کا شاہی محل نو صدیوں تک بھولی بسری بات بنا رہا، پھر ماہرین اور آثار قدیمہ والوں نے بربادیوں پر پڑے دبیز پردے ہٹائے، اوروہ آثار پائے، جن میں قوس قزح کے رنگ اورسنگ مرمر کی چمک منعکس ہورہی تھی۔ تاہم دیواروں میں جڑے ہیرے موتی کہیں نظر نہ آئے، کہیں کوئی حوض اور مجسمے دکھائی نہ پڑے، کوئی کھجور کا درخت اب یہاں باقی نہ رہا تھا، کوئی بہشتی باغ اور پھول اب یہاں نہ مہکتے تھے۔ محقق اب سوال یہ اٹھارہے تھے کہ کیا واقعی شہزادی زہرہ بھی کوئی ہستی تھی؟ یا اس شہر کے نام کی وجہ تسمیہ کچھ اور ہی ہے، جوتاریخ میں گُم ہوچکی؟

غرناطہ، ہسپانیہ 1492 یہ جنوری کا مہینہ تھا، اُس دن مطلع صاف تھا۔ سرد اور خشک ہوا چل رہی تھی۔ سورج کی کرنیں سرخ اینٹوں سے بنی چھتوں پرماند پڑ رہی تھیں، پہاڑوں پرزندگی کے رنگ پھیکے پڑ رہے تھے، دور سمندرمیں کہیں سائے دھندلارہے تھے۔ نئے عیسوی سال کا آغازہوچکا تھا، ایک نئی دنیا پیدا ہورہی تھی۔ مگروہاں موجود کچھ لوگوں کے لیے یہ دنیا ختم ہورہی تھی۔ ایک مسلم امیر، جس کے آباء زمانوں سے سلطان اور امراء چلے آرہے تھے، نگاہ جھکائے ہوئے تھا، سامنے زوال کا منظرتھا۔ محل کے سامنے عظیم مجمع لگ رہا تھا۔ وہ بالاخانے سے کیتھولک بادشاہ، ملکہ اوردیگرفاتحین کی شاہانہ آمد دیکھ رہا تھا۔ قرمزی وردیوں میں دمکتے چہرے فوج در فوج قطار بنارہے تھے۔ یہ اس سرزمین کے نئے حاکم تھے۔ یہ اُسے اور اُس کے شاہی خانوادے کو شمال میں بہت دور تک رخصت کرنے آئے تھے۔ غرناطہ پرلمحہ سقوط طاری تھا، اورمفتوحین پرموت کا سکوت چھایا تھا۔ بس اب وہ اس مقام پرچند آخری لمحوں سے گزررہا تھا، کہ جومقام اُس کی جائے پیدائش تھا۔ وہ ہسپانیہ میں بنونصرشاہی خاندان کا آخری امیرتھا۔ بنو نصربنو امیہ، المرابطون، اورالموحدون سلسلے کے آخری جانشین تھے۔ چشم تصورمیں، وہ سب اُسے دیکھ رہے تھے، ہرآنکھ سے آنسورواں تھے۔ آج اُن کی جنت کا قلع قمع ہورہا تھا۔ بس اب مسلم اندلس پرزندگی کے چند لمحے باقی رہ گئے تھے۔ کیسا بدنصیب تھا وہ شخص، جوغرناطہ کی کنجیاں دشمنوں کے حوالے کررہا تھا، وہ سب کچھ جوطارق بن زیاد اورعبدالرحمان الداخل نے فتوحات سے سمیٹا تھا۔ آخری دور میں، تاریخ کے تلخ تھپیڑوں نے بنو نصرکوجنوبی ہسپانیہ کے چھوٹے سے افتادہ خطے تک محدود کردیا تھا۔ قرطبہ پرپانچ صدیوں پہلے ہی سقوط آچکا تھا، وہ کیتھلک فاتحین کے قبضہ میں جاچکا تھا۔ تاہم مسلمانوں نے غرناطہ، جوآخری طائفہ تھا، پرکسی نہ کسی طورحکومت برقرار رکھی تھی۔ آخری دوسوپچاس برس، غرناطہ کے مسلم حکمران کاسٹل کے عیسائی بادشاہوں کے محکوم رہے تھے، خراج بھرتے رہے تھے، یہاں تک کہ مسلمانوں کی شورشیں کچلنے میں عیسائی حکمرانوں کے بھرپورمعاون ثابت ہوئے تھے۔ اوراب ناقابل تلافی نقصان کا وقت سر پر آپڑا تھا۔

آخری مسلم امیر، أبو عبد اللہ محمد الثانی عشرہ، جسے عیسائی Boabdil کے نام سے جانتے تھے، فاتحین کے سامنے پیشی کا منتظرتھا، تاکہ غرناطہ کی کنجیاں اُن کے حوالے کرسکے۔ لمحہ بھر کے لیے اس نے پشت نشست پرٹکادی، وہ اپنے شہرکے آسماں پرآخری نظرڈال رہا تھا، شکست خوردگی اُس پرطاری تھی۔ درودیوار پر عربی رسم الخط میں نقش مٹتے نظر آرہے تھے، یہ قرآن کی آیات اور یادگاری شاعری کے نقش تھے۔

مسلم اندلس کے درودیوارعربی خوش نویسی کا شاہکارتھے، جن میں تہذیبی معنویت کندہ تھی، اس معنویت کے بغیر یہ درودیوارکس قدر سپاٹ اوربے جان لگتے! وہ آنے والے برسوں میں اندلس کا بدلتا تشخص تصورکررہا تھا۔ اُس کی نظر اُس عظیم طرز تعمیر پر جارہی تھی، پانچ صدیوں تک یورپ نے جسے نقل کیا، نئے اسپین میں یہ اعلٰی فن تعمیر صدیوں رائج رہا، اور بحر روم کے ساتھ ساتھ سفرکرتا یہ طرز تعمیر اور نقش نگاری، چھتوں سے لٹکتے مقرنص، ہر ایک منفرد فن پارہ تھا۔ وہ ستون جن پرمحرابوں کے سلسلے دور تک چلے جاتے تھے، دلفریب باغات، اور روشیں اُسے سنہرے دنوں کی یاد دلارہی تھیں۔ محل کے کھُلے صحن میں لگا وہ فوارہ، جس کے گرد جواہرات سے جڑے شیروں کے مجسمے دائرہ بناتے تھے، اور ساتھ ہی وہ بڑا سا تالاب، جس کے ساتھ فرصت کی ساعتیں خوب گزرتی تھیں۔

وہ کیا تصور جمال تھا، جس نے یہ طرز تعمیرتخلیق کیا تھا؟ بغداد جودنیا کا مرکز رہا تھا، مدینہ ازہرہ جوایک نئی دنیا کی نوید تھا، محبت کا استعارہ تھا، یہ جگہ جسے عربی میں الحمرا نام دیا گیا، بنونصر کا سرخ محل، جس نے حُسن شناسی میں ماضی کی ساری خوبیاں یکجا کردی تھیں، یہ محل ماضی کا وہ شاندار مزار تھا، جسے دیکھ کر اس ناقابل تردید حقیقت کا ادراک ہو کہ اندلس میں مسلمانوں کے خواب فانی تھے، انھیں ایک دن ختم ہو جانا تھا۔

وقت عبرت آچکا تھا۔ اُسے بالا خانے سے اُترنا تھا، اورتاریخ پربدنما داغ بن جانا تھا۔ سات صدیوں کے بعد، اسلام یورپ سے رخصت ہورہا تھا۔ وہ عربی زبان جولاطینی علم و ادب میں سرایت کرچکی تھی، اجنبی ہونے والی تھی۔

وہ، اُس کا خاندان اور اُس کے لوگ اسپین سے نکالے جا رہے تھے۔ اس موقع پر ایک عینی شاہد نے بشپ آف لیون کو جو خط لکھا، بھرپور منظر کشی کرتا ہے:

’’الحمرا کی سرخ دیواروں پرآویزاں صلیب اورپرچم بہت نمایاں تھے۔ ۔ ۔ مسلم امیرتقریبا سو سواروں کے جلو میں تھا، عمدہ پوشاک پہنے ہوئے تھا۔ اُس نے آگے بڑھ کر، جھک کرفاتحین (ملکہ ازابیلا اوربادشاہ فرڈی نینڈ) کے ہاتھوں پربوسے دیے، جنھیں شایان شان طرزپرقبولیت بخشی گئی۔ انھوں نے امیرکا بیٹا اُس کے حوالے کیا جو اب تک صلیبیوں کا قیدی تھا۔ مزید چار سو قیدی لائے گئے، اس دوران صلیبی ترانہ Te Deum Laudamus گایا جاتا رہا۔ فاتحین نے گھوڑوں سے اترکرصلیب کوبوسہ دیا، فرط جذبات سے اُن کی آنکھیں چھلک رہی تھیں۔ اس تاریخ ساز موقع پرسینتیاگو کے کارڈینل، کاڈیزکا ڈیوک، اور دیگرصلیبی رہنما موجود تھے۔ یہاں ایسا کوئی نہ تھا، جونہ رویا ہو۔ مسلم امیر اور مفتوحین اپنا درد والم چھپا نہ پائے اور یہ ممکن بھی کیسے ہوتا! غرناطہ دنیا کا وہ منفرد اور بے مثال مقام تھا، کہ جس کا نقصان بلاشبہ عظیم سانحہ تھا۔ ‘‘

اس اجتماع کا ایک اور دیکھنے والا تھا، جس کا خاندان شاید کبھی یہودی تھا، مگر اب یہودی نہ رہا تھا (جبرا عیسائی بنا دیا گیا تھا۔ مترجم)۔ وہ آنے والی نئی دنیا کا انسان تھا، وہ ایک نئی دنیا دریافت کرنے والا تھا۔ اُس کا نام کرسٹوفر کولمبس تھا۔ اپنی ڈائری میں وہ لکھتا ہے:

’’مسلمانوں کے خلاف آپ (عزت مآب ملکہ اوربادشاہ) کی جنگ کے بعد، اور عظیم شہر غرناطہ میں جنگ کے مکمل خاتمہ کے بعد، رواں برس 1492، بہ تاریخ 2 جنوری، میں نے دیکھا کہ آپ کے شاہی پرچم الحمرا کے میناروں پرلہرارہے تھے۔ جوکبھی اس شہرکا قلعہ ہواکرتا تھا، میں نے امیر عبداللہ کو شہر کے دروازے پر دیکھا، جہاں اُس نے ملکہ اور بادشاہ کے ہاتھوں کو بوسے دیے۔ ‘‘

جب یہ سب کچھ ہو گیا اور یہ آخری مسلم امیر بھی رخصت ہو گیا، پہلے اسپین کے ساحلوں کی جانب، پھر شمالی افریقا، جہاں پہلے ہی بہت سارے شکست خوردہ یہودی اور مسلمان منتقل ہوچکے تھے۔

مگر یقیناً کسی بلند مقام سے پلٹ کر اُس (امیر عبداللہ) نے الحمرا کی جانب حسرت سے آخری بار دیکھا ہو گا، اور رو پڑا ہوگا۔ اُس کی ماں، جو ایسے لمحات میں تلخ ہو جاتی تھی، مُڑ کر کہا ہو گا

’’تمھیں اُس چیز کے لیے عورتوں کی طرح رونا ہی چاہیے، تم جس کا مردوں کی طرح دفاع نہ کر سکے!‘‘۔

بعد کی تاریخ میں الحمرا کا محل نشان عبرت بن کررہ گیا، جسے تاریخ میں کسی نے یاد رکھنا پسند نہ کیا۔ ایک ایسا نشان جو تاریخ گُم گَشتہ ہوا۔ کسی کو یاد نہ رہا، کہ اس شہرِ شاہکار میں طرز تعمیر کے کیسے کیسے عجائبات ہوا کرتے تھے! آخر وہ دن آیا، کہ جب در و دیوار سے عربی خوش نویسی کے نقوش مٹتے مٹتے مٹ گئے۔

(جاری ہے)

باب چھٹا قسط چہارم کے لیے اس لنک پر کلک کیجے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20