میں ایک راہ گزر کی تلاش میں ——– سعید عباس سعید

0

حیرت سامانی، جستجو، تلاش۔ ۔ ۔ زندگی انہی لفظوں سے عبارت ہے۔ ہر لمحہ کسی دوسرے لمحے کے سراغ میں محوہے۔ ہر زمانہ کسی دوسرے زمانے کے تعاقب میں ہے۔ ہر دن رات کو کھوجتے ہوئےغروب ہو جاتا ہےاور ہر رات صبح کی تلاش میں سرگرداں دم توڑ دیتی ہے لیکن ان سب کی تلاش سہل ہے۔ ۔ آسان ہےکیونکہ ان کے پاس راستہ تو ہے، منزل نہ سہی۔

مستنصر حسین تارڑ کہتے ہیں کہ پانی پر چلنا آسان ہوتا ہے۔ کسی مردہ شخص کے چہرے پر پھونک کر اسے پھر سے زندہ کرنا ایک معمول ہوتا ہے لیکن وہ کونسا راستہ ہے جسے اختیار کرنا ہے۔ اس سے دشوار اور کوئی عمل نہیں ہوتا کہ ہر کسی کا راستہ الگ اور ذاتی ہوتا ہے اور وہ اس یقین کی زنجیروں میں ہمیشہ کے لیے، پیدائش سے دم ِآخر تک، اسیر ہوتا ہے کہ جس راستے پر میں نے قدم رکھا ہے بس وہی وہ سیدھا راستہ ہے جو مجھے میرے عقیدے کی چوٹی پر لے جائے گا۔

مظاہرِ قدرت اس سلسلے میں خوش قسمت ہیں کہ ان کے لیے راستہ متعین ہے انہیں راہگزر کے انتخاب کے جانگسل مرحلے سے نہیں گزرنا پڑتا۔ منزل کیا ہے؟راستہ کہاں جاتا ہے؟سفر کتنا ہے؟۔ ۔ ۔ یہ سب بعد کی باتیں ہیں۔ ۔ بنیادی بات راستے کا علم ہونا ہے۔ انسان کا المیہ یہ ہے کہ اسے منزل کی تو خبر دے دی گئی ہے لیکن راستے کا انتخاب اس پر چھوڑ دیا گیا ہے اور اس پر مستزاد یہ کہ راستے بھی بے شمار ہیں۔ ہر راستہ ہی سیدھاراستہ سجھائی دیتا ہے۔ ۔ ہر راہ ہی منزل کا پتہ دیتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ ان میں سے صراطِ مستقیم کا تعین کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے اور جب کوئی پورے یقین کے ساتھ ایک راہ چن لیتاہے تو پھر اس کے لیےخود کو گمراہ تصور کرنا یاتسلیم کرنا ایک آزمائش سے کم نہیں ہے۔ انسان کا یہی چنیدہ راستہ اس کی زندگی کی فلاسفی، اس کےنظریہ حیات اور اس کے عقیدےکو متشکل کرتا ہے۔

انسان کے لیےاپنے عقیدے، نظریے یا فلاسفی کا بطلان تسلیم کرنا بہت مشکل اور پیچیدہ مرحلہ ہوتا ہے۔ جب مسافر کو راستے میں خبر ہوتی ہے کہ یہ راستہ کوئی اور ہےتو اس کے لیے یہ مان لینا آسان نہیں ہوتا ہے کہ اس کا اب تک کا سفر رائیگاں رہا۔ ایسی صورت میں دو طرح کے ردِ عمل سامنے آتے ہیں؛ ایک تو یہ کہ انسان اس حقیقت کو سراسر رد کر دیتا ہےکہ وہ غلط راستے پر ہے اور وہ اپنی گمراہی پر قائم رہتا ہے، ڈٹ جاتا ہے یااڑا رہتا ہے۔ ۔ ایسے لوگ بظاہر جتنے بھی مضبوط معلوم ہوں اندر سے کھوکھلے اور کمزور ہوتے ہیں۔

اپنی گمراہی کے احساس کا دوسرا ردِ عمل یہ ہو سکتا ہے کہ انسان اس حقیقت کے ادراک کے بعد کہ غلط راستے پر ہے، دوبارہ رختِ سفر باندھے، ایک نئے راستے کا انتخاب کرے اور ایک نئے حوصلے اور نئے ولولے کے ساتھ از سرِ نو عازمِ سفر ہو جائے۔ ۔ ایسے لوگ اندر سے مضبوط اور کھلے دل و دماغ کے حامل ہوتے ہیں۔

میں ایک راہ گزر کی تلاش میں ہوں مگر
تلاش کرتی ہے مجھ کو بھی رہ گزر کوئی

اپنی چنیدہ راہ کے بطلان پر اوّل الذکر قسم کا ردِ عمل ظاہر کرنے والے افراد کی زیادتی کسی معاشرے میں عدم برداشت، شدت پسندی اور انتہا پسندی جیسے امراض کو جنم دیتی ہےاور ثانی الذکر قبیل سے تعلق رکھنے والے افراد کی افراط معاشرے کو برداشت، رواداری، یگانگت اور ہم آہنگی کے پھولوں سے گل و گلزارکر دیتی ہے۔ ۔ ہمارے ٹاک شوز اور سوشل میڈیا پر ہر روز ہونے والے تماشے کا ایک سطحی سا جائزہ بھی ہمارے اوپر یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں کر دیتا ہے کہ ہمارا معاشرہ کس جانب روبا سفر ہے۔ ہر کوئی اپنے راستے کو صحیح راستہ قرار دے رہا ہے۔ اور اپنے نظریے کو درست نظریہ اور اپنی سوچ کو حتمی سوچ نہ صرف مانتا ہے بلکہ منوانا بھی چاہتا ہے۔ ہم وہ لوگ ہیں جن کے لیے راستہ منتخب کرنا ہی ایک نہ حل ہونے والا مسئلہ بنا ہوا ہے۔ ۔ ۔ منزل تک پہنچنا تو دور کی بات ہے۔ آئیے ذرا اپنی سوچ کے زاویے بدلیں اور زندگی کو نئے انداز میں گزارنے کی راہ تلاش کریں۔

منزلیں ہم کو کیا ملیں گی سعؔید
ہم کو تو راستہ نہیں ملتا

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

دانش ڈیسک سروس

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20