ایک معمہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا —- فرحان کامرانی

0

ہم نے اپنے ابتدائی مضامین میں ہی دعویٰ کردیا تھا کہ فلسفے کہ میدان میں اب تمام علمی بددیانتیوں کے دن گنے جاچکے ہیں اور ہم نے جو کہا وہ کر دکھایا۔ لیکن بات صرف بددیانتیوں کے سدِ باب تک ہی کیوں محدود رہے؟ہم نے سوچا کہ فلسفے کے سارے بڑے بڑے مسائل کا بھی لگے ہاتھوں ہی حل کردیں۔ سو ہمارے جی میں آئی کہ کیوں ناں فلسفے کے سب سے بڑے معمے کو ہی حل کردیں۔ تمہیں معلوم نہ ہوگا اسلئے بتاتے چلیں کہ نطشے اسی معمے پر غور کرتے کرتے پاگل ہوگیا تھا اور اُس نے اپنی مونچھیں بھی کاٹ دی تھیں۔ تم اسے معمولی بات سمجھتے ہو! وہ کوئی عام مونچھیں نہ تھیں بعض لوگوں کے پورے جسم پر کل ملا کر بھی اتنے بال نہیں ہوتے! اسی دیوانگی کی حالت میں اُسنے شوپنہائر کا سر پھاڑ دیا تھا۔ نجانے ہم ہمیشہ یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ کس سے بات کررہے ہیں۔ تم تو فلسفے کا ’ف‘ بھی نہیں جانتے اور ہم نے فلاسفہ کی ذاتی زندگی کی بات شروع کردی! خیرتو ہم اس مسئلے کو حل کرنے میں تذبزب کا شکار تھے کیونکہ ایک تو یہ مسئلہ کافی گھمبیر تھا اور دوسرا یہ کہ مکھی پہ مکھی مارنے کے ماہر فلاسفہ ہمارے دئے ہوئے حل کو تسلیم کرنے سے گریزاں تھے کیونکہ وہ ابھی تک ہمیں ایک درانداز تصور کرتے ہیں۔ لیکن تم جانتے ہو کہ جب ہم کسی کام پر کمر کس لیتے ہیں تو کسی طرح رکتے نہیں! ہمیں معلوم ہے کہ تم تجسس سے ادھ موئے ہوئے جارہے ہو کہ فلسفے کا سب سے بڑا معمہ کیا ہے؟ سو ہم تمہاری مشکل آسان کئے دیتے ہیں۔ لو سنو! فلسفے کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ’مرغی پہلے آئی یا انڈا؟‘

تم جانتے ہو کہ ہمارے اور سقراط جیسے لوگ اپنی ذات کی عمیق ترین گہرائیوں میں غوطہ لگا کر کائنات کی بڑی بڑی حقیقتوں کو پالیتے ہیں۔ اسی لئے ہم سب سے زیادہ اپنے وجدان پر اعتبار کرتے ہیں۔ کوئی کچھ بھی کہتا رہے لیکن ہمارے لئے وجدان ہی سب سے بڑا علمی مخزن ہے۔ اسی لئے بعض اوقات ہم اپنے وجدان سے کتابوں میں لکھے حقائق کو در کردیا کرتے ہیں اور نئے حقائق تک پہنچ جاتے ہیں۔ ہم شاعر نہیں ہیں لیکن بحیثیت تخلیقی فنکار ہم جانتے ہیں کہ وجدان کو تخلیق میں‘ خاص کر‘ افسانہ نگاری میں کیا مقام حاصل ہے۔ میرزا نے فرمایا تھا ’آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میں‘۔ یہ بات غالبؔ یا ہمارے جیسا ہی کوئی آدمی کہہ سکتا تھا۔ تمہیں کیسے سمجھائیں کہ ہمارے عظیم ادبی خاندان میں وجدان کو کیا حیثیت حاصل رہی ہے اور ہم نے کتنے وجدانی ماحول میں تربیت پائی ہے۔ ہمارے یہاں جغرافیے کے حقائق بھی بذریعہ مباحثہ ’طے‘کر لئے جاتے ہیں۔ ہمارے ایک برادرِ کلاں نے اپنی دینی حمیت سے سرشاری اور قدرت کی ودیعت کردہ وجدانی صلاحیت سے مغلوب ہوکر حجازِ مقدس کے رقبے کو کینیڈا اور روس سے زیادہ قرار دیا تھا۔ یہ اتنی بڑی دریافت تھی کہ ہم جھوم اُٹھے اور ہم پر بھی رقعت طاری ہوگئی۔ اُسی وقت ہمارے لبوں سے حضرتِ علامہ کے ایک شعر کا یہ مصرع جاری ہوگیا ’جو ہو ذوقِ یقین پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں!‘۔ اہلِ محفل یہ مصرع سن کر بدمزہ ہوگئے اور کہنے لگے کہ علامہ نے حجاز پر نجانے کتنے شعر کہے ہیں تو ایک غیر موضوع شعر پڑھنے کی کیا ضرورت تھی؟ لیکن ہم انکو کیسے سمجھاتے کہ یہ مصرع بھی وجدانی کیفیت میں ہی منہ سے جاری ہوا تھا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ وجدانی جغرافیہ ایک ایسا فن ہے کہ جو کسی کو بھی محض ذہنی عیاشی کے ذریعے کریسٹوفر کولمبسؔ بناسکتا ہے اور سوچ کے نئے در کھولتا ہے۔

خیر ہم بھی کہاں سے کہاں نکل گئے۔ اب سنو کہ ہم پہ کیا بیتی! لیکن پہلے تمہیں بتاتے چلیں کہ اس مسئلے سے ہماری دلچسپی کی وجہ کیا ہے۔ دراصل ہم بچپن سے مرغوں مرغیوں اور انڈوں کا مشاہدہ کرتے آئے ہیں اور ایک زمانے میں ہمارے والد محترم پولٹری کا سائڈ بزنس بھی کرتے تھے۔ ہم خود بھی علم ِ مرغ بانی پر ایک سند کی حیثیت رکھتے ہیں اور کئی مرغیاں پال چکے ہیں۔ اس علم کے اسرا ر و رموز ہمارے خاندان میں نسل در نسل منتقل ہوتے آرہے ہیں جو کہ ہمیں بھی ورثے میں ملے ہیں۔ بچپن سے ہی ہم علمِ مرغ بانی کے پروگراموں کا بڑا ذوق رکھتے تھے اور ہماری ذہنی تربیت انہی سے ہوئی۔ دوسری بات یہ کہ ہمیں حیاتیاتی ادب اور شکاریات سے گہرا شغف ہے۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ہم مرغی اور انڈا کھانے کاساری عمر کا تجربہ رکھتے ہیں۔ اور اسی لئے ہم سمجھتے ہیں کہ یہ اسرار ہمارے لئے انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ ہم فلسفے سے بھی اتنی ہی محبت کرتے ہیں جتنی علمِ مرغ بانی سے اور ان دونوں علوم کے مردِ میدان ہونے کی حیثیت سے اس مسئلے کا حل ہم ہی ڈھونڈ سکتے ہیں۔ اسلئے ہم تو سمجھے تھے کہ ہمیں کسی کی مدد کی ضرورت نہیں پڑے گی اور آرام سے اس مسئلہ کا حل نکال لیں گے۔ یہی سوچ کر ہم کئی دن تنہا بیٹھے اس مسئلے پر غور کرتے رہے لیکن تم ششدر رہ جاؤ گے کہ ہم کوئی جواب نہ پاسکے۔

جب ہم اس مسئلے کا کوئی حل نہ پاسکے تو سوچا کہ کسی دوسرے سے اسکا حل معلوم کیا جائے۔ تم جانتے ہو کہ جمہوری روح ہم میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے اور ہم نے سن رکھا ہے کہ سقراط بھی غلاموں سے مکالمہ کیا کرتا تھا۔اسطرح وہ بڑے بڑے علمی مسئلے حل کردیا کرتا۔ ہم بھی اسی خیال کے زیرِ اثر پروفیسر ڈاکٹر حاتم طائی اعظمی کے پاس گئے۔ پروفیسر صاحب عزلت گزینی کی زندگی گزارتے ہیں۔ تم سمجھ رہے ہوگے کہ یہ انجکشن لگانے والے یا بچوں کی مسلمانیاں کرنے والے ڈاکٹر ہیں۔ ایسا ہرگز نہیں ہے! یہ وہ ڈاکٹر نہیں کہ جن کے رزق کے فراخ ہونے کی دعا دل سے نہیں نکلتی۔ بلکہ آپ کی آمدن کا دارومدار محض ذہنی عیاشی پر ہے۔ خیر ہم نے آپ سے باقائدہ وقت لیا پھر ملنے گئے۔ ویسے تو اس فن کے ماہر اور بھی بہت سے ہیں لیکن ہم نے آپ کا انتخاب اسلئے کیا کہ آپکا نام حاتم طائی ہے اور حاتم طائی وہ عظیم داستانی کردار ہے کہ جو ہمیشہ ہی کسی سوال کے جواب کو جاننے کی فکر میں رہتا تھا۔ کبھی کوہِ ندا کبھی حمام بادگرد الغرض اسی کشمکش میں اُس عظیم شخص کے روز و شب بسر ہوتے تھے۔ خیر تمہیں داستانوں کا کیا ذوق! سنو ہم نے ڈاکٹر اعظمی سے اپنا غلط تعارف کرایا اسلئے کہ آپ ہمیں اپنا علمی حریف سمجھتے ہیں۔ ہم نے آپ کو بتایا کہ ہم ایک غریب الوطن ہیں اور ایک اسرار کی فکر میں ملک ملک گھومتے آپ تک پہنچے ہیں برائے خدا ہمارے اس سوال کا جواب دیجئے اور اس سائل ِ علمی کا دامن اپنی حکیمانہ زندگی کے ثمر سے بھر دیجئے! لیکن ڈاکٹر صاحب بھی بڑے گھاگ تھے‘ سوالات کی بوچھاڑ کردی۔ پوچھنے لگے کہ جناب شکل و صورت سے تو آپ یوروپی لگتے ہیں لیکن اتنی شستہ اردو آپ کیسے بولتے ہیں؟ کس ملک سے ہیں؟ اُس ملک کے وزیرِ بلدیات اور یوگیندا میں تعینات سفیر کا نام بتائیے؟ ہم انکے سوالات سن کر بوکھلا گئے اور ہکلاتے ہوئے کہا‘کہ جناب ہمارا نام بونیتو ؔ موسیلینی ہے اور ہم اطالوی ہیں۔یوگنڈا سے ہمارے وطن نے سفارتی تعلقات منقطع کر رکھے ہیں اسلئے وہاں کوئی سفیر تعینات نہیں۔ پوچھنے لگے اٹلی نے یوگنڈا سے کب تعلقات منقطع کئے؟ ہما رے پسینے چھوٹ گئے جلدی سے کہا۔ صدرِ یوگیڈا عیدی امین دادؔا کے زمانے میں کیونکہ اُسے یوروپیوں سے عداوت تھی! کہنے لگے یہ تو پرانی بات ہوگئی وہ موصوف تو کئی سال سعودی عرب میں جلاوطن رہ کر اب اس جہاں ِ فانی سے کوچ کرچکے‘ تعلقات اب تک منقطع کس لئے ہیں؟ ہمیں دانتوں پسینہ آگیا‘ گبھرا کر کہا کے ہم نے تو اُسی کے عہد میں اپنے وطن سے کوچ کیا تھا اور تب سے اب تک اہل ِ علم کی جوتیاں اٹھا کر اس اسرار کو پانے کی فکر میں ہیں اسلئے وطن اور اہلِ وطن سے ربطہ بس برائے نام ہے۔ کہنے لگے‘ جناب کیا آپ فاشسٹ ہیں؟ نام کیوں بونیتو موسیلینی رکھ چھوڑا ہے؟ ہم پہلے تو گھبرا گئے‘ پھر گھبراہٹ پر قابو پاکر کہا کہ اصل میں ہمارے والد ماجد صاحب فاشسٹ تھے اسلئے انہوں نے ہمارا یہ نام رکھ دیا ہمیں اُس وقت بولنا نہیں آتا تھا ورنہ ضرور احتجاج کرتے‘ اور حضور آپ کا نام بھی تو حاتم طائی ہے کیا آپ کوہِ ندا کی خبر لائے؟ ویسے ہم تو کسی سیاسی نظرئے کو نہیں مانتے اور وطنی سیاست سے بالکل لاتعلق ہیں۔ کہنے لگے کہ دراصل ہمارے والد کا نام حیدر بخش حیدری تھا وہ تو ہمارا نام‘ اپنے ہمنام کی کتاب کے نام کی مناسبت سے ’آرائشِ محفل‘ رکھنے پر تلے ہوئے تھے بڑی مشکل سے حاتم طائی پر راضی ہوئے۔ہم نے کہا شکر ہے آپ کے والد کا نام میرزا اسداللہ خاں غالب نہیں تھا ورنہ وہ آپ کا نام دیوانِ غالب رکھ دیتے اور لوگ آپ کو پیار سے ’دیوانے‘ دیوانے‘ پکارا کرتے۔ ہمارا مزاق سن کر ڈاکٹر حاتم طائی کھسیائے لیکن فورا ہی ہم پر پھر سے غالب آنے کی فکر میں لگ گئے۔پوچھنے لگے اٹلی میں کتنے صوبے ہیں؟ ہم نے بتایاکہ اٹلی میں بیس صوبے ہیں۔یہ سن کر حیران ہوئے کہنے لگے ہم نہیں جانتے تھے کہ اٹلی اتنا بڑا ملک ہے!ہمارے غریب ملک میں تو صرف چار صوبے ہیں۔تھوڑے توقف کے بعد کہنے لگے کہ دورانِ تعلیم ہم بھی کئی سال اٹلی میں ر ہ چکے ہیں۔ ہم نے خوشی کا اظہار کیا اور پوچھا کہ کون سے شہر میں رہے ہیں؟ کہنے لگے کہ برلن، ماسکو، میونخ اور بارسلونہ میں، پھر چہک کر بولے کہ ’بھئی تمہارا ملک بڑا ہی پیارہے!‘ ان انکشافات سے ہم پر القا ہوا کہ ڈاکٹر حاتم طائی اعظمی بھی وجدانی جغرافیے کے اماموں میں شمار ہوتے ہیں۔ اور ہمارے چہرے پر ایک مسکراہٹ نمودار ہوئی۔ انکی معلومات کے ماخذ تک رسائی کے بعد ہم پرسکون ہوگئے اور اچانک ہمیں یوگنڈا میں تعینات اٹلی کے سفیر کا نام یاد آگیا۔ہم نے اُنہیں بتایا کہ سفیر ِ محترم کا نام دانتے الیگیری ؔہے آپ کی وجہ شہرت آپ کی معروف کتاب ’ڈوائن کامیڈی‘ ہے جو کہ کامیڈی کی دنیا میں ایک شاہکار تصور کی جاتی ہے۔ کہنے لگے کہ‘ اوہ اچھا آجکل دانتے صاحب یوگنڈا میں ہوتے ہیں! ہم نے بھی انکا نام سن رکھا ہے انکو ادب کا نوبل انعام بھی ملا ہے کیا؟ ہم نے بتایا کہ ابھی تک نہیں ملا۔ ڈاکٹر صاحب مسکرائے اور کہنے لگے کہ یہ وہی تو نہیں جو ساتھ ساتھ سیاح بھی ہیں اور چین بھی گئے تھے جہاں انہوں نے آجہانی چیر مین ماؤزے تنگؔ سے ملاقات کی تھی اور انہیں ’خانِ اعظم‘ کا خطاب دیا تھا؟ہم نے انہیں یہ بتاکر انکی غلط فہمی دور کردی کہ وہ ایک اور صاحب ہیں موصوف کا نام مارکوپولو ؔ ہے آپ آجکل اٹلی کے وزیر برائے فروغِ سیاحت ہیں۔ اب اس دوستانہ طبادلہئ خیال کے بعد ہم میں اور ڈاکٹر حاتم طائی اعظمی میں بڑی ہی قربت ہوگئی آپ نے مسکراتے ہوئے ہماری تعریف کی اور کہنے لگے کہ‘ ہمیں حیرت ہے‘ جناب موسیلینی صاحب کہ آپ اٹلی جیسے ملک میں بھی اپنے سوال کا جواب نہ پاسکے حالانکہ وہاں نیوٹن، ڈارون، فرائڈ، مارکس، اور ارسطو جیسے لوگوں نے جنم لیا۔ ہم نے کہا کے حقیقت یہ ہے کہ ہمارے وطن میں اب وہ ماضی والی کوئی بات نہیں ہے اسی لئے ناچیز کو دیارِ غیر کی خاک چھاننی پڑی۔ خیر اب جب ڈاکٹر صاحب سے گفتگو نہائت دوستانہ ہوگئی تو ہم نے اپنا سوال داغ دیا کہ جناب مرغی پہلے آئی تھی یا انڈا؟ یہ سوال سننا تھا ڈاکٹر صاحب کو نجانے کیا ہوگیا اچانک تیش میں آگئے اور ہمیں کاٹ کھانے والے انداز میں گھورنے لگے۔ پھر گویا ہوئے یہ جاننا انسان ے لئے مطلقاً غیر ضروری ہے کہ مرغی پہلے آئی تھی یا انڈا‘اہم یہ ہے کہ مرغی اور انڈے کو کس کس طرح پکایا اور کھایا جاسکتا ہے۔ ایسے فضول مباحث اب فلسفے میں ازکارِ رفتہ ہوچکے ہیں اور لگتا ہے کہ آپ کو فلسفہئ جدید سے کوئی آگاہی نہیں۔ہم نے کچھ کہنے کی جرأت کی اور ڈرتے ڈرتے کہا کہ لیکن اگر یہ رویہ ہمارا ہموطن نیوٹن اپناتا تو سیب کے گرنے کی وجہ جاننے کے بجائے سیب اُٹھا کر کھاجاتا یا اُسکے جام یا شراب بنانے کے نت نئے طریقے سوچتا کیا اسطرح علوم کو وہ ترقی حاصل ہو پاتی جو انہیں حاصل ہوئی؟ یہ سن کر تو آپ اور چراغ پہ ہوئے کہنے لگے کیا اُسکے سیب نہ کھانے سے سیب زمین پر گرنا بند ہوگئے؟ نیوٹن بھی تمام اطالویوں کی طرح احمق تھا! اور احمقوں کی صحبت ہمیں برداشت نہیں اسلئے آپ تشریف لے جائیے۔ ہم نے ڈاکٹر صاحب کو سمجھانے کی بڑی کوشش کی حد تو یہ کہ آپ کو اطالوی میں بھی سمجھایا کہ، ” il professore! e’ un stupido! e’ un cane!”

لیکن آپ مزید چراغ پہ ہوگئے کہنے لگے کہ ’ہمارے لئے اپنی مادری زبان میں ماں بہن کی گالیاں نکالتا ہے! نکل جا ہمارے مکان سے ورنہ ہم بہت بُری طرح پیش آئیں گے!‘القصہ ’نکلا خُلد سے آدم کا سنتے آئے تھے لیکن۔۔۔۔ بڑے بے آبرو ہوکر تیرے کوچے سے ہم نکلے!‘

خیر ہمارے جیسے حقیقی مفکر کو ایسی چھوٹی چھوٹی باتیں مغموم نہیں کرتیں۔علم کی تلاش میں ہم کہیں بھی جاسکتے ہے کچھ بھی کرسکتے ہیں!ایک در بند‘سو در کھلے۔ یہاں سے نکل کر ہم ڈاکٹر مقدس احمد کے پاس گئے۔ آپ ایک معروف تاریخ دان فلسفی ہیں اور تاریخ کی بلدیاتی مادیت کے اصول سے تشریح کرتے ہیں۔ اب تم سے کیا پردہ ہم نے ا ن سے بھی اپنا جھوٹا تعارف کرایا۔ آپ ہم سے مل کر بہت خوش ہوئے اور پوچھنے لگے کہ جناب یہ تو ہمیں آپ نے فون پر بتادیا دیا تھا کہ آپ یوروپی ہیں لیکن آپ کا حقیقی وطن کونسا ہے؟ ہم نے گنگنا کر کہا:

ہٹلر نے جس زمیں پر ملت کا گیت گایا
المانیوں نے جسکو اپنا وطن بنایا
قدرت نے جسمیں نطشےؔ اور مارکسؔ کو اُگایا!
میرا وطن وہی ہے میرا وطن وہی ہے!
یہودیوں کا جس نے مشکل کیا تھا جینا
برطانیہ کا آکر ڈوبا جہاں سفینہ
میرا وطن وہی ہے میرا وطن وہی ہے!
اے رودبارِ انگلش وہ دن ہے یاد تجھ کو پہنچا تیرے کنارے جب کارواں ہمارا!

 اس نظم کو سن کر ڈاکٹر مقدس احمد پر رقعت طاری ہوگئی آپ نے جھوم کر داد دی۔ اور ہم زیرِ لب مسکرائے اور اپنی اس فل بدیع نظم پر خود بھی حیران ہوئے۔ پھر اچانک ڈاکٹر صاحب جیسے ہوش میں آگئے اور ہم سے کہنے لگے اس نظم سے فسطائیت اور نسل پرستی کی بو آتی ہے اور بلدیاتی مادیت انسانوں کو قومیتوں میں تقسیم کرنے کے سخت خلاف ہے۔ اب ہمیں تھوڑا خوف محسوس ہوا ہم نے گھبرا کر کہا کہ یہ نظم ہماری کب ہے۔ پوچھنے لگے کس کی ہے۔ ہم نے بتایا کہ یہ تو ایک لوک گیت کا ترجمہ ہے۔ اب ڈاکٹر مقدس کو کچھ اطمینان ہوا۔ آپ نے ہمیں غور سے دیکھ کر ہمارا اسمِ گرامی دریافت کیا۔ اب ہم گھبرا گئے اسلئے کہ نام سوچنا ہم اس مرتبہ بھی بھول گئے تھے۔کوئی نام ذہن میں نہ آیا۔ وہ ہمیں عجیب انداز سے گھور رہے تھے ہم نے اسی گھبراہٹ میں کہہ دیا کہ ہمارا نام کارل مارکس ہے۔ آپ نے تعجب سے ہمارا نام دہرایا اور آپ کے چہرے پر خوشی کی لہر دوڑ گئی آپ نے چہک کے کہا’ابا حضور!‘ اور ہم سے لپٹ گئے۔ ہمارے ماتھے کا بوسہ لیا اور پوچھنے لگے کہ ہم اتنے کمزور کیسے ہوگئے اور داڑھی کب صاف کردی؟ ہم انکے سوالات سے گھبرا گئے اور چہرے پر ایک جعلی مسکراہٹ لاکر کہا کہ’ہماری بات چھوڑو بیٹا اپنی سناؤ‘ لیکن آپ عجیب عجیب سوالات کرنے لگے پوچھنے لگے کہ آپ تو مرگئے تھے پھر زندہ کیسے ہوگئے؟ اب ہم تیش میں آگئے اور پوچھا کہ کس دشمن نے اُڑائی کہ کارل مارکس مرگیا؟ کہنے لگے کہ ہم تو بچپن سے یہی سنتے آئے ہیں اسی سے ہر سال آپ کا عرس مناتے ہیں اور لال لبادہ پہن کر تصویریں کھنچواتے ہیں۔ ہم نے کہا بیٹا یہ سب سرمایہ داروں‘ جاگیرداروں اور کلیسا کی ہمارے خلاف سازش ہے تم تو دیکھ ہی رہے ہو کہ ہم الحمدللہ بقید حیات ہیں۔ پھر پوچھنے لگے کہ آپ نے داڑھی کیوں کٹوادی؟ ہم پریشان ہوگئے کہ کہیں بھانڈا نہ پھوٹ جائے۔ گھبرا کر کہا کہ دراصل ہم روپوش ہیں اور ایک انقلابی دورے پر پاکستان آئے ہیں۔ اب تو انکی خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی اور ہم سے پوچھنے لگے کہ کیا ہم انکو اپنا دستِ راست بنانے آئے ہیں۔ ہم نے جان چھڑانے کو تائید میں سر ہلادیا۔ اب تو وہ بلائے جان ہوگئے زبر دستی ہمارے ساتھ نجانے کتنی تصاویر کھنچوالیں کئی آٹو گراف لے لئے اور تو اور ہم سے ہمارے کپڑے مانگنے لگے کہ تبرک کے طور پر اپنے پاس رکھیں گے تمہیں کیسے سمجھائیں کہ کتنی مشکل سے ستر پوشی ممکن رہی۔ ہمارے پاؤں کے دھون کا شربت بنا کر خود بھی پیا اور ہمیں بھی پلایا۔ پھر اس بات پر مصر ہوگئے کہ ہم انکے گھر رات کو قیام کریں۔ ہم نے بھی حامی بھر لی کے شائد اسی بہانے ہمیں اپنے فلسفیانہ مسئلے کا جواب مل جائے۔ رات کو دیر تک ہمارے پاؤں دباتے رہے ہم نے موقع غنیمت جانا اور ڈاکٹر صاحب سے پوچھا کہ ’بیٹا ایک فلسفیانہ مسئلہ ہمیں کافی دن سے ستارہا ہے تم ہی کچھ مدد کرو۔‘ کہنے لگے ’فرمائیے ابا حضور!‘۔ ہم نے اپنا سوال پیش کردیا کہ ’مرغی پہلے آئی یا انڈا‘۔ یہ سننا تھا کہ ڈاکٹر صاحب نے اپنے ہاتھ ہمارے پاؤں سے اُٹھا لئے اور غصے سے ہماری جانب دیکھا۔ پھر پوچھا کہ ’کیا آپ سٹھیا گئے ہیں؟ اس سوال کا فلسفے سے کیا علاقہ ہے؟ یہ تو حیاتیاتی مسئلہ ہے اور اگر یہ فلسفے کا مسئلہ ہے تو آپ بہتر جانتے ہونگے مجھ سے کیوں پوچھتے ہیں؟ ‘انکے لہجے سے عقیدت کہیں غائب تھی۔ ہم گھبرا گئے۔ ایسے میں ڈاکٹر صاحب کا نوکر کمرے میں داخل ہوا اور اُسنے ڈاکٹر صاحب کو بتایا کہ ڈاکٹر حاتم طائی اعظمی کا فون آیا ہے۔ہم یہ سن کر خوف سے کانپنے لگے اور ڈاکٹر مقدس کے چہرے پر ایک مسکراہٹ نمودار ہوئی آپ نے کہا کہ وہ یہ مسئلہ ابھی ڈاکٹر اعظمی سے پوچھ کر ہمیں بتا دیں گے۔ اب تو ہماری بالکل ہی جان نکل گئی۔ ادھر ڈاکٹر مقدس کمرے سے باہرنکلے اور ہم نے وہاں سے دوڑ لگائی۔ بڑی مشکل سے انکے گھر سے فرار ہوئے۔
یہ سب تمہیں اسلئے بتا رہے ہیں کہ تم عبرت پکڑو! دیکھا تم نے! صرف سچ کی تلاش میں ہم نے کیسی کیسی مشکلات برداشت کیں۔جب ان دونوں جگہ ناکامی ہوئی تو کسی تیسرے تجربے کی ہمت نہ پڑی۔ ہم نے اس مسئلے کا حل ایک مرغی والے پوچھ لیا کہ ’بھائی پہلے مرغی آئی یا انڈا اس نے ہمیں غور سے دیکھا پھر کہا کہ نہ مرغی نہ انڈا اور نہ ہی مرغا‘۔ ہمارا تجسس اور بڑھا ہم نے پوچھا کہ پھر کیا آیا اُسنے کہا ’چوزہ!‘ اور ہمیں فلسفے کے سب سے بڑے مسئلے کا حل مل گیا!
(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20