حرّیت کیا ہے؟ کلامِ اقبال کی روشنی میں ِ حرّیت اور جذبہء حریت کی وضاحت (حصہ دوم) ——– افضل رضوی

0

گزشتہ سے پیوستہ:
تصحیح۔۔۔يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالْأُنثَىٰ بِالْأُنثَىٰ ۔۔۔۔﴿البقرة: 178﴾

علامہ اسرارِ خودی میں اپنی نظم ”الوقت ُ سیف‘ُ“ کے عنوان سے مردِ حر کی خوبیوں کا بیان کچھ یوں کرتے ہیں

مردِ حر خود رازِ گُلِ بر می کند
خویش رابر دوز گاراں می تند

سینہ آزادہ چابک نفس
طائرِ ایام را گردو قفس

دم بدم نوآفرینی کارِ حر
نغمہ پیہم تازہ ریزد تارِ حر

فطرتش رحمت کشِ تکرار نیست
جادہ او حلقہ پرکار نیست

ہمت ِ حُر با قضا گردد مشیر
حادثاتِ از دستِ او صورت پذیر

رفتہ وآئندہ در موجود او
دیر ہا آسودہ اند ر زودِ او

۱۔مردِ حر اپنے آپ کو مٹی سے باہر نکالتا ہے اور زمانے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔
۲۔مردِ حُر کا پُر عزم سینہ،طائر ایام کے لیے بمنزلہ قفس ہے۔
۳۔حُر کا کام ہر لمحہ ایک نئی چیز پیدا کرنا ہے۔اس کے ساز کے تار سے ہمیشہ تازہ نغمے پھوٹتے ہیں۔
۴۔اس کی فطرت تکرار کی خوگر نہیں۔اس کا راستہ پرکار کا دائرہ نہیں۔
۵۔آزاد کی ہمت تقدیر کی مشیر بن جاتی ہے۔زمانے کے واقعات اس کے ہاتھ سے صورت اختیار کر لیتے ہیں۔اس کا حال،ماضی و مستقبل دونوں کا آئینہ ہے۔اس کے فوری فیصلوں میں دور رس اثرات پائے جاتے ہیں۔

علامہ مردِ حر کی خوبیوں کو مثنوی ”پس چہ باید کرد اے اقوامِ شرق“ میں یوں بیان کرتے ہیں۔

مردِ حُر اس لاالہ روشن ضمیر
مردِ حُر کا ضمیر لا الہ سے روشن ہے

می نہ گرددبندہ سلطان و امیر
وہ کسی بادشاہ یا امیر کا غلام نہیں

مردِ حُر چوں اشتراں بارے برد
مردِ حُر اونٹ کی طرح بوجھ اٹھاتا ہے

مردِ حُر بارے برد خارے خورد
اور کانٹے کھا کر گزارہ کرتا ہے

پائے خود راآنچناں محکم نہد
وہ(رازِ حیات میں)اتنی مضبوطی سے قدم رکھتا ہے

نبضِ رہ از سوزِ او برمی جہد
کہ اس کے سوز سے راستے کی نبض تیز ہو جاتی ہے۔

جانِ او پایندہ ترگردو زموت
موت سے اس کی جان پائندہ ہوجاتی ہے۔

بانگِ تکبیرش بروں از حرف و صوت
اس کی بانگِ تکبیر الفاظ اور آواز میں نہیں سماتی۔

سِرِّ دیں مارا خبر او را نظر دین کا راز
ہمارے لیے سنی سنائی بات ہے اور اس کے لیے مشاہدہ ہے

او درونِ خانہ،ما بیرونِ در
گویا وہ گھر کے اندر ہے اور ہم دروازے سے باہر کھڑے ہیں۔

ما کلیسا دوست!ما مسجد فروش!
ہم کلیسا کے دوست اور مسجد فروش ہیں۔

اوز دستِ مصطفی ؐ پیمانہ نوش
اور وہ حضور اکرم ﷺکے دستِ مبارک سے شراب (الست)پیتا ہے

قبلہ ما گہ کلیسا،گاہ دیر
ہمارا قبلہ کبھی کلیسا ہے اور کبھی بت خانہ

او نخواہد رزقِ خویش از دستِ غیر
لیکن وہ غیر اللہ سے رزق کا طالب نہیں ہوتا۔

ما ہمہ عبدِ فرنگ او عبد ہ
ہم سب فرنگیوں کے بندے ہیں اور وہ اللہ تعالیٰ کا بندہ ہے

او نہ گنجد درجہانِ رنگ و بو
(اس لیے)وہ اس جہانِ رنگ و بو میں نہیں سماتا۔

صبح و شام ما بہ فکرِ ساز و برگ
ہم صبح و شام رزق کی فکر میں رہتے ہیں

آخرِ ما چیست؟ تلخیہائے مرگ
ہمارا انجام کیا ہے؟ موت کی تلخی

د ر جہانِ بے ثبات او را ثبات
اس جہانِ بے ثبات میں صرف مرِ حُر کو ثبات ہے

مرگ او را ازمقاماتِ حیات!
موت اس کے لیے زندگی کے مقامات میں سے ایک مقام ہے

اہل دل از صحبتِ ما مضمحل
ہماری محبت سے الٹا اہلِ دِل پراگندہ خاطر ہو جاتے ہیں

گل ز فیضِ صحبتش دار اے دل
اس کی صحبت کے فیض سے مٹی بھی صاحب دِل ہوجاتی ہے

ما گدایاں کوچہ گر دو فاقہ مست
ہم کوچہ گرد اور فاقہ مست گدا ہیں۔

فقرِ او از لاالہ تیغے بدست
اس کا فقر لاالہ کی تلوار،ہاتھ میں لیے ہے

صحبتِ از علم کتابی خوش تر است
بندگانِ خدا کی صحبت کتابی علم سے بہتر ہے

صحبتِ مردانِ حُر آدم گر است
مردانِ حُر کی صحبت آدمی کو انسان بنا دیتی ہے

مردِ حُر دریائے ژرف و بیکراں
مردِحُر عمیق اور بے کراں سمندر ہے

آب گیر از بحرو نے از ناو داں
پرنالوں کو چھوڑ اور اس بحر سے پانی حاصل کر

سینہئ ایں مرد می جوشید چو دیگ
ایسے مرد کا سینہ دیگ کی مانند جوش مارتاہے

پیشِ او کوہِ گراں یک تودہ ریگ!
اس کے سامنے کوہِ گرا ں بھی ریت کا تودہ ہے

روزِ صلح آں برگ و ساز ِ انجمن
صلح کے ایام میں وہ رونقِ انجمن اور

ہم چو بادِ فرو دیں اندر چمن
باغ کے اندر بادِ بہار کی مانند ہے

روزِ کیں آں محرمِ تقدیر خویش
جنگ کے وقت وہ اپنی تقدیر کا راز داں ہے

گورِ خود می کند داز شمشیر خویش27
اور اپنی تلوار سے خود اپنی قبر کھودتاہے یعنی شہادت کا طلب گار رہتا ہے۔

علامہ اقبال کا مرد حُر دعویٰ حریت کرتے ہوئے اپنی خودی سے کبھی غافل نہیں رہتا۔وہ اپنی خودی کو بلند کرنے کیلیے اور پختہ تر بنانے کے لیے ہمہ وقت جدوجہد جاری رکھتا ہے کیونکہ حریت ہی ایسی تحریک ہے جو مردِ حُر کو زندہ رکھتی ہے اور اسے حریت کے لیے راغب کرتی ہے اور جب یہ تحریک اس کے اندر ایک ولولہ پیدا کردیتی ہے تو پھر وہ اپنے ذاتی مفادات کو فراموش کر کے قوم کے اجتماعی مفادات کے لیے تگ و دو کرتا ہے اوراسی جذبہ حریت کی بدولت وہ فرقہ واریت،گروہ بندی،طبقاتی نظام کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتا ہے اور چونکہ اس کی صدا مبنی برحق ہوتی ہے،حقیقی اور شفاف ہوتی ہے اس لیے اس کے نعرہ حق پر لبیک کہتے ہوئے قوم اسے میرِ کارواں تسلیم کر لیتی ہے۔علامہ اقبال ؒ نے بھی ایسی ہی حریت کی بات کی ہے اور ایسے ہی مردِ حُر کے متعلق کہا ہے

از خودی غافل نہ گردد مردِ حُر
حفظِ خود کُن حَبِّ افیونش مخور 28
مردِ حُر اپنی خودی سے غافل نہیں ہوتا لہٰذا تو اپنی حفاظت کر۔سیاست دان کی افیون کی گولی نہ کھا۔

کیونکہ افیون کی گولی کھانے سے انسان اپنے حواس کھو بیٹھتا ہے اور نشے کی تلاش میں غلامی کو قبول کر لیتا ہے اور جب ایسا ہو جائے تو کوئی اس پر بھروسا نہیں کرتا۔قابلِ بھروسا صرف اور صرف مردِحُر ہی ہوتا ہے چنانچہ بالِ جبریل میں علامہ فرماتے ہیں

بھروسا کر نہیں سکتے غلاموں کی بصیرت پر
کہ دنیا میں فقط مردانِ حُر کی آنکھ ہے بینا

وہی ہے صاحب امروز جس نے اپنی ہمت سے
زمانے کے سمندر سے نکالا گوہر ِ فردا 29

علامہ کہتے ہیں کہ بندہ حق وہ ہے جو بندہ آزاد ہے اور بندہ آزاد اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک وہ پابہ زنجیر ہے۔یہ زنجیریں علامہ کے نزدیک آسمانی زنجیریں نہیں اور نہ اس کی آزادی سے مراد کھلے بندوں پھرنا ہے۔یہ زنجیریں دراصل ذہنی اور روحانی زنجیریں ہیں اور آزادی سے مراد ذہنی اور روحانی آزادی ہے۔کیونکہ جب ذہن اور روح آزاد ہوں گے تو دونوں کی بالیدگی ہو گی اور جب دل و دماغ بالیدہ ہو جائیں گے توپھر اس کے اندر حق کو حق کہنے کی جرأت پیدا ہوجائے گی اور وہ باطل کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جائے گا۔ پھر وہ کلمہ حق کو سینے میں چھپا کر بزدلی کا مظاہرہ نہیں کرے گا اور اسلام بھی اس بات کی تلقین و تاکید کرتا ہے۔علامہ اقبال کا مردِ حُر اللہ کے بتائے ہوئے قوانین کے مطابق زندگی بسر کرتا ہے اور اگر اسے اقتدار ملے تو سمجھتا ہے کہ یہ اللہ کی عطا ہے۔

بندہ حق بے نیاز از ہر مقام
نے غلام او را نہ او کس را غلام

بندہ حق مردِ آزاد است و بس
ملک و آئینش خداداد است و بس 30

بندہ ہر مقام سے بے نیاز ہے۔نہ وہ کسی کا غلام ہے نہ کوئی اس کا غلام
بندہ حق بس مردِ آزاد ہے۔اس کی حکومت اور آئین اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ ہے۔

اگرچہ علامہ کے فارسی کلام میں حر اور حریت کے موضوع پر زیادہ وضاحت موجود ہے تا ہم اردو کلام میں بھی انھوں نے اس موضوع پر روشنی ڈالی ہے۔بندہ حُر کی بابت ضربِ کلیم میں کہتے ہیں۔

مرد ِ بے حوصلہ کرتا ہے زمانے کا گلہ
بندہ حُر کے لیے نشتر تقدیر ہے نوش 31

ہزار کا م ہیں مردانِ حُر کو دنیا میں
انہیں کے ذوقِ عمل سے ہیں امتوں کا نظام 32۳

اور ضربِ کلیم کی نظم ”مردانِ خدا“ میں مردِ حُر کی صفات کا تذکرہ یوں کرتے ہیں۔

وہی ہے بندہ حُر جس کی ضرب ہے کاری
نہ وہ کہ حرب ہے جس کی تمام عیّاری

ازل سے فطرت ِ احرار میں ہیں دوش بدوش
قلندری و قبا پوشی و کلہ داری

زمانہ لے کے جسے آفتاب کرتا ہے
انہیں کی خاک میں پوشیدہ ہے وہ چنگاری

وجود انہیں کا طوافِ بتاں سے ہے آزاد
یہ تیرے مومن و کافر تمام زنّاری 33

بال جبریل میں کہتے ہیں:

امین ِراز ہے مردانِ حُر کی درویشی
کہ جبرئیل سے ہے اس کو نسبتِ خویشی 34

پھر ضرب کلیم کی نظم “نکتہ توحید” میں یوں گویا ہیں:

جہاں میں بندہ حُر کے مشاہدات ہیں کیا؟
تری نگاہ غلامانہ ہو تو کیا کہیے 35

علامہ نے جہاں مردِ حُرکی خوبیوں کواجاگر کیا ہے وہاں اپنے کلام میں غلام کی خامیوں کو بھی بیان کیا ہے اسرار خودی میں کہتے ہیں۔

عبد از ایّام می بافد کفن
غلام دنوں ہی سے اپنے لیے کفن بُنتا ہے

روزوشب رامی تند بر خویشتن
اور رات دن کو (مثلِ کفن) خود پر تان لیتا ہے۔

عبد چوں طائر بدام صبح و شام
غلام صبح و شام کے جال میں پرندے کی مانند گرفتار رہتا ہے

لذّتِ پرواز بر جانش حرام
اس کی جان پر لذتِ پرواز حرام ہے

عبد را تحصیل حاصل فطرت است
غلام کی فطرت یہ ہے کہ وہ حاصل کردہ چیزوں کو حاصل کرتا ہے

وارداتِ جانِ اَو بے ندرت است
اس کے اندرونی مشاہدات ندرت سے خالی ہیں۔

ازگراں خیزی مقام او ہماں
غلام اپنی تساہل پسندی کے باعث اسی مقام پر رہتا ہے جہاں تھا

نالہ ہائے صبح و شامِ او ہماں
اس کے صبح و شام کا نالہ ایک ہی لے رکھتا ہے۔

عبد را ایام زنجیر است و بس
غلام کے لیے ایّام محض زنجیرِ پا ہیں

برلبِ او حرفِ تقدیر است وبس36
اور اس کے ہونٹوں پر فقط شکوہ رہتا ہے۔

اور نظم غلاموں کی نماز میں کہتے ہیں۔

بدن غلام کا سوزِ عمل سے ہے محروم
کہ ہے مرور غلاموں کے روزوشب پہ حرام 37

حصہ اول کے لیے اس لنک پر کلک کیجے۔

حصہ سوم کے لیے اس لنک پر کلک کیجے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

دانش ڈیسک سروس

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20