خواتین كا حقِ وراثت ——– شگفتہ عمر

0

اسلام نے خواتین کو سماجی، قانونی، معاشی اور سیاسی تناظر میں تمام بنیادی انسانی حقوق عطا کیے ہیں۔ ان بنیادی حقوق میں زندگی کا حق عزت کا تحفظ باپ، شوہر اور بیٹے کی طرف سے مکمل کفالت کا حق، تعلیم کاحق، کاروبار یا مال کمانے کا اختیار، جائیداد رکھنے اور وراثت پانے کا حق، شادی میں رضامندی کا حق، مہر کا حق، نہ چاکی کی صورت میں خلع کا حق، شوہر سے علیحدگی کی صورت میں بچوں کی حضانت کا حق، ناچاقی كی صورت میں اور مطلقہ یا بیوہ كے لیے دوسری شادی کا حق، آزادی رائےواظہار کا حق، ووٹ كا حق، عبادت كا حق، سماجی سرگرمیوں میں شمولیت کا حق و دیگر شامل ہیں۔

گزشتہ تہذیبوں اور مذاہب میں حقِ وراثت کے حوالے سے مختلف رویّے یاطریقے مروج تھے اِن میں اسے ریاست کا حق، خاندان کی مشترکہ جائیداد، مردوں اور خصوصا جنگوں میں لڑنے والوں کا حق، یا سب سے بڑے بیٹے کا حق تّصور کیا جاتا تھا۔ اسلام نے ساتویں صدی میں مرد اور عورت دونوں کا حق تسلیم کرتے ہوئے عورت کے مختلف حیثیتوں میں منقولہ اور غیر منقولہ اموال و جائیداد کا حق عطا کیا۔

معاشی و معاشرتی حقوق کے تناظر میں اسلام نے وراثت کی تقسیم کا نظام قائم کیا، اس میں مرد اور عورت دونوں کو مورث اور وارث قرار دیا۔ دونوں اپنے مال جائیداد وارثوں کے لیے چھوڑ سکتے ہیں اور دونوں ہی اپنے اقرباء کی وراثت سے حصہ پانے کے حق دار ہیں۔ البتہ جس طرح مختلف رشتے داروں كے لئے وراثت میں حصّے مختلف صورتوں میں مختلف ہیں اسی طرح خاندانی نظام اور معاشرے میں ذمہ داریوں کی تفویض کےحوالے سے عورت كے لئے وراثت كا حصّه بھی مختلف صورتوں میں مردوں سے مختلف ہو سکتا ہے۔ ناقدینِ اسلام اس حقیقت کو اسلام کے خلاف امتیازی سلوک کی حیثیت سے سمجھتے اور بیان کرتے ہیں۔ نتیجتاً غیرمسلم اور دین کا علم و فہم نہ رکھنے والے مسلمان بھی اسلامی تعلیمات اور شرعی تقاضوں کے بارے میں شکوک و شبہات کا شکار رہتے ہیں۔

قرآن حکیم میں وراثت کے بنیادی احکام سورۃ نساء کی آیت ۷ تا ۱۴میں دیے گئے ہیں اور چند دیگر آیات میں مزید کچھ معاملات کی وضاحت کی گئی ہے۔ ان احکامات کے نزول سے قبل سوره آل عمران میں مورث كو وصیت كے ذریعے جائیداد کی تقسیم کی تاکید کی گئی تھی لیکن سورۃ نساء میں وراثت کے اصول اور ورثاء کے حصے مقرر کر دیے جانے کے بعد آل عمران میں دیا گیا وصیت كا حكم عمومی طور پر منسوخ ہوگیا۔ البتہ احادیث مبارکہ میں ایك تہائی مال کے بارے میں وصیت کو غیروارث کے حق میں جائز قرار دیا گیا ہے۔ وراثت کا بنیادی حکم در ج ذیل طور پر بیان کیا گیاہے۔

لِّلرِّجَالِ نَصِيْبٌ مِّمَّا تَـرَكَ الْوَالِـدَانِ وَالْاَقْرَبُوْنَۖ وَلِلنِّسَآءِ نَصِيْبٌ مِّمَّا تَـرَكَ الْوَالِـدَانِ وَالْاَقْرَبُوْنَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ اَوْ كَثُرَ ۚ نَصِيْبًا مَّفْرُوْضًا
ترجمہ: مردوں کے لیے حصہ ہے اس میں سے جو چھوڑ گئے ماں باپ اور قرابت والے اور عورتوں کے لیے حصہ ہے اس میں سے جو چھوڑ گئے ماں باپ اور قرابت والے ترکہ تھوڑا ہو یا بہت حصہ ہے اندازہ باندھا ہوا (ف ۱۷)

ابو الاعلی مودودی اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں اس آیت میں واضح طور پر پانچ قانونی حکم دیے گئے ہیں۔ ایک یہ کہ میراث صرف مردوں ہی کا حصہ نہیں بلکہ عورتیں بھی اس کی حق دار ہیں۔ دوسرا یہ کہ میراث ہر حال میں تقسیم ہونی چاہیے خواہ وہ کتنی ہی کم ہو۔ تیسرے اس آیت میں میت کے چھوڑے ہوئے پورے مال کو قابل تقسیم قرار دیا گیا ہے اس میں منقولہ اور غیر منقولہ، زرعی غیرزرعی، آبائی اور غیر آبائی کی کوئی تفریق نہیں کی گئی ہے۔ چوتهے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مورث کی زندگی میں کوئی حق میراث پیدا نہیں ہوتا۔ بلكہ میراث کا حق اس وقت پیدا ہوتا ہے جب مورث کوئی مال چھوڑ کر مرا ہو۔ پانچویں، اس سے یہ قائدہ بھی نکلتا ہے کہ قریب ترین رشتہ داروں کی موجودگی میں بعید تر رشتےدار میراث نہ پائے گا۔ آگےآنےوالی آیا ت میں مختلف رشتہ داروں کے حقوق متعین کرتے ہوئے ان احکامات کو اللہ کی حدود قرار دیا گیا ہے جس کے سلسلے میں اللہ اور رسولﷺ کی اطاعت پر ہمیشگی کی جنت کی خوشخبری اور ان حدود کو پامال کرتے ہوئے نافرمانی کی صورت میں دائمی اور رسواکن عذاب جہنم کی وعید سنائی گئی ہے۔

آیات مبارکہ کی روشنی میں عورتوں کے حق ِوراثت کی ادائیگی انتہائی اہم معاملہ ہے۔ ہمارے معاشرے میں عمومی جہالت، اسلامی احکامات سے عدم واقفیت، جاگیردارانہ ذہنیت اور ماضی میں ہندوانہ تہذیب کے اثرات کی بنا پر اس حوالے سے خواتین کے حقوق کی حق تلفی ایک عمومی رویہ ہے۔ البتہ یہ بات خوش آئند ہے کہ مختلف علمی، دعوتی اور سماجی حلقوں میں اس معاملے پر آواز بھی اٹھائی جا رہی ہےاور اس پر عملدرآمد کی کوششیں بھی جاری ہیں۔

شریعت اسلامی میں عورت مختلف حیثیتوں میں وراثت کی حق دار قرار دی گئی ہے۔ البتہ یہ ضروری نہیں ہے کہ ہر صورت میں ہر حیثیت میں خاتون وراثت پائے۔ یہ مختلف حیثیت، ماں، بیوی، بیٹی، نانی، دادی، نواسی، پوتی، بہن (سگی، ماں شریک، باپ شریک)، خالہ اور پهوپهی ہیں۔

ان میں سے کچھ رشتوں کے حصوں کا تناسب قرآن اور سنت رسولﷺ نے طے کر دیا ہے جسے تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔ فقہی اعتبار سے خواتین ذوی الضروض، عصبات اور ذوی الارحام تمام حیثیتوں میں حصّہ پانے كی حق دار ہیں ۔

تاہم خواتین کے کچھ رشتے ایسے بھی ہوتے ہیں جہاں وہ قریبی ہونے کے باوجود تركہ کی حق دار نہیں ہوتی مثلا سوتیلی ماں، سوتیلی بیٹی، ساس، بہو، نند، بھابھی، چچی، ممانی وغیرہ کیوں کہ ان کے درمیان خون کا رشتہ نہیں ہوتا اور ان کا تعلق دوسرے خاندانوں سے ہوتا ہے جہاں سے وہ ترکہ میں حصہ پاتی ہیں۔ رضاعت کے رشتے بھی وراثت کے حق دار نہیں اسی طرح منہ بولی بیٹی بیٹا یا لے پالک بیٹی بیٹا کا بھی ترکہ میں کوئی حصہ نہیں ہے۔ البتہ پوتے كے لیے وصیت میں تہائی حصہ رکھا جاسکتا ہے۔

اسلام میں مرد و عورت کے درمیان وراثت کی تقسیم کو صنفی امتیاز قرار دینے والے بنیادی طور پر بیٹے اور بیٹی کے درمیان تقسیم کو بنیاد بناتے ہیں اور عورت کو نصف حقوق دینے کا الزام لگاتے ہیں۔ جبکہ عورت مختلف حیثیتوں میں مختلف حصہ پاتی ہے۔ عورت كے لئے قرآن میں بیان كرده حصّے درج ذیل ہیں۔

بیٹی کا حصّہ :
اگر متوفی کی اولاد میں بیٹے اور بیٹیاں دونوں شامل ہوں تو بیٹیاں بیٹوں کی نسبت نضف پائیں گی۔ (انساء۴: ۱۱)

یہاں اللہ تعالی نے لڑکیوں کا حصہ طے کیا ہے اور یوں وہ ذوی الفروض( جنہیں حصّہ ملنا لازم ہے) میں شامل ہیں۔ لڑکی کا خاص طور پر ذکر اس کے حق ِوراثت کی اہمیت بھی واضح کرتا ہے اگر متوفی کی صرف ایک بیٹی ہو بیٹا نہ ہو تو بیٹی کو نصف حصہ ملے گا اور اگر بیٹیاں دو یا زیادہ سے زائد ہو ں اور کوئی بیٹا نہ ہو تو بیٹوں كے لئے تركہ کا دو تہائی حصہ ہے باقی ترکہ دیگر ورثا میں تقسیم ہوگا۔

بیوی کا حصہ:
متوفی کی اولاد ہونے کی صورت میں بیوی کا حصہ آٹھواں حصّہ ہوگا جبکہ اولاد نہ ہونے کی صورت میں ایک چوتھائی حصّہ ہوگا۔ اگر متوفی کی ایک سے زیادہ بیویاں ہوتو وہ سب کا آٹھویں یا چوتھائی حصّہ ٨ میں برابر کی شریک ہوں گی

ماں کا حصہ:
اگر میت صاحب اولاد ہو تو اس کے والدین میں سے ہر ایک کو ترکہ کا چھٹا حصہ ملے گا اور اگر میت کی اولاد نہ ہو اور والدین ہی وارث ہو تو ماں کو تیسرا حصہ دیا جائے گا اگر میت کے بھائی بہن بھی ہو تو بھی ماں کو چھٹا حصہ ملے گا۔

بہن کا حصہ:
اگر متوفی کی نہ کوئی اولاد ہو نہ والدین زندہ ہو اور نہ بھائی ہو ں تو ایک بہن کی صورت میں تر کہ کا نصف حصہ اور ایک سے زیادہ ہونے کی صورت میں انہیں ترکہ کا دو تہائی حصہ ملے گا جس میں وہ سب شریک ہوں گی۔

اگر والدین، دادا، اولاد نہ ہو اور بہنوں کے ساتھ بھائی بھی موجود ہو تو بہنوں کو بھائیوں کی نسبت آدھا حصہ ملے گا۔ اگر متوفی کی بیٹی یا پوتی وغیرہ میں سے کوئی موجود ہو تو اس بیٹی یا پوتی کا حصہ نکال کر باقی حصہ بہنوں کو ملے گا۔ بعض صورتوں میں بہت ماں شریک اور باپ شریک بہنیں بھی وراثت میں حصہ پاتی ہیں۔

نانی /دادی کا حصہ:
ماں اور باپ کی موجودگی میں دادی اور نانی کا حصہ نہیں ہوتا۔ اگر ماں باپ فوت ہوچکے ہو ں توچھٹا حصہ نانی اور دادی کے لئے ہوگا اگر ان میں سے کوئی ایک ہے تو چھٹا صرف اس کا ہے اور اگر زیادہ ہیں تو اسی میں سب حصہ دار ہوگی۔

ترکہ میں عورت کا حق بعض صورتوں میں مردوں کی نسبت کم رکھا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ کہ اسلام کے خاندانی نظام میں کفالت کی ذمہ داری بنیادی طور پر مرد کے ذمہ ہے اور عورت اس ذمہ داری سے مستثنی ہے۔ مرد کو بیوی بچوں ماں باپ اور چھوٹے بہن بھائیوں کی معاشی ضروریات پوری کرنے کا پابند بنایا گیا ہے۔ ان صورتوں میں جہاں مرد کو خاندان کے دیگر افراد کی کفالت کرنی تھی نسبتاً زیادہ حصہ دیا گیا ہے۔ جبکہ کچھ صورتوں میں مردوں کا حصہ عورتوں کے برابر بھی ہوتا ہے مثلا متوفی کے والدین کے ترکے میں مساوی حصے ہوتے ہیں اس کے علاوہ ماں شریک بہن بھائیوں کا بھی تر کہ میں برابر کا حصہ ہے تقسیم میں کسی موقع پر عورت بحیثیت بیوی اپنے بچوں کے انفرادی حصے سے زیادہ بھی وصول کر سکتی ہے یعنی معاملہ صنفی امتیاز کا نہیں بلکہ ایک نظام کے تحت اللہ تعالی کے طے شدہ اصولوں کا ہے۔

بسا اوقات لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ اگر کسی شخص کے بیٹانہ ہو اورصرف بیٹی/ بیٹیاں ہوں تو کیا وہ اپنی جائیداد بیٹی/ بیٹیوں کے نام کرسکتا ہے؟اس کا جواب یہ ہےکہ اپنی زندگی میں کوئی بھی شخص اپنی جائیداد پر تصرف کرنے کا مکمل حق رکھتا ہے اور اپنی زندگی میں اپنی بیوی اور بیٹی کے نام جائیداد منتقل کر سکتا ہے۔ تاہم اگر اپنی زندگی میں ایسا نہ کرسکے تو اس کی وفات کے بعد جائیداد شریعت کے مقرر کردہ قانون کے مطابق تقسیم ہوگی۔ اور اس میں تبد یلی کا کسی کو اختیار نہ ہوگا۔

ہمارے معاشرے میں خواتین کے حقوق کے حوالے سے کچھ غلط رویے پائے جاتے ہیں، ان میں جہیز کو وراثت کا متبادل سمجھنا، قرآن سے شادی یا حق بخشوانے کے ذریعے شادی سے روکنا اور وراثت کا اہل نہ سمجھنا۔ بہن کی کفالت کو وراثت کا بدلہ سمجھنا اور بھائیوں کے حق میں بہنوں کو اپنا حق چھوڑنے پر آمادہ کرنا و دیگر شامل ہیں۔ یہ تمام صورتیں بہنوں کا حق غصب کرنے کے مترادف ہیں ۔ جہیز حق ِترکہ کا نعم البدل نہیں بلکہ وہ والدین یا بھائیوں کی طرف سے تحفہ كی حیثیت ر كهتا ہے۔ جبکہ ترکہ اللہ تعالی کا مقررہ کردہ ایک حق ہے۔ عورت کو جہیز کی صورت میں جتنا بھی مال دیا جائے اس کا حق ور اثت بر قرار رہتا ہے اور وہ شریعت کے مطابق اسے پانے کی حق دار ہوتی ہے۔

اسی طرح قرآن سے شادی یا حق بخشوانے کی آڑ میں حق ترکہ سے محروم کرنا ایک ظلم ہے اور شریعت سے مذاق ہے۔ ان رسومات کا انفرادی معاشرتی اور حکومتی سطح پر تدارک بہت ضروری ہے اس حوالے سے ماضی قریب میں چند قانونی اقدامات اٹھائے گئے ہیں اور ایسے اقدامات کرنے والا سزا کا مستوجب ہوتا ہے۔ اس طرح اگر بھائی بہن کی کفالت کر رہے ہوں تو اس بنا پر وہ تركہ میں بہن کا حصہ روکنے کے مجاز نہیں کیونکہ باپ کی غیر موجودگی یا بڑھاپے کی صورت میں کفالت بھائی کی ذمہ داری ہے اور وراثت بہن کا حق۔ بیٹے کو بیٹی کے مقابلے میں دوگنا حصہ دینے کی ایک حکمت یہ بھی ہے کہ وہ بیٹا باپ کے بعد ما ں اور اپنے بہن بھائیوں کی کفالت کا پابند ہوتا ہے۔ بہنوں کی طرف سے بھائیوں کے حق میں اپنے حصے سے دستبردار ہونے یا اسے درست سمجھنے کی روایت اسلام اور معاشرتی انصاف کے خلاف ہے۔ عورت کی طرف سے اپنا حصہ طلب کرنے کو بھائیوں کے ساتھ تعلقات کشیدہ کرنے کا سبب سمجھا جاتا ہے اگر ہم اپنے گھروں میں خواتین کو حصہ دیں گے اور خواتین بھی اپنا حصہ لینے کی روایت کو معاشرے میں رواج دیں گی تو انشاءاللہ تعلقات خراب ہونے کی فضا کا خاتمہ ہوگا۔

اگر بھائی اور دیگر رشتہ دار بہنوں کے حق ِترکہ پر قا بض ہونے کی کوشش کر رہے ہو تو خواتین کو اپنے حق کے حصول کے لیے آواز اٹھانی چاہیے جو کہ ہر ایک کے حالات سے مختلف صورت میں ہوسکتی ہے۔ اوّلاَ عزیزواقارب کے دباؤ کے ذریعے اور پھر مجبوراَ قانونی کارروائی بھی کی جاسکتی ہے۔ قانونی چارہ جوئی کے لیے یہ بات اہم ہے کہ خواہ کتنا بھی عرصہ گزر جائے اس سلسلے میں عدالت سے رجوع کیا جاسکتا ہے۔ وراثت کے مقدمات میں قانونِ معیاد کا اطلاق نہیں ہوتا۔ البتہ موجودہ عدالتی نظام کی وجہ سے اخراجات اور مقدمات میں درکار وقت کا اندازہ لگانا بہت مشکل ہے۔

عملی طور پر تقسیم وراثت کے لئے منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد، نیز دیہی اور شہری جائیداد کے لیے مختلف طریقہ کار اختیار کرنے ہوتے ہیں۔ جن میں پٹواری كے ذریعے رجسٹر حقداران میں نام كا اندراج یا وراثت نامہ اور جانشینی كا سرٹیفكیٹ وغیره كا حصول شامل ہے۔

موجودہ زمانے کے کچھ معاملات میں آگہی کے حوالے سے یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ پینشن، بنوویلینٹ فنڈ، گروپ انشورنس، وارث کو خدما ت کی بنا پر ادا کی جانے والی ر قم اورحادثات کے شکار افراد کے لواحقین کو حکومت کی طرف سے دیا جانے والا معاوضہ ترکہ میں شامل نہیں ہے بلکہ ان تمام صورتوں میں یہ رقم متوفی کے اہل خانہ کی ملکیت ہوگی۔

اہل خانہ کی تعریف میں متوفی کی بیوی اوراگر ملازم خاتون ہو تو اس کا شوہر متوفی کی اولاد شامل ہے۔ اس کے علاوہ متوفی کے والدین، بہن بھائی (غیر شادی شدہ مطلقہ، بیوہ) اہل خانہ میں شمار کیے جا سکتے ہیں۔ ا لبتہ سرکاری محکموں میں جاری پراویڈنٹ فنڈکی رقم تر کہ میں شمار ہوتی ہے اور اگر متوفی اپنے سرکاری کاغذات میں کسی ایک شخص کو اس کا حق دار نامزد کر چکا ہو پھر بھی اس نامزدگی کی حیثیت صرف وصولی کی حد تک ہوتی ہے۔

نابالغ بچی بھی اگر جائیداد میں حصہ دار ہے تو اپنا حصہ پائے گی البتہ بلوغت سے پہلے وہ اپنی جائیداد کی خود خرید و فروخت نہیں کرسکتی بلکہ اپنے ولی کے ذریعہ ایسے اقدامات کر سکتی ہے۔ ولایت كے لئے عدالت سے سرٹیفیکیٹ لینا ضروری ہوگا۔ ولی کے لئے لازم ہے کہ وہ نابالغ کے مال کی حفاظت کرے اور بلوغت کے بعد مال اس کے حوالے کرے۔ ان تمام گزارشات کی روشنی میں امید ہے کہ بہت سی غلط فہمیوں کا ازالہ، کچھ معاملات کی وضاحت اور عملی پہلوؤں سے آگہی ممکن ہوئی ہوگی اور حکومتی، معاشرتیاور انفرادی سطح پر حق وار ثت اور دیگر حقوق کی ادائیگی کے لئے کوشش کرنے کا عزم پیدا ہو گا۔

یہ بھی پڑھیں: خواتین کے لئے جائیداد کی وراثت کا بل: مسائل-تنقید-تجاویز —— گل ساج

 

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

دانش ڈیسک سروس

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20